قرآن مقدس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرانسیسی مستشرق مورس بکَائلے (Maurice Bucaille) اپنی کتاب “The Bible, The Quran and Science” صفحہ269 میں اس طرح رقمطراز ہے۔

’’محمدﷺ کے زمانے کی انسانی معلومات کے پیشِ نظر یہ تصور کرنا بھی ناممکن ہے کہ کہ قرآن کے اکثر بیانات، جن کا تعلق سائنس سے ہے، وہ کسی انسان کا کام کیسے ہو سکتا ہے؟ مزید بر آں یہ بات بالکل جائز ہے کہ قرآن کو نہ صرف وحی تسلیم کیا جائے بلکہ اس کو ایک خاص مقام دیا جائے کیوں کہ ایک طرف تو یہ مستند ہونے کی ضمانت فراہم کرتا ہے اور دوسری طرف اس میں ایسے سائنسی بیانات Scientefic statements ہیں جن کا اگر آج مطالعہ کیا جائے تو بھی اس کے انسانی کلام ہونے کی کوئی توجیہ ممکن نہیں ہے‘‘

مستشرق Oriental مذکور نے اپنی کتاب میں قرآن حکیم کی وہ آیات بھی لکھی ہیں جن میں ایسے سائنسی حقائق بیان کئے گئے ہیں جو سائنسدانوں پر کئی صدیوں بعد منکشف ہوئے ہیں۔ ہم ذیل میں چند آیات خود مورس بکَائلے کے ترجمے کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

(۱) وہو الذی مرج البحرین ہٰذا عذب فرات و ہٰذا ملح اجاج و جعل بینہما برزخا و حجرا محجورا

اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے دو سمندروں کو آزاد چھوڑ دیا ہے، ایک عمدہ اور میٹھا ہے اور دوسرا نمکین اور کڑوا ، اس نے ان دونوں کے درمیان ایک رکاوٹ کھڑی کر دی ہے یہ ایک ایسی حد ہے جس کو عبور کرنا ممنوع ہے۔

(دی بائیبل، دی قرآن اینڈ سائنس، ص:۱۸۹)

(۲) انا زینا السماء الدنیا بزینۃ ن الکواکب ہم نے سب سے نچلے آسمان کو زینت یعنی سیاروں سے آراستہ کیا ہے۔ (ایضا، ص:۱۶۴)

(۳) اولم یر الذین کفروا ان السموت و الارض کانتا رتقا ففتقنہما و جعلنا من الماء کل شیء حیی افلا یومنون کیا کفار نہیں دیکھتے کہ زمین و آسمان باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کیا اور ہم نے ہر زندہ شئی پانی سے بنائی کیا وہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ (ایضا ۱۴۵)

(۴) والسماء و الطارق و ما ادرٰک ماالطارق النجم الثاقب آسمان اور رات کو آنے والے کی قسم، تمہیں کون بتائے گا کہ رات کو آنے والا کون ہے، وہ ستارہ جس کی روشنی چھیدنے والی ہے۔ (ایضا ۱۶۳)

(۵) و انزل من السماء مآء فاخرجنا بہ ازواجا من نبات شتیoاللہ وہ ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ ہم نے نباتات کے کئی جوڑے نکالے ہر جوڑ دوسرے جوڑ سے مختلف ہے۔ (ایضا ۱۹۸)

(۶) و من کل الثمرت جعل فیھا زوجین اثنین

اور اللہ تعالیٰ نے زمین پر تمام پھلوں کے دودو جوڑ کے بنا دئے (ایضا ۲۰۲)

(۷)ان اللہ فالق الحب و النوی اللہ تعالیٰ پھاڑتا ہے دانے اور گٹھلی کو۔ (ایضا ۲۰۳)

(۸) و فی الارض قطع متجورت و جنت من اعناب و زرع و نخیل صنوان و غیر صنوان یسقی بمآء واحد و نفصل بعضہا علی بعض فی الاکل ان فی ذلک لآیت لقوم یعقلون o

زمین پر مختلف ٹکڑے ہیں جو قریب قریب ہیں۔ انگوروں کے باغات، کھیتیاں، کھجوروں کے درخت، کچھ ایک دوسرے کے ہم مثل اور کچھ مختلف۔ ان کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔ ہم ان میں سے بعض کو کھانے میں دوسرے کی نسبت زیادہ لذیذ بنا دیتے ہیں۔ یقینا اس میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لئے۔ (ایضا ۲۰۱)

(۹)و اوحیٰ ربک الی النحل ان اتخذی من الجبال بیوتا و من الشجر و مما یحرشون ثم کلی من کل الثمرات فاسلکی سبل ربک ذللا یخرج من بطونہا شراب مختلف الوانہ فیہ شفاء للناسo

تمہارے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی، بنائو اپنی رہائش گاہ پہاڑوں میں، درختوں کے اندر اور ان چھپروں میں جو لوگ بناتے ہیں۔ کھا ہر قسم کے پھولوں سے اور چلتی رہ اپنے رب کے راستوں پر عاجزی کے ساتھ ان کے جسموں سے مختلف رنگوں کاایک مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے(ایضا ۲۰۶)

