تقلید امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

تحریر۔ ڈاکٹر الطاف حسین سعیدی ۔ ایم بی بی ایس

دین اسلام میں فقہی مذاہب

اﷲ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ہمیں سکھایا ہے کہ مجھ سے صراطِ مستقیم پر چلنے کی دعا مانگو، پھر ساتھ ہی وضاحت بھی کردی کہ انعام یافتہ لوگوں کی راہ ہی صراط مستقیم ہے، سیدھی راہ ہے، انعام یافتہ لوگوں کی فہرست بھی بتا دی گئی کہ وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں (سورۃ النساء، آیت۶۹) ، سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے جو مسائل منسوخ ہوئے اُن کے سوا باقی مسائل صراط مستقیم ٹھہرے، مگر صدیقین، شہداء اور صالحین میں بھی ایسے مسائل میں اختلاف واقع ہوا ہے جن میں بظاہر نص نہیں ملتی یا جن میں نصوص بظاہر مختلف ہیں اور ایسے مسائل میں وہ ادلہ شرعیہ کی راشنی میں پوری دماغی محنت وجُہد سے مسئلے کے حل میں استنباط و اجتہاد کرتے ہیں اور مسائل اخذ کرتے ہیں، والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا (سورۃ عنکبوت، آخری آیت) یعنی اور جنہوں نے ہماری ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنی راہ دکھائیں گے، یعنی اگر صراط مستقیم ایک چوڑی سڑک ہے تو یہ اجتہادی سبیلیں اُس کے اجزاء ہیں، عرف عام میں کل کو دین اور اس کے ہر جز و کو مذہب کہا جاتا ہے، اجتہاد واستنباط کرنے والوں کی اس جماعت کو سورۃ النساء کی آیت نمبر ۸۳ میں اولی الامر کہا گیا ہے اور اسی سورۃ کی آیت نمبر۵۹ میں اولی الامر کی اطاعت کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ 

مجتہد واحد کا اتباع

جن مسائل میں قرآن وحدیث بظاہر خاموش ہیں یا بظاہر مختلف ہیں، وہاں غیر مجتہد کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی مجتہدِ عادل سے راہ نمائی لے کر عمل کرے، یہ مقام اپنی خواہشِ نفس کو راہ نما بنانے کا نہیں ہے، مجتہد عادل ایک ہی پکڑ لیا جائے ورنہ پھر وہی پریشان خیالی کا سامنا کرنا پڑے گا، پھرایک مجتہد عادل اگر ایک جگہ بظاہر کمی چھوڑ جاتا ہے تو دوسری جگہ اُسے پورا کردیتا ہے، مثلاً امام مالک کے یہاں نکاح میں گواہ شرط نہیں اور یہ بظاہر بڑی عجیب بات نظر آتی ہے مگر اُنہوں نے نکاح میں دف بجانا شرط قرار دیا ہے، جس سے کئی گواہ خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے واتبع سبیل من اناب اِلیَّ (سورۃ لقمان، آیت نمبر۱۵) ’’اور اس کی سبیل پر چل جس نے میری طرف رجوع کیا‘‘ ، گویااجتہادی سُبُلْ میں سے شخص واحد کی سبیل اختیار کرلے، بشرطیکہ وہ من اناب الی کا مصداق بھی ہو اور تمام اجتہادی یعنی فقہی مسائل میں اس کی مرتب کردہ سبیل بھی ہم تک براہ راست یا بالواسطہ پہنچ رہی ہو، جیسا کہ ائمہ اربعہ کا حال ہے، ائمہ اہل بیت سے ایسی کوئی سبیل دستیاب نہیں ہے۔

مجتہد واحد سے منسلک نہ ہونے والوں کا حال بتاتے ہوئے مولانا ابوالبرکات سید احمد لاہوری رحمۃ اﷲ علیہ نے اپنے رسالہ’’عشرۂ کاملہ‘‘ میں ایک حکایت پیش کی ہے :

