اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَۚ-فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةًۚ-وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَۚ-لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍؕ-قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ-وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى-وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(۷۷)

کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن سے کہا گیا اپنے ہاتھ روک لو (ف۱۹۳) اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا (ف۱۹۴) تو اُن میں بعضے لوگوں سے ایسا ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرے یا اس سے بھی زائد (ف۱۹۵) اور بولے اے رب ہمارے تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا (ف۱۹۶) تھوڑی مدت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا تم فرماد و کہ دنیا کا برتنا تھوڑا ہے(ف۱۹۷) اور ڈر والوں کے لیے آخرت اچھی اور تم پر تاگے برابر ظلم نہ ہوگا (ف۱۹۸)

(ف193)

قتال سے، شانِ نزول: مشرکینِ مکّہ مکرّمہ میں مسلمانوں کو بہت ایذائیں دیتے تھے ہجرت سے قبل اصحابِ رسُول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک جماعت نے حضورکی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمیں کافروں سے لڑنے کی اجازت دیجئے انہوں نے ہمیں بہت ستایا ہے اور بہت ایذائیں دیتے ہیں ۔ حضورنے فرمایا کہ اُن کے ساتھ جنگ کرنے سے ہاتھ روکو، نماز اور زکوٰۃ جو تم پر فرض ہے وہ ادا کرتے رہو۔

فائدہ ۔ اس سے ثابت ہوا کہ نماز وزکوٰۃ جہاد سے پہلے فرض ہوئیں۔

(ف194)

مدینہ طیبہ میں اور بدر کی حاضر ی کا حکم دیا گیا۔

(ف195)

یہ خوف طبعی تھا کہ انسان کی جِبِلَّت ہے کہ موت و ہلاکت سے گھبراتا اور ڈرتا ہے۔

(ف196)

اس کی حکمت کیا ہے یہ سوال وجہِ حکمت دریافت کرنے کے لئے تھانہ بطریق ِاعتراض اسی لئے اُن کو اس سوال پر توبیخ وز جرنہ فرمایا گیا بلکہ جواب تسکین بخش عطا فرمادیا گیا ۔

(ف197)

زائل وفانی ہے ۔

(ف198)

اور تمہارے اجر کم نہ کئے جائیں گے تو جہاد میں اندیشہ و تامل نہ کرو۔

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍؕ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَؕ-قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا(۷۸)

تم جہاں کہیں ہو موت تمہیں آلے گی (ف۱۹۹) اگرچہ مضبوط قلعوں میں ہو اور انہیں کوئی بھلائی پہنچے(ف۲۰۰) تو کہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے اور انہیں کوئی برائی پہنچے (ف۲۰۱) تو کہیں یہ حضور کی طرف سے آئی (ف۲۰۲) تم فرمادو سب اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۳) تو ان لوگوں کو کیا ہوا کوئی بات سمجھتے معلوم ہی نہیں ہوتے

(ف199)

اور اس سے رہائی پانے کی کوئی صورت نہیں اور جب موت ناگزیر ہے تو بسترپر مرجانے سے راہ خدا میں جان دینا بہتر ہے کہ یہ سعادتِ آخرت کا سبب ہے۔

(ف200)

ارزانی وکثرت پیدوار وغیرہ کی۔

(ف201)

گرانی قحط سالی وغیرہ

(ف202)

یہ حال منافقین کا ہے کہ جب انہیں کوئی سختی پیش آتی تو اس کوسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف نسبت کرتے اور کہتے جب سے یہ آئے ہیں ایسی ہی سختیاں پیش آیا کرتی ہیں ۔

(ف203)

گرانی ہو یا ارزانی قحط ہو یا فراخ حالی رنج ہو یا راحت آرام ہو یا تکلیف فتح ہو یا شکست حقیقت میں سب اللہ کی طرف سے ہے۔

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ-وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًاؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا(۷۹)

اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے (ف۲۰۴) اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے (ف۲۰۵) اور اے محبو ب ہم نے تمہیں سب لوگوں کے لیےرسول بھیجا (ف۲۰۶) اور اللہ کافی ہے گواہ (ف۲۰۷)

(ف204)

اُس کا فضل و رحمت ہے

(ف205)

کہ تو نے ایسے گناہوں کا ارتکاب کیا کہ تو اس کا مستحق ہوا مسئلہ: یہاں بُرائی کی نسبت بندے کی طرف مجاز ہے اور اُوپر جو مذکور ہوا وہ حقیقت تھی بعض مفسّرین نے فرمایا کہ بدی کی نسبت بندے کی طرف برسبیلِ ادب ہے خلاصہ یہ کہ بندہ جب فاعلِ حقیقی کی طرف نظر کرے تو ہر چیز کو اُسی کی طرف سے جانے اور جب اسباب پر نظر کرے تو بُرائیوں کو اپنی شامت ِنفس کے سبب سے سمجھے۔

(ف206)

عرب ہوں یا عجم آپ تمام خلق کے لئے رسُول بنائے گئے اور کل جہان آپ کا اُمّتی کیا گیا یہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جلالتِ منصب اور رفعتِ منزلت کا بیان ہے۔

(ف207)

آپ کی رسالتِ عامہ پر تو سب پر آپ کی اطاعت اور آپ کا اتباع فرض ہے ۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَۚ-وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ(۸۰)

جس نے رسول کا حکم مانا بے شک اُس نے اللہ کا حکم مانا (ف۲۰۸) اور جس نے منہ پھیرا (ف۲۰۹) تو ہم نے تمہیں ان کے بچانے کو نہ بھیجا

(ف208)

شانِ نزول: رسُولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اُس نے اللہ سے محبّت کی اِس پر آج کل کے گستاخ بددینوں کی طرح اُس زمانہ کے بعض منافقوں نے کہا کہ محمد مصطفٰےصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ ہم انہیں رب مان لیں جیسا نصارٰی نے عیسٰی بن مریم کو رب مانا اس پر اللہ تعالی نے اِن کے رَدّ میں یہ آیت نازل فرما کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کی تصدیق فرمادی کہ کہ بے شک رسُول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے،

(ف209)

اور آپ کی اطاعت سے اعراض کیا۔

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ٘-فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُؕ-وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَۚ-فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا(۸۱)

اور کہتے ہیں ہم نے حکم مانا (ف۲۱۰) پھر جب تمہارے پاس سے نکل کر جاتے ہیں تو اُن میں ایک گروہ جو کہہ گیا تھا اس کے خلاف رات کو منصوبے گانٹھتا ہے اور اللہ لکھ رکھتا ہے ان کے رات کے منصوبے (ف۲۱۱) تو اے محبوب تم ان سے چشم پوشی کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو اور اللہ کافی ہے کام بنانے کو

(ف210)

شانِ نزول: یہ آیت منافقین کے حق میں نازل ہوئی جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ایمان و اطاعت شعاری کا اظہار کرتے تھے اور کہتے تھے ہم حضور پر ایمان لائے ہیں ہم نے حضورکی تصدیق کی ہے حضور جو ہمیں حکم فرمائیں اُس کی اطاعت ہم پر لازم ہے۔

(ف211)

ان کے اعمال ناموں میں اور اُس کا اِنہیں بدلہ دے گا

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ-وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا(۸۲)

تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں (ف۲۱۲) اور اگر وہ غیر خدا کے پاس سے ہوتا تو ضرور اس میں بہت اختلاف پاتے(ف۲۱۳)

(ف212)

اوراس کے عُلوم و حِکَم کو نہیں دیکھتے کہ اُس نے اپنی فصاحت سے تمام خَلق کو عاجز کردیا ہے اور غیبی خبروں سے منافقین کے احوال اور ان کے مکرو کید کا اِفشاءِ راز کردیا ہے اور اوّلین و آخرین کی خبریں دی ہیں۔

(ف213)

