خاتمیت محمدی

قرآن، حدیث اور اقوالِ صالحین کی روشنی میں

مولاناغلام مصطفی قادری

٭٭٭

اسلام کی فطری استعداد اور صلاحیت نیز پیغمبرِ اسلامﷺ کی بے مثال قوتِ جذب و کشش دیکھ کر ہر دور میں مخالفین اور معاندین نے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کئے، محاصرۂ قلعۂ اسلام کی ہر ممکن کوشش کی لیکن خدا کے اس مقدس دین اور بے مثال پیغمبر علیہ الصلوٰۃ و السلام کی عظمتوں اور رفعتوں میں ذرہ برابر کمی اور حرف نہ آ سکا۔ بلکہ مصائب و مشکلات سے پنجہ آزمائی کرتا ہوا یہ مذہبِ مہذب اور رسولِ رحمت آگے بڑھتے ہی گئے، راہ میں کوئی دریا اور چٹان ان کے لئے رکاوٹ نہ بن سکی۔

مبارک اور مسعود عہدِ رسالت سے لیکر تا اِمروز مختلف النوع فتنوں نے سر ابھارا جن کے سبب اسلام کو ہزاروں صدمات سے مقابلہ کرنا پڑا، ہزاروں انقلابات آئے اور اپنی چمک دمک دکھا کر چند ہی دنوں میں صفحۂ ہستی سے نیست و نابود ہو گئے۔ کس کس کا ذکر کیا جائے ؎

اک ہنگامۂ محشر ہو تو بھولوںاس کو

سیکڑوں باتوں کا رہ رہ کے خیال آتا ہے

مگر ان تمام فتن و فسادات میں ایک انتہائی تعجب خیز اور طوفان بن کر پھیلنے والا ان جعلی نبیوں کا فتنہ تھا جنہوں نے اسلام کی آ ہنی اور مستحکم فصیلوں سے ٹکرانے کی ناکام کوشش کی۔ اس خطر ناک فتنہ کے ذریعہ دشمنانِ اسلام نے اپنی سازشوں کا جال بچھایا اور اسے حربے کے طور پر استعمال کیا جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہی اپنی ابتدا کر چکا تھا۔ اُس وقت سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک اپنے سیاہ اور مکروہ چہرے کے ساتھ رونما ہوتا رہا۔

ان تمام فتنوں اور گمراہ کن انقلابات کے اثرات دیکھ کر مردانِ حق نے خاموشی نہیں اختیار کی بلکہ اپنی خدا داد علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ان کی سرکوبی اور بیخ کنی کے لئے میدان عمل میں کود پڑے اور شبانہ روز تگ و دو کرتے رہے، ان کے خلاف زبان و قلم کا یکساں طور پر استعمال کرتے رہے اور اس کارِ خیر میں اپنے اپنے عیش و آرام کو بھی تج دیا مگر ناموس مصطفی ا کے تحفظ کے لئے ایک گھڑی بھی سکھ اور چین سے نہیں بیٹھے۔ چنانچہ تاریخ کے اوراق اس بات پر شاہد ہیں کہ گزشتہ تمام صدیوں میں جس نے بھی دعویٔ نبوت کیا۔ اہلِ حق اور صاحبِ بصیرت حضرات نے ان کے خلاف علمِ جہاد بلند کی اور ان کی جھوٹی شہرت و عظمت کو خاک میں ملا دیا… تاریخ اسلام کے مصنف رقمطراز ہیں۔

