الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :547

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوبارحضرت جبریل نے بیت اﷲ کے پاس میری امامت کی ۱؎ تو مجھے ظہر پڑھائی جبکہ سورج ڈھل گیااورسایہ تسمہ کی برابرہوا ۲؎ اورمجھے عصر پڑھائی جب کہ ہرچیز کا سایہ اس کے برابرہوگیا۳؎ اورمجھے مغرب پڑھائی جبکہ روزے دارافطارکرتاہے۴؎ مجھے عشاءپڑھائی جب کہ شفق غائب ہوگئی۵؎ اورمجھے فجرپڑھائی جب کہ روزے دارپرکھاناپیناحرام ہوتاہے۶؎ پھرجب کل ہوئی تومجھے ظہر جب پڑھائی کہ چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا۷؎ اور مجھے عصر جب پڑھائی کہ چیز کا سایہ دوگنا ہوگیا۸؎ اورمجھے مغرب پڑھائی جب کہ روزے دارافطارکرتاہے ۹؎ اور مجھے عشاءتہائی رات تک پڑھائی اورمجھے فجرپڑھائی اجالاکرکے پھرمیری طرف متوجہ ہوئے عرض کیا اے محمدمصطفےٰ۱۰؎ یہ آپ سے پہلے نبیوں کے اوقات ہیں۱۱؎ اوران وقتوں کے درمیان وقت نمازہے۱۲؎(ابوداؤد،ترمذی)

شرح

۱؎ یعنی شبِ معراج کے سویرے جبریل امین نے دو دن مجھے نمازپڑھائی سب سے پہلے ظہر پڑھائی۔خیال رہے کہ حضرت جبریل حضور کے استاد نہیں بلکہ خادم ہیں،یہ نماز پڑھانا پیغامِ الٰہی پہنچانے کے لئے تھا۔یہ عملی رسالت تھی جو ادا کی اورکبھی مقتدی امام سے افضل ہوتاہے۔حضور نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پیچھے نماز فجر پڑھی حالانکہ حضور نبی تھے وہ امتی،نیز اس امامت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نفل والے کے پیچھے فرض نماز درست ہے کیونکہ آج یہ نمازیں حضرت جبریل پرفرض ہوگئی تھیں،جب رب نے انہیں یہ حکم دیا تو فرض ہوگئیں۔یہ واقعہ بیت اﷲ کے دروازے سے متصل ہوا جہاں اب بھی لوگ نفل پڑھتے ہیں،یہاں حوض کی طرح جگہ نیچی ہے،غسلِ کعبہ کے وقت یہاں ہی زمزم بھراجاتا ہے۔یہ بھی خیال رہے کہ حضرت جبریل کی یہ تعلیم امت کے لئے تھی نہ کہ حضور کے لئے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم تو نماز کا طریقہ اس کے اوقات اوّل سے ہی جانتے تھے پہلی وحی جب آئی تو آپ غارحرا میں معتکف تھے،نیزمعراج کو جاتے وقت بیت المقدس میں سارے رسولوں کو نماز پڑھا کر گئے،پھر بیت المعمور میں سارے فرشتوں کونماز پڑھائی وہ تونبیوں اورفرشتوں کے امام ہیں مگر امت کو تعلیم احکام کے نزول کے بعد ہوتی ہے۔

۲؎ یعنی اس دن آفتاب ڈھلنے پر انسان کا سایہ جوتہ کے تسمہ کے برابرتھا کیونکہ گرمی کا موسم تھا یہ سایہ موسموں کے لحاظ سےگھٹتا بڑھتارہتاہے۔خیال رہے کہ یہاں سایہ سے مرادعام انسانوں کا سایہ ہے نہ کہ حضور کا سایہ،نہ حضرت جبریل کا کہ یہ دونوں نورہیں نور کا سایہ نہیں ہوتا،حضور کا سایہ نہ تھا اگرچہ سارے عالم پر انہیں کا سایہ ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب رسالہ “نور”میں دیکھو۔

۳؎ اس حدیث سے امام شافعی و صاحبین نے دلیل پکڑی کہ ایک مثل پرعصرکا وقت ہوجاتاہے۔ہمارے امام اعظم کے نزدیک دومثل پرہوتا ہے۔مگر یہ حدیث ان کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس میں سایہ اصلی کا ذکر نہیں،حالانکہ ان بزرگوں کے نزدیک بھی عصر کا وقت سایہ اصلی کے سواء ایک مثل سایہ ہونے پر ہوتا ہے۔حق یہ ہے کہ اوقات کی یہ حدیث منسوخ ہے،جیسے کہ اس دن ہرنماز دو رکعت تھی ایسے ہی اس دن اوقات نماز یہ تھے،بعدمیں نمازوں کی رکعتوں میں بھی زیادتی ہوئی اوراوقات میں بھی تبدیلی۔ان شاءاﷲ اس کی تحقیق اگلے باب میں ہوگی اورہماری کتاب “جاء الحق”حصہ دوم میں بھی ملاحظہ کرو۔اس کی ناسخ احادیث کا بھی ذکر آرہا ہے۔

۴؎ یعنی آج کل جس وقت افطار ہوتا ہے اس وقت مغرب پڑھائی سورج ڈوبتے ہی،ورنہ اس دن نہ روزہ فرض تھا نہ افطارتھا۔روزے بعدہجرت فرض ہوئے لہذا حدیث پراعتراض نہیں۔

۵؎ اس کا وہی مطلب ہے جواوپربیان ہوا یعنی غروب آفتاب کی سرخی کے بعدوہ سفیدی شفق ہے اس کے چھپنے پروقت عشاءہوجاتاہے وہ ہی یہاں مراد ہے جیسا کہ ان شاءاﷲ اگلے باب میں آرہاہے۔

۶؎ اس کا وہ ہی مطلب ہے جواوپربیان ہوا یعنی آج کل جب پو پھٹنے پرروزہ دارکو کھانا پینا حرام ہوتا ہے اس وقت نمازفجرپڑھائی ورنہ اس وقت نہ روزے تھے نہ سحری وافطار۔

۷؎ ظاہر یہ ہے کہ آج ظہر اس وقت پڑھائی جس وقت کل عصر پڑھائی تھی،یعنی ایک مثل سایہ پر۔لہذایہ حدیث بالا تفاق منسوخ ہے۔کسی کا مذہب یہ نہیں کہ ظہر کا آخر اور عصر کا اول بالکل ایک وقت ہے،سب کے نزدیک ظہر کے بعد عصر کا وقت ہوتاہے۔بعض نےفرمایا کہ یہاں تقریبی وقت مراد ہے یعنی قریبًا ایک مثل سایہ تھا ایک مثل سے کچھ ہی پہلے۔بعض نے فرمایا کہ نماز ظہر ختم ہونے پر ایک مثل ہوا نہ کہ شروع پر۔بعض نے فرمایا کہ ایک مثل مع سایہ اصلی کے مرادہے،یعنی کل عصر پڑھائی ایک مثل پر،علاوہ سایہ اصلی کے اوپر،آج ظہر پڑھائی ایک مثل مع سایہ اصلی کے۔غرض کہ یہ حدیث مشکلات میں سے ہے حق یہ ہے کہ منسوخ ہے۔

۸؎ یہ خبربھی بالاتفاق منسوخ ہے کیونکہ سب کے نزدیک وقت عصرآفتاب چھپنے پرختم ہوتا ہے نہ کہ سایہ دوگنا ہونے پربلکہ امام اعظم کے ہاں اس وقت عصر شروع ہوتی ہے۔

