ہندوستان میں تبلیغ اسلام اورحضورسلطان الھند

ہندوستان میں تبلیغ اسلام اورحضورسلطان الھند

غلام مصطفیٰ رضوی نوری مشن مالیگائوں

٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’ورضیت لکم الاسلام دینا‘‘اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔اسلام دین فطرت ہے ،یہ پوری کائنات کا دین ہے،اس دین کو لانے والے سید عالم ا ہیں جو تمام عالم کے لئے رحمت ہیں۔دین متین چونکہ تمام عالم کے لئے ہے اس لئے اس کی تبلیغ کے لئے جو نظام سید عالم انے تشکیل دیا وہ بھی عالمگیر اور آفاقی ہے اور اس حیات افزاپیغام کو پہونچانے والے حکمت وتدبیر اور کامیابی کے ساتھ پہونچاتے رہے اور دین کی مقدس دعوت اور تبلیغ کا فریضہ باحسن طریق انجام دیتے رہے۔

اسلام کی کشش نے دلوں کی دنیا بدل دی ۔اسلام کی حرکی قوت نے بہت جلد دنیا کے بیشتر خطوں کو متاثر کیا اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو اسلامی معاشرہ کہلایا جس میں امتیازات کا گزر نہ تھااور اس معاشرے کے پس پشت اسلام کا نظام اخلاق اور نظام اخوت ومحبت جلوہ گر تھا جس کے اثرات براہ راست فکر ونظر اور روح پر پڑتے ہیں ۔ داعیان اسلام کا مقدس گروہ اخلاق کے زیور سے مرصع تھا اس لئے ان کی دعوت پر تاثیر تھی سرکار دوعالم سید عالم ا کا ارشاد ہے : بعثت لاتمم مکارم الاخلاق ’’میں عمدہ اخلاق کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہوں ۔‘‘(مشکوۃ)

صوفیائے کرام واولیائے عظام کے گروہ نے حسن اخلاق کو اپنا کر دین کی تبلیغ کی اور شوریدہ زمینوںکو اپنی دعوت سے گلزار بنادیا ۔ ان علاقوں میں جہا ںشرک والحاد کے تعفن نے ماحول کو پراگندہ کر رکھا تھا وہاں دعوت حق کا کام صحابہ ،تابعین وتبع تابعین کے بعد اولیاء وصوفیاء نے انجام دیا اس خصوص میں ہندوستان کی سرزمین کو بھی دیکھاجانا چاہیے۔

ہندوستان میں اسلام کی آمد

برصغیر پاک وہند میں اسلام کی اشاعت تین راستوں سے ہوئی۔ (۱)ساحل مالا بار کی طرف سے جو ہندوستان کے جنوب میں ہے (۲)براہ سندھ(۳)شمالی مغرب کے سرحدی درے جو پاکستان کو افغانستان اور ایران سے ملاتے ہیں۔

پہلی صدی ہجری میں ہی سرزمین ہندوستان کے جنوب میں مالابار اور کیرالا کے ساحلی علاقے دامن اسلام میں آگئے تھے ۔قبل از اسلام عرب کے تجارتی جہاز ہندوستان کے مشرقی جزائر تک جایا کرتے تھے۔ پروفیسر محمد اسلم کے مطابق عرب تاجروں کی مساعیِ جمیلہ سے گجرات میں بھی اسلامی اثرات نفوذ کرنے لگے تھے ۔

اموی عہد خلافت میں مجاہد اسلام محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا ۔ دیبل کو فتح کیا ،اور مسجد تعمیر کروائی ۔خلیفہ حضرت عمربن عبد العزیز نے تبلیغ اسلام کی غرض سے سندھی امراء کو خطوط لکھے ،آپ کی دعوت نے اثر کیا اور کئی سندھی امراء نے اسلام قبول کرلیا آپ نے سندھی مسلمانوں کی تربیت کی غرض سے علماء تیار کرکے انہیں سندھ بھیجا ۔سندھ میں تبلیغ اسلام کے ساتھ ہی علوم اسلامیہ کے فروغ اورتربیت کی غرض سے مدارس کا بھی آغاز ہوگیا ۔تبع تابعین میں مشہور عالم ابو حفص ربیع بصری نے سندھ میں حدیث نبوی کے درس کا اجراء کیا ۔