’’حضورِ اکرمﷺ کی زندگی ہی میں مدعیانِ نبوت پیدا ہو گئے تھے، مسیلمہ کذاب نے اسی زمانہ میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا لیکن آپ کی زندگی میں یہ جھوٹی آواز صورِ صداقت کے سامنے نہ ابھر سکی تھی۔ آپ کی وفات کے بعد بہت سے حوصلہ مندوں کے دماغ میں یہ سودا سما گیا، چنانچہ اسود عنسی، طلیحہ بن خویلد جیسے کئی مدعیانِ نبوت پیدا ہوگئے۔ مرد تو مرد عورتیں تک اس خبط میں مبتلا ہو گئی تھیں۔ چنانچہ قبیلۂ تمیم کی ایک عورت سجاح بن خویلد بھی نبوت کی دعویدار بن گئی اور مسیلمہ کذاب سے شادی کر لی تھی، موتہ کے بعد حضرتِ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان جھوٹے نبیوں کے استیصال کی طرف توجہ فرمائی،مسیلمہ کی مہم حضرت شرحبیل بن حسنہ کے سپرد ہوئی، عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی مدد پر مامور ہوئے، خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ طلیحہ بن خویلد کی طرف بڑھے، طلیحہ بن خویلد اور اس کے متبعین کو قتل و گرفتار کر کے تیس قیدیوں کو مدینہ روانہ کیا۔ طلیحہ شام بھاگ گیا پھر تجدید اسلام کر کے مسلمان ہوگیا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ جنگ کی نوبت نہیں آئی، طلیحہ کے پیروئوں میں زیادہ تر قبیلۂ طے تھا اس کے سردار عدی بن حاتم نے اسے دوبارہ مسلمان بنا لیا، باقی دوسرے اَتباع (پیروکار)کو خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شکست دے کر قتل و گرفتار کیا۔ طلیحہ شام بھاگ گیا اور وہاں جا کر مسلمان ہو گیا۔ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسیلمہ کے مقابلہ میں تھے، عکرمہ نے شرحبیل سے پہلے پہنچ کر مسیلمہ کے پیرو بنی حنیفہ پر حملہ کر دیا لیکن انہیں شکست ہوئی، ان کی شکست کی خبر سن کر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو طلیحہ کی مہم سے فارغ ہو چکے تھے شرحبیل کی مدد کے لئے بھیجا، مسیلمہ کے اتباع چالیس ہزار کی تعداد میں جمع تھے۔ حضرت خالد بن ولید نے ایک خون ریز جنگ کے بعدبنی حنیفہ کو نہایت فاش شکست دی، مسیلمہ وحشی بن حرب کے ہاتھوں مقتول ہوا، اس کی بیوی سجاح جو خود مدعیہ نبوت تھی شوہر کے قتل ہونے کے بعد بھاگ گئی، اس جنگ میں بہت سے حفاظِ قرآن صحابہ علیہم الرضوان شہید ہوئے۔ تیسرے مدعی نبوت اسود عنسی کی جماعت میں خود اختلاف پیدا ہوگیا اور وہ اپنے ایک ساتھی قیس بن مکتوح کے ہاتھوں نشہ کی حالت میں مارا گیا۔ غرض چند دنوں کے اندر تمام مدعیانِ نبوت کا خاتمہ ہو گیا۔‘‘ (تاریخ اسلام، ص:۱۳۹)

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے علامہ غلام مصطفی مجددی دام ظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں۔

’’حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ختم نبوت کے اولین پاسبان بن کر میدان میں اترے اور ان کی ولولہ انگیز قیادت میں صحابۂ کرام نے اپنے آقائے نامدار، مدنی تاجدار اکی نبوت و رسالت پر اپنی زندگیاں قربان کر دیں۔ جنگِ یمامہ میں تین سو ستر مہاجرین، تین سو انصار اور باقی دیگر قبائلِ عرب کے افراد شہید ہوئے، تمام شہداء کی تعداد بارہ سو تھی جو پچھلی تمام جنگوں کے شہداء کی تعداد سے زیادہ تھی۔

اتنے شہدا کی تعداد سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اہلِ اسلام کے نزدیک ختمِ نبوت کے تحفظ کے لئے جانیں قربان کرنا کتنا عظیم فرض ہے جس کو ادا کرنے کے لئے تمام صحابۂ کرام نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

ٹھیک اسی طرح خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کی زندگی کا عنوان ہی غیرتِ عشقِ رسول ا ہے نے تحفظِ ختمِ نبوت میں بے مثال جد و جہد فرمائی اور اپنی بھر پور صلاحیتوں سے مدعیانِ نبوت کے چھکے چھڑا دیئے۔ ان اہلِ عشق و وفا اور با غیرت مردانِ حق گو کی زریں قربانیوں سے صفحاتِ تاریخ آج بھی منور ہیں ؎

