خداچاہتا ہے رضائے محمدﷺ

وہ عطا دے ، تم عطا لو

وہ وہی چاہے ، جو چاہو

(از: اعلی حضرت)

٭ کیا رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا؟

٭ خانہ کعبہ کس کے چاہنے سے قبلہ بنا ہے؟

٭ رسول کے چاہنے کے معاملہ میں منافقین زمانہ کا متضاد عقیدہ کیا ہے؟

٭ تفصیلی معلومات کے لیے ضرور مطالعہ فرمائیں:

مصنف

علامہ عبدالستار ہمدانی ’’مصروفؔ‘‘ برکاتی ، نوری

ناشر

مرکز اھل سنت برکات رضا

امام احمد رضا روڈ، میمن واڈ، پوربندر۔گجرات

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب : خداچاہتا ہے رضائے محمد ﷺ

تصنیف : علامہ عبدالستار ہمدانی

تأثر : مفتی آل مصطفی قادری رضوی

استاذ دارالعلوم غوث اعظم، پوربندر، گجرات

تمہید : نعمان اعظمی الازہری 

کتابت : ارشد علی جیلانی و محمد معین

ناشر : مرکز اہل سنت برکات رضا

بار اول : ۲۷؍ جمادی الاولی ۱۴۲۶؁ھ مطابق جولائی ۲۰۰۵؁ء

ملنے کے پتے

٭ فاروقیہ بک ڈپو ، مٹیا محل ، جامع مسجد۔ دہلی

٭ مکتبہ امجدیہ ، مٹیا محل ، جامع مسجد۔ دہلی

٭البرکات گرافکس ، مٹیا محل ، جامع مسجد۔ دہلی

اھداء

امت مسلمہ کے ان انصاف پسندوں کے نام۔۔۔

٭ جو حق کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

٭ جن پر حق واضح ہونے کے بعد اپنے پرانے موقف سے عدول میں تردد نہیں

اور 

٭ جو ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے ہیں، گر چہ فیصلہ ان کے اپنے نفس کے خلاف ہو۔

(ہمدانی)

۰

نحمدہ ونصلی ونسلم علی رسولہ الکریم

الحمد اللہ!مناظر اہل سنت علامہ عبدالستار ہمدانی صاحب قبلہ نوری برکاتی (جزاہ اللہ خیر الجزاء علی ماقد م للاسلام والمسلمین) کی ذات دنیائے سنیت میں اس وقت محتاج تعارف نہیں بلکہ اہل نجد و دیوبند بھی انھیں خوب جانتے پہچانتے ہیں۔

آپ کی شہرت کا یہ روزافزوں فضل فی سبیل اللہ زبان و قلم کی سعی مشکور سے حاصل ہوا ہے۔ آپ کے قلم سے اب تک چھوٹی، بڑی سو سے زائد کتابیں منظر عام پر آکر خواص و عوام میں بلند مقام حاصل کر چکی ہیں اور باطل شکن تقریروں کا تو کچھ شمار ہی نہیں۔ گوناگوں گھریلو مصروفیات، ملی قومی ذمہ داریاں اور آئے دن تبلیغی دورے کے باوجود ان کے تصنیف و تالیف کا ذوق جنوں کسی طرح کچھ نہ کچھ آپ سے لکھوا ہی لیتا ہے۔ اور پھر نوک قلم سے ایسی تحریر صفحہ قرطاس پر ابھر تی ہے جو حضرت والا کی اولوالعزمی ، تعقل پسندی، بلندی حوصلگی اور جذباتیت کا مرقع ہوتے ہوئے اثرانگیزی اور دل پزیری سے بھی پر ہوتی ہے۔

زیر نظر کتاب بھی انھیں اوصاف کا ملاجلا اثر لئے حضرت کا فاضلانہ محققانہ قلمی شاہکار ہے۔ آپ چونکہ میدان خطابت کے بھی ایک عظیم شہسوار ہیں اس لیے آپ کی تحریروں میں بھی خطابت کی شان جھلکتی ہے اور خطیبانہ گھن گرج نظرآتی ہے۔ اور رد فرقہائے باطلہ جو آپ کا خاص فن ہے بڑے اچھوتے انداز میں جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب پاک کی چاہت کے صدقے میں آپ کی ذات سے اہل سنت و جماعت کو خوب خوب فیضیاب فرماتارہے اور یہ فیض بخش سایہ تادیر قائم رکھے ۔ (آمین)

وصلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سید نا محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔

آل مصطفی قادری رضوی

خادم الطلبہ دارالعلوم غوث اعظم پوربندر، گجرات

۲۸؍ جمادی الاولی ۱۴۲۶؁ھ

تمہید

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمد ہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے مقدس کلام قرآن مجید کے اندر ارشاد فرمایا: ’’وَمَا أتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَھَا کُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا‘‘(سورۃ الحشر، آیت۷) اور رسول جوتمھیں عطا کریں اسے لے لو اور جس چیز سے روکیں اس سے بازرہو۔ اور دوسری جگہ یوں ارشاد فرمایا: ’’وَمَاأرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ (سورۃ النساء، آیت۶۴) اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ اللہ کے حکم سے اس کی پیروی کی جائے، قرآن پاک کے اس حتمی بیان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نافذ کردہ اوامر و نواہی کے لینے یا نہ لینے میںکسی طرح کا کوئی تردد یا شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ بلکہ صاف ظاہر ہوگیا کہ شریعت وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کی، قانون اسلام وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بیان فرمادیئے۔ دستور العمل وہی ہے جس پہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود اپنی ظاہری حیات پاک میں عمل کرکے اپنی امت کے لیے نمونہ چھوڑا۔

اب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اس دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد چودھویں صدی ہجری میں پیدا ہونے والا ماہراسلامیات اور امت مسلمہ میں سے ہو نے کا دعوی کرنے والا کوئی عقلمند یہ کہے کہ ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ تو بلا شبہ اس کا ایمان غارت ہے کیونکہ اس کی اساس دین سلامت ہی نہ رہی۔

’’جہان کا سارا کاروبار اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے‘‘ اگر صرف یہی جملہ قلم بند ہوتا تو راقم کا مدعی حاصل تھا، نیزایمان بھی سلامت ہوتا اور نصف صدی سے زائد عرصہ سے اہل ایمان و اسلام اور وفاکیش مسلمانوں کی طرف سے ہونے والا احتجاج بھی نہ ہوتا۔ مگر اسی جملہ سے دوسرا جملہ ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ جوڑ کر صاحب قلم نے اپنے دل کی ساری سیاہی کا غذپر بکھیر دی اور اپنے خاردار نوک قلم سے وفادار نبی کے سینوں میں جو زخم لگایا ، اس کے رد عمل میں اس جیسے ہزاروں کتابچے معرض وجود میں آنا کوئی تعجب خیز حادثہ نہیں۔ وفادار نبی جب جب ان ناپاک تحریروں کی ٹیس اپنے دل میں محسوس کرے ہے اس کا قلم جنبش میں آجاتا ہے۔ اس کی زبان دفاع عظمت رسول میںچلنے لگتی ہے۔ پھر اپنے رسول کی عظمت کے دفاع میں استعمال ہونے والی ہر زبان و قلم قابل معافی ہے گر چہ اس سے کسی کی دل آزاری کیوں نہ ہو جائے۔ کیونکہ وہ بہر حال اپنے رسول مقبول کی سچی محبت کے تحت مجبور ہے پھر اس پر یہ الزام تراشی خلاف انصاف ہے کہ اہل ایمان کو برا بھلا کہاجاتا ہے۔ امت مسلمہ میں کسی فرد کو برا بھلا ہرگز نہیں کہا جا سکتا تاآنکہ وہ اس کا سزاوار ہو، علماء دیوبند کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے پر ہم کیوں مجبور ہیں؟

