وَاَنۡذِرۡ بِهِ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ‌ لَـيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 51

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاَنۡذِرۡ بِهِ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ‌ لَـيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اس (قرآن) کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو اپنے رب کی طرف جمع کیے جانے سے ڈرتے ہیں دراں حالیکہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا نہ شفاعت کرنے والا۔ (ان کو ڈرائیے) تاکہ وہ متقی ہوجائیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اس (قرآن) کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو اپنے رب کی طرف جمع کیے جانے سے ڈرتے ہیں دراں حالیکہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا نہ شفاعت کرنے والا۔ (ان کو ڈرائیے) تاکہ وہ متقی ہوجائیں۔ (الانعام : ٥١) 

کافروں اور مسلمانوں کو ڈرانے کے الگ الگ محمل : 

اس سے پہلے کی آیتوں میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ لہذا اس آیت میں فرمایا اس قرآن کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائیے جو اپنے رب کی طرف جمع کیے جانے سے ڈرتے ہیں۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ ان لوگوں سے کون مراد ہیں ؟ بعض نے کہا اس سے مراد کافر ہیں ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کو عذاب آخرت سے ڈراتے تھے ‘ اور بعض کافروں پر اس ڈرانے کا اثر ہوتا تھا اور وہ سوچتے تھے کہ شاید آپ ٹھیک کہتے ہوں۔ پھر فرماا اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی ان کی شفاعت کرنے والا نہیں ہوگا۔ اس میں یہود و نصاری کا رد ہے جو کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ (المائدہ : ١٨) اور اس میں مشرکین کا بھی رد ہے جو یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ ان کے بت اللہ کے پاس انکی شفاعت کریں گے اور بعض مفسرین نے کہا کہ ان لوگوں سے مراد مسلمان ہیں اور معنی یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو ڈرائیے جو اپنے رب کی طرف جمع کیے جانے سے ڈرتے ہیں ‘ کیونکہ مسلمانوں کو ہرچند کہ اپنے رب کے سامنے جمع کیے جانے کا یقین تھا ‘ لیکن ان کو اپنے اوپر عذاب کا یقین نہیں تھا ‘ کیونکہ ان کو یہ گمان تھا کہ ان کا خاتمہ ایمان اور نیک اعمال پر ہوگا۔ تاہم یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ان کو عذاب ہو ‘ اس لیے فرمایا کہ آپ انہیں آخرت کے عذاب سے ڈرائیں تاکہ وہ گناہوں سے باز رہیں اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں۔ اس کے بعد فرمایا اس دن اللہ کی اجازت کے بغیر نہ کوئی مدد کرسکے گا ‘ نہ شفاعت کرسکے گا اور گناہ گار مسلمانوں کے لیے جو شفاعت کی جائے گی وہ اللہ کی اجازت سے ہوگی : 

(آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “۔ (البقرہ : ٢٥٥) 

ترجمہ : کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کی بارگاہ میں شفاعت کرسکے۔ 

(آیت) ” ولا تنفع الشفاعۃ عندہ الالمن اذن لہ “۔ (سبا : ٢٣) 

ترجمہ : اور اس کی بار گاہ میں صرف اسی کی شفاعت سے نفع ہوگا جس کے لیے وہ اجازت دے گا۔ 

(آیت) ” ولا یشفعون الا لمن ارتضی “۔ (الانبیاء : ٢٨) 

ترجمہ : اور وہ (فرشتے) اسی کی شفاعت کریں گے جس کے لیے وہ (رب) راضی ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 51

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.