ولایت کی حقیقت قرآن مجید سے }

القرآن :الا ان اولیاء اللّٰہ لاخوف علیھم ولاھم یحزنونoالذین امنوا وکانوا یتقونoلھم البشریٰ فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃo

ترجمہ :سن لوبے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم وہ جو ایمان لائے اور پر ہیز گاری کرتے ہیں انہیں خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔

(سورہ یونس ،پارہ ۱۱،آیت نمبر ۶۲،۶۳،۶۴)

اس آیت میں تمام اولیاء اللہ جو قیامت تک آئیں گے ان سب کی ولایت کا تذکرہ موجود ہے ولایت قرآن کی صریح آیت سے ثابت ہے لہٰذا اس کا انکار قرآن کا انکار ہے جو کفر ہے ۔

عقیدہ:اس آیت میں ولایت کے علاوہ اولیاء اللہ کو دنیا کی زندگی اور آخرت کی زندگی کے لئے خوشخبری بھی دی ۔تمام اولیاء اللہ مثلاًغوث اعظم ،حضرت خواجہ اجمیری ،حضرت داتا علی ہجویری وغیر ہا جب اپنی ظاہری زندگی میں تھے جب بھی لوگ انہیں اللہ تعالیٰ کا ولی مانتے تھے اور اب وصال کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کے ولی ہیں دنیا انہیں ولی اللہ کہہ کر آج بھی یا دکرتی ہے ۔

معلوم ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنا ولی بناتا ہے تو لوگوں کے دلوں میں بھی ڈال دیتا ہے کہ ان سے محبت کرو ۔