أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُكِّرُوۡا بِهٖ فَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ اَبۡوَابَ كُلِّ شَىۡءٍ ؕ حَتّٰٓى اِذَا فَرِحُوۡا بِمَاۤ اُوۡتُوۡۤا اَخَذۡنٰهُمۡ بَغۡتَةً فَاِذَا هُمۡ مُّبۡلِسُوۡنَ ۞

ترجمہ:

پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ‘ حتی کہ جب وہ ان چیزوں پر اترانے لگے جو ان کو دی گئی تھیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ‘ حتی کہ جب وہ ان چیزوں پر اترانے لگے جو ان کو دی گئی تھیں تو ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ ناامید ہو کر رہ گئے۔ پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (الانعام : ٤٥۔ ٤٤) 

گناہوں کے باوجود نعمتوں کا ملنا اللہ کی طرف سے استدراج اور ڈھیل ہے۔ 

اس آیت میں ان کے نصیحت کے بھولنے کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا گیا ‘ حالانکہ بھولنے سے احتراز تو ان کے اختیار میں نہیں ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بھولنے سے مراد ترک کرنا ہے ‘ یعنی جب انہوں نے اس نصیحت کے تقاضوں پر عمل کرنا ترک کردیا۔ ابن جریج نے اس کی تفسیر میں کہا ہے جس دین کی طرف ان کو اللہ اور اس کے رسولوں نے دعوت دی تھی ‘ اس کو انہوں نے ترک کردیا ‘ بلکہ اس کا انکار کیا اور اس کو رد کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ یعنی معاش کی تنگی کو رزق کی وسعت سے بدل دیا اور بیماریوں کو صحت اور سلامتی کے ساتھ بدل دیا۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کس طرح فرمایا ہے کہ ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے، کھول دیئے حالانکہ یہ معلوم ہے کہ ان پر رحمت اور توبہ کے دروازے نہیں کھولے گئے تھے۔ ان کے علاوہ نیکی اور صلاح اور فلاح کے دروازے بھی بہت زیادہ ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی اس طرح نہیں ہے ‘ بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے رزق کی وسعت ‘ خوشحالی اور جسمانی صحت و سلامتی کے جو دروازے ان پر بند کردیئے تھے ‘ بطور استدراج اور ان کو ڈھیل دینے کے لیے ہم نے وہ بند دروازے ان پر کھول دیئے۔ اس کی نظیر اس آیت میں ہے :

(آیت) ” وما ارسلنا فی قریۃ من نبی الا اخذنا اھلھا بالباسآء والضرآء لعلھم یضرعون، ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ حتی عفوا وقالوا قد مس ابآء نا الضرآء والسرآء فاخذنھم بغتۃ وھم لا یشعرون “۔ (الاعراف : ٩٥۔ ٩٤) 

ترجمہ : ہم نے جب بھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو اس بستی والوں کو (نبی کی تکذیب کی وجہ سے) ہم نے تنگی اور تکلیف میں گرفتار کرلیا ‘ تاکہ وہ گڑگڑا کر دعا کریں ‘ پھر ہم نے بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا ‘ حتی کہ وہ (مال اور اولاد میں) بہت زیادہ ہوگئے اور کہنے لگے ‘ ہمارے آباء و اجداد کو بھی تکلیف اور راحت پہنچتی رہی ہے پھر ہم نے اچانک ان کو اپنی گرفت میں لے لیا درآنحالیکہ ان کو شعور نہ تھا۔ 

(آیت) ” واملی لھم ان کیدی متین “۔ (الاعراف : ١٨٣) 

ترجمہ : اور انہیں ڈھیل دیتا ہوں ‘ بیشک میری خفیہ تدبیر بہت مضبوط ہے۔ 

محمد بن نضر حارثی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان بستی والوں کو بیس سال مہلت دی تھی۔ ابن جریج نے کہا کہ وہ خوشحالی میں مغرور تھے کہ اچانک ان پر عذاب آگیا۔ ابن زید نے کہا مبلس وہ شخص ہے جس پر ایسی مصیبت آجائے جس کا تدارک نہ ہو سکے۔ یا اس پر ایسا عذاب آئے جس سے بچاؤ نہ کیا جاسکے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢٥٦۔ ٢٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ بندوں کو ان کے گناہوں کے باوجود ان کے سوالوں کے مطابق عطا فرما رہا ہے ‘ تو یہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے استدراج اور ڈھیل ہے ‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی پھر جب وہ اس نصیحت کو بھول گئے جو ان کو کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے (الایہ) (مسند احمد ‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٣١٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ طبع جدید ‘ ١٤١٤ ھ) 

علامہ قرطبی لکھتے ہیں ‘ حسن نے کہا جس شخص پر بھی اللہ نے دنیا وسیع کردی ہے ‘ اور اس کو یہ خوف نہ ہو کہ اس کو ڈھیل دی گئی ہے تو اس شخص کا عمل ناقص ہوگا اور اس کی فکر ردی ہوگی اور جس شخص سے اللہ نے دنیا کی وسعت روک لی ہو اور اس نے اس تنگی میں خیر کا گمان نہ کیا ہو ‘ تو اس شخص کا عمل بھی ناقص ہوگا اور اس کی فکر ردی ہوگی اور حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی جب تم فقر کو اپنی طرف آتا دیکھو تو نیک لوگوں کی طرح مرحبا کہو ‘ اور جب تم غنا کو اپنی طرف آتا دیکھو تو کہو یہ آزمائش ہے جس میں مجھے مبتلا کیا گیا۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ جز ٧ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) ‘ rnْجن لوگوں نے اپنے رب کے خلاف سرکشی کی تھی ‘ اس کے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور ان کے احکام کی مخالفت کی تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو اچانک بالکلیہ ہلاک کردیا اور ان کو صفحہ ہستی سے مٹا کر نیست ونابود کردیا۔ اس لیے فرمایا پس ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور فرمایا تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ‘ یعنی کامل ثناء اور مکمل شکر اللہ رب العالمین کے لیے ہے ‘ جس نے اپنے رسولوں پر اور اپنی اطاعت کرنے والوں پر انعام فرمایا اور ان کو اپنے مخالف کافروں کے خلاف دلائل اور براھین سے غلبہ عطا فرمایا اور کافروں کو ان کے کفر اور رسولوں کی تکذیب کی وجہ سے جس عذاب کی وعید سنائی تھی ‘ وہ عذاب ان پر نازل کردیا اور اپنی وعید کو سچا کردیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 44