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

اس تمہید کے بعد آئیے مسئلۂ ختم نبوت کے ثبوت و دلائل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ٹھوس شواہد و دلائل ملاحظہ کریں۔

الحمد للہ! جو مذہب مہذب ہمیں عطا ہوا ہے وہ یقینا ہمارے لئے مکمل دستور و نظام حیات ہے مگر اس کے دامن میں آنے کے لئے ہر ایک کو چند بنیادی عقائد و نظریات کو بصدقِ دل مان لینا ضروری ہے جو خدا و رسول جل و علا و ا نے بیان فرمائے۔ نیز خدا و رسول کی بتائی ہوئی قطعی الثبوت باتوں کا انکار بھی نہ ہو، شریعتِ اسلامیہ میں انہیں کو ضروریات دین کا نام دیا جاتا ہے۔ (کذا فی شرح العقائد للنسفی رحمۃ اللہ علیہ)

ان ضروریات دین میں جہاں اور بہت سارے عقائد ہیں انہیں میں یہ مسلمہ عقیدہ بھی ہے کہ ہم حضور رحمتِ عالم ا کو اللہ تعالیٰ جل مجدہٗ کا آخری پیغمبر اور رسول مانتے ہیں، آپ کے بعد کوئی نیا نبی اور رسول نہیں آ سکتا۔ عقلِ سلیم سے خالی افراد پتہ نہیں بے شمار دلائل و براہین ساطعہ کے ہوتے ہوئے بھی اس آفتابِ نصف النہار سے زیادہ روشن عقیدہ کا کیوں انکار کرتے ہیں۔

آئیے سب سے پہلے قرآن مجید کی آیات سے اس کا ثبوت حاصل کریں اور اپنی محبت و عقیدت میں مزید اضافہ کریں نیز منکرین عقیدۂ ختم نبوت کو صاف و شفاف آئینہ دیکھنے کی تاکید کریں۔

فصاحت و بلا غت سے لبریز یہ کلماتِ ربانی ملاحظہ فرمایئے۔ ارشاد ہوتا ہے

’’ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین‘‘ (سورۂ الاحزاب، آیت:۴۰)

محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں، سب نبیوں میں پچھلے (کنزالایمان)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب مکرم ﷺ کا اسمِ گرامی لے کر فرمایا ہے کہ محمد (فداہ ابی و امی) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں یعنی انبیاء کے سلسلہ کو ختم کرنے والے ہیں۔ جب مولائے کریم جو بکل شییٔ علیم ہے نے یہ فرما دیا کہ محمد مصطفی ﷺ نبیوں کے خاتم ہیں تو حضور اقدس علیہ التحیۃ و الثناء کے بعد جس نے کسی کو نبی مانا اس نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تکذیب کی اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے کسی ارشاد کو جھٹلاتا ہے وہ مسلمان نہیں رہ سکتا۔ (ضیاء القرآن، ۴؍۶۸)

مرزا غلام احمد قادیانی کے چیلے اس آیتِ کریمہ میں مذکور لفظِ خاتم کے معنی افضل بیان کرتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان کے پیشوا مرزا قادیانی نے اس لفظ کا معنی ’’نبیوں کا خاتم‘‘ ہی کیا ہے اس لئے انہیں اسے بغیر کسی حیل و حجت کے تسلیم کر لینا چاہئے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے ’’ازالۂ اوہام‘‘

لسان العرب میں ہے ’’خاتَمہم و خاتِمہم آخرہم‘‘ خاتَم اور خاتِم کے معنی ہیں آخر اور تاج العروس میں ہے ’’و من اسمائہ علیہ السلام الخاتَم و الخاتِم و ہو الذی ختم النبوۃ بمجیئہ ‘‘ اور آپ ا کے ناموں میں سے ہے خاتم اور خاتم وہ ہے جس نے آکر نبوت ختم کر دی۔

قاموس میں ہے۔’’و الخاتم آخر القوم کالخاتم و منہ قولہ تعالیٰ و خاتم النبیین ای آخرہم‘‘ اور خاتم قوم کے سب سے آخر کو کہا جاتا ہے اور انہیں معنوں میں ارشادِ خداوندی ہے ’’خاتم النبیین‘‘ یعنی آخر النبیین۔ (بحوالہ خاتم المرسلین ص:۱۴)

