نماز فجر اور عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

نماز فجر اور عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔

حدیث مبارکہ میں ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغِیبَ الشَّمْسُ.

صبح کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجائے اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔

بخاري،

ایک اور روایت میں ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه، قَالَ: نَهَی رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ صَلَاتَیْنِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا یعنی فجر کے بعد یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد یہاں کہ سورج غروب ہو جائے۔

بخاري،

حتیٰ کہ نماز فجر کی سنتیں بھی رہ جائیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھنے کا حکم ہے:

عَنْ أَبِي هُرَیْرَةَ رضی الله عنه قَالَ، قَالَ رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم : مَنْ لَمْ یُصَلِّ رَکْعَتِي الْفَجْرِ فَلْیُصَلِّهِمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو فجر کی دو سنتیں ادا نہ کر سکے، وہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ سکتا ہے۔

ترمذي، السنن،

فقہاء کرام نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے کہ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی بھی نفلی نماز جائز نہیں ہے ہاں اگر فوت شدہ نماز باقی ہو تو قضاء کر سکتے ہیں۔ امام قدوری فرماتے ہیں:

یُکْرَهُ أَنْ یَتَنَفَّلَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعد صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ؛ وَلَا بَأْسَ بِأَنْ یُصَلِّيَ فِي هٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ الْفَوَائِتِ، وَیَسْجُدَ لِلتِّلاَوَةِ، وَیُصَلِّی عَلَی الْجَنَازَةِ، وَلَا یُصَلِّي رَکعَتَي الطَّوَافِ. وَیُکْرَهُ أَنْ یَتَنَفَّلَ بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ بِأَکْثَرَ مِنْ رَکْعَتَيِ الْفَجْرِ وَلَا یَتَنَفَّلُ قَبْلَ الْمَغْرِبِ.

نماز فجر کے بعد طلوع آفتاب تک اور نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک نفل پڑھنا مکروہ ہے۔ اور ان دونوں اوقات میں فوت شدہ نمازیں قضاء کرنے، سجدہ تلاوت اور نماز جنازہ ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور طواف کی دو رکعت ادا نہ کرے۔ اور صبح صادق کے بعد سنتِ فجر سے زائد نوافل پڑھنا مکروہ ہے اور نہ ہی مغرب سے پہلے نفل پڑھے۔

اس لیے فجر کا وقت شروع ہونے سے لیکر طلوع آفتاب تک فجر کی دو سنتوں کے علاوہ کوئی نفل نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.