وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ‌ ؕ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 52

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ‌ ؕ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں درآں حالیکہ وہ اسی کی رضاجوئی کرتے ہیں ‘ ان کا حساب بالکل آپ کے ذمہ نہیں ہے اور آپ کا حساب سرمو ان کے ذمہ نہیں ہے ‘ پس اگر (بالفرض) آپ نے ان کو دور کردیا تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجیے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں درآں حالیکہ وہ اسی کی رضاجوئی کرتے ہیں ‘ ان کا حساب بالکل آپ کے ذمہ نہیں ہے اور آپ کا حساب سرمو ان کے ذمہ نہیں ہے ‘ پس اگر (بالفرض) آپ نے ان کو دور کردیا تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے۔ (الانعام : ٥٢) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ قریش کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے گزری اس وقت آپ کے پاس حضرت خباب ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت بلال اور حضرت عمار (رض) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے متعلق قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی اور ان (قرآن) کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائیے جو اپنے رب کی طرف جمع کیے جانے سے ڈرتے ہیں۔ (الانعام : ٥١) 

(مسند احمد ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٨٥‘ طبع دارالحدیث قاہرہ ‘ علامہ احمد محمد شاکر ‘ متوفی ١٣٧٦ ھ نے کہا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٤٢٠‘ طبع قدیم ‘ بیروت) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت خباب (رض) نے قرآن مجید کی آیت مبارکہ اور ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجئے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔ (الانعام : ٥٢) کی تفسیر میں بیان کیا ‘ اقرع بن حابس تمیمی اور عیینہ بن حصن فزاری آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکین مسلمانوں میں سے حضرت صہیب ‘ حضرت بلال ‘ حضرت عمار اور حضرت خباب (رض) آپ کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں ‘ جب مشرکین نے ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گرد بیٹھے ہوئے دیکھا تو انہوں نے ان مسکین مسلمانوں کو حقیر جانا ‘ پس وہ آپ کے پاس آکر خلوت میں بیٹھے اور کہنