أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَرۡسَلۡنَاۤ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنۡ قَبۡلِكَ فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِالۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمۡ يَتَضَرَّعُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے پھر ہم نے ان کو تنگی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ گڑگڑا کر دعا کریں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے آپ سے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے پھر ہم نے ان کو تنگی اور تکلیف میں مبتلا کردیا تاکہ وہ گڑگڑا کر دعا کریں۔ تو جب ان کے پاس تنگی کا عذاب آیا تو انہوں نے کیوں نہ گڑگڑا کر دعا کی لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے انکے کاموں کو مزین کردیا۔ (الانعام : ٤٣۔ ٤٢) 

مصیبتیں اور تکلیفیں بندوں کو اللہ کی طرف راجع کرنے کے لیے نازل ہوتی ہیں۔ 

اس سے پہلی آیت میں کافروں کی ایک قوم کا حال بیان فرمایا تھا جو سختیوں اور مصیبتوں میں اللہ کی طرف رجوع کرتی تھی اور اس آیت میں ان سے زیادہ سخت دل کافروں کا حال بیان فرمارہا ہے جو سخت تکلیفوں اور مصیبتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔ الباساء کا معنی ہے شدت ‘ عذاب ‘ قوت اور شدت فقر اور اس کا اطلاق جنگ اور مشقت پر بھی کیا جاتا ہے اور الباساء جنگ کی شدت کو بھی کہتے ہیں اور ” الضراء “ ضرر سے بنا ہے ‘ ضرر نفع کی ضد ہے ‘ یعنی نقصان اور مرض کو بھی کہتے ہیں۔ اس آیت میں الباساء سے مراد ہے فقر کی تنگی اور الضراء سے مراد ہے بیماری کی سختی۔ 

پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی عبرت کے لیے سابقہ امتوں کی مثال دی اور یہ بتلا کہ اپنے بندوں کو مشکلات اور سختیوں میں مبتلا کرنا اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ ہے ‘ تاکہ وہ گمراہی اور کفر سے ہدایت اور ایمان کی طرف رجوع کریں۔ اس لیے فرمایا کہ ہم نے آپ نے پہلے کئی امتوں کی طرف رسول بھیجے جنہوں نے اپنی اپنی قوموں کو اللہ کو توحید اور اس کی عبادت کی دعوت دی۔ سو انہوں نے اپنے پیغمبروں کی دعوت کو قبول نہیں کیا تو ہم نے انکو فقر اور معاش کی تنگی میں اور بیماریوں اور تکلیفوں میں مبتلا کردیا ‘ تاکہ وہ اللہ سے ڈریں اور گڑگڑا کر اللہ سے دعا کریں ‘ کیونکہ سختیاں جھیلنے سے انسان کندن بن جاتا ہے۔ مشرکین مکہ کو یہ اس لیے بتایا ہے کہ وہ بھی پچھلی امتوں کے کافروں کی طرح عذاب الہی کے منتظر تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو موکد فرمایا کہ جب ان کافروں پر فقر اور مرض کا عذاب مسلط کیا گیا تو انہوں نے اللہ سے گڑگڑا کر دعا کیوں نہیں کی ‘ ان کے دلوں میں نرمی پیدا ہوئی نہ خوف پیدا ہوا اور انہوں نے عبرت حاصل نہیں کی۔ سو ان کے دل پتھروں کی طرح بلکہ ان سے بھی سخت ہوگئے اور یہ لوگ جو نبیوں سے عناد رکھتے تھے ‘ شرک کرتے تھے اور فسق وفجور میں ڈوبے رہتے تھے ‘ شیطان نے ان کے ان کاموں کو ان کی نگاہوں میں خوش نما بنادیا اور ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ اپنے باپ دادا کے طریقہ پر ڈٹے رہو ‘ کیونکہ یہی حق وصواب ہے۔ پھر جب انہوں نے اس تنبیہ کے باوجود اللہ کی طرف رجوع نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسا عذاب بھیجا جس سے وہ قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں۔ چناچہ فرمایا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 42