اس لئے کہ انھوں نے منصب رسالت و نبوت پر حملہ کیا ہے۔ اپنے ذاتی دشمن کو تو انسان ایک مرتبہ جی بھر کر گا لیاں دے کر تھک جاتا ہے اور پھر پوری عمر اس کی طرف اپنا رخ نہیں کرتا ، نہ اس سے رشتہ ناطہ رکھتاہے۔ مگر علماء دیوبند سے ہماری کوئی ذاتی رنجش نہیں کہ ہم ایک مرتبہ ان کارد کرکے خاموش ہوجائیں، بلکہ جب تک ہم رشتۂ اسلام و ایمان سے منسلک ہیں ان کا رد کرنا ہی ہمارا ان سے ایک طرح کا گہرا رشتہ ہے۔پھر صاحب ’’زلزلہ‘‘ مصنف ’’خون کے آنسو‘‘ اور ’’کہی ان کہی‘‘ یا ’’دھماکہ‘‘ کے مصنف پر بلا وجہ ظلم و ستم اور دشنام طرازیو ںکا الزام نہیں رکھنا چاہیے۔ بلکہ اپنے قہر و غضب کا خمار ہی نکالنا ہے توپہلے اپنے ان گرو گھنٹالوں کی قبروں پر نکالوجو رسول دشمنی کو محض اپنے دل و دماغ تک محدود نہ رکھ کر کتابوں کی شکل میں ریکارڈ کر گئے۔ اور آج انھیں دینی پیشوا مان کر ان کی غیر اسلامی عبارتوں کی جھوٹی تاویلیں کر کے ایک بڑی جماعت امت مسلمہ کے بھولے بھالے مسلمانوں کو بہکاکر امت میں انتشار پیدا کر رہی ہے۔ پھر بھی ہم خاموش رہیں؟ 

زیر نظر کتاب، اسی سلسلہ رد وہابیہ نجدیہ کی ایک اہم کڑی سمجھیے، جو اپنے موضوع اور فکر کے اعتبار سے بالکل نئی اور انوکھی ہے اور جس کے مطالعہ کے بعد اگر آپ اپنے ضمیر سے فیصلہ چاہیں تو مجھے سو فیصد یقین ہے کہ وہ مصنف ’’رضائے محمد ‘‘ کے حق میں ہوگا، عقل وخرد کے ترازو میں دونوں جملوں کو رکھیئے:

’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘-’’چاہا ہوا بڑے میاں (حاجی امداد اللہ) ہی کا ہوا‘‘

اس عبارت کو کسی ذی شعور غیر مسلم کے سامنے رکھا جائے تو وہ یہی کہے گا کہ بلا شبہ جس کا چاہا ہوا ہوتا ہے وہی بڑا ہے، پھر آپ کے نزدیک (معاذ اللہ) کیا رسول کی حیثیت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اتنی بھی نہیں؟ اور کیا حاجی امداداللہ مہاجر مکی صاحب کی شخصیت اتنی بااثر اور بارگاہ خداوندی میں اتنی مقبول تھی کہ اس مقام تک رسول بھی نہ پہنچ سکا؟

اس کتاب میں تحویل قبلہ کے متعلق اٹھائے گئے موضوع کے ضمن میں رد وہابیت اس لئے ہوگیا کہ قبلہ اول سے عدول بہر حال رسول کے چاہنے سے ہوا۔ اور وہابی نجدی کا عقیدہ ہے کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ البتہ ان کے اپنے بزرگوں کے چاہنے سے تو دنیا ادھر ادھر ہو سکتی ہے۔

اس کتاب کے فاضل مصنف علامہ عبدالستار ہمدانی نوری ،برکاتی (حفظہ اللہ) اہل سنت و جماعت کے ان سرخیل علماء میں سے ہیںجو باطل پرستوں کا رد ، گمراہوںکی سرکوبی اور اسلام دشمنوں طاقتوں کا منھ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہتے ہیں۔ او ر اس سلسلہ میں وہ اپنے کسی حلیف یا حریف کی قطعاً پرواہ نہیں کرتے، وہ حق کی حمایت میں آواز بلند کرنے میں بڑی بے باک طبیعت کے مالک ہیں۔

مرکزی ذریعہ معاش تجارت ہونے کے باوجود موصوف تعلیم و تعلم کے لئے اتنا زیادہ وقت نکال لیتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔ اب تک مطبوع و غیر مطبوع کتابوں و رسالوں کی تعداد سو سے متجاوز ہے۔ وللہ الحمد۔

یاد رہے کہ میںاس وقت موصوف کی تعریف لکھنے نہیں بیٹھا ہوں ، مگر یہ چند سطریں جو ثبت ہوئیں یہ حقیقت کا بر ملا اعتراف ہے۔ ان کی تعریف نہیں، بلکہ ان کے تعارف میں تو مجھے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ وہ رضویات کے ماہر ہونے کے ساتھ دیوبندیات کے ماسٹر ہیں۔ اور جن پر خانوادہ برکات مارہرہ مطہرہ اور سیدی اعلی حضرت فاضل بریلوی کے فیضان کا بادل جھوم جھوم کر برستا ہے۔

اخیر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو گم گشتہ راہوں کے لئے مشعل ہدایت بنائے، اور ہمیں حق بولنے اور سننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ اور اس کے مصنف کو اجر جزیل عطافرمائے۔ (آمین)

وصلی اللہم علی سیدنا محمد وآلہ وأصحابہ وأہل بیتہ أجمعین۔

طالب دعا

نعمان اعظمی الازہری

خادم مرکز اہل سنت برکات رضا

یکم جمادی الثانیہ ۱۴۲۶؁ھ

اللہ رب محمد صلی علیہ وسلما٭نحن عباد محمد صلی علیہ وسلما

الحمد اللہ الذی جعل الکعبۃ قبلۃ لرضاء حبیبہ و أمر أن نصلی شطر الکعبۃ وصلی اللہ تعالیٰ دائما أبدا علی النبی الکریم الحبیب الأعظم الذی جعل الکعبۃ قبلۃ لہ، کانت أحب الیہ من غیرھا بحسب میل الطبع حتی جعلہ اللہ القبلۃ الکعبۃ

اسلام کا قبلہ

نماز اسلام کا اہم رکن ہے ، نماز کی ادائیگی کے لیے چند شرائط ہیں، اور اس کے کچھ فرائض و واجبات و سنن و مستحبات متعین ہیں۔ ان سب میں شرائط کی بہت ہی اہمیت ہے۔ شرائط کی غیر موجود گی میں نماز قائم یعنی شروع ہی نہیں ہوگی، شرائط نماز میں سے ایک شرط ’’استقبال قبلہ‘‘ بھی ہے۔ یعنی قبلہ کی طرف رخ (چہرہ) کرنا۔ لہذا خانہ کعبہ جو ہمارا قبلہ ہے، اس کی طرف منھ کر کے ہم نماز پڑھتے ہیں۔ خانہ کعبہ سے انحراف یعنی پھر جانے کی صورت میں نماز قائم ہی نہیں ہوگی۔

ابو البشر سید نا آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ سے لے کر کلیم اللہ حضرت موسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ تک خانہ کعبہ قبلہ رہا۔ اس کے بعد حضرت موسی سے حضرت عیسی علی نبینا وعلیہما الصلاۃ والسلام تک بیت المقدس قبلہ رہا اور حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام سے حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تک بھی بیت المقدس قبلہ رہا۔ اسلام کے ابتدائی دور یعنی ہجرت شریف کے ایک سال، پانچ ماہ، اور پندرہ دن یعنی ساڑھے سترہ مہینے تک بیت المقدس قبلہ رہا۔ (حوالہ: تفسیر نعیمی، جلد ۲ ، ص۵)

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بیت المقدس کے مقابلہ خانہ کعبہ شریف سے زیادہ محبت ، رغبت اور اس کی طرف زیادہ میلان تھا۔ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانا چاہتے تھے۔ خانہ کعبہ قبلہ بنے یہ آپ کی دلی خواہش تھی۔ آپ اپنی خواہش قلبی کے پورا ہونے کی اپنے رب کریم سے تمنا کرتے تھے اور اس امید میں کہ آپ کی خواہش کی تکمیل اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی فرمائے گا، لہذا اس خیال میں آپ باربار آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر نزول وحی کا انتظار فرماتے تھے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کو اپنے محبوب اعظم و اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا وحی کے انتظار میں باربار آسمان کی جانب اپنا چہرہ اقدس اٹھانا اتنا پسند آیا کہ آپ کی اس ادائے ناز کا ذکر اپنے مقدس کلام قرآن مجید میں اس طرح فرمایا:

’’قَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمآئِ‘‘ (سورۃ البقرۃ، آیت ۱۴۴)

ترجمہ: ہم دیکھ رہے ہیں، باربار تمھا را آسمان کی طرف منھ کرنا۔ (کنزالایمان)

سبحان اللہ! حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان محبوبیت کے ارفع و اعلی ہونے کا اس آیت سے پتہ چلتا ہے۔ آپ کا آسمان کی طرف متوجہ ہونا بھی رب تبارک وتعالیٰ کو پسندآیا یہاں تک کہ آپ کی اس ادائے ناز کو پہلیبیان فرمایا اور بعد میں یہ ارشاد باری ہوا:

