أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءَكَ الَّذِيۡنَ يُؤۡمِنُوۡنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلۡ سَلَمٌ عَلَيۡكُمۡ‌ كَتَبَ رَبُّكُمۡ عَلٰى نَفۡسِهِ الرَّحۡمَةَ‌ ۙ اَنَّهٗ مَنۡ عَمِلَ مِنۡكُمۡ سُوۡٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَصۡلَحَۙ فَاَنَّهٗ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ کہیں تم پر سلام ہو، تمہارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے، کہ تم میں سے جس کسی نے ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ کہیں تم پر سلام ہو، تمہارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے، کہ تم میں سے جس کسی نے ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کرلیا پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ اور ہم یونہی تفصیل سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔ (الانعام : ٥٥۔ ٥٤) 

شان نزول میں متعدد اقوال : 

اس آیت کے شان نزول کے متعلق پانچ اقوال ہیں : 

(١) حضرت انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہم سے بڑے بڑے گناہ سرزد ہوگئے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(٢) حسن بصری اور عکرمہ نے کہا یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جن کو مجلس سے اٹھانے سے منع فرمایا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان کو دیکھتے تو ابتدا سلام کرتے اور فرماتے اللہ کا شکر ہے جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو رکھا ‘ جن کے متعلق مجھے ابتدا اسلام کرنے کا حکم دیا۔

(٣) عطاء نے کہا یہ آیت حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت حمزہ ‘ حضرت جعفر ‘ حضرت عثمان بن مظعون ‘ حضرت ابو عبیدہ ‘ حضرت مصعب بن عمیر ‘ حضرت سالم ‘ حضرت ابو سلمہ ‘ حضرت ارقم بن ابی الارقم ‘ حضرت عمار اور حضرت بلال (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

(٤) ابن السائب نے کہا عمر بن الخطاب (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اشارۃ یہ کہا تھا کہ مالدار کافروں کی دلجوئی کے لیے مسکین کافروں کو موخر کر دیجئے اور جب یہ آیت نازل ہوئی اور (ان مسکین مسلمانوں کو) دور نہ کیجئے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں تو حضرت عمر (رض) اپنے اس مشورہ پر معذرت کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے آئے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ 

(٥) ابو سلیمان دمشقی نے کہا یہ آیت حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے اسلام کی بشارت دینے کے لیے نازل ہوئی تھی۔ جب حضرت عمر (رض) آئے اور اسلام قبول کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر یہ آیت تلاوت کی۔ 

حسن بصری اور عکرمہ نے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا جب یہ لوگ آپ کے پاس آئیں تو آپ کہئے تم پر سلام ہو اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت افزائی کے لیے آپ کو یہ حکم دیا تھا کہ آپ انہیں سلام کریں اور ابن زید نے کہا آپ کو اللہ کی طرف سے انہیں سلام پہنچانے کا حکم دیا گیا تھا۔ زجاج نے کہا سلام کا معنی انسان کے لیے آفات سے سلامتی کی دعا ہے۔ (زادالمیسر ج ٣ ص ٤٩۔ ٤٨‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

اولیاء اللہ کی تعظیم کی تاکید : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عائذ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان ‘ حضرت صہیب اور حضرت بلال ‘ کے پاس چند لوگوں میں حضرت ابو سفیان آئے تو انہوں نے کہا اللہ کی تلواریں ‘ اللہ کی دشمنوں کی گردنوں میں اپنی جگہ پر نہیں پہنچیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا تم لوگ قریش کے شیخ اور سردار کے متعلق ایسی باتیں کر رہے ہو۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر یہ ماجرا سنایا تب حضرت ابوبکر (رض) ان کے پاس گئے اور کہا اے میرے بھائیو ! میں نے تم کو ناراض کردیا انہوں نے کہا نہیں ‘ اے بھائی اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ (صحیح مسلم ‘ فضائل صحابہ ‘ ١٧٠‘ ٢٥٠٤‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١٨‘ رقم الحدیث :‘ ٢٨‘ مسند احمد ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٥١٨‘ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٦٦٥‘ طبع جدید دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ ص ٦٥‘ طبع دارالفکر ‘ سنن کبری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٨٢٧٧) 

اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ نیک مسلمانوں کا احترام کرنا چاہیے اور جس بات سے انہیں غصہ آئے یا ان کو ایذاء پہنچے اس سے اجتناب کرنا چاہیے ‘ کیونکہ جو شخص اللہ کے اولیاء میں سے کسی کو ناراض کرتا ہے ‘ وہ اللہ کے عذاب اور اس کے غضب کا مستحق ہوتا ہے۔ 

جہالت کی وجہ سے گناہوں کی معافی کی وضاحت : 

اس آیت میں فرمایا ہے تم میں سے جس کسی نے ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کرلیا ‘ پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور اصلاح کرلی تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

