مدینہ آنے والا ہے

مدینہ آنے والا ہے

از:… حضرت علامہ اختر رضا خان ازہری۔

سنبھل جا اے دلِ مضطر مدینہ آنے والا ہے

لٹا اے چشم تر گوہر مدینہ آنے والا ہے

قدم بن جائے میرا سر مدینہ آنے والا ہے

بِچھوں رَہ میں نظر بَن کر مدینہ آنے والا ہے

جو دیکھے ان کا نقشِ پا خدا سے وہ نظر مانگوں

چراغِ دل چلوں لے کر مدینہ آنے والا ہے

کرم ان کا چلا یوں دل سے کہتا راہِ طیبہ میں

دلِ مُضطر تسلّی کر مدینہ آنے والا ہے

نچھاور ہیں مدینہ کی یہ میرا دل مِری آنکھیں

نچھاور ہوں مدینہ پر مدینہ آنے والا ہے

الٰہی میں طلب گارِ فنا ہوں خاکِ طیبہ میں

الٰہی کر نثارِ در مدینہ آنے والا ہے

مدینہ کو چلا میں بے نیاز رہبر منزل

رہِ طیبہ ہے خود رہبر مدینہ آنے والا ہے

مجھے کھینچے لئے جاتا ہے شوقِ کوچۂ جاناں

کھنچا جاتا ہوں میں یکسر مدینہ آنے والا ہے

وہ چمکا گنبدِ خضریٰ وہ شہر پُر ضیا آیا

ڈھلے اب نور میں پیکر مدینہ آنے والا ہے

جہاں سے بے خبر ہو کر چلو خلدِ مدینہ میں

چلو اب ہوش کی پی کر مدینہ آنے والا ہے

مدینے میں کھلے بابِ حیاتِ نو بطرزِ نو

بدل ڈالو کہن دفتر مدینہ آنے والا ہے

ذرا اے مرکب عمر رواں چل برق کی صورت

دکھا پرواز کے جوہر مدینہ آنے والا ہے

طلب گارِ مدینہ تک مدینہ خود ہی آجائے

تو دنیا سے کنارہ کر مدینہ آنے والا ہے

مدینہ آگیا اب دیر کیا ہے صرف اتنی سی

تو خالی کر یہ دل کا گھر مدینہ آنے والا ہے

فلک شاید زمیں پر رہ گیا خاکِ گزیں بن کر

بچھے ہیں راہ میں اختر مدینہ آنے والا ہے

فضائیں مہکی مہکی ہیں ہوائیں بھینی بھینی ہیں

بسی ہے کیسی مشکِ تر مدینہ آنے والا ہے

قمر آیا ہے شاید ان کے تلووں کی ضیاء لینے

بچھا ہے چاند کا بستر مدینہ آنے والا ہے

محمد کے گدا کچھ فرش والے ہی نہیں دیکھو

وہ آتا ہے شہِ خاور مدینہ آنے والا ہے

غبارِ راہِ انور کس قدر پُر نور ہے اخترؔ

تنی ہے نور کی چادر مدینہ آنے والا ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.