مشہور سیاح مسعودی نے ہند کی سیاحت کی اور اس نے گجرات کے ساحلی مقامات پر مسلمانوں کی موجود گی کا ذکر کیا ۔تبلیغ کے حوالے سے لاہور (متحدہ ہندوستان کا)اہم شہر مانا جاتا ہے ۔بہت سے علماء وصوفیاء نے یہاں بساط علم بچھائی اور ایمان وایقان کی شمع کو فروزاں کیا جن میں محمود غزنوی کے حملے سے بھی پہلے حضرت شیخ اسماعیل بخاری ثم لاہوری (م۴۴۸ھ؁) پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے لاہور میں اسلام کی تبلیغ کی اور اس کے لئے وعظ وارشاد اور درس وتدریس کو ذریعہ بنایا ۔آپ نے لاہور میں تفسیروحدیث کے درس کا آغاز فرمایا۔آپ کی دعوت سے روزانہ بہت سے افراد شرک سے تائب ہوکر اسلام کی دو لت سے مشرف ہوتے ۔

غزنوی سلنطت کے آخری دور میںحضرت سید علی بن عثمان داتا گنج بخش علی ہجویری (م ۴۶۵ھ؁) غزنی سے لاہور تشریف لائے ۔ آپ نے اپنی دعوتی کوششوں میں درس،وعظ کے ساتھ ساتھ تحریر سے بھی کام لیا ۔چنانچہ آپ کی کتاب ’’کشف المحجوب‘‘ جو فارسی زبان میں تصنیف ہوئی موضوع تصوف کے حوالے سے کافی مشہور ہے ۔آپ کی کاوشوں کے نتیجہ میں لاہور اور اس کے اکناف میں بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی پہنچی ۔شمالی ہندوستان کا علاقہ جو مرکزی حیثیت کا حامل ہے یہاں بھی اسلام کی کرنیں اولیاء کرام کے توسط پہونچیں چنانچہ اس سلسلے میں سب سے نمایاںنام حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتی سنجری المعروف سلطان الھند خواجہ غریب نوازکا ہے۔

ولادت باسعادت

حضورسلطان الھند کی ولادت ۱۴؍رجب المرجب ۵۳۷؁ھ مطابق ۱۱۴۲ء؁ کو سجستان کے قصبہ سنجر میں ہوئی ۔والد ماجد کانام خواجہ سید غیات الدین حسن ہے جو حسینی سادات سے تھے اور علم وفضل اور نجابت میں عدیم المثال تھے اور تقویٰ وطہارت میں فرد فرید ۔والدہ ماجدہ حسنی سادات سے تھیں اس طرح آپ نجیب الطرفین سیدہیں ۔سولہویں پشت میں آپ کا نسب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جاملتا ہے ۔

تعلیم وتربیت

والد ماجد حضرت خواجہ سیدغیاث الدین حسنی نے سلطان الھند کی تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔آپ نے نو برس کی عمر میں قرآن مجید کو حفظ کرلیا بعدہٗ تفسیر وحدیث اور فقہ کی تحصیل فرمائی ۔

سلطان الھند کی عمر ۱۵ برس کی بھی نہ ہوئی تھی کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ورثہ میں ایک باغ اور پن چکی ملی جس کی آمدنی سے مصارف پورے ہوتے۔ایک روز اپنے باغ میں تشریف فرماتھے کہ ایک مجذوب درویش حضرت ابراہیم قندوزی آپہنچے۔آپ نے استقبال کیا اور احترام وعقیدت سے بٹھایا ،انگور کا خوشہ حاضر خدمت کیا ،آپ کے خلوص وتواضع سے درویش متاثر ہوئے ۔باطن کا مشاہدہ فرمایا اور بغل سے کھلی کا ایک ٹکڑا نکالا اور چبا کر آپ کے منھ میں ڈال دیا اس ٹکڑے کو تناول کرتے ہی دل کی دنیا بدل گئی ،جائداد فروخت کی اور جو رقم ہاتھ آئی اسے ضرورت مندوں میں تقسیم فرمادیا اور سمرقند روانہ ہوگئے۔

