نذر ونیاز کی کیا حقیقت ہے ؟:

القرآن :حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللّٰہ بہ۔

ترجمہ :تم پر حرام ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح میں غیر اللہ کا نام پکارا گیا ۔

(سورہ مائدہ ،پارہ :۶،آیت نمبر ۶)

القرآن :انما حرم علیکم المیتۃ والدم الحم الخنزیر وما اھل لغیر اللّٰہ بہ o

ترجمہ :تم پر یہی حرام کیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا ۔(سورہ نحل ،پارہ ،۱۴،آیت نمبر ۱۱۵)

عقیدہ :اہلسنّت کے نزدیک معنی یہ ہیں کہ بوقت ذبح کسی جانور پر غیر اللہ کا نام پکار ا جائے جیسا کہ معتبر تفاسیر میں ہے بیضاوی ،مدارک ،ابن عباس،خازن وغیرہ ان تمام کے آتے ہیں خلاصہ یہ کہ بوقت ذبح کسی غیر کانام جانور پر پکارا تو وہ حرام ہے ورنہ حرام نہیں بلکہ حلال ہے جیسا کہ آجکل اولیاء کی روح کو ایصال ثواب کیا جاتا ہے یہ صحیح ہے ۔

اب ہمارے مؤقف کی تائید میں معتبر تفاسیر کے حوالے ملاحظہ ہوں ۔

۱)…تفسیر ابن عباس رضی اللہ عنہما میں ہے :

وما اھل بہ لغیر اللّٰہ ای ذبح لغیر اسم اللّٰہ عند الاصنام o

ترجمہ :جو اللہ تعالیٰ کے نا م کے بغیر بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔

۲)…تفسیر جلالین میں ہے :

ترجمہ :ذبح کرتے وقت جس غیر خدا کا نام لیں وہ بھی حرام ہے اور ہلال کے معنی پکارنے اور نام لینے کے ہیں جب کفار ذبح کرتے وقت اپنے بتوں کے نام لے کر ذبح کرتے تھے اور چھری پھراتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی کہ جس کے ذبح کرتے وقت بتوں کا نام لیا جائے وہ حرام ہے ۔

ان تمام تفاسیر سے ثابت ہو اکہ بوقت ذبح جس جانور پر غیر اللہ کا نام ذکر کیا جائے اس کا کھانا حرام ہے ،مشرکین عرب بتوں کی قربانی کے جانور پر وقت ذبح غیر اللہ کا نام لیتے تھے اور جس جانور پر ذبح کرتے وقت غیر اللہ کا نام نہ لیا جائے وہ حلال ہے اگر چہ عمر بھر اس کو غیر اللہ کے نام سے پکارا ہو مثلا ً یہ کہا زید کی گائے ،عبدالرحمن کا دنبہ ،عقیقے کا بکرا مگر بوقت ذبح بسم اللہ اللہ اکبر کہا گیا ہو وہ جانور حلال ہے ۔

ہندوؤں کابت پرچڑھا وے چڑھانا :

ہندوؤں نے بتوں کے الگ الگ نام رکھے ہوئے ہیں ،وہ مندر ، پر جاکر بتوں کا نام لیکر جانوروں اور دیگر چیزوں کی بلی چڑھاتے ہیںجو کہ حرام ہے ۔

مسلمانوں کا نذر ونیاز کرنا :

مسلمان اللہ تعالیٰ کو اپنا خالقِ حقیقی مانتے ہیں اولیاء کرام کو مراتب اور القاب اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں نذر ونیاز اولیاء اللہ کے ایصالِ ثواب کے لئے جاتی ہے مسلمان جانور کو بسم اللہ اللہ اکبر پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں پھر اس کا ثواب اولیاء اللہ کو ایصال کرتے ہیں ۔

حدیث شریف :حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار اعظم ﷺ نے عیدالا ضحی پر ایک مینڈھا ذبح کر کے فرمایا یہ قربانی میری اورمیری اُمت کے ان اشخاص کی طر ف سے جنہوں نے قربانی نہیں کی ۔(بحوالہ ابو داؤد ،کتاب الا ضاحی )

جس طرح سرکارِ اعظم ﷺجانور ذبح کر کے اُمّت کو ثواب دیتے تھے ہم اسی طرح جانور ذبح کرکے اولیاء اللہ کو ثواب ایصال کرتے ہیں جو کہ جائز ہے ۔