’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘ (سورۃ البقرۃ، آیت۱۴۴)

ترجمہ:تو ضرور ہم پھیردیں گے ، اس قبلہ کی طرف جس میں تمھاری خوشی ہے۔(کنزالایمان)

تحویل قبلہ کا واقعہ ہجرت کے ایک سال ساڑھے پانچ مہینہ کے بعد ۱۵؍رجب، بروز پیر مسجد بنی سلمہ میں ظہر کی نماز کے دوران پیش آیا ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے دورکعتیں بیت المقدس کی جانب پڑھادی تھیں اور ’’قَدْ نَرَیٰ تَقَلُّبَ وَجْھِکَ‘‘ (الآیۃ) نازل ہوئی۔ آپ فوراً حالت نماز میں مع صحابہ کرام کعبہ کی جانب پھر گئے۔ یہ نماز ’’نماز قبلتین‘‘ ہوئی۔ اور مسجد ’’جامع قبلتین‘‘ ہوئی۔ اس مسجد میں جنوبا اور شمالا دو محرابیں ہیں۔ یہ مسجد اب تک موجود ہے۔ اس مسجد کو ’’مسجد ذوالقبلتین‘‘ بھی کہتے ہیں۔ ( تفسیر نعیمی، جلد ۲، ص۶)

خلاصہ کلام یہ کہ آیت کریمہ’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘ میں پختہ وعدہ تھا کہ اے محبوب تمھیں ضرور اس قبلہ کی طرف پھیردیں گے جو تم چاہتے ہو۔ یعنی جس قبلہ کی طرف منھ کر کے نماز پڑھنے کی تمھاری مرضی اور خوشی ہے، اس قبلہ کی طرف یعنی مسجد حرام خانہ کعبہ شریف کی طرف تمھیں ہم ضرور موڑ (پھیر) دیں گے۔ یہ ایک وعدہ تھا جورب کریم نے اپنے محبوب اکرم سے فرمایا ۔ یہ وعدہ محبوب کی مرضی، خوشی اور محبوب کا چاہا ہوا پورا کرنے کے لیے کیا گیا۔ یہ وعدہ مطلق تھا۔ اس وعدہ کی تکمیل کا وقت اور مقام ذکر نہیں فرمایا گیا، کہ کب اور کہاں یہ وعدہ پورا کیا جائے گا؟ ابھی یا بعد میں؟ اسی مقام پر یا کہیں اور؟ اس بات کی بالکل وضاحت نہیں فرمائی گئی۔ بلکہ ایک مطلق و عدہ فرمایا گیا کہ اے محبوب ! تم جو چاہتے ہو، ہم ضرور پورا فرمائیں گے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خواہش پوری کرنے میں کیسا فضل و کرم فرماتا ہے، حدیث شریف کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں:

حدیث:’’عن عائشۃ۔۔۔ قلت یا رسول اللہ: ما أری ربک الا یسارع فی ھواک‘‘ رواہ أبو سعید المودب و محمد بن بشرو عبدۃعن ھشام عن أبیہ عن عائشۃ۔

(بخاری شریف ، جلد ثانی، کتاب النکاح، باب ھل للمرأۃ أن تھب نفسھا لأحد ۷۶۶، مطبوعہ رضا اکیڈمی، بمبئی) 

ترجمہ:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! میں حضور کے رب کو نہیں دیکھتی مگر یہ کہ حضور کی خواہش میں جلدی اور شتابی کرتا ہوا۔

حدیث:’’عن عائشۃ قالت قلت واللہ ماأری ربک الا یسارع لک فی ھواک‘‘۔

(مسلم شریف جلد اول، کتاب الرضاع، باب جواز ھبتھا نوبتھا لضرتھا، ص۴۷۳،مطبوعہ رضا اکیڈمی، بمبئی)

ترجمۃ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انھونے کہا کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدا کی قسم ! میں حضور کے رب کو نہیں دیکھتی مگریہ کہ حضور کے لیے حضور کی خواہش پوری کرنے میں جلد ی فرماتا ہے۔

مذکورہ دونوں احادیث کریمہ کو امام اہل سنت، مجد د دین وملت، امام احمد رضا محقق بریلوی علیہ الرحمۃو الرضوان نے اپنی کتاب مستطاب ’’الامن والعلی لنا عتی المصطفی‘‘ میںنقل فرمائی ہے۔

مندرجہ بالا دونوں احادیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب اکرم و اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آرزو اور تمنا بہت جلدی پوری فرماتا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانے کی خواہش اور تمنا فرمائی، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی خواہش پوری کرنے کا وعدہ فرمایا، جیساکہ آیت کریمہ ’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘کہ ہم ضرور تمھیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جو تم چاہتے ہو۔ یہ وعدہ فرمانے کے ساتھ ساتھ وعدہ پورا فرماتے ہوئے متصل آیت کریمہ نازل فرمائی: 

’’فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الحَرَام‘‘ (سورۃالبقرہ،آیت۱۴۴)

ترجمہ: ابھی اپنا منھ پھیر دو مسجد حرام کی طرف۔ (کنزالایمان)

اس آیت کریمہ کے نازل ہوتے ہی حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم حالت نماز میں ہی بیت المقدس سے خانۂ کعبہ شریف کی طرف پھر گئے۔ دورکعت نماز ظہر آپ نے مع جماعت صحابہ مسجد اقصیٰ کی طرف منھ کر کے ادا فرمائی تھی اور یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ آپ نماز کی حالت میں مسجد اقصیٰ سے مسجد حرام کی طرف پھر گئے اور باقی دورکعت نماز مسجد حرام یعنی خانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے ادا فرمائی۔ رب کریم جل جلالہ کا اپنے محبوب اعظم و اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر عظیم فضل و کرم ہے کہ محبوب نے جو چاہا، رب نے فوراً پورا فرمادیا۔ محبوب نے خانۂ کعبہ شریف کو قبلہ بنا نا چاہا۔ رب نے فوراً پورا فرمادیا۔ بلکہ محبوب کی خواہش اور اس خواہش کا انداز ظہور، یعنی باربار آسمان کی طرف رخ زیبا اٹھا کر دیکھنا بھی اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ اس کا ذکر قرآن مجید میں فرمادیا۔ محبوب کے قلب کے اطمینان کے لیے پہلے محبوب سے خواہش کی تکمیل کرنے کا وعدہ فرمایا اورپھر وعدہ کے ساتھ ساتھ فوراً ہی محبوب کی خواہش پوری فرمادی۔

محبوب کا چاہا ہوا رب نے پورا فرمادیا

’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘ کی صحیح تفسیر میں ملت اسلامیہ کی معتبر، معتمداورمستند تفاسیر کے حوالے پیش خدمت ہیں:

(۱) تفسیر جلالین شریف، از امام اجل، رئیس المفسرین حضرت علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ والرضوان المتوفی ۹۱۱ھ؁، مطبوعہ ، دارالفکر، لبنان، بیروت، ص۴۴ پر ہے:

’’(فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ) نحولینک (قِبْلَۃً تَرْضٰھَا) تحبھا‘‘۔

ترجمہ:(ہم ضرور پھیر دیں گے آپ کو) ہم موڑ دیں گے آپ کو (اس قبلہ کی طرف جس میں تمھاری خوشی ہے) جو تم چاہتے ہو۔

(۲) مواہب الرحمن فی تفسیر القرآن للشیخ عبدالکریم محمد المدرس، مطبوعہ دارالحریۃ، بغداد شریف، جلد اول، ص ۲۸۴ پر ہے:

’’وقولہ تعالٰی: (فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا) أی فلنو جھنک الی قبلۃ أنت ترضاھا وھی الکعبۃ الشریفۃ‘‘۔

ترجمہ:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد (تو ضرور ہم تمھیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمھاری خوشی ہے) یعنی ہم ضرور تمھیں متوجہ کردیں گے اس قبلہ کی طرف جو تم چاہتے ہو اور وہ کعبہ شریف ہے۔

(۳) تفسیر کبیر، از امام جلیل علامہ فخر الدین رازی، علیہ الرحمۃ والرضوان، المتوفی، ۶۰۴؁ھ، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، جلد چہارم، ص ۱۲۴ پر ہے:

’’قولہ: (تَرْضٰھَا) فیہ وجوہ أحدھا ترضھا أی تحبھا و تمیل الیھا، لأن الکعبۃ کانت أحب الیہ من غیرھا بحسب میل الطبع۔‘‘