سمرقند میں حضرت سلطان الھند مولانا شرف الدین کے درس میں شریک ہوئے ۔مروجہ علوم میں مہارت حاصل کی ۔بخارا کے اساتذہ سے بھی علم لیا جن میں مولانا حسام الدین بخاری شامل ہیں ۔

بیعت واجازت

علوم دینیہ کے حصول کے بعد روحانی تربیت کی جانب متوجہ ہوئے ۔ ۵۵۱ھ؁ میں حرمین مقدس کا پہلا سفر کیا ۔ان دنوں حضرت خواجہ عثمان ہارونی (م۶۱۷؁ھ )نے نیشاپور کے نواح میں قصبۂ ہارون میں بساط روحانیت آراستہ کر رکھی تھی اور آپ کے علم وفضل اور روحانی عظمتوں کے چرچے دور دور تک پہونچے ہوئے تھے ،حضرت سلطان الھند آپ کی خدمت میں پہنچے ۔۵۵۲ھ؁ میں بیعت کا شرف حاصل کیا ۔خرقۂ خلافت پایا اور مرشد کی خصوصی نگاہ والتفات سے بار یاب ہوئے ۔کچھ عرصہ مرشد کی خدمت میں رہ کر منازل روحانیت طے فرمائی اور سیاحت بھی کی ۔

بشارت بابرکت

آپ حضرت خواجہ عثمان ہارونی قدس سرہ کے ہمراہ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ،بدخشاں اور بخارہ وغیرہ گئے یہ مسافرت کا عرصہ بیس برس پر محیط تھا ’’انیس الارواح‘‘میں مرشد کی معیت میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حاضری اور بشارت کا حال آپ نے بیان فرمایا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:

’’میرے پیرومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی جب بغداد سے روانہ ہوئے تو میں بھی حضرت کے ساتھ روانہ ہوا ،مکہ معظمہ پہونچے۔حضرت مجھے کعبے کے پرنالے پر لے گئے اور مجھ فقیر کے لئے خدائے تعالیٰ سے دعا فرمائی ،اس وقت ایک غیبی آواز آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا ۔

مکہ معظمہ سے حضرت مدینہ منورہ میں حاضر ہوئے اور مجھے حضور رسول مقبول اکے روضۂ پاک پر لے گئے اور مجھے حکم دیا کہ سلام کر ۔میں نے سلام عرض کیا ،روضہ شریف سے آواز آئی وعلیکم السلام قطب المشائخ ۔یہ آواز سن کر میرے حضرت نے مجھ سے فرمایا :تیرا کام کمال کو پہونچا‘‘ دربار رسالت سے آپ کو ہندوستان کی ولایت اورتبلیغ اسلام کی خدمت تفویض کی گئی ۔

ہندوستان میں ورود

اولیائے کرام کی حیات مبارکہ کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ دین کی اشاعت وتبلیغ کے لئے سیاحت ومسافرت کو اختیار کرتے ہیں ۔حضرت خواجہ غریب نوازنے بھی عرصہ تک سیاحت فرمائی ۔آپ بغداد ،ہرات، تبریز،بلخ ہوتے ہوئے براستہ غزنی ہندوستان آئے اور لاہور میں حضرت سید علی بن عثمان المعروف داتا گنج بخش ہجویری علیہ الرحمہ کے مزار اقدس پر حاضر ہوئے اور چلہ کش ہوئے۔یہاں سے واپسی پر یہ شعر کہا ؎

گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا!