اور زمانہء آئندہ کے متعلق غیبی خبریں مطابق نہ ہوتیں اور جب ایسا نہ ہوا اور قرآن پاک کی غیبی خبروں سے آئندہ پیش آنے والے واقعات مطابقت کرتے چلے گئے تو ثابت ہوا کہ یقیناً وہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے نیز اس کے مضامین میں بھی باہم اختلاف نہیں اسی طرح فصاحت و بلاغت میں بھی کیونکہ مخلوق کا کلام فصیح بھی ہو تو سب یکساں نہیں ہوتا کچھ بلیغ ہوتا ہے تو کچھ رکیک ہوتا ہے جیسا کہ شعراء اور زباندانوں کے کلام میں دیکھا جاتا ہے کہ کوئی بہت ملیح اور کوئی نہایت پھیکا۔ یہ اللہ تعالی ہی کے کلام کی شان ہے کہ اس کا تمام کلام فصاحت و بلاغت کی اعلی مرتبت پر ہے۔

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖؕ-وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْؕ-وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۳)

اور جب اُن کے پاس کوئی بات اطمینان (ف۲۱۴) یا ڈر (ف۲۱۵) کی آتی ہے اس کا چرچاکر بیٹھتے ہیں (ف۲۱۶) اور اگر اس میں رسول اور اپنے ذی اختیار لوگوں(ف۲۱۷) کی طرف رجوع لاتے (ف۲۱۸) تو ضرور ان سے اُس کی حقیقت جان لیتے یہ جو بات میں کاوش کرتے ہیں (ف۲۱۹) اور اگر تم پر اللہ کا فضل (ف۲۲۱) اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ضرور تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے (ف۲۲۲)مگر تھوڑے (ف۲۲۳)

(ف214)

یعنی فتحِ اسلام۔

(ف215)

یعنی مسلمانوں کی ہَزِیمت کی خبر

(ف216)

جو مفسدے کا موجب ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی فتح کی شہرت سے تو کفا رمیں جوش پیدا ہوتا ہے اور شکست کی خبر سے مسلمانوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔

(ف217)

اکابر صحابہ جو صاحب رائے اور صاحبِ بصیر ت ہیں ۔

(ف218)

اور خود کچھ دخل نہ دیتے۔

(ف219)

مسئلہ: مفسرین نے فرمایا اس آیت میں دلیل ہے جو از قیاس پر اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک علم تو وہ ہے جو بہ نصِ قرآن و حدیث حاصل ہواور ایک علم وہ ہے جوقرآن و حدیث سے استنباط و قیاس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے

مسئلہ:یہ بھی معلوم ہواکہ امور دینیہ میں ہر شخص کو دخل دینا جائز نہیں جو اہل ہواس کو تفویض کرنا چاہئے۔

(ف220)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ۔

(ف221)

نزول قرآن ۔

(ف222)

اور کفرو ضلال میں گرفتار رہتے۔

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَۚ-عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا(۸۴)

تو اے محبوب اللہ کی راہ میں لڑو (ف۲۲۴) تم تکلیف نہ دئیے جاؤ گے مگر اپنے دم کی (ف۲۲۵) اور مسلمانوں کو آمادہ کرو (ف۲۲۶) قریب ہے کہ اللہ کافروں کی سختی روک دے (ف۲۲۷) اور اللہ کی آنچ(گرفت) سب سے سخت تر ہے اور اس کا عذاب سب سے کرّا

(ف223)

وہ لوگ جو سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور قرآن پاک کے نزول سے پہلے آ پ پر ایمان لائے جیسے زید بن عَمرو بن نُفِیل اور ورقہ بن نَوفَل اور قیس بن ساعِدہ ۔

(ف224)

خواہ کوئی تمہارا ساتھ دے یا نہ دے اور تم اکیلے رہ جاؤ۔

(ف225)