ترجمہ:اللہ تعالیٰ کا ارشاد (جس میں تمھاری خوشی ہے) میں چند وجوہ ہیں ان میں سے ایک (تمھاری خوشی ہے) یعنی تم چاہتے ہواور تم مائل ہوئے اس کی طرف ، اس لیے کہ خانہ کعبہ زیادہ محبوب تھا آپ کو بمقابل دوسرے قبلہ کے اور یہ طبیعت کا میلان تھا۔

مندر جہ بالا اقتباسات سے صاف ثابت ہوا کہ حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خانہ کعبہ کو قبلہ بنانا چاہتے تھے، اسی لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو قبلہ بنا دیا۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خوشی، مرضی، خواہش اور آپ کے چاہنے کی وجہ سے ہی خانۂ کعبہ قبلہ بنا ۔ اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے کی وجہ سے خانہ کعبہ کو قبلہ بنا ئے جانے کا ذکر قرآن مجید میں تفصیل وصراحت کے ساتھ ہونے میں کیا حکمت خداوندی ہے؟ اس جانب قارئین کرام کی توجہ مرکوز کرانے کی غرض سے ایک اہم نکتہ پیش خدمت ہے:

اہم نکتہ

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر بیشمار احکام نازل فرمائے ہیں۔ امر و نہی ،حلال و حرام اور دیگر احکامات جو شریعت محمدی یا قانون شریعت کے نام سے موسوم ہیں۔ ان میں سے بعض کی فرضیت یا حلت و حرمت قرآن سے ثابت ہے اور بعض کی احادث کریمہ سے۔ یہ تمام اسلامی قوانین بظاہر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زبان فیض ترجمان سے صادر ہوئے ہیں۔لیکن درحقیقت وہ تمام کے تمام من جانب اللہ ہیں یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے نافذ فرمائے گئے ہیں۔ اس پرقرآن شاہد ہے ’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوَیٰ، اِنْ ھُوَاِلَّا وَحْیٌ یُّوْحَی‘‘ کہ یہ رسول اپنی طرف سے کچھ نہیں بولتا، وہ جو کچھ فرماتا ہے وحی الہی ہوتا ہے۔ اور ان تمام قوانین کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اللہ کے حکم کی حیثیت سے پہنچایا۔

مثلاً : اللہ کا حکم ہے 

٭ نماز پڑھو ’’أقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ‘‘

٭ زکاۃ اداکرو ’’وَأتُوْا الزَّکٰوۃَ‘‘

٭ رمضان کے روزے رکھو ’’فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ‘‘

٭ حج ادا کرو ’’وَأتِمُّوْا الحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ‘‘

٭ شراب پینا حرام ہے ’’اِنَّمَا الخَمْرُوَالْمَیْسِرُ وَالأنْصَابُ

وَالأزْلَام ُرِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ۔۔‘‘

٭ سود کھانا حرام ہے ’’وَأحَلَّ اللّٰہُ البَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰی۔۔‘‘

٭ چوری کرنا حرام ہے ’’اَلسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْا أیْدِیَھُمَا۔۔‘‘

٭ زنا کرنا حرام ہے ’’وَلَا تَقْرَبُوْا الزِّنَا۔۔‘‘

٭ خیرات کرو ’’یَا أیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنَاکُمْ‘‘

٭ گناہوں سے بچو ’’وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ۔۔‘‘

٭ غریبوں، یتیموں کی مدد کرو ’’وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانَا وَذِیْ الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسَاکِیْنِ‘‘

٭ ماں باپ کی خدمت کرو ۔(وغیرہ) ’’وَبِا لْوَالِدَیْنِ اِحْسَانَا۔۔‘‘

اسی طرح اگر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرمادیتے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ اب بجائے بیت المقدس کے خانہ کعبہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھو۔ آپ کا صرف اتنا فرمادینا ہی امت کے لئے کا فی تھا۔ اور خانہ کعبہ قبلہ بن جاتا ، لیکن اس معاملہ کا قرآن مجید میں اتنا تفصیل سے ذکر آنا اور حالت نماز میں ہی بیت المقدس سے انحراف کرکے خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوجانا، اس میں کیا حکمت ہے؟ 

اللہ تبارک و تعالیٰ علیم و خبیرہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ جانتا تھا کہ قریب قیامت میرے محبوب کی امت میں ہی کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو یہ کہیں گے کہ ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ اور حضور کے وسیلہ کی ضرورت نہیں وغیرہ وغیرہ۔

تحویل قبلہ کا واقعہ قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کرکے بارگاہ رسالت میں ان فاسد اور گمراہ کن اعتقادرکھنے والے منا فقین کا رد بلیغ فرمایا گیا ہے کہ:

٭ خانہ کعبہ کو قبلہ بننے کا شرف حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے ملا۔

٭ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے چاہا تو خانہ کعبہ قبلہ بنا۔

٭ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو چاہتے ہیں، ان کارب ضروراس کو پورا فرماتا ہے۔

٭ رسول کے چاہنے سے سب کچھ ہوسکتا ہے۔

الحاصل ! اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خواہش تحویل قبلہ کا ذکر قرآن مجید میں نہ کیا جاتا اور صرف حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم سنادیتے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اب خانہ کعبہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھو۔ تو اس میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ارفع و اعلی شان محبوبیت کا اظہار نہ ہوتا اور نہ ہی لوگوں کو پتہ چلتا کہ حضور کے چاہنے سے ہی خانہ کعبہ قبلہ بنا ہے۔ بلکہ لوگ تو یہی سمجھتے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر دیگراحکام نازل فرمائے ہیں، اسی طرح خانہ کعبہ کی طرف منھ کرکے نماز پڑھنے کا حکم بھی نازل فرمایا ہے۔ لیکن یہاں حکم نافذ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان عظمت اور بارگاہ خداوندی میں مقبولیت و محبوبیت کا اظہار فرمانا بھی مقصود تھا۔

ذرا سو چیے! کیا تحویل قبلہ یعنی قبلہ تبدیل کرنے کا معاملہ اتنا سنگین تھا کہ اس کا حکم نازل کرنے میں تاخیر کرنے سے یا نفاذ حکم کے بعد اس پر عمل کرنے میں ذرا دیر ہونے میں بہت سی جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ یا کسی قسم کے دوسرے عظیم نقصان یاخسارے کااندیشہ تھا؟ ہر گز نہیں! مگر پھر بھی تحویل قبلہ کے معاملہ میں عین حالت نماز میں وحی کا نازل ہونا اورحالت نماز ہی میں اس حکم پر عمل کرنا، بہت سے اسرار و ر موزلیے ہوئے ہے۔ اگر تحویل قبلہ کا حکم ظہر کی نماز ختم ہونے کے بعد نازل ہوتا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اعلان فرمادیتے کہ میرے رب نے مجھ پر وحی بھیج کر بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو قبلہ مقرر فرمایا ہے۔ لہذا اب ہم عصر کی نماز خانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے پڑھیں گے۔ اس میں بظاہر کوئی نقصان نہ تھا۔ معمولی سی تاخیر میں کوئی حرج نہ تھا۔ مگر مشیت ایزدی کو اتنی تا خیر بھی منظور نہ تھی۔ محبوب اکر م جو چاہیں اس کی تکمیل میں معمولی سی تاخیر بھی منظور نہیں۔لہذا رب تبارک وتعالیٰ نے حالت نماز میں ہی وحی نازل فرمائی اورپہلے محبوب کا چاہا ہوا پورا کرنے کا وعدہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘ یعنی ہم تمھیں ضرور اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے، جس میں تمھاری خوشی ہے۔ قرآن مجید کے انداز بیان کی عظمت اور دلکشی ملاحظہ فرمائیں کہ لفظ ’’فَلَنُوَ لِّیَنَّکَ‘‘ میں حرف فاکے بعد حرف لام کا استعمال فرمایاگیا ہے۔ عربی قواعد کی اصطلاح میں یہ لام تا کید کا ہے اور اس لام تاکید کے ذریعہ جملہ کو موکد بنایاگیا ہے۔ جس کا عام فہم مطلب یہ ہے کہ اے محبوب ہم جو وعدہ تم سے کر رہے ہیں اسے ضرور پورا فرمائیں گے۔ حالانکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات سے وعدہ خلا فی کا کوئی امکان ہی نہیں۔ پھر بھی اسلوب تاکید کا استعمال فرما کر وعدہ کی تکمیل کا یقین دلا یا جارہا ہے۔ یعنی محبوب کی تسلی فرمائی جارہی ہے۔ اور ایسی شان و شوکت سے فرمائی جارہی ہے کہ حالت نماز میں ہی وعدہ پورا فرمایا جارہاہے، بلکہ اس پر عمل بھی حالت نماز میں ہی شروع کر دینے کا حکم بھی دیاجارہا ہے۔