ناقصاں راپیر کامل کاملاں را رہنما

نفس زبان سیکھنے میں حرج نہیں ،دعوت وتبلیغ کے لئے دوسری زبانوں کا سیکھنا ناگزیر ہے ۔حضرت خواجہ ملتان پہنچے اور وہاں پر ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں کو سیکھا ،تہذیب وثقافت کا مطالعہ کیا ۔ملتان سے دہلی پہنچے اور مختصر قیام کے بعد اجمیر کا رخ کیا ۔

دعوت و تبلیغ

ڈاکٹر عابد نظامی کے مطابق حضرت خواجہ کی تبلیغ کے نتیجے میں دہلی میں دوران قیام تقریبا ۷۰۰ مشرک مشرف باسلام ہوئے ۔مشرکین کامذہبی مرکز اجمیر ہی تھا ،اور وہاں ظلم وستم کا دور دورہ تھا اور امتیازات بھی ۔حضرت خواجہ کی آمد کے وقت اجمیر میں راجپوت راجہ پرتھوی راج حکمراں تھا ۔آپ کا قیام اسے گراں گزرا ،اس کے سپاہی حضرت خواجہ کو ہر آن تکلیف پہونچانے کے درپے ہوتے۔بزور قوت بھی انہوں نے حضرت خواجہ کو اجمیر سے نکالنے کی کوشش کی ،آپ نے عزیمت واستقامت کا مظاہرہ کیا اور اخلاص واخلاق اور نرمی وملاحت اور اپنے پاکیزہ گفتار سے اسلام کی تبلیغ جاری رکھی۔

راجہ کے کارندوں نے حضرت خواجہ کو ستایا ۔آپ نے ایک مٹھی خاک آیت الکرسی پڑھ کر ان کی طرف پھینک دی چنانچہ جس سپاہی پر یہ خاک پڑی وہ بد حواس ہوکر بھاگ کھڑا ہوا ،اس ناکامی نے مشرکین کو سیخ پا کردیا ۔ انہوں نے رام دیو نامی مہنت سے درخواست کی کہ اس درویش کو شہر سے نکال دے ۔رام دیو جب بارگاہ خواجہ میں آیا اس پر لرزہ طاری ہوگیا ،دل کا عالم مدوجز رہوگیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا اس کا نام سعدی رکھا گیا۔

بار بار شکست سے دوچار ہوجانے کے بعد پرتھوی راج نے یہ تصور قائم کیا کہ یہ درویش کوئی شعبدہ باز یا جادوگر ہے اس لئے کسی جادوگر کے ذریعہ اس درویش کو شہر سے باہر کیا جائے ۔راجہ نے اس دور کے مشہور ساحر جے پال جوگی کو طلب کیا اور اس سے کہا کہ اس درویش کو تباہ کردے ۔جے پال اپنے شاگردوں کے ساتھ آیا حضرت خواجہ کی سمت بڑھا اپنے تمام شعبدے آزمائے اور ناکامی سے دوچار ہوا۔پھر کامیابی کی دولت اس طرح پالی کہ دل کی دنیا یکسر بدل گئی اور وہ مسلمان ہوگیا ۔حضرت خواجہ نے عبداللہ نام رکھا اور روحانی منازل پہ فائز کرکے دین کا مبلغ اور رہبر بنادیا۔ حضرت سلطان الھند نے اجمیر اور اس کے نواح میں تبلیغ کا سلسلہ جاری رکھا ،راجہ کو بھی دعوت حق پیش کی پر وہ ایمان نہیں لایا ۔ آپ کی مقبولیت اور قبول اسلام کی کثرت دیکھ کر راجہ اور اس کے ارکان سلطنت مضطرب ہوئے۔حضرت سلطان الھند اور آپ کے مریدین وتلامذہ پر جورو ستم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن ان کے قدموں میں اضمحلال نہ آیا ۔آپ کا ایک مرید جو راجہ کے ہاں ملازم تھا اسے راجہ نے کافی پریشان کیا ۔آپ نے تنبیہ فرمائی مگر وہ نہ مانا اور بد تمیزی کے الفاظ کہے جس پر بے ساختہ آپ کی زبان مبارک پر یہ کلمات جاری ہوئے ’’ماپتھورا را زندہ گرفتیم‘‘ہم نے رائے پتھورا کو زندہ ہی گرفتار کرکے مسلمانوں کے حوالے کیا ۔