’’دائود ظاہری کے نزدیک تو جورو کی بیٹی حلال ہے جب کہ اپنی گود میں نہ پلی ہو، یوں غیر مقلدہ نے اپنے سوتیلے باپ غیر مقلد سے نکاح کرلیا، پھر دن چڑھے ایک دوسرے غیر مقلد صاحب تشریف لائے تو اس نوجوان آفت جان سے فرمایا کہ یہ نکاح باجماع ائمہ اربعہ باطل محض ہوا، تو ہنوز بے شوہر ہے اب مجھ سے نکاح کرلے، غیر مقلدہ بولی کہ ہمارے مذہب کے تو مطابق ہوا ہے، اس پر مولوی صاحب بولے ایک ہی مذہب پر جمنا نہ چاہئیے، غیر مقلدہ بولی کہ اچھا مگر نکاح کو تو گواہ درکار ہیں، وہ اس وقت کہاں؟ کہا نادان لڑکی ! مذہب امام مالک میں گواہوں کی حاجت نہیں ، اس پر یہ دوسرا نکاح ہوگیا ، دوپہر کو تیسرے غیر مقلد تشریف لائے اور کہا لڑکی تو اب بھی بے نکاحی ہے، ائمہ ثلاثہ کے نزدیک بے گواہوں کے نکاح نہیں ہوتا، حدیث میں ایسوں کوزانیہ فرمایا گیا ہے ، میں دو گواہ لایا ہوں، مجھ سے نکاح کرلے، لڑکی نے کہا میرا ولی موجود نہیں، کہا حنفی مذہب میںجوان عورت کو ولی کی حاجت نہیں، یوں تیسرا نکاح ہوا، تیسرے پر چوتھے غیر مقلد آدھمکے اور لڑکی کو بے شوہر قرار دیا اور کہا امام شافعی کا قول ہے کہ بے ولی کے نکاح نہیں ہوتا، تیرا ولی میرے ساتھ ہے آ میرے ساتھ نکاح کر، لڑکی بولی تم میرے کفو نہیں نسب میں گھٹیا ہو، کہا تیرا ولی راضی ہے اور ولی راضی ہو تو اکثر ائمہ کے نزدیک نکاح منعقد ہو جاتا ہے، الغرض چوتھا نکاح منعقد ہو گیا، دو گھڑی دن رہے پانچویں غیر مقلد صاحب نے آکر فتویٰ دیا تو اب بھی نکاح شرعی سے محروم ہے، ہمارے بڑے ابن عبدالوہاب نجدی، ابن قیم وابن تیمیہ صاحبان حنبلی تھے، حنبلی مذہب میں غیر کفو سے نکاح صحیح نہیں اگرچہ عورت وولی دونوں راضی ہوں، میں تیرا کفو ہوں ، تیرا وصل بنکاح چاہتا ہوں، یوں متلون مزاج غیر مقلد ہ ایک دن میں پانچوں فقہی مذاہب کی آغوش میں باری باری گئی‘‘۔( ملخص بتغیر یسیر)

جہاں نصوص نہ ملیں یا باہم ٹکرائیں وہاں مجتہدین میں اختلاف واقع ہونا فطری بات ہے، عامی کے لئے کسی ایک مجتہد عادل سے وابستہ ہونا ہی پریشان خیالی اور ذ ہنی بے راہ روی سے محفوظ رکھتا ہے۔ 

فقیہ ومجتہد کا مقام 

قرآن پاک سے کثیر لوگ گمراہی مین پڑتے ہیں اور کثیر لوگ اس سے ہدایت پاتے ہیں(سورۃ بقرہ۔ آیت نمبر۲۶)، یہی وجہ ہے کہ اسے ھُدََی للمتقین بتایا گیا ہے، متقین کا دامن چھوڑ کر اس سے ہدایت پانا محال ہے، یہی حال حدیث کا ہے، امام سفیان ابن عیینہ رحمۃ اﷲ علیہ کا فرمان ہے کہ الحدیث مضلۃٌ الا للفقھاء یعنی حدیث سے لوگ گمراہی میں پڑ سکتے ہیںسوائے مجتہدین کے ، اور مجتہدین کا دامن پکڑ کر ہی حدیث سے ہدایت لینا ممکن ہے ، مثال کے طور پربخاری شریف میں حدیث ہے جس میں نبی پاک صلی اﷲ علیہ وسلم کا کھڑے ہوکر پیشاب فرمانا مروی ہے، عام آدمی جب ترجمہ پڑھتا ہے تو یا تو سنت سمجھ کر معمول بنا لیتا ہے ، یا منکرِ حدیث بن جاتا ہے یا پھر فقہاء ومحدثین کی تشریح سے اپنا ایمان بچاتا ہے۔ 

یوں سمجھیں کہ تقلید چھوڑ کر حدیث پر عمل جب کہ رُتبۂ اجتہاد حاصل نہ ہو، دین میں گمراہی اور مسلمانوں کی راہ سے جدا چلنا ہے ، امام بخاری رحمۃ اﷲ علیہ نے فقہ کو حدیث کا پھل قرار دیا ہے، امام ترمذی رحمۃ اﷲ علیہ نے لکھا ہے کہ فقہاء احادیث کے معنی سب سے زیادہ جانتے ہیں ھم اعلم بمعانی الاحادیث ، تابعی محدّث حضرت سلیمان اعمش رحمۃ اﷲ علیہ نے فقہاء کو معالج اور محدثین کو دوا دینے والے قرار دیاہے، بخاری شریف میں حدیث موجود ہے کہ اﷲ جس کی خیر کا ارادہ فرماتا ہے اُسے دین میں فقیہ بنا دیتا ہے، صحاح ستہ کے مصنف محدثین جزوی طور پر اجتہادی شان رکھنے کے باوجود مقلد بنے رہے، مگر آج صحاح ستہ کے ناقص اُردو ترجمے پڑھنے والا اس تقلید کو حرام ، بدعت یا شرک سمجھتا ہے۔ والی اﷲ المشتکی