’’فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‘‘ یعنی ابھی اپنا منھ پھیردو مسجد حرام کی طرف۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ اے محبوب ! ہم تمھاری چاہت پورا کرنے کو اتنی زیادہ اہمیت سے نواز تے ہیں کہ نماز جو خالص میری رضا مندی کے لیے پڑھی جاتی ہے اور بندہ اپنی تمام توجہات دنیا و مافیہا سے ہٹا کر اپنے رب کریم کی طرف مرکوز کرکے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنے رب یعنی میری طرف ہی متوجہ ہوتا ہے، ایسی سعادت بھری عبادت کے لمحوں میں بھی ہم تمھارا چاہا پورا فرما رہے ہیں۔ اگر چہ عمل کرنے میں تمھارا سینہ اصل (پرانے) قبلہ سے ہٹ جائے۔ صرف تمھارا ہی نہیں بلکہ تمھارے صحابہ کا سینہ بھی چاہے ہٹ جائے۔

قارئین کرام! ایک مسئلہ ضرور یاد رکھیں کہ نماز کے شرائط میں سے ایک شرط استقبال قبلہ ہے یعنی جتنی دیر تک نماز پڑھے اتنی دیر تک نمازی قبلہ کی طرف متوجہ رہے۔ اگر حالت نماز میں اس کا سینہ قبلہ کی سمت سے پھر گیا، تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی، اور پھر سے ادا کرنی ہوگی۔ لیکن تحویل قبلہ کے واقعہ میں حضور اقدس رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نماز باجماعت کی حالت میں قبلہ یعنی بیت المقدس سے پھر گئے۔ نماز کی ابتداء کے وقت تو استقبال قبلہ یعنی بیت المقدس کی طرف منھ کی نیت تھی اور دورکعت پڑھنے کے بعد اب نہ وہ نیت ہے ، نہ اس نیت پر عمل۔ دو رکعت کے بعد اب اول نیت والے قبلہ سے انحراف ہے، لیکن نہ تو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نماز میں کوئی فرق آیا اور نہ ہی کسی صحابی کی نماز فاسد ہوئی۔ بلکہ یہ نماز کامل اور بے مثال نماز کی حیثیت سے اسلامی تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے منقش ہوگئی۔

ایک مزید وضاحت کرتے ہوئے عرض ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر جو وحی آتی تھی، اس کی کئی صورتیں ہیں۔ مثلاً:

(۱) گھنٹی کی آواز کے مانند۔ اس کو صلصلۃ الجرس کہتے ہیں یعنی گھنٹی کی آواز سنائی دیتی تھی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا اس کے کلمات و معانی کو نہیں سمجھ سکتاتھا۔ اقسام وحی میں یہ قسم سب سے زیادہ سخت تھی۔

(۲) حضرت جبریل امین علیہ السلام کسی انسانی شکل میں آتے۔

(۳) حضرت جبریل امین علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں آتے۔

(۴) حضرت جبریل امین علیہ السلام کسی بھی صورت میں سامنے آئے بغیر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب اطہر میں وحی القا کردیتے۔

(۵) براہ راست اور بلا واسطہ اللہ تعالیٰ شرف ہم کلامی سے نواز تا۔

(۶) حق تعالیٰ کا آپ پر اس حالت میں وحی فرمانا کہ آپ عروج فوق عرش یعنی معراج میںتھے۔

(۷) حق تبارک وتعالیٰ کا حضور اقدس سے بے حجابانہ کلام فرمانا، کبھی کبھی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نیند کی حالت میں رب تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوتے اور رب تبارک وتعالیٰ آپ سے کلام فرماتا۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ہے :’’رأیت ربی فی أحسن صورۃ‘‘ یعنی میں نے اپنے رب کو احسن (سب سے اچھی) صورت میں دیکھا۔

(۸) کبھی کبھی حالت نماز میں وحی نازل ہوتی ۔

نزول وحی کے مختلف اوقات و مقامات

lمکہ مکرمہ l مدینہ منورہ l غار حراء l میدان منیٰl میدان جہاد l ر ات میں l دن میں l سفر میںl حضر میں l سواری پر l حالت نماز میں۔ وغیرہ

حالاں کہ قرآن مجید کی سورتیں مکہ اور مدنی صرف دواقسام میں ہی بانٹ دی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعض مکی سورتوں کی کچھ آیتیں مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہیں اور بعض مدنی سورتوں کی کچھ آیتیں مکہ معظمہ میں نازل ہوئی ہیں۔ اس بحث کو زیادہ طول نہ دیتے ہوئے صرف اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ حالت نماز میں نزول وحی کا معاملہ بہت کم مرتبہ ہوا ہے۔ قرآن مجید کی وہ آیات جو حالت نماز میںنازل ہوئی ہیں۔ ان کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ غالبا ان کا شمار دس آیات سے متجاوز نہیں۔ صرف اور صرف اہم معاملہ کے تعلق سے اور تاخیر سے بچانے کے لئے ہی وہ آیات حالت نماز میں نازل فرمائی گئی ہیں۔ 

تحویل قبلہ کا معاملہ بظاہر ایسا نہ تھا جس میں دو رکعت نماز پوری کرنے اتنی تاخیر نقصان دہ ہوتی۔ کیونکہ ۱۵؍رجب ۲ ھ؁کو مسجد بنی سلمہ میں حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ظہر کی نماز کی دو رکعتیں ادا فرما چکے تھے اور دو رکعتیں ہی باقی تھیں۔ اگر باقی دو رکعتیں پڑھ کر ظہر کی چاروں رکعتیں پوری کرلینے کے بعد تحویل قبلہ کی آیت نازل ہوتی، تو اتنی تاخیر بظاہر کسی حرج کا سبب نہ بنتی کہ اتنی تاخیر کی وجہ سے دشمن چڑھ آیا اور حملہ کرد یا، یا کسی کی جان کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ اختتام نماز تک کی تاخیر میں بظاہر کوئی سبب نہیں تھا، لیکن یاد رہے کہ یہاں صرف کسی نقصان یا حرج کی بات نہ تھی بلکہ محبوب اکرم و اعظم کی رضا اور خواہش کو پورا کرنے کا معاملہ تھا۔ محبوب جو چاہتا ہے ، اسے پورا کرنا تھا۔ لہذا حالت نماز میں ہی وعدہ کی تکمیل فرمائی گئی اور نماز میں ہی تحویل قبلہ پر عمل در آمد کا حکم نازل فرمایا گیا۔

یہاں تک کی گفتگو سے ثابت ہوا کہ: 

٭ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے خانہ کعبہ قبلہ بنا۔

٭ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو چاہتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ پورا فرماتا ہے، بلکہ جلدی پورا فرماتاہے۔

٭ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جو کچھ بھی چاہتے ہیں ، وہ ہوتاہے۔

اور اس حقیقت کو قیامت تک لوگوں کو باورکرانے کے لیے ہی اللہ تبارک وتعا لی نے اپنے مقدس کلام قرآن مجید میں وضاحت کے ساتھ تحویل قبلہ کا واقعہ بیان فرمایا، تا کہ ہر قرآن مجید پڑھنے والا اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو جائے کہ:

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دلی خواہش تھی کہ بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ ہمارا قبلہ بنے اور اپنی اس آرزو اور تمنا کی تکمیل کے لیے آپ آسمان کی طرف باربار اپنا چہرۂ اقدس پھرارہے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خانہ کعبہ کو قبلہ بنا نا چاہتے تھے، اسی لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے خانہ کعبہ کو قبلہ بنانا منظور فرمایا، اپنے محبوب کو حالت نماز میں ہی بذریعہ وحی خوشخبری سنا دی اور اسے فوراً پورا فرماتے ہوئے حالت نماز میںہی بیت المقدس چھوڑ کر خانہ کعبہ کی طرف گھوم جانے کا حکم نازل فرمایا اور محبوب کا چاہا ہوا قبلہ مقرر فرمادیا۔

منافقین زمانہ کاحیرت انگیز عقیدہ

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے پر خانہ کعبہ کو قبلہ بنا دیا، یعنی خانہ کعبہ حضور کے چاہنے سے قبلہ بنا۔ مگر دور حاضر کے منافقین ایسا فاسد عقیدہ رکھتے ہیں کہ سننے والا حیرت زدہ رہ جائے گا۔ مثلاً:

٭ وہابی ، دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے امام و مقتدا و نیز فرقہ غیر مقلدین کے قائد و پیشوا، مولوی اسماعیل دہلوی کی کتاب ’’تقویۃ الایمان‘‘ ناشر دارالسلفیہ، بمبئی، ص۹۵ اور ص ۹۶ پر ہے :

’’جو اللہ کی شان ہے اس میں کسی مخلوق کو دخل نہیں۔ اس میں اللہ کے ساتھ کسی مخلوق کو نہ ملائے، خواہ وہ کتنا ہی بڑا اور کتنا ہی مقرب ہو۔ مثلا: یوں نہ بولے کہ اللہ اور رسول چاہے گا تو فلاں کام ہو جائے گا، کیونکہ جہان کا سارا کاروبار اللہ ہی کے چاہنے سے ہوتا ہے۔ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

مندر جہ بالا عبارت میں امام المنافقین، مولوی اسماعیل دہلوی نے صاف لفظوں میں ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ لکھ کرحضور اقدس ، مالک کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اختیارات وکمالات کا انکار کیا ہے۔(معاذ اللہ)

٭ وہابی، دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے حکم الامت، مجد دالنفاق، امام الضلالۃ مولوی اشرف علی تھانوی کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ ناشر ربانی بک ڈپو، دہلی ، حصہ اول، ’’کفر اور شرک کی باتوں کا بیان‘‘ عنوان کے تحت، صفحہ۳۵ پر ہے :

’’یوں کہنا کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہے گا، تو فلاں کام ہو جائے گا۔‘‘ 

(معاذ اللہ)

کچھ سمجھے آپ؟ اس جملہ میں مولوی اشرف علی تھانوی یہ کہنا چاہتے ہیں، کہ اگر کسی نے یہ عقیدہ رکھا کہ اللہ اور رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم چاہیں گے تو فلاں کام ہو جائے گا تو ایسا عقیدہ رکھنے والا کافر یا پھر مشرک ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنے والا دین اسلام سے خارج اور ایمان سے محروم ہوگیا، کیونکہ وہابی مذہب میں رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا اور رسول کے چاہنے سے کچھ ہو سکنے کا عقیدہ شرک ہے ۔

قارئین کی عدالت میں استغاثہ

 آپ حضرات نے بالتفصیل ملاحظہ فرمایا کہ خانہ کعبہ شریف حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے قبلہ بنا، قرآن مجید ،پارہ۲، سورۃ البقرہ کی آیت ۱۴۴ میں اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ ہم تمھیں ضرور اس قبلہ کی طرف پھیردیں گے جو تم چاہتے ہو ۔ اور محبوب کا چاہا ہوا رب نے پورا فرماتے ہوئے خانہ کعبہ کو قبلہ بنا دیا۔ بلکہ قرآن مجید کی تفاسیر اور کتب احادیث کی روشنی میں ہم سیرت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا جائزہ لیں ، تو ہمیں ایسے بہت سے مستند واقعات ملیں گے کہ جن میں بصراحت درج ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جو کچھ چاہا، رب تبارک وتعالیٰ نے پورا فرمادیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے بہت کچھ ہوا ہے بلکہ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔

لیکن! منا فقین زمانہ کا یہ کہنا ہے کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ حالانکہ قرآن و حدیث سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ رسول کے چاہنے سے سب کچھ ہوسکتا ہے جس کاسب سے بڑا ثبوت خانہ کعبہ کا قبلہ مقرر ہوناہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خانہ کعبہ کو قبلہ بنانا چاہتے تھے ۔لہذا اب دو باتیں سامنے آئیں:

اب آپ کس کی بات مانیں گے؟

٭ اللہ تعالیٰ کی یا منافقین زمانہ کی؟

٭ قرآن کی بات سچی ہے یا تقویۃ الایمان اور بہشتی زیور کی؟

ملت اسلامیہ کا بچہ بچہ اس حقیقت سے اچھی طرح آشنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بات ہی سچی ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

’’وَمَنْ أصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ حَدِیْثًا‘‘ (سورۃ النساء، آیت ۸۷)

ترجمہ:اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے۔ (کنزالایمان)

’’وَمَنْ أصْدَقُ مِنَ اللّٰہِ قِیْلًا‘‘ (سورۃالنساء، آیت۱۲۲)

ترجمہ: اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔ (کنزالایمان)

اللہ کی بات سب سے زیادہ سچی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح فرمادیا کہ رسول اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے کی وجہ سے ہی ہم نے خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا۔

لیکن! منافقین زمانہ کا یہ عقیدہ ہے کہ ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘ (تقویۃ الایمان) اور ایسا عقیدہ رکھنا کہ’’ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم چاہے گا تو فلاں کام ہوجائے گا‘‘ کفر یا شرک ہے۔ (بہشتی زیور) 

اب ہم قارئین کرام کی عدالت سے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ آپ خود اپنے ضمیر سے پوچھ کر غیر جانبدار ہو کر فیصلہ فرمائیں کہ منافقین زمانہ کا یہ عقیدہ کہاں تک صحیح ہے؟

منافقین زمانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز کیوں پڑھتے ہیں؟

جب منافقین زمانہ کا یہ عقیدہ ہے کہ’’ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘اور اس حقیقت کا بھی قطعا ًانکار نہیں کیا جا سکتا کہ رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چاہنے سے ہی خانہ کعبہ قبلہ بنا ہے۔ اور منافقین زمانہ کا مزید یہ قول ہے کہ نبی کے چاہنے سے کچھ ہونے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ تو ہم ان منافقین زمانہ سے صرف اتنا ہی کہتے ہیں کہ تحویل قبلہ کے تعلق سے قرآن مجید میں جو بیان ہے ، اسے تم مانتے ہو یا نہیں؟ آیت کریمہ ’’فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰھَا‘‘ میں وارد لفظ ’’تَرْضَاھَا‘‘ (جو تم چاہتے ہو) سے صاف ثابت ہے کہ رسول کا چاہنا رب کو بھی منظور ہے۔ جس رسول کے چاہے ہوئے کو رب تبارک وتعالیٰ منظور فرماکر پورا فرماتا ہو، اس رسول سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اور اس کی جیتی جاگتی مثال ملت اسلامیہ کا خانہ کعبہ شریف کی طرف منھ کرکے نماز پڑھنا ہے۔ کیونکہ رسول کے چاہنے سے ہی خانہ کعبہ قبلہ بنا ہے۔

اگر منافقین زمانہ کے خیال خام اور زعم باطل میں رسول کے چاہنے سے کچھ ہو سکنے کا عقیدہ رکھنا کفر یا شرک ہے ، تو بتایا جائے! قرآن نے ہمیں کیا عقیدہ دیا ہے؟ تحویل قبلہ کاذکر قرآن مجید میں ہونے سے ہمیں کیا عقیدہ ملتا ہے؟ یہی نا کہ خانہ کعبہ رسول کے چاہنے سے قبلہ بنا ہے۔ جس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ رسول کے چاہنے سے کچھ ہو سکنے کا عقیدہ قرآنی عقیدہ ہے۔ اور اس عقیدہ کو کفر اور شرک کہنے والا قرآن و سنت کے بیان کردہ عقیدہ کے خلاف کرتا ہے۔

حیرت اور تعجب اس بات پر ہے کہ جس عقیدہ کو منافقین زمانہ کفر اور شرک بتارہے ہیں، عملاً اسی پہ کاربند بھی ہیں۔ یعنی خانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز پڑھ کر اس بات کا کھلے بندوں اعتراف بھی کرتے ہیں کہ رسول کے چاہنے سے سب کچھ ہو سکتا ہے۔اور اس کا ثبوت ہمارا خانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز پڑھنا ہے۔ کیونکہ رسول کے چاہنے ہی سے خانہ کعبہ قبلہ بنا ہے۔