’’سید الاقطاب‘‘ میں ہے کہ شہاب الدین غوری ہندوستان پر پیش قدمی سے پہلے خراسان میں تھا کہ ایک شب خواب میں دیکھا کہ حضرت خواجہ کھڑے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ شہاب الدین !اللہ تم کو ہندوستان کی بادشاہت عطا فرمانے والا ہے ،تم اس ملک کی طرف توجہ کرو ۔اس خواب کے بعد سلطان نے ہندوستان پر فوج کشی کی اور راجہ کو زندہ گرفتار کیا فتح کے بعد شہاب الدین بارگاہ خواجہ میں حاضر ہوا آپ نے فتح کی مبارک باد دی اور کلمات خیر تلقین فرمائے کہ یہاں کے باشندوں سے اچھا سلوک کرنا اور عدل وانصاف سے حکومت کرنا ۔

حضرت خواجہ نے ایمان وایقان کے نور سے دلوں کی صفائی کی ،شرک کی تاریکی میں توحید کی شمع فروزاں کی، آپ کے روشن روشن کردار اور اخلاق نے فکر ونظر کو بدلا ،آپ اکثر روزے سے رہتے ،صبر وقناعت کو اپنایا ،ریاضت ومجاہدہ کا یہ عالم ہوتا کہ اکثر نماز فجر عشاء کے وضو سے ادا فرماتے ، آپ کا دسترخوان ہمیشہ غرباء کے لئے وسیع رہا ، آپ کی نگاہ فیض جس پر پڑتی وہ تائب ہوجاتا اور ایمان کی دولت سے سرفراز ع

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں

دہلی میں اسلامی سلطنت کا قیام ہوا ۔آپ نے اپنے خلیفۂ اعظم خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو دہلی بھیجا جہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی نے سلسلۂ چشتیہ کی اشاعت کی اور تبلیغ کا فریضہ انجام دیا خانقاہی نظام کو استوار کیا ۔بعد کو آپ کے خلفاء اور پھر ان کے خلفاء نے پورے ہندوستان میں پہنچ کر دین متین کے پیغام سے بنجر زمین کو شاداب بنا دیا ۔

مستورات میں تربیت ودعوت کا کام آپ کی صاحبزادی بی بی حافظہ جمال نے انجام دیا جو عابدہ وزاہدہ تھیں۔

علامہ یٰٓسین اختر مصباحی کے مطابق حضرت سلطان الھند کے دست اقدس پر شرک وبت پرستی سے تائب ہوکر نوے لاکھ غیر مسلم مشرف باسلام ہوئے آپ کے فرزندوں نے بھی احیائے حق کا فریضہ انجام دیا ،اور ہندوستان کی زمین سر سبزوشاداب ہوگئی ،دلوں کی تطہیر ہوئی علامہ حسن رضا بریلوی نے خوب فرمایا ؎

گلشن ہند ہے شاداب کلیجے ٹھنڈے

واہ اے ابر کرم زور برسنا تیرا

تصنیفات وتالیفات

خاصان خدا کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ حق وصداقت کے فروغ واشاعت کے لئے کسی شعبہ کو تشنہ نہیں چھوڑتے اور ہر طور پر اعلائے کلمۃ الحق کو مقدم رکھتے ہیں ۔علم سے تو مسلمانوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے بلکہ یہ بیجا نہیں کہ علم بغیر دین سے استفادے کے راحت وسکون نہیں پہنچا سکتا ۔علم کی ترسیل کا ذریعہ کتابیں ہیں ۔لہٰذا صوفیائے کرام وخاصان خدا نے اس شعبہ کو استحکام بخشا اور تصنیف وتالیف کے ذریعہ فکر وبصیرت کے زنگ دھوئے اور بعد کو آنے والوں کے لئے جادئہ حق کے خطوط ایستادہ کئے ۔

تصنیف وتالیف کا شغل ارباب تصوف میں شروع سے ہی رہا ہے ۔ حضرت خواجہ نے بھی بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں ہدایت وسچائی کے اصول وضوابط اور اسرار معرفت درج ہوئے ہیں اور ان کا مطالعہ ایمان کی بالیدگی کا سبب ہوگا اور ساتھ ہی حضرت سلطان الھند کی دینی وعلمی بصیرت اور استحضار اور تعمق کا اندازہ بھی ہوتا ہے ۔