(۱۰) سبحان الذی خلق الازواج کلہا مما تنبت الارض و من انفسہم و مما لا یعلمون o

ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جس نے ہر قسم کے جوڑوں کے اجزائے ترکیبی پیدا کئے، وہ جنہیں زمین اگاتی ہے اور وہ خود انسان اور جن کو نہیں جانتے۔ (ایضا ۲۰۳)

(۱۱) الم تر کیف خلق اللہ سبع سموت طباقا و جعل القمر فیہن نورا و جعل الشمس سراجاo

کیا تم نے دیکھا کہ کس طرح اللہ نے سات آسمان پیدا کئے ایک کے اوپر دوسرا اور اس نے چاند کو روشن اور سورج کو چراغ بنایا۔ (ایضا ۱۴۷)

(۱۲) ثم استویٰ الی السماء و ہی دخان فقال لہا و للارضo اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بنایا جب کہ دھواں تھا تو اس سے اور زمین سے فرمایا۔ (ایضا ۱۴۵)

(۱۳) اللہ الذی خلق السموت و الارض و ما بینہما فی ستۃ ایام o اللہ وہ ہے جس نے زمین، آسمانوں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان کو چھ ادوار میں پیدا فرمایا۔ (ایضا ۱۴۸)

(۱۴) و بنینا فوقکم سبعا شدادا و جعلنا سراجا ہم نے تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان بنائے ہیں اور پھر ایک بھڑکتا ہوا سورج رکھا ہے۔ (ایضا ۱۶۲)

۱۵) و السماء بنینٰہا باید و انا لموسعون oاور آسمان کو ہم نے قدرت سے بنایا ہے اور یقینا ہم اس کو وسعت دے رہے ہیں(ایضا ۱۷۳)

قرآنِ مقدس میں تخلیقِ انسانی کا تذکرہ

(۱) وقد خلقکم اطوارا o

اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں مختلف مرحلوں میں پیدا کیا ہے۔ (ایضا ۲۱۳)

(۲) خلق الانسان من نطفۃ oاللہ تعالیٰ نے انسان کو تولیدی مادہ کی معمولی سی مقدار سے پیدا فرمایا۔ (ایضا ۲۱۳)

(۳) انا خلقنا الانسان من نطفۃ امشاج oہم نے انسان کو مخلوط مائع کی معمولی سی مقدار سے پیدا فرمایا۔ (ایضا ۲۱۵)

(۴)ثم جعلنہ نطفۃ فی قرار مکینo پھر ہم نے انسان کو تولیدی مادہ کی معلومی مقدار کی شکل میں ایک بالکل محفوظ مقام پر رکھا۔(ایضا ۲۱۴)

(۵)اقرا باسم ربک الذی خلق خلق الانسان من علقo پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا انسان کو اس چیز سے جو چمٹ جاتی ہے۔ (ایضا ۲۱۷)

(۶) الم یک نطفۃ من منی یمنی ثم کان علقۃ فخلق فسوی o کیا انسان تولیدی مادہ کی ایک معمولی مقدار نہ تھا جسے ٹپکایا جاتا ہے اس کے بعد وہ ایک ایسی چیز تھا جو چمٹ جاتی ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے درست اعضا کے ساتھ پیدا فرمایا۔ (ایضا۲۱۷)

(۷) فخلقنا العلقۃ مضغۃ فخلقنا المضغۃ عظاما فکسونا العظام لحماo ہم نے چمٹ جانے والی چیز کو چبائے ہوئے گوشت کی بوٹی بنایا اور ہم نے چبائے ہوئے گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنایا اور ہم نے ان ہڈیوں کو گوشت پہنا دیا۔ (ایضا ۲۱۸)

(۸) یخلقکم فی بطون امہٰتکم خلقا من بعد خلق فی ظلمت ثلث o اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے تمہیں تمہاری مائوں کے پیٹوں میں ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں تاریکی کے تین پردوں کے اندر۔ (ایضا ۲۱۸)

مورس بکَائلے Mauries Bucaulle نے اپنی کتاب میں بہت سی آیاتِ قرآنی نقل کی ہیں جن میں اس کے بقول ایسے سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں جن کو بیان کرنا ساتویں صدی عیسوی کے کسی انسان کے لئے ممکن نہ تھا۔ مورس بکَائلے نے اپنی کتاب میں تفصیل سے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی طرح ان آیاتِ کریمہ میں بیان کردہ حقائق جدید سائنسی انکشافات سے مطابقت رکھتے ہیں۔ جو لوگ تفصیلات جاننا چاہیں وہ مورس بکَائلے کی کتاب The Bible, Quran and Science کا ضرور مطالعہ کریں۔ ایک غیر مسلم کے انکشافات کا اظہار دیکھ کر ایک مسلمان کا ایمان قرآن پر اور مضبوط ہوجائے گا۔