مزارات پر حاضری :

القرآن :سبحن الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الا قصیٰ الذی برکنا حولہ لنر یہ من ایتناo

ترجمہ : پاکی ہے اسے جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم برکت تھی کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ۔(سورہ بنی اسرائیل آیت نمبر 1)

مفسرین نے الذی بٰرکنا حولہُ کی تفسیر میں لکھا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد برکتوں سے مُراد مزارات انبیاء علیہم السلام ہیں ۔

اشرفعلی تھانوی صاحب نے اپنی تفسیر میںالذی بٰرکنا حولہُ (الاٰ یۃ )کے تحت مسجد اقصیٰ کے اردگر د برکتوں سے مراد انبیاء کرام علیہم السلام کے مزارات بتایا ہے ۔یعنی ان کے مزارات کا با برکت ہونا قرآن سے ثابت ہے ۔

حضور ﷺان کے مزارات پر بھی گئے یعنی اللہ تعالیٰ انہیں لے گیا اس سے معلوم ہوا کہ مزارات پر جانا اور ان کا با برکت ہونا قرآن سے ثابت ہے اس کے علاوہ حضرت ابن ابی شیبہ رضی اللہ عنہ والی روایت جسے مقدمئہ شامی جلد اول میں بیان کیا گیا ہے جس میں ہے کہ حضور ﷺشہداء کے مزارات پر جایا کرتے تھے اسی مقدمئہ شامی میں یہ بات بھی موجود ہے کہ حضرت امام شافعی علیہ الرحمہ کو کوئی مسئلہ در پیش ہوتا تو وہ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے مزار پر حاضر ہو کر اللہ تعالیٰ سے دُعا فرماتے تھے ۔

معلوم ہوا کہ مزارات پر حاضری دینا اور اس کے برکات قرآن و سنت سے ثابت ہیں ۔

بد مذہبوں کے دلائل کے جواب :

القرآن :(ترجمہ )اور ان سے سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کے سوا ایسوں کو پوجے جو قیامت تک اسکی نہ سنیں اور انہیں ان کی پوجا کی خبر تک نہیں اور جب لوگوں کا حشر ہوگا وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان سے منکر ہوجائیں گے ۔(سورہ احقاف ،پارہ :۲۶،آیت نمبر ۵،۶)

بد مذہب اس آیت کو اہل اللہ کے چاہنے والوں پر چسپاں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اولیاء اللہ قیامت کے دن ماننے والوں کے دشمن بن جائیں گے ۔

حالانکہ اس آیت میں بت پرستوں کا ذکر ہے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ بتوں کو کہا گیا ہے کیونکہ وہ جماد اور بے جان ہیں قیامت کے دن بت اپنے پجاریوں سے کہیں گے جو ا ن کی عبادت کرتے تھے بُت قیامت کے دن کہیں گے ہم نے ان کی عبادت کی دعوت نہیں دی اور حقیقت یہ اپنی خواہشوں کے پر ستار تھے ۔(تفسیر خزائن العرفان )

القرآن :(ترجمہ )ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالئے کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی با ت کیلئے پوجتے ہیںکہ یہ ہمیں اللہ کے نزدیک کردیں اللہ ان پر فیصلہ کردیگا ۔(سورۃ الزمر ،پارہ :۲۳،آیت نمبر ۳ کا کچھ حصّہ )

اس آیت کے متعلق مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں معبود اور والی سے مراد بت پرست ہیں۔

الحمد للہ ہم اہلسنّت و جماعت اللہ تعالیٰ کے ولیوں کو اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جان کر صرف اور صرف ان سے فیض حاصل کرنے کے لئے ان کی محبت میں ان کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں ان کے دربار میں حاضر ہوکر اُن کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ جان کر جاتے ہیں یہ کہنا کہ ہم خدا جان کر اُن کے پاس جاتے ہیں یہ سراسر الزام ہے اور مسلمانوں کے فعل کو بت پرستوں سے ملانا جاہلوں کا طریقہ ہے ۔

