دل کی دنیا کو سجائو آقا

اپنی الفت میں جلائو آقا

حُبِّ دنیا سے بچانا مجھ کو

مجھ کو اپنا ہی بنائو آقا

شوقِ دیدار میں سوئوں جس شب

اپنا دیدار کرائوں آقا

فکرِ دنیا میں نہ آنسو نکلے

اپنی الفت میں رلائو آقا

جتنے مومن ہیں پریشاں شاہا

سب کی بگڑی کو بنائو آقا

آخری دم بھی ادا ہو سنت

پیر کے دن جو قضا ہو آقا

دل تڑپتا ہے حضوری کو حضور

صدقے مرشد کے بلائو آقا

مجھ کو پھر دشمنوں نے گھیرا ہے

اپنے دامن میں چھپائو آقا

شاکرِؔ رضوی ہے عاصی شاہا

مژدہ بخشش کا سنائو آقا