اگر منافقین زمانہ اپنے اس عقیدہ میں سچے ہیں کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا اور رسول کے چاہنے سے کچھ ہو سکنے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے تو یہ لوگ خانہ کعبہ کی طرف منھ کر کے نماز کیوں پڑھتے ہیں؟ رسول کے چاہنے سے کچھ ہوسکنے کا عقیدہ اگر شرک ہے؟ تو خانہ کعبہ کا قبلہ ہونا، رسول کے چاہنے کا ہی نتیجہ ہے۔ا ور منافقین زمانہ کے فاسد عقیدہ کے مطابق یہ شرک ہے۔ لہذا اگر منافقین زمانہ اپنے عقیدے میں حق بجانب ہیں،تو انھیں خانہ کعبہ کے بجائے قبلہ سابق بیت المقدس کی طرف ہی منھ کرکے نماز پڑھنی چاہیے، کیونکہ اگر وہ لوگ خانہ کعبہ کو قبلہ تسلیم کرتے ہیں، تو گویا درپردہ رسول کے چاہنے سے کچھ بھی ہو سکتا ہے ،کے عقیدے کی تائیداور اعتراف کرتے ہیں اور یہ عقیدہ ان کے مذہب کے خودساختہ اصول کی بناء پر شرک ہے۔

الٹی ٹانگیں گلے پڑنا

منافقین زمانہ کا ہمیشہ یہی وتیرہ رہا ہے کہ جب انبیاء کرام اور اولیاء عظام کی عظمت و رفعت کا معاملہ درپیش ہوتا ہے، تو وہ توحید کا علم بلند کرکے شرک کے فتوے کی تلوار چمکاتے پھرتے ہیں، لیکن جب اپنی یا اپنے بزرگوں کی شیخی مارنے کا موقع ہاتھ آتا ہے تو شرک کی تمام اصطلاحات بھول جاتے ہیں۔ جس بات کو نبی اور ولی کے حق میں شرک اور کفر ٹھہراتے ہیں۔ وہی بات اپنے پیشواؤں کے لیے کرامت اور کمال کے طورپر پیش کرتے ہیں اور ان کے کانوں پر جوںتک نہیں رینگتی۔

وہابی، دیوبندی اور تبلیغی جماعت کے حکیم الامت مولوی اشرف علی تھانوی صاحب لاولد تھے، پہلی بیوی سے کوئی اولاد نہ ہوئی تو بوڑھا پے میں ایک کم سن لڑکی سے شادی کی، مگر پھر بھی باپ بننے سے محروم ہی رہے۔ تھانوی صاحب کی خالہ کو تھانوی صاحب کے یہاں اولاد پیدا ہونے کی بڑی خواہش اور حسرت تھی۔ لہذا تھانوی صاحب کی خالہ صاحبہ نے تھانوی صاحب کے پیرومرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکی صاحب سے اس امر کی شکایت کی اور گزارش کی کہ آپ دعا فرمادیں کہ اللہ تعالیٰ اشرف علی کی خالی گود کو گوہر اولاد سے بھردے۔ اس واقعہ کو خود مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنی محفل میں کئی مرتبہ بیان کیا ہے ۔ایک حوالہ پیش خدمت ہے۔

٭ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ اولاد کے ثمرات جو بھگتتے ہیں وہ جانتے ہیں۔ حضرت حاجی صاحب نے ایک مرتبہ مجھ سے فرمایا کہ تمھاری خالہ تمھارے لیے اولاد کی دعا کرنے کو کہتی تھی۔ میں نے کہہ دیا کہ میںدعاکروں گا لیکن میں تمھارے لیے اسی حالت کو پسند کرتاہوں، جیسا کہ میں خود ہوں، یعنی بے اولاد۔ سامان سب کچھ ہوئے مگر چاہا ہوا بڑے میاں ہی کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ خاص معاملہ تھا ، وہ کہاں ٹل سکتا تھا۔

حوالہ: (۱)الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ، المعروف بہ ملفوظات حکیم الامت، ناشر مکتبہ دانش، دیوبند ،۱۹۸۹؁ء جلد ۳ ، قسط۴، ملفوظ ۷۰۷، اوپر صفحہ نمبر ۴۳۹،نیچے صفحہ نمبر ۱۰۳۔

(۲)الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ، المعروف بہ ملفوظات حکیم الامت، ناشر مکتبہ دانش، دیوبند،۲۰۰۰ء؁، جلد۶، ملفوظ نمبر ۲۹۱، ص۲۱۹۔

اسی مفہوم کی عبارت الفاظ و جمل کی تبدیلی کے ساتھ (۱)اشرف السوانح جلد اول ، ص۱۸۸، (۲)حسن العزیز جلد ۱، ح۳، قسط ۱۸، ملفوظ ۴۰۹، ص ۳۹ (۳)الافاضات الیومیہ ، جلد۱قسط۱، ملفوظ ۱۱۱، ص۶۰ (۴) الافاضات الیومیہ جلد ۲، قسط ۵، ملفوظ ۹۳۵، ص ۵۲۳ پر بھی موجود ہے۔

قارئین کرام مندرجہ بالا عبارت کو ایک مرتبہ نہیں بلکہ چند مرتبہ پڑھیں اور ’’سامان سب کچھ ہوئے مگر چاہا ہوا بڑے میاں ہی کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ خاص معاملہ تھا وہ کہاں ٹل سکتا تھا۔‘‘ پر توجہ سے غوروفکر کریں۔

تھانوی صاحب کی خالہ نے تھانوی صاحب کے پیرو مرشد حاجی امداداللہ صاحب مہاجر مکی سے درخواست کی کہ اشرف علی کے لیے اولاد کی دعا فرمادیں۔ حاجی صاحب نے تھانوی صاحب کی خالہ کا دل رکھنے کے لیے کہہ دیا کہ میں دعا کروں گا، لیکن حاجی صاحب نہیں چاہتے تھے کہ تھانوی صاحب باپ بنیں۔ بلکہ جس طرح حاجی صاحب بے اولاد تھے، اسی طرح تھانوی صاحب کو بھی بے اولاد دیکھنا چاہتے تھے۔ اور بقول تھانوی صاحب سامان سب کچھ ہوئے یعنی حصول اولاد کے لیے ہر ممکن کوشش کی گئی، علاج و معالجہ کیے گئے، حکیموں اور ڈاکٹروں سے رابطہ کیا گیا بلکہ تھانوی صاحب نے اپنی بیگم صاحبہ کو لے کر ڈاکٹروں کو دکھا نے کے لیے کانپور کا سفر بھی کیا۔ بیگم صاحبہ کا اعلی سے اعلی علاج کرایا گیا۔ علاج و معالجہ میں کسی قسم کی کوئی کسرباقی نہ رکھی گئی تاہم نتیجہ صفر ہی آیا۔ حالانکہ حکیموں اور ڈاکٹروں کے ذریعہ کیے گئے علاج معالجہ سے بظاہر یہ امید کی جانے لگی تھی کہ عنقریب بیگم تھانوی حاملہ ہوجائیں گی اور تھانوی صاحب کے گھر بھی پنگوڑہ بندھے گالیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔کیوں؟

اس لیے کہ تھانوی صاحب کے پیرومرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکی نہیں چاہتے تھے کہ تھانوی صاحب کے گھر اولاد پیدا ہو، بلکہ حاجی صاحب اپنی طرح تھانوی صاحب کو بھی بے اولاد دیکھنا چاہتے تھے۔ لہذا حصول اولاد کی تمام تدابیر ناکام ہوئیں اور بقول تھانوی صاحب چاہا ہوا بڑے میاں ہی کا ہوا۔ یعنی بڑے میاں پیرومرشد حاجی امداد اللہ کا ہی چاہا ہو کر رہا اور تھانوی صاحب کے یہاں اولاد نہ ہوئی۔ اس جملہ میں ’’میاں ہی‘‘ کا استعمال کرکے تھانوی صاحب یقین کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ کسی اور کا نہیں، بلکہ حاجی صاحب کا ہی چاہا ہوا ۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے اپنی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ میں ’’کفر اور شرک کی باتوں کا بیان ‘‘عنوان کے تحت کفر اور شرک کی جن باتوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک ’’یوں کہنا کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہے گا تو فلاں کام ہو جائے گا‘‘بھی ہے۔ اس میں صرف رسول کے چاہنے کا ذکر نہیں بلکہ خدا اور رسول دونوں کا ایک ساتھ ہے۔ یعنی خدا بھی چاہے اور رسول بھی چاہے۔ یہاں چاہنا خدااور رسول کے درمیان مشترک ہے، اس کے باوجود بھی ایسا کہنے اور ایسا عقیدہ رکھنے کو شرک لکھا گیاہے۔ لیکن اپنے پیرومرشد حاجی امداداللہ صاحب کا جب معاملہ آیا تو اب چاہنا منفرد ہوگیا، میاں ہی کا لکھ کر صاف اقرار کیا کہ صرف اور صرف حاجی صاحب کا ہی چاہا ہوا۔ یہاں اللہ تعالیٰ کا چاہنا بھی حذف کردیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑے میاں یعنی حاجی صاحب کا ہی چاہا ہوا کیوں ہوا؟ خود تھانوی صاحب رقمطراز ہیں کہ

