یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا(۷۱)

اے ایمان والو ہوشیاری سے کام لو (ف۱۸۵) پھر دشمن کی طرف تھوڑے تھوڑے ہو کر نکلو یا اکٹھے چلو

(ف185)

دُشمن کے گھات سے بچو اور اُسے اپنے اُوپر موقع نہ دو ایک قول یہ بھی ہے کہ ہتھیار ساتھ رکھو

مسئلہ: اِس سے معلوم ہوا کہ دشمن کے مقابلہ میں اپنی حفاظت کی تدبیر یں جائز ہیں ۔

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّۚ-فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا(۷۲)

اور تم میں کوئی وہ ہے کہ ضرور دیر لگائے گا (ف۱۸۶) پھر اگر تم پر کوئی افتاد(مصیبت) پڑے تو کہے خدا کا مجھ پر احسان تھا کہ میں ان کے ساتھ حاضر نہ تھا

(ف186)

یعنی منافقین ۔

وَ لَىٕنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا(۷۳)

اور اگر تمہیں اللہ کا فضل ملے (ف۱۸۷) تو ضرور کہے (ف۱۸۸) گویا تم میں اس میں کوئی دوستی نہ تھی اے کاش میں ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی مراد پاتا

(ف187)

تمہاری فتح ہو اور غنیمت ہاتھ آئے ۔

(ف188)

وہی جس کے مقولہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ،

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِؕ-وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا(۷۴)

تو انہیں اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے جو دنیا کی زندگی بیچ کر آخرت لیتے ہیں اور جو اللہ کی راہ میں لڑے پھر مارا جائے یا غالب آئے تو عنقریب ہم اُسے بڑا ثواب دیں گے

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَاۚ-وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا ﳐ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ(۷۵)

اور تمہیں کیا ہوا کہ نہ لڑو اللہ کی راہ میں (ف۱۸۹) اور کمزور مردوں اور عورتوں اور بچوں کے واسطے جویہ دعا کررہے ہیں کہ اے رب ہمارے ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دے دے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دے دے

(ف189)

یعنی جہاد فرض ہے اور اس کے ترک کا تمہارے پاس کوئی عذر نہیں ۔

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِۚ-اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠(۷۶)

ایمان والے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں (ف۱۹۰)اورکفار شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں تو شیطان کے دوستوں سے (ف۱۹۱) لڑو بے شک شیطان کا داؤ کمزور ہے (ف۱۹۲)

(ف190)

اس آیت میں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی گئی تاکہ وہ ان کمزور مسلمانوں کو کفار کے پنجہء ظلم سے چھڑائیں جنہیں مکّہ مکرّمہ میں مشرکین نے قید کرلیا تھا اور طرح طرح کی ایذائیں دے رہے تھے اور اُن کی عورتوں اور بچوں تک پربے رحمانہ مظالم کرتے تھے اور وہ لوگ اُن کے ہاتھوں میں مجبور تھے اس حالت میں وہ اللہ تعالی سے اپنی خلاصی اور مددِ الہٰی کی دعا ئیں کرتے تھے ۔ یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اُن کا ولی و ناصر کیا اور انہیں مشرکین کے ہاتھوں سے چھڑایا اور مکّہء مکرّمہ فتح کرکے اُن کی زبردست مدد فرمائی ۔

(ف191)

اعلاء ِدین اور رضائے الٰہی کے لئے۔

(ف192)

یعنی کافروں کا اور وہ اللہ کی مدد کے مقابلہ میں کیا چیز ہے۔