مذکورہ بالا حوالہ جات سے اظہر من الشمس ہو گیا کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی ہے نہ کہ وہ معنی جو مرزائی بیان کرتے ہیں۔

اسی طرح معترضین اور منکرین اس لفظ پربے سر و پا اعتراضات کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خاتم کا لفظ انگوٹھی کے معنیٰ میں ضرور استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں حضور اکرم ﷺ کی توہین ہے کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام انبیاء تو بمنزلۂ عروس کے ہیں اور حضور اقدس علیہ السلام کی حیثیت محض انگوٹھی کی ہے اور ظاہر ہے کہ انگوٹھی پہننے والے سے انگوٹھی کی حیثیت کم ہوتی ہے لہٰذا یہ معنی متروک ہے۔

مندرجہ ذیل آیتِ ربانی بھی ملاحظہ فرمائیں جس سے ختم نبوت کا مسلمہ عقیدہ ثابت ہوتا ہے ’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘

یہ آیت حضور نبی اکرم ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کی واضح دلیل ہے۔ کیوں کہ جب دین مکمل ہو چکا، اس کے احکام میں رد و بدل کی گنجائش نہ رہی توپھر کسی دوسرے نبی کے آنے کی بھی ضرورت نہ رہی۔ (ضیاء القرآن، ۱؍۴۴۰)

امتِ مرحومہ کے تمام مفسرین کرام کا اتفاق ہے کہ یہ آیت دین فطرت کی تکمیل کا اعلان کر رہی ہے۔ جب دین مکمل ہو گیا تو دین کو زمانے میں قائم کرنے والی نبوت و رسالت نا مکمل رہی؟( یہ کیسے ممکن ہے) ایسی عالمگیر نبوت و رسالت کی موجودگی میں کسی اور کو نبی بنا لینا اسلام سے بغاوت کی دلیل ہے۔ حضور پر نور ا کی ذات گرامی اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ ہے اس نعمت عظمیٰ کے بعد کسی ’’زحمتِ دنیا‘‘ کو رسول ماننا ایمان کی ہلاکت کی نشانی ہے ؎

وہ ہدایت سے آشنا نہ ہوا

جو دل و جاں سے آپ کا نہ ہوا

آہ وہ بد نصیب کیسا ہے

جو تیرا ہو کے بھی تیرا نہ ہوا

(ختم نبوت زندہ باد، ص:۳۶)

مذکورہ بالا آیات و تفاسیر کی روشنی میں بالکل واضح ہو گیا کہ رسولِ گرامی وقار اہی آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی دوسرا نبی نہیں آسکتا، اہلِ دانش نے ہمیشہ حق کو قبول کیا ہے، نصیب کی یہ ارجمندی خوش نصیبوں کو ہی میسر آتی ہے۔

اب کچھ احادیث کریمہ کا مطالعہ کریں اور اس مسئلہ کا اور ثبوت منکرین کے سامنے پیش کریں۔ خدا کرے اتر جائیں کسی دل میں یہ کلمات………

تاجدارِ نبوت حضور خاتم المرسلین علیہ الصلوٰۃ و السلام نے کئی ایک مقامات پر عمدہ پیرائے میں اپنی خاتمیت کو واضح فرمایا اور خاتم النبیین کا معنی و مفہوم خوب اجاگر فرمایا۔ اگر چہ مخالفین و معاندین اپنی کج فہمی اور کور بختی کے باعث ان مقدس کلمات پر بھی بے جا اعتراضات کر کے اپنے نامۂ اعمال کو سیاہ کرتے ہیں مگر واضح رہے کہ احادیثِ نبویہ ا ان ناقص العقل لوگوں کے لئے صحیح معنی میں سمجھنا ہی مشکل ہے۔ ع