شانِ نزول: بدرصغرٰی کی جنگ جو ابوسفیان سے ٹھہر چکی تھی جب اس کا وقت آپہنچا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں جانے کے لئے لوگوں کو دعوت دی بعضوں پر یہ گراں ہوا تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ جہاد نہ چھوڑیں اگرچہ تنہاہوں اللہ آپ کا ناصر ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے یہ حکم پا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدرصغرٰی کی جنگ کے لئے روانہ ہوئے صرف ستّر سوار ہمراہ تھے۔

(ف226)

انہیں جہاد کی ترغیب دو اور بس ۔

(ف227)

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ مسلمانوں کا یہ چھوٹا سا لشکر کامیاب آیا اور کفار ایسے مرعوب ہوئے کہ وہ مسلمانوں کے مقابل میدان میں نہ آسکے

فائدہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شجاعت میں سب سے اعلی ہیں کہ آپ کو تنہا کفار کے مقابل تشریف لے جانے کا حکم ہوا اور آپ آمادہ ہوگئے۔

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ-وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَاؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا(۸۵)

جو اچھی سفارش کرے (ف۲۲۸) اُس کے لیے اس میں سے حصّہ ہے (ف۲۲۹) اور جو بُری سفارش کرے اُس کے لیےاُس میں سے حصہ ہے (ف۲۳۰) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

(ف228)

کسی سے کسی کی کہ اس کو نفع پہنچائے یا کسی مصیبت و بلا سے خَلاص کرائے اور ہو وہ موافقِ شرع تو ۔

(ف229)

اجرو جزا ۔

(ف230)

عذاب و سز ا۔

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا(۸۶)

اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو بے شک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے (ف۲۳۱)

(ف231)

مسائل: ِسلا م ،سلام کرنا سنّت ہے اور جواب دینا فرض اور جواب میں افضل ہے کہ سلام کرنے والے کے سلام پر کچھ بڑھائے مثلاً پہلا شخص السلام علیکم کہے تو دوسرا شخص وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اگر پہلے نے ورحمۃ اللہ بھی کہا تھا تو یہ وبرکاتہ اور بڑھائے پس اس سے زیادہ سلام و جواب میں اور کوئی اضافہ نہیں ہے کافر ،گمراہ، فاسق اور استنجا کرتے مسلمانوں کو سلام نہ کریں۔ جو شخص خطبہ یا تلاوت قرآن یا حدیث یا مذاکرہ علم یا اذان یا تکبیر میں مشغول ہو اس حال میں ان کو سلام نہ کیا جائے اور اگر کوئی سلام کرے تو اُن پر جواب دینا لازم نہیں اورجو شخص شَطرنج ،چوسر ،تاش،گنجفہ وغیرہ کوئی ناجائز کھیل کھیل رہا ہویا گانے بجانے میں مشغول ہو یا پاخانہ یا غسل خانہ میں ہو یابے عذر برہنہ ہو اس کو سلام نہ کیا جائے مسئلہ : آدمی جب اپنے گھر میں داخل ہو تو بی بی کو سلام کرے ہندوستان میں یہ بڑی غلط رسم ہے کہ زن و شو کے اتنے گہرے تعلقات ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کو سلام سے محروم کرتے ہیں باوجود یہ کہ سلام جس کو کیا جاتا ہے اس کے لئے سلامتی کی دعا ہے۔

مسئلہ: بہتر سواری والا کمتر سواری والے کو اور کمتر سواری والا پیدل چلنے والے کو اور پیدل بیٹھے ہوئے کو اور چھوٹے بڑے کو اور تھوڑے زیادہ کو سلام کریں ۔

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَؕ-لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِؕ-وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠(۸۷)

اللہ ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور وہ ضرور تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن جس میں کچھ شک نہیں اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی (ف۲۳۲)

(ف232)

یعنی اس سے زیادہ سچا کوئی نہیں اس لئے کہ اس کا کِذب ناممکن و محال ہے کیونکہ کذب عیب ہے اور ہر عیب اللہ پر محال ہے وہ جملہ عیوب سے پاک ہے۔