امام اعظم، ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ 

آپ کی ولادت ۸۰ھ ؁ میں ہوئی(یعنی امام بخاری علیہ الرحمہ کی پیدائش سے ایک صدی اور چودہ سال قبل)، حضرت انس رضی اﷲ عنہ (متوفی ۹۵ھ یا ۹۳ھ)، حضرت عبداﷲبن ابی اوفی رضی اﷲ عنہ بلکہ بقول ابن حجر مکی علیہ الرحمہ آٹھ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو امام ابوحنیفہ نے پایا ہے، خطیب بغدادی، دار قطنی، ابن جوزی ، نووی، ذہبی، ابن حجر عسقلانی، ابن حجر مکی اور امام سیوطی وغیرہم نے آپ کے تابعی ہونے کی تصریح فرمائی ہے، امام سیوطی شافعی نے رسالہ ’’تبییض الصحیفہ ‘‘میں وہ روایات درج کی ہیںجو آپ نے براہ راست صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے بیان کی ہیں، امام صاحب کی سند کبھی ایک ، کبھی دو، کبھی تین اور کبھی چار واسطوں سے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے، امام اعظم نے چار ہزار شیوخ سے حدیث پڑھی، اسی لئے امام ذہبی وغیرہ نے آپ کو حفاظ حدیث کے طبقہ میں ذکر کیا ہے، آپ حافظ قرآن تھے اور ایک رکعت میں رات گزار دیتے اور اس میں سارا قرآن پڑھ جاتے(نووی)، آپ نے ۱۵۰ھ؁ میں سجدہ کی حالت میں انتقال فرمایا، امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیںکہ میں امام ابو حنیفہ سے برکت حاصل کرتا ہوںاور ان کی قبر کے پاس آتا ہوں جب مجھے کوئی حاجت درپیش ہوتی ہے، دو رکعت نماز پڑھتا ہوں اور اﷲ سے دعا مانگتا ہوںاُن کی قبر کے پاس تو حاجت جلد پوری ہوجاتی ہے(شامی)، امام شافعی علیہ الرحمہ کا قول ہے کہ لوگ فقہ میں ابو حنیفہ کے عیال(نمک خوار) ہیں، امام مالک علیہ الرحمہ نے فرمایا ! یہ ابو حنیفہ ہیں عراق والے اگر یہ کہہ دیں کہ یہ ستون سونے کا ہے تو ایسا ہی نکل آئے(صمیری)، امام احمد بن حنبل رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایاکہ علم، ورع، زہد اور ایثار آخرت میں امام ابوحنیفہ کا مقام ادراک سے بالا ہے(الخیرات الحسان)، سفیان ثوری علیہ الرحمہ کو مشکل درپیش آتی تو کہتے اس کا بہترین جواب وہی دے سکتا ہے جس سے ہم حسد کرتے ہیںیعنی امام ابو حنیفہ(کردری)، محدّث عبدالعزیز بن ابی رواد کا قول ہے کہ جو ابو حنیفہ سے حُبّ رکھے وہ سُنی ہے اور جس نے بغض رکھا وہ بدعتی ہے(خیرات الحسان) ، حضرت عبداﷲ بن مبارک فرماتے ہیں فلعنۃ ربنا اعداد رمل۔ علی من رد قول ابی حنیفہ یعنی لعنت ہو ہمارے رب کی ریت کے برابر اس شخص پر جو امام ابو حنیفہ کے اجتہادی قول کو مردود ِ(یعنی کفر یاضلالت) قرار دیتا ہے، مکتوبات مجدد الف ثانی میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اجتہادامام ابو حنیفہ کے اجتہاد کے موافق ہوگا، جاہل حاسد یا گمراہ لوگ ہر دور میں آپ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہے ،کچھ نے پاکان امت کے نام سے بھی امام اعظم کے خلاف اقوال گھڑے، جن کو خطیب بغدادی نے تاریخ میں ذکر کردیا، دور حاضر میں بھی ہرزہ سرائی کا سلسلہ بند نہیں ہوا، اس کی نشان دہی مشہور غیر مقلد عالم مولانا دائود غزنوی نے یوں کی ہے: 

’’(بڑے درد ناک لہجہ میں فرمایا)مولوی اسحاق! جماعت اہل حدیث کو حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی بد دعا لے کر بیٹھ گئی ہے، ہر شخص ابو حنیفہ ابو حنیفہ کہہ رہا ہے کوئی بہت ہی عزت کرتا ہے تو امام ابو حنیفہ کہہ دیتا ہے، پھر ان کے بارے میں ان کی تحقیق یہ ہے کہ وہ تین حدیثیں جانتے تھے یا زیادہ سے زیادہ گیارہ، اگر کوئی بہت بڑا احسان کرے تو وہ انہیں سترہ حدیثوں کا عالم گردانتا ہے، جو لوگ اتنے جلیل القدر امام کے بارے میں یہ نقطہ نظر رکھتے ہوں ان میں اتحاد ویک جہتی کیونکر پیدا ہو سکتی ہے‘‘۔(’’حضرت مولانامحمد دائود غزنوی‘‘ ازپروفیسر ابوبکر غزنوی، مطبوعہ مکتبہ غزنویہ شیش محل روڈ لاہور۱۹۷۴ء، ص۱۳۷)