۹؎ یعنی مغرب دو دن ایک ہی وقت پڑھائی،امام شافعی و مالک کا یہ ہی قول ہے۔مگرہمارے ہاں یہ حدیث ہی منسوخ ہے۔پچھلی حدیث میں گزرگیاکہ حضورنے دوسرے دن مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔اگر وقت مغرب صرف اداءنمازکے بقدرہوتا تو اس تاخیر کے کیا معنی ہیں؟ اور وہ حدیث اس کے بعد کی ہے کیونکہ آج تو اسلام کی پہلی نمازیں اداہو رہی ہیں۔

۱۰؎ یہ کلمہ حضور انکسار کے طور پراپنے الفاظ میں ادا فرمارہے ہیں ورنہ حضرت جبریل نے نہایت ادب سے عرض کیا تھا کہ یارسول اﷲ یا حبیب اﷲ،جیسے آج کوئی عالم کہے کہ مجھے جلسہ والوں نے کہا کہ تو بھی کچھ کہہ حالانکہ جلسے والے ادب سے عرض کرتے ہیں۔حضرت جبریل صرف نام شریف لے کر کیسے پکارسکتے ہیں یہ تو حکم قرآنی کے خلاف ہے،رب فرماتا ہے:”لَاتَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ”الایہ۔

۱۱؎یعنی ان نمازوں میں سے جس نبی نے جو نمازپڑھی وہ ان ہی وقتوں میں پڑھی۔خیال رہے کہ کسی نبی پر یہ پانچ نمازیں جمع نہ ہوئیں یہ اجتماع حضور کی امت کی خصوصیت ہے،لہذا حدیث صاف ہے بلکہ ابوداؤد،بیہقی،ابن ابی شیبہ کہتے ہیں حضور نے فرمایا کہ نمازعشاءتم سے پہلےکسی امت نے نہ پڑھی،ہوسکتا ہے کہ یہ نمازبعض انبیاء نے پڑھی ہوں ان کی امت پر فرض نہ ہو جیسے آج نماز تہجد ہمارے حضور پر فرض تھی ہم پر فرض نہیں۔طحاوی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھاسے روایت کی کہ نماز فجرحضرت آدم نے پڑھی جب توبہ قبول ہوئی،نمازظہرحضرت ابراہیم نے پڑھی حضرت اسماعیل کا فدیہ دنبہ آنے پر،نماز عصر حضرت عزیر نے پڑھی جب سو برس کے بعدآپ زندہ ہوئے،نماز مغرب حضرت داؤد نے پڑھی اپنی توبہ قبول ہونے پر،مگر چار رکعت کی نیت باندھی تھی تین رکعت پر سلام پھیردیا تھک گئے تھے لہذا تین ہی رہ گئیں،نماز عشاء ہمارے حضور نے پڑھی۔بعض نے فرمایا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے پڑھی جب آگ لینے طور پر گئے،خیریت سے نبوت لے کر آئے،بیوی صاحبہ کو بخیریت پایا کہ بچہ پیداہوچکاتھا۔واﷲ اعلم!

۱۲؎ ظاہریہ ہے کہ ان دو دنوں میں صرف حضور نے حضرت جبریل کے ساتھ نمازیں پڑھیں ان میں صحابہ ساتھ نہ تھے جیسا کہ اَمَّنِی سے معلوم ہوا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم خودنماز پڑھ کر پڑھنے کا حکم دیتے تھے یا حضوربطورنفل حضرت جبریل کے ساتھ پڑھتے رہے اوربعد میں صحابہ کو پڑھاتے رہے۔خیال رہے کہ معراج کے سویرے نماز فجر نہ پڑھی گئی نہ قضاء کی گئی کیونکہ قانون بیان سے پہلے عمل کے لائق نہیں ہوا،معراج کی رات نمازفرض ہوئی اورپہلے ظہر پڑھی گئی لہذا آج چارنمازیں ہوئیں پھر پانچ اس کی تحقیق ہماری کتاب “تفسیرنعیمی”وغیرہ میں دیکھو۔