خدا جب دین لیتا ہے تو عقلیں چھین لیتا ہے

حدیث:۱ قال النبی ﷺ مثلی و مثل الانبیاء کمثل رجل بنیٰ بیتا فاحسنہ او جملہ الا موضع لبنۃ من زاویۃ فجعل الناس یطوفون بہ و یعجبون لہ و یقولون ہل لا وضعت ہذہ اللبنۃ فانا اللبنۃ و انا خاتم النبیین ۔

(بخاری شریف، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین)

’’حضور اقدس ﷺ نے فرمایا میری اور مجھ سے پہلے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی ہے لوگ عمارت کے ارد گرد پھرتے اورا س کی خوبصورتی پر متعجب و حیران ہوتے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں‘‘

یہ ایک حدیث اتنی بصیرت افروز ہے کہ ختم نبوت کے لئے مزید دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ بخاری شریف کے علاوہ مسلم شریف اور مسند امام احمد میں بھی یہ بلند رتبہ حدیث پاک مختلف اسناد اور الگ الگ الفاظ سے مندرج ہے۔

حدیث:۲ عن العرباض ساریۃ عن رسول اللہ ﷺ انی عند اللہ مکتوب خاتم النبیین و ان آدم لمنجدل فی طینۃ ۔

(مشکوٰۃشریف، باب فضائل النبیا)

حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ آدم علیہ السلام جس زمانہ میں گوندھی ہوئی مٹی کی ہیئت میں تھے میںاس وقت بھی خدا کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا۔

حدیث:۳ قال النبی ﷺ انا قائد المرسلین و لا فخر و انا خاتم النبیین ولا فخر (ایضاً)

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا میں قائد انبیاء ہوں خاتم الانبیاء ہوں اور یہ بات میں فخر سے نہیں کہتا۔

حدیث:۴ قال النبی ﷺ ان لی اسماء انا محمد و انا احمد الی قولہٖ و انا العاقب الذی لیس بعدہ نبی ۔

(بخاری و مسلم بحوالہ جزاء اللہ عروہ بابائہ ختم النوبۃ)

رسول کونینﷺ نے ارشاد فرمایا میرے کئی نام ہیں میں محمد ہوں، احمد ہوں، عاقب ہوں اور عاقب سے مراد یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔

حدیث:۵ رحمتِ کونین ﷺ ارشاد فرماتے ہیں

’’ان الرسالۃ و النبوۃ قد انقطعت فلا رسول بعدی و لا نبی بعدی‘‘ بے شک رسالت و نبوت منقطع ہو چکی ہے لہٰذا میرے بعد نہ کوئی رسول ہو گا اور نہ کوئی نبی۔ (جامع ترمذی، ۲؍۹۱)

علامہ ابن کثیر( متوفی ۷۷۴؁ھ) متعدد احادیث نقل فرمانے کے بعد لکھتے ہیں ’’فقد اخبر اللہ تعالیٰ فی کتابہ و رسولہ ﷺ فی السنۃ المتواترۃ عنہ انہ لا نبی بعدہ لتعلموا ان کل من ادعیٰ ہذا المقام بعدہ فہو کذاب افاک دجال ضال مضل‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور رسول کریم ا نے سنت متواترہ میں بتایا ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں تاکہ ساری دنیا جان لے کہ جو شخص بھی حضور کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ہے،مفتری ہے، دجال ہے، گمراہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے۔

صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے زیادہ کون قرآن و احادیث کو سمجھ سکتا ہے، تربیتِ رسول میں رہ کر کواکب درخشاں بننے والے ان خوش نصیبوں نے بھی تو یہی فیصلہ دیا ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا۔ کتب سیر و تواریخ میں سیکڑوں شواہد اس حقیقت پر دال ہیں کہ جانثارانِ مصطفی ا نے عقیدۂ ختمِ نبوت کو خود بھی مانا اور اہلِ دنیا کے سامنے خوب واضح بھی فرمایا۔

