أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اَرَءَيۡتُمۡ اِنۡ اَخَذَ اللّٰهُ سَمۡعَكُمۡ وَ اَبۡصَارَكُمۡ وَخَتَمَ عَلٰى قُلُوۡبِكُمۡ مَّنۡ اِلٰـهٌ غَيۡرُ اللّٰهِ يَاۡتِيۡكُمۡ بِهٖ ؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ ثُمَّ هُمۡ يَصۡدِفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے یہ بتاؤ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے جائیے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو یہ چیزیں تمہارے پاس لے آئے ‘ دیکھیے ہم کس طرح بار بار دلائل بیان کرتے ہیں پھر (بھی) وہ روگردانی کرتے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے یہ بتاؤ اگر اللہ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے جائیے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اللہ کے سوا کوئی معبود ہے جو یہ چیزیں تمہارے پاس لے آئے ‘ دیکھیے ہم کس طرح بار بار دلائل بیان کرتے ہیں پھر (بھی) وہ روگردانی کرتے ہیں۔ (الانعام : ٤٦) 

اللہ تعالیٰ کے مستحق عبادت ہونے پر دلیل :

اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ خالقیت پر استدلال کرنا مقصود ہے کیونکہ انسان کے اشرف الاعضاء کان آنکھیں اور دل ہیں۔ کان قوت سامعہ کا محل ہیں ‘ آنکھیں قوت باصرہ کا محل ہیں اور دل حیات ‘ عقل اور علم کا محل ہے۔ اگر ان اعضاء سے یہ صفات زائل ہوجائیں تو انسان کے حواس اور اس کی کارکردگی کا نظام فاسد ہوجائے گا اور وہ دین و دنیا کے فوائد حاصل کرنے سے محروم ہوجائے گا اور یہ بالبداہت معلوم ہے کہ جس ذات نے ان قوتوں کو پیدا کیا اور ان کو زائل ہونے سے محفوظ رکھا ہے ‘ وہ اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ ان عظیم الشان اور عالی قدر نعمتوں کا دینے والا صرف سبحانہ وتعالی ہے تو پھر یہ کہنا واجب ہے کہ تعظیم ‘ ثناء اور عبادت کا مستحق بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ بتوں کی عبادت کرنا باطل اور فاسد طریقہ ہے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے اگر وہ تمہارے دلوں پر مہر لگا دے۔ اس کا ایک معنی ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دے جس سے وہ ہدایت کو نہ سمجھ سکیں اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی عقلوں کو بالکل زائل کردے اور وہ پاگلوں اور مجنونوں کی طرح ہوجائیں اور اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو مردہ کر دے۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ‘ دیکھئے ہم کس طرح بار بار دلائل بیان کرتے ہیں یعنی کبھی ہم انہیں اپنی نعمتیں یاد دلا کر ان کو ایمان لانے کی ترغیب دیتے ہیں اور کبھی انہیں پچھلی امتوں کا عذاب یاد دلا کر ڈراتے ہیں اور کبھی اس بات سے ڈراتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو تمہارے اشرف الاعضاء کو معطل اور بےکار کردیں ‘ تاکہ تم ایمان لے آؤ اور کبھی اپنی الوہیت ‘ قدرت اور توحید پر دلائل پیش کرتے ہیں کہ تم ان دلائل سے متاثر ہو کر ایمان لے آؤ۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 46