مزارات پر گنبد اور عمارت بنا نا قرآن مجید سے ثابت ہے }

القرآن :اذیتنازعون بینھم امر ھم فقالوا ابنوا علیھم بنیانا ط ربھم اعلم بھم ط قال الذین غلبواعلی امرھم لنتخذن علیھم مسجداo

ترجمہ :جب وہ لوگ ان کے معاملہ میں باہم جھگڑنے لگے تو بولے ان کے غار پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے وہ بولے جو اس کام میں غالب رہے تھے قسم ہے کہ ہم تو ان پر مسجد بنائیں گے ۔(سورہ کہف ،پارہ :۱۵آیت نمبر ۲۱کا کچھ حصّہ )

مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ اصحاب کہف کا ہے حکم ہوا کہ ان کی وفات کے بعد ان کے گر دعمارت بنائیں میں جس میں مسلمان نماز پڑھیں اور ان کے قریب سے برکت حاصل کریں (مدارک )۔

مسئلہ :اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے مزارات کے قریب مسجد بنانا اہلِ ایمان کا قدیم ترین طریقہ ہے قرآن مجید میں اس کا ذکر فرمانا اور اسکو منع نہ کرنا اس فعل کے درست ہونے کی قوی دلیل ہے اس سے یہ بھی معلوم ہو اکہ بزرگوں کے قرب میں بر کت حاصل ہوتی ہے اسی لئے اہل اللہ کے مزارات پر لوگ حصول برکت کے لئے جایا کرتے ہیں اور اسی لئے قبروں کی زیارت سنت اور موجب ثواب ہے ۔

تفسیر روح البیان میں ہے اس آیت میں بنیا ناً کی تفسیر میں فرمایا کہ دیوارے کہ از چشم مردم پوشیدہ شومذ یعنی لا یعلم احد تربتھم وتکون محفوظۃ من تطرق الناس کما حفظت تربت رسول اللّٰہ ﷺبالحطیرۃ یعنی انہوں نے کہا کہ اصحاب کہف پر ایسی دیوار بناؤ جو ان کو گھیرے اور ان کے مزارات لوگوں کے جانے سے محفوظ ہوجائیں جیسے کہ حضور ﷺ کی قبر شریف چار دیواری سے گھیردی گئی ہے مگر یہ بات نامنظور ہوئی تب مسجد بنائی گئی ۔

روح البیان جلدتیسری پارہ 1زیر آیت :انمایعمر مسجداللّٰہ من امن باللّٰہ میں ہے کہ علماء اور اولیاء صالحین کی قبروں پر عمارات بناناجائز ہے جبکہ اس سے مقصود لوگوں کی نگاہوں میں عظمت پیدا کرنا ہوتا ہے کہ لوگ اس قبر والے کو حقیر نہ جانیں ۔

نجدی حدیث لاتے ہیں کہ حضور ﷺنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ تصویر کو مٹا دو اور اونچی قبر کو برابر کردو؟

جن قبروں کو گرادینے کا حکم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیا گیا وہ کفّار کی قبریں تھیں مسلمانوں کی قبریں نہ تھیںکیونکہ ہر صحابی رضی اللہ عنہ کے دفن میں حضور ﷺشرکت فرماتے تھے نیز صحابہ کرام علیہم الرضوان کوئی کام حضور ﷺکے مشورے کے بغیر نہ کرتے تھے لہٰذا اُس وقت جس قدر مسلمانوں کی قبریں بنیں وہ یا تو حضور ﷺکی موجودگی میں یا آپ ﷺکی اجازت سے تو وہ کون سے مسلمان کی قبریں تھیں جو کہ نا جائز بن گئیں اور ان کو مٹانا پڑا ہاں عیسائیوں کی قبریں اونچی ہوتی تھیں ۔