چند تصنیفات کے اسماء درج کئے جاتے ہیں :(۱)انیس الارواح (۲)حدیث المعارف(۳)رسالہ آداب دم زدن (۴)رسالہ تصوف منظوم(۵)رسالہ وجودیہ(۶)کشف الاسرار (۷)گنج الاسرار(۸)وصل المعراج(۹)ادبیات ورباعیات(۱۰)آثارمنسوب وغیرہ۔

محدث بریلوی اور سلطان الھند

دینِ متین کے اجلے اجلے چہرے سے گردوغبار صاف کرنے والے اور دین کو نئی زندگی اور تب وتاب عطا کرنے والے محسن حضور سیدنا غوث اعظم محی الدین جیلانی رضی اللہ عنہ کے میکدے سے سیراب ہونے والے عاشق صادق اعلیحضرت امام احمد رضا محدث بریلوی نے غوثیت کی باران رحمت ونکہت کے حوالے سے حضرت سلطان الھند کی بارگاہ عالی کے پیش رو بڑا خوبصورت شعر نظم فرمایا ؎

مزرع چشت وبخاراوعراق واجمیر

کون سی کشت پہ برسا نہیں جھالاتیرا

محدث بریلوی نے ایک کتاب تالیف کی ’’ذیل المدعالاحسن الوعا‘‘(مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)اس میں قبولیت دعا کے مقامات ذکر فرمائے اور ہندوستان میں بارگاہ سلطان الھند کا خصوصیت سے ذکر فرمایا جہاں حق سبحانہ وتعالیٰ دعائوں کو شرف قبول عطا فرماتا ہے ۔محدث بریلوی کے دور میں ایک اعتراض یہ ہواکہ سلطان الھند کو غریب نواز نہیں کہنا چاہییٔ اس کا جواب محدث بریلوی نے مدلل تحریر فرمایا اور آخر میں لکھا’’حضرت سلطان الھند معین الحق والدین ضرور غریب نوازہیں‘‘

علامہ حسن رضا خاں بریلوی جو شعروسخن اور ادب کے شناور ہیں اور محدث بریلوی کے برادر متوسط آپ کا یہ شعر زبان زدعام وخاص ہے ؎

خواجۂ ہند وہ دربار ہے اعلیٰ تیرا

کبھی محروم نہیں مانگنے والا تیرا

یوں ہی اجمیر شریف میں ’’شریف‘‘کی جو اضافت ہے اس پر جب حاسدین نے زبان کھولی تو محدث بریلوی علیہ الرحمہ نے اس اعتراض کا بھی مسکت جواب اپنے فتاویٰ میں دیا۔

وصال:۔سلطان الھند حضرت خواجہ غریب نواز کا وصال ۶؍رجب المرجب ۶۳۳ھ؁ میں ہوا۔آپ کا مزار اقدس شہر اجمیر میں مرجع خلائق ہے۔ساری دنیا سے زائرین آتے ہیں مرادوں سے دامن بھرتے ہیں اور شادو فرحاں لوٹتے ہیں بعد از وصال بھی فیض وبرکات کا نہ تھمنے والا دریا رواں دواں ہے۔

کتابیات

(۱) خواجہ معین الدین چشتی ،انیس الارواح،مشمولہ،ہشت بہشت،

(۲) عابد نظامی،خواجۂ خواجگان،ماہنامہ ضیائے حرم لاہورمئی؍۱۹۸۲؁ء

(۳) علامہ یٰسین اختر مصباحی اداریہ ماہنامہ کنزالایمان دہلی۔

(۴) امام احمد رضا محدث بریلوی،فتاویٰ رضویہ جلد ؍۱۱۔

(۵) ڈاکٹر محمد اختر ،خواجۂ خواجگاں،ماہنامہ ضیائے حرم لاہور۔

(۶) پروفیسر محمد اسلم ،برصغیر ،ہند وپاک میں اسلام کی آمد،ضیائے حرم لاہور۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.