وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ‌ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 48

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِيۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِيۡنَ وَمُنۡذِرِيۡنَ‌ۚ فَمَنۡ اٰمَنَ وَاَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ہم صرف خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجتے ہیں، پھر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم صرف خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجتے ہیں، پھر جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کو اس وجہ سے عذاب ہوگا کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ (الانعام : ٤٩۔ ٤٨) 

انبیاء (علیہم السلام) کا مقرر شدہ کام :

اس آیت کا معنی ہے کہ ہم رسولوں کو صرف ترغیب اور ترہیب کے لیے بھیجتے ہیں۔ وہ دنیا میں رزق کی وسعت اور آخرت میں ثواب کی بشارت دیتے ہیں۔ قرآن مجید کی مذکور ذیل آیتوں میں ترغیب اور ترہیب دونوں کی مثالیں ہیں۔ 

(آیت) ” ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت من السمآء والارض ولکن کذبوا فاخذنھم بما کانوا یکسبون، افام اھل القری ان یاتیھم باسنا بیاتا و ھم نآئمون “۔ (الاعراف : ٩٧۔ ٩٦) 

ترجمہ : اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور ڈرتے رہتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے برکتیں کھول دیتے ‘ لیکن انہوں نے (رسولوں کی) تکذیب کی تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو گرفت میں لے لیا، کیا بستیوں والے اس سے بےخوف ہیں کہ راتوں رات ان پر عذاب آجائے درآنحالیکہ وہ سو رہے ہوں۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے رسولوں کو اس لیے بھیجا ہے کہ وہ خوشخبری سنائیں اور ڈرائیں۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ کفار ان سے من مانے اور فرضی معجزات طلب کریں۔ انبیاء (علیہم السلام) صرف ان ہی معجزات کو پیش کرتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہوتی ہے اور کسی انسان کی تسلی اور اطمینان کے لیے جس قدر معجزات کی ضرورت ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کو عطا فرما دیتا ہے اور جو شخص ان معجزات کی وجہ سے انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کرتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہے وہ آخرت میں عذاب سے بےخوف ہوگا اور جن لوگوں نے ان معجزات کے باوجود انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ان کو آخرت میں عذاب ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 48

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.