خاصا ن خدا کا اپنے رب تعالیٰ کی عطا سے مردوں کو زندہ کرنا :

قرآن سے ثبوت :

القرآن :انی قد جئتکم بایۃ من ربکم انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیرفانفخ فیہ فیکون طیرا باذن اللّٰہ وابریٔ الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللّٰہ o

ترجمہ :یہ فرماتا ہو اکہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی صورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراًپرند ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سفید داغ والے کو اور میں مردے جلا تا ہوں اللہ کے حکم سے ۔(سورہ ال عمران :پارہ :۳آیت نمبر ۴۹)

عقیدہ :اس آیت میں واضح ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی عطا سے شفا دیتے ہیں اور مردوں کو زندہ بھی کرتے ہیں ۔

القرآن :واذ قال موسی لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اوامضی حقباoفلما بلغا محمع بینھما نسیا حوتھما فاتخذ سبیلہ فی البحر سرباoفلما جا وزا قال لفتہ اتنا غدائنا لقد لقینا من سفرنا ھذا نصبا oقال ارئیت اذا اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت وما انسنیہ الاالشیطن ان اذکرہ واتخذسبیلہ فی البحر عجباoقال ذلک ما کنا تبغ فارتدا علی اثارھما قصصا oفوجدا عبدامن عبادنا اتینہ رحمۃ من عندنا وعلمنہ من لدنا علماo

ترجمہ :اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں باز نہ رہوں گا جب تک وہاں نہ پہنچوں جہاں وہ سمندر ملے ہیں یا قرنوں (مدّ توں تک )چلا جاؤں گا پھر جب و ہ دونوں ان دریاؤں کے ملنے کی جگہ پہنچے اپنی مچھلی بھول گئے اور اس نے سمندر میں ایک راہ لی سرنگ بناتی پھر جب وہاں سے گزر گئے موسیٰ نے کہا ہمارا صبح کا کھانا لاؤ بیشک ہمیں اپنے سفر میں بڑی مشقت کا سامنا ہوا بولا بھلا دیکھئے تو جب ہم نے اس چٹان کے پاس جگہ لی تھی تو بے شک میں مچھلی بھول گیااور مجھے شیطان ہی نے بھلایا کہ میں اسکا مذکور کروں اور اس نے تو سمندر میں اپنی راہ لی ۔اچھنبا ہے موسیٰ نے کہا یہی تو ہم چاہتے تھے تو پیچھے پلٹے اپنے قدموں کے نشان دیکھتے تو ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا جسے ہم نے اپنے پاس سے رحمت اور اسے اپنا علم لدنی عطا کیا ۔(سورۃ الکہف ،پارہ :۱۵،آیت نمبر ۶۰تا ۶۵)

عقیدہ:مفسرین اس آیت کی تفسیر میں مکمل واقعہ یوں بیان کرتے ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم جن کا نام یوشع بن نون ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت وصحبت میں رہتے تھے اور آپ سے علم اخذ کرتے تھے اورآپ کے بعد آپکے ولی عہد ہیں بحر فارس و بحر روم جانب مشرق میں اور مجمع البحرین وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت خضر علیہ السلام کی ملاقات کا وعدہ کیا گیا تھا اس لئے آپ نے وہاں پہنچنے کا عزم کیا اور فرمایا کہ میں اپنی کوشش جاری رکھوں گا جب تک کہ وہاں نہ پہنچوں پھر یہ حضرات روٹی اور نمکین بھنی مچھلی زنبیل میں توشہ کے طور پر لیکر روانہ ہوئے ۔ ایک جگہ پتھر کی چٹان تھی اور چشمئہ حیات تھا وہاں دونوں حضرات نے آرام کیا اور مصروف خواب ہوگئے بھنی ہوئی مچھلی زنبیل میں زندہ ہوگئی جس کو پکا کر لائے تھے زندہ ہو کر دریا میں گر گئی ۔اس پر سے پانی کا بہاؤ رُک گیااور محراب سی بن گئی ۔حضرت یوشع بن نون کو بیدار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کا ذکر کرنا یا د نہ رہا اور چلتے رہے یہاں تک کہ دوسرے روز کھانے کا وقت آیا ۔ یہ بات جب تک مجمع البحرین پہنچے تھے پیش نہ آئی تو منزل مقصود سے آگے پہنچ کر تکان اور بھوک معلوم ہوئی اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ مچھلی یاد کریں اور اس کی طلب میں منزل مقصود کی طرف واپس ہوں ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فر مانے پر خادم نے معذرت کی مچھلی کا جانا ہی تو ہمارے حصول مقصود کی علامت ہے جن کی طلب میں ہم چلے ہیں ان کی ملاقات وہیں ہوگی جو چادر اوڑھے آرام فرما تھے وہ حضرت خضر علیہ السلام تھے ۔

دلیل :حضرت خضر علیہ السلام کے بارے میں اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں یا ولی ۔اس واقعہ کو مفسرین بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ جس جگہ خضر جلوہ افروز تھے اسی جگہ اس مچھلی کو حیات مل گئی پھر جب اللہ تعالیٰ کا مقرب بندہ اپنی زبان سے یہ کہہ دے کہ اللہ کے حکم سے زندہ ہو جا تو مردہ انسان میں حیات کیسے نہ آجا ئے ۔الغرض کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے کی عطا سے مردوں کو زندہ کردیتے ہیں انہیں یہ طاقت اللہ تعالیٰ کے طرف سے عطا کردہ ہے اور یہ قرآن سے ثابت ہے ۔