’’حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں صحابۂ کرام ختم نبوت کے باغیوں اور دشمنوں کے خلاف یکجان تھے، ان کا یہ ایمان افروز اتحاد حضور ختم المرسلین ا کی نبوت و رسالت کے بعد ہر قسم کی نبوت و رسالت کو ہرگز قابلِ قبول نہیں جانتا، لہٰذا ظلی، بروزی نبوتوں کی کوئی گنجائش نہیں، اس پر تمام امت کا اتفاق ہے کہ صحابۂ کرام جس طرح خدا کی وحدانیت پر یقین رکھتے تھے اسی طرح رسول کی ختم نبوت پر بھی یقین رکھتے تھے، صحابۂ کرام کا یہ کردار ہی ختم نبوت کے بارے میں ان کے عظیم فیصلوں کا اظہار ہے ؎

کونین کا ارماں ہے تِری ختمِ نبوت

تسکین دل و جاں ہے تِری ختم نبوت

تزئینِ گلستانِ ہدایت تِری ہستی

خورشیدِ ضوفشاں ہے تِری ختم نبوت

اے ختم رسل، مولائے کل ہادیٔ عالم

گھر گھر میں درخشاں ہے تِری ختم نبوت

ہم ختم نبوت کی ادائوں پہ فدا ہیں

صد شکر کہ دنیا میں مدینے کے گدا ہیں

سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی عقیدہ و ایمان تھا کہ حضور رحمتِ عالم ا آخری نبی ہیں، ذرا مندرجہ ذیل کلمات تو دیکھئے حقیقت کتنی روشن ہو رہی ہے، وصالِ آقا کے بعد بارگاہِ مصطفوی میں سلام پیش کرتے ہوئے عرض گزار ہیں۔

’’یا رسول اللہ (ﷺ) آپ پر میرے والدین قربان، خدائے تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی عظمت شان کا یہ عالم کہ آپ کو آخری نبی بنا کر بھیجا گیا اور ذکر میں آپ کو درجہ اول پر رکھا گیا ’’و اذ اخذنا من النبیین میثاقہم و منک و من نوح و ابراہیم و موسی و عیسی بن مریم و اخذنا منہم میثاقا غلیظا‘‘ (ختم نبوت، ۳۵، ۳۶)

حضرتِ عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ ایک گوہ سے حضور پر نور ا نے پوچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا ’’رسول اللہ رب العالمین و خاتم النبیین قد افلح من صدقک وقد خاب من کذبک‘‘ آپ رب العالمین کے رسول اور تمام نبیوں کے خاتم ہیں، جس نے آپ کی تصدیق کی وہ کامیاب ہے اور جس نے انکار کیا وہ ناکام ہے۔ (ایضا)

اسی طرح دیگر خلفائے راشدین اور مقدس صحابۂ کرام، ازواجِ طیبات رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی ختمِ نبوت و رسالت کے بارے میں یہی ایمان افروز فیصلہ تھا کہ تاجدارِ نبوت کے بعد کوئی نیا نبی و رسول ہرگز نہیں آئے گا……… تحذیر الناس جیسی کتب جو ایمان کو فوت کرنے والی ہیں ان گمراہ کن کتابوں پر یقین رکھنے والے ایمان کے اجالے میں آئیں اور اظہر من الشمس حقیقت کو ملاحظہ فرما کر حق و صداقت کو قبول کر کے اپنی عاقبت سنوارنے کی کوشش کریں۔

اب آئیے مسئلۂ ختم نبوت کے باب میں کچھ اور اہلِ عشق و وفا کے ایمان افروز اور باطل سوز بیانات ملاحظہ کریں تاکہ حقیقت اور واضح ہو جائے۔

ائمۂ مجتہدین، مفسرین، محدثین اور فقہائے عظام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے ہر ایک نے ختمِ نبوت کے مسلمہ مسئلہ و عقیدہ پر اپنی علمی اور اعتقادی کتابوں میں ٹھوس گفتگو فرمائی اور ہر جملہ ایسا پیارا کہ لب چوم لینے کو جی چاہتا ہے مگر اختصار کے پیشِ نظر میں صرف دو تین عشاق مصطفی ا اور اپنے زمانے کے باوقار علماء و بزرگوں کے ارشادات پر اکتفا کر رہا ہوں۔ مزید تفصیل کے لئے مطولات کا مطالعہ مفید رہے گا۔

عاشق بے مثال اور امت مصطفوی کے عظیم محدث حافظ الحدیث حضرت قاضی ابوالفضل محمد عیاض اندلسی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں۔