مجاہد نے کہا جس شخص نے اللہ کی معصیت میں کوئی کام کیا ‘ تو یہ اس کی جہالت ہے حتی کہ وہ اس سے رجوع کرلے۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢٧٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٥ ھ) 

امام رازی نے کہا جہالت کا معنی خطا اور غلطی ہے اور اس پر توبہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے غلبہ شہوت سے معصیت کی اور اس کا بیان یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان علم کے باوجود کوئی گناہ کرتا ہے اور پھر اس پر توبہ کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ حسن بصری نے کہا جس نے کوئی معصیت کا کام کیا ‘ وہ جاہل ہے۔ پھر معصیت کو جہالت سے تعبیر کرنے کی وجہ سے اختلاف ہے۔ بعض نے کہا وہ اس سے جاہل ہے کہ اس کام کی وجہ سے اس سے کتنا ثواب جاتا رہا اور وہ کتنے عذاب کا مستحق ہوگیا ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہرچند کہ اس کو علم ہے کہ اس فعل کا نتیجہ مذموم ہے ‘ لیکن اس نے فوری اور دنیاوی لذت کو دیر سے اور آخرت میں ملنے والی خیر کثیر پر ترجیح دی اور جو شخص قلیل کو کثیر پر ترجیح دے ‘ اس کو عرف میں جاہل کہا جاتا ہے۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے عمدا کسی معصیت کا ارتکاب کیا ہرچند کہ وہ جاہل نہیں ہے لیکن اس نے کام جاہلوں والا کیا ہے ‘ اس لیے اس کے کام پر جہالت کے کام کا اطلاق کیا گیا ہے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ طبع قدیم ‘ ١٣٩٨ ھ) 

علامہ ابو الحیان اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کا اس پر اجماع ہے کہ ہر معصیت جہالت ہے ‘ خواہ وہ معصیت عمدا کی جائے یا جھلا ‘ کلبی نے کہا جہالت سے گناہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اسے اس کام کے معصیت اور گنا ہونیکا تو علم ہو ‘ لیکن اسے اس گناہ کی سزا کی کنہ اور حقیقت کا علم نہ ہو۔ عکرمہ نے کہا اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے سوا دنیا کے تمام کام جہالت ہیں۔ زجاج نے کہا اس کی جہالت یہ ہے کہ فانی لذت کو باقی لذت پر ترجیح دے رہا ہے اور دنیاوی منفعت کو اخروی منفعت پر ترجیح دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ جہالت سے مراد ہے معصیت پر اصرار کرنا۔ ایک قول یہ ہے کہ جہالت سے مرادیہ ہے کہ وہ غلبہ شہوت کی وجہ سے ارتکاب معصیت کرے اور اس کا مقصد گناہ کو معمولی سمجھنا نہ ہو۔ یا کوئی شخص اس خیال سے گناہ کرے کہ وہ اس گناہ کے بعد توبہ کرکے نیک بن جائے گا اور اس سے جاہل ہو کہ وہ ایسا کرسکے گا یا نہیں ‘ یا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی مغفرت کے حصول کی بناء پر گناہ کا ارتکاب کرے ‘ اور وہ اس کے مال اور انجام سے جاہل ہو۔ (البحر المحیط ‘ ج ٣ ص ٥٦١‘ مطوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے شدید غصہ سے ‘ غلبہ شہوت یا حماقت کی بنا پر اخروی سزا سے غافل ہو کر کوئی گناہ کرلیا ‘ پھر اس نے اخلاص کے ساتھ اپنے گناہ پر توبہ کی ‘ اس گناہ سے رجوع کیا اور نادم ہوا اور مستقبل میں دوبارہ وہ گناہ نہ کرنے کا عزم کیا ‘ اپنے عمل کی اصلاح کی اور اس گناہ کی تلافی اور تدارک کیا اور اس گناہ کے بعد کوئی نیکی کی ‘ تاکہ اس گناہ کا اثر مٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو بخش دے گا ‘ کیونکہ وہ بہت وسیع رحمت اور مغفرت والا ہے۔ 

مجرموں کے طریقہ کو بیان کرنے کی حکمت :

اس کے بعد فرمایا اور ہم یونہی تفصیل سے آیتوں کو بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے یعنی جس طرح ہم نے توحید اور رسالت اور قضاء وقدر کے دلائل بہت آسان اور موثر طریقہ سے بیان کیے ہیں ‘ قرآن مجید کی آیات کی تفصیل کی ہے اور حقائق شریعت بیان کیے ہیں۔ اسی طرح ہم ہر اس حق کو بیان کرتے ہیں جس کا اہل باطل انکار کرتے ہیں ‘ تاکہ مومنین کے لیے مجرمین کا طریقہ واضح ہوجائے گا ‘ کیونکہ باطل کی ضد حق ہے ‘ کیونکہ ایک ضد کی خصوصیت اس کے مقابل ضد کی خصوصیت سے پہچانی جاتی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 54