أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتَكُمۡ اِنۡ اَتٰٮكُمۡ عَذَابُ اللّٰهِ اَوۡ اَ تَتۡكُمُ السَّاعَةُ اَغَيۡرَ اللّٰهِ تَدۡعُوۡنَ‌ۚ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے یہ بتاؤ اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آئے یا تم پر قیامت آجائے، کیا (اس وقت) اللہ کے سوا کسی اور کو (مدد کے لیے) پکاروگے، (بتاؤ) اگر تم سچے ہو ؟۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے یہ بتاؤ اگر تمہارے پاس اللہ کا عذاب آئے یا تم پر قیامت آجائے، کیا (اس وقت) اللہ کے سوا کسی اور کو (مدد کے لیے) پکاروگے، (بتاؤ) اگر تم سچے ہو ؟۔ (الانعام : ٤٠) 

مصیبتوں میں صرف اللہ کو پکارنا انسان کا فطری تقاضا ہے : 

پہلے اللہ تعالیٰ نے کفار کی جاہلیت کو واضح کیا اور یہ بتایا کہ تمام کائنات میں اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے اور اس کائنات میں وہی حقیقی متصرف ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرما دیا ہے کہ جب ان کافروں پر کوئی مصیبت نازل ہوتی ہے۔ تو پھر یہ اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آتے ہیں اور اس کی اطاعت کرنے سے سرکشی نہیں کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی فطرت کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے اور مصیبتوں اور تکلیفوں میں وہی واحد نجات دینے والا اور کارساز ہے ‘ چناچہ اس آیت میں فرمایا ہے : 

اے رسول مکرم ! آپ ان مشرکین سے کہئے کہ جس طرح سابقہ امتوں پر عذاب آتے تھے ان کو زمین میں دھنسا دیا جاتا تھا یا ان پر سخت آندھیاں آتیں یا بجلی کی کڑک آلیتی یا طوفان آتا اگر تم پر ایسا ہی عذاب آجائے یا تم پر قیامت آجائے تو کیا تم اس وقت اللہ کے سوا کسی اور کو پکارو گے جو تم سے ان مصائب کو دور کرے گا یا تم اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کو پکارو گے جو تم کو ان تکلیفوں سے نجات دیں گے۔ بتاؤ اگر تم ان بتوں کی عبادت میں سچے ہو ؟ تو پھر اللہ تعالیٰ از خود اس سوال کا جواب دیتا ہے :

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 40