’’اللہ تعالیٰ کا ان کے ساتھ خاص معاملہ تھا۔‘‘

ذرادیکھیے ! کیسی الٹی بات کہی جارہی ہے۔ حاجی صاحب کا اللہ کے ساتھ خاص معاملہ تھا لکھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا حاجی صاحب کے ساتھ خاص معاملہ لکھا ہے۔ حاجی صاحب کو مرجع اور (معاذ اللہ) خدائے تعالیٰ کو راجع قرار دیا ہے۔ اس جملہ کی قباحت کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔مثلاً:

٭ کسی عام شہری کی بادشاہ کے دربار میں رسائی ہونے کی وجہ سے اس کی ہر بات کو شرف قبولیت سے نوازا جاتا ہو، تو اس مقبولیت کے تعلق سے یہی کہا جائے گا کہ فلاں صاحب کی بادشاہ سلامت تک رسائی ہے۔ یہ ہر گز نہیں کہا جائے گا کہ بادشاہ کی فلاں صاحب تک رسائی ہے۔

٭ عام طورپر اللہ کے نیک بندوں یعنی بزرگان دین ، اولیائے کرام کے لیے یہی کہا جاتا ہے کہ یہ بندے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقبول ہیں۔ یہ ہرگز نہیں کہاجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ان کی بارگاہ کا مقبول ہے۔

٭ زید مکان کی چھت پر کھڑا ہے، تو یہی کہا جائے گا کہ زید مکان کے اوپر ہے، یہ ہرگز نہیں کہا جائے گا کہ مکان زید کے قدموں کے نیچے ہے۔

٭ بلکہ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے لیے بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ان حضرات کی خدائے تعالیٰ تک رسائی ہے، یہ ہر گز نہیں کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ کی انبیاء کرام کی بارگاہ میں رسائی ہے۔

لیکن اپنے پیر کی اندھی عقیدت میں تھانوی صاحب نے الٹی ہی بات لکھ ڈالی کہ اللہ تعالیٰ کا ان (حاجی صاحب) کے ساتھ خاص معاملہ تھا۔ اور اس خاص معاملہ کی بھی کوئی وضاحت اور اس خاص معاملہ پر کوئی دلیل قرآن و حدیث سے نہیں۔ صرف تھانوی صاحب کے پیرو مرشد ہونے کی حیثیت ہی اللہ کے ساتھ خاص معاملہ کے لیے کافی ہے۔ پھر آگے چل کر اس خاص معاملہ کی اہمیت جتاتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ وہ کہاں ٹل سکتا تھا۔‘‘

خلاصہ کلام یہ ہے کہ تھانوی صاحب بے اولاد رہے، اور اس کی وجہ صرف یہ رہی کہ تھانوی صاحب کے پیرو مرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکی اپنے مرید تھانوی صاحب کو بے اولاد رکھناچاہتے تھے، ناچار حاجی صاحب جو چاہتے تھے وہی ہو کر رہا۔ حاجی صاحب کا چاہا ہوا کبھی بھی ٹل نہیں سکتاتھا۔

انصاف کا مطالبہ

انصاف پسند قارئین کرام انصاف فرمائیں!

٭ تقویۃ الایمان ص ۹۵اور ص۹۶ پر مولوی اسماعیل دہلوی نے صاف لکھ دیاکہ ’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔‘‘

٭ بہشتی زیور ص۳۵’’کفر اور شرک کی باتوں کا بیان‘‘ کے ضمن میں مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا کہ ’’یوں کہنا کہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہے گا تو فلاں کام ہو جائے گا‘‘

ان دونوں عبارتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ منافقین زمانہ کا عقیدہ ہے کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، اور رسول کے چاہنے سے کچھ ہونے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ منافقین زمانہ انبیاء کرام کو عاجز بندہ اور اپنے جیسا عام بشر مانتے ہیں۔ اور انبیاء کرام کے اختیارات اور تصرفات کا انکار کرتے ہیں۔

لیکن! جب اپنا اور اپنے پیشواؤں کا معاملہ درپیش ہوتا ہے تو’’دروغ گو راحافظہ نہ باشد‘‘ یعنی جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا۔ والی مثال کا نمونہ بن کر جھوٹ بولتے ہیں، بعدہ اپنے بیان کی خود تردید کرتے ہیں۔ انبیاء کرام اور اولیاء عظام کے تعلق سے جن باتوں پر کفر اور شرک کافتوی صادر کرتے ہیں وہی باتیں اگر اپنے پیشواؤں کے تعلق سے کہی جاتی ہیں۔ تو کفر اور شرک کے سارے فتوے یک لخت فراموش کرکے انھیں باتوں کو اپنے پیشواؤںکی کرامت اور کمال میں شمار کرکے اسے بڑے ہی فخر کے ساتھ اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں۔

رسول کے چاہنے پر کفر اور شرک کا حکم لگانے والے مولوی اشرف علی تھانوی صاحب اپنے پیرو مرشد کے چاہنے کو اٹل کہہ رہے ہیں۔ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا کہنے والے اپنے پیرو مرشد کا یقین کے درجہ میں پورا ہونا اور ٹل نہیں سکنا کہہ کر متضاد عقیدہ ظاہر کر رہے ہیں ۔ نبی اور رسول کے معاملہ میں جو عقیدہ رکھنا کفر اور شرک تھا۔ وہی اپنے پیرو مرشد کے حق میں شرک کے حکم سے خارج ہو کر عین ایمان ہوگیا۔

گفتگو کے اختتام پر ایک بات یادرکھیں:

٭ منافقین زمانہ کا عقیدہ ہے کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ مگر اللہ تعالیٰ کا مقدس کلام قرآن مجید شاہد عادل ہے کہ رسول کے چاہنے کو اللہ تعالیٰ ضرور پورا فرماتا ہے۔ خانہ کعبہ کا قبلہ مقرر ہونا رسول کے چاہنے ہی سے ہے۔

٭ منا فقین زمانہ کے پیشوا مولوی اسماعیل دہلوی اور مولوی اشرف علی تھانوی نے لکھا ہے کہ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا اور رسول کے چاہنے سے کچھ ہوسکنے کا عقیدہ رکھنا شرک ہے۔ مگر اپنے پیرومرشد حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے متعلق مولوی اشرف علی تھانوی نے بالکل وہی عقیدہ دہرایا ہے کہ ’’حاجی امداداللہ کا چاہا ہوا ضرور پورا ہوتا ہے اور حاجی صاحب جو چاہتے ہیں وہ ٹل نہیں سکتا۔

منافقین زمانہ کا مندرجہ بالا عقیدہ خلاف قرآن و سنت اور متضاد ہونا ہی ان کے باطل ہونے کا روشن ثبوت ہے۔

پھر بھی ہم قارئین کرام سے مودبانہ التماس کرتے ہیں کہ منافقین زمانہ کے متضاد اعتقاد کو پھر ایک مرتبہ بنظر عمیق دیکھیں اور ٹھنڈے دل و دماغ سے غور و فکر فرمائیں۔ اور ایک مخلص مومن کی حیثیت سے انصاف سے فیصلہ دیں کہ 

حق کیا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باطل کیا ہے؟

التماس

٭ اس کتاب کے مباحث پڑھنے سے پہلے آپ اپنے ضمیر کا فیصلہ سننے کے لیے تیار ہوجایئے۔ آپ کو اللہ کا واسطہ کہ آپ فیصلہ دینے میں ہر گزکسی گروہ کی جانبداری نہیں کریں گے۔

٭ تعصب کی عینک نکال کر کھلے دل سے ، اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں اور اپنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے بتایئے!

’’رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘

اگر یہ عقیدہ درست ہے؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

’’چاہا ہوا بڑے میاں ہی کا ہوا‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمارا احتجاج بجاہے یا نہیں؟

٭ ستم ظریفی کی حد ہے کہ پہلا عقیدہ تو کفر شرک ہے۔ کیوں کہ وہ رسول کی بابت ہے۔

٭ لیکن ! دوسرا عین ایمان ہے۔ کیونکہ اپنے گھر کے بزرگ کی عزت افزائی میں ہے۔

٭ متضاد اعتقاد و عمل کا اس سے حسین سنگم شاید ہی آپ نے کہیں دیکھا ہو!

(ہمدانی)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.