أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا صُمٌّ وَّبُكۡمٌ فِى الظُّلُمٰتِ‌ؕ مَنۡ يَّشَاِ اللّٰهُ يُضۡلِلۡهُ ؕ وَمَنۡ يَّشَاۡ يَجۡعَلۡهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍ ۞

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (وہ) بہرے اور گونگے ہیں ‘ اندھیروں میں (بھٹکے ہوئے) ہیں اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر گامزن کر دے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی (وہ) بہرے اور گونگے ہیں ‘ اندھیروں میں (بھٹکے ہوئے) ہیں اللہ جسے چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے سیدھی راہ پر گامزن کر دے۔ (الانعام : ٣٩) 

اللہ تعالیٰ کے گمراہی اور پیدا کرنے کی توجیہ 

جن کافروں نے اللہ تعالیٰ کی ان آیات کی تکذیب کی جو اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کیا ‘ ان کی جہالت اور ان کی جہالت اور ان کی کج فہمی کی وجہ سے ان کی مثال بہرے شخص کی طرح ہے جو سنتا نہ ہو اور گونگے شخص کی طرح ہے جو بولتا نہ ہو۔ وہ حق کی طرف دعوت و ارشاد کو قبول کرنے کے لیے سننے اور حق کو پہچاننے کے باوجود اس کا اقرار نہیں کرتے اور وہ شرک ‘ بت پرستی اور رسول جاہلیت کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں اور جہالت ‘ آباء و اجداد کی اندھی تقلید اور ہٹ دھرمی اور کٹ حجتی کے اندھیروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سو جو شخص بہرہ اور گونگا ہو اور اندھیروں میں بھٹک رہا ہو ‘ وہ کیسے صحیح راستہ پر گامزن ہوسکتا ہے یا ان تاریکیوں کے جال سے کس طرح نکل سکتا ہے ؟ 

اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس طرح چاہتا ہے ‘ تصرف فرماتا ہے۔ ہو جس میں چاہتا ہے ‘ ہدایت پیدا فرما دیتا ہے اور جس میں چاہتا ہے ‘ گمراہی پیدا فرما دیتا ہے۔ جو شخص اللہ کی طرف بلائے جانے سے اعراض کرتا ہے اور جو دلائل اللہ کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ‘ ان میں غور وفکر کرنے سے تکبر کرتا ہے اس شخص میں اللہ تعالیٰ گمراہی پیدا کردیتا ہے اور جو انسان اپنی سماعت ‘ بصارت اور عقل سے صحیح کام لے کر صحیح نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی آیات میں غور وفکر کرتا ہے اور وسیع کائنات میں اس کی قدرت اور اس کی وحدت پر پھیلی ہوئی نشانیوں سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے ‘ وہ اس میں ہدایت پیدا کردیتا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ بندہ جس چیز کا کسب اور ارادہ کرتا ہے اللہ وہی چیز اس میں پیدا کردیتا ہے ‘ اس لیے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ گمراہی کو پیدا کرتا ہے تو گمراہ کی مذمت کس لیے ہے ؟ اور جب ہدایت اللہ پیدا کرتا ہے تو ہدایت یافتہ کی تعریف کس سبب سے ہے ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 39