شہ بطحا تیرا

از: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی ص

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا

نہیں سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا

دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا

تارے کھِلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا

اغنیا پلتے ہیں دَر سے وہ ہے باڑا تیرا

اصفیا چلتے ہیں سَر سے وہ ہے رستہ تیرا

فرش والے تیری شوکت کا عُلو کیا جانیں

خُسروا عرش پہ اڑتا ہے پھریرا تیرا

میں تو مالک ہی کہوں گا کہ ہو مالک کے حبیب

یعنی محبوب و مُحبّ میں نہیں میرا تیرا

تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں

کون نظروں میں جچے دیکھ کے تلوہ تیرا

ایک میں کیا میرے عصیاں کی حقیقت کتنی

مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا

تیرے ٹکڑوں سے پلے غیر کی ٹھوکر پہ نہ ڈال

جھڑکیاں کھائیں کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا

تو جو چاہے تو ابھی میل مرے دل کے دھلیں

کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا

حرم و طیبہ و بغداد جدھر کیجئے نگاہ

جوت پڑتی ہے تِری نور ہے چھنتا تیرا