’’ اس طرح وہ بھی کافر ہے جو ہمارے نبی ﷺ کے زمانے میں کسی کی نبوت کا اِدّعا کرے جیسے مسیلمہ کذاب و اسود عنسی یا حضور کے بعد کسی کی نبوت مانے۔ اس لئے کہ قرآن و حدیث میں حضور کے خاتم النبیین ہونے کی تصریح ہے تو یہ شخص اللہ و رسول کو جھٹلاتا ہے (جل جلالہ وﷺ )جیسے یہود کا ایک طائفہ عیسویہ کہ یہ عیسی بن اسحٰق یہودی کی طرف منسوب ہے، اس نے مروان الحماد کے زمانے میں ادعائے نبوت کیا تھا اور بہت یہودی اس کے تابع ہو گئے۔ اس کا مذہب تھا کہ ہمارے نبی ا کے بعد نئی نبوت ممکن ہے۔ (کچھ سطور کے بعد) یہ سب کے سب کفار ہیں کہ نبی کریم ا کی تکذیب کرنے والے اس لئے کہ حضور اقدس ا نے خبر دی ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں اور خبر دی ہے کہ حضور کے بعد کوئی نبی نہیں اور اپنے رب عزوجل سے خبر دی کہ وہ حضور کو خاتم النبیین اور تمام جہاں کی طرف رسول بتاتا ہے اور امت نے اجماع کیا کہ یہ آیات و احادیث اپنے معنی ظاہر پر ہیں جو کچھ اس سے مفہوم ہوتا ہے خدا اور رسول کی یہی مراد ہے نہ اس میں کچھ تاویل ہے نہ تخصیص تو کچھ شک نہیں کہ یہ سب طائفے بحکم اجماع امت و بحکم حدیث و آیات بالیقین کافر ہیں‘‘

(الشفا و شرح الشفا، نسیم الریاض، بحوالہ ختم النبوت؍۹۸)

حضرت علامہ محمود آلوسی تحریر فرماتے ہیں

’’حضور اقدس ﷺ کا آخری نبی ہونا وہ مسئلہ ہے جس پر آسمانی کتابیں ناطق ہیں، حضور کی سنت (احادیث) شاہد ہیں اور اس پر تمام امت کا اجماع ہے اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر ہے، اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کر دیا جائے‘‘ (روح المعانی، بحوالہ ضیاء القرآن ۴؍۷۲)

آخر میں اپنی گفتگو کے اختتام پر میں قائدِ اہلِ سنت علامہ ارشد القادری علیہ الرحمۃ و الرضوان کی وہ عقلی دلیل پیش کر رہا ہوں جس سے عوام کے ذہنوں میں بھی مسئلۂ مذکورہ اور عقیدۂ مسلمہ واضح ہو کر نقش ہو جائے گا۔ فرماتے ہیں۔

’’اپنے گرد و پیش پر اگر آپ گہری نظر ڈالیں تو ہر پیکر وجود کی تین حالتیں آپ کو ملیں گی۔ ابتدا، ارتقاء اور اختتام۔ کیا انسان، کیا حیوان، کیا نباتات، کیا جمادات ہر شئی انہیں تین حالتوں میں محصور نظر آئے گی۔ انسان پیدا ہوتا ہے، جوان ہوتا ہے، مر جا تا ہے۔ کلی مسکراتی ہے، پھول بنتی ہے، مرجھا جاتی ہے۔ چاند پہلے دن ہلال کی شکل میں طلوع ہوتا ہے پھر بڑھتے بڑھتے مہِ کامل بنتا ہے اس کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔

غرض کائنات کی جس شئی کو دیکھئے ابتدا، ارتقاء اور اختتام کے مرحلوں سے گزرتی ہوئی نظر آئے گی یہاں تک کہ ایک دن یہ دنیا ہی اپنی بے شمار نیرنگیوں کے ساتھ اختتام کو پہنچ جائے گی پھر جب صورت حال یہ ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ نبوت جو ایک بار آگئی اب اس کا سلسلہ کسی ذات پر ختم نہیں ہوگا‘‘ (نقشِ خاتم ص:۲،۳)