أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَذٰلِكَ فَتَـنَّا بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لِّيَـقُوۡلُـوۡۤا اَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِنَا ؕ اَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰكِرِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے سبب آزمائش میں مبتلا کیا ‘ تاکہ انجام کار وہ (مال دار کافر) یہ کہیں کہ کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ‘ (اے کافرو ! ) کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے سبب آزمائش میں مبتلا کیا ‘ تاکہ انجام کار وہ (مال دار کافر) یہ کہیں کہ کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ‘ (اے کافرو ! ) کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے۔ (الانعام : ٥٣) 

بعض لوگوں کی بعض پر فضیلت کا آزمائش ہونا :

اللہ تعالیٰ کا بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے سبب آزمائش میں مبتلا کرنا یہ ہے کہ لوگ رزق اور اخلاق میں ایک دوسرے سے متفاوت رہیں۔ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ غنی بنایا اور بعض لوگوں کو فقیر بنایا ‘ بعض لوگوں کو قوی بنایا ‘ بعض لوگوں کو ضعیف بنایا اور بعض لوگوں کو قوی بنایا ‘ بعض لوگوں کو ضعیف بنایا اور بعض لوگوں کو بعض لوگوں کا محتاج کردیا۔ 

حضرت ابن عباس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو مال دار بنایا اور بعض لوگوں کو فقراء بنایا اور مالداروں نے فقراء کے متعلق کہا ‘ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان فرمایا ہے ‘ یعنی ان کو ہدایت دی ہے۔ انہوں نے یہ بطور استہزاء اور مذاق اڑانے کی خاطر کہا تھا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ہر شخص اپنے بالمقابل کی بہ نسبت آزمائش میں مبتلا ہے ‘ مال دار کافر ‘ فقراء صحابہ سے ان کی اسلام میں سبقت پر حسد کرتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ اگر ہم اب مسلمان ہوگئے تو ہم ان مسکینوں اور فقیروں کے تابع ہوں گے اور یہ چیز ان پر سخت دشوار تھی اور فقراء صحابہ ان مال دار کافروں کو عیش ‘ راحت اور فراخ دستی میں دیکھتے تھے ‘ اور وہ یہ سوچتے تھے کہ ان کافروں کو مال و دولت کی ایسی فراوانی اور وسعت کیسے حاصل ہوگئی ؟ جبکہ ہم مال اور وسائل کی سخت تنگی اور مشکلات میں مبتلا ہیں ‘ تو ایک فریق دوسرے فریق کو دین میں بلندی پر دیکھتا تھا اور دوسرا فریق اس کو دنیا میں فراخی میں دیکھتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان میں سے بعض کو ‘ بعض کے سبب آزمائش میں مبتلا کیا۔ اور اس بناء پر کافر یہ کہتے تھے کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ؟ اور اھل حق جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق اور صائب ہے اور اس کے ہر فعل میں حکمت ہے اور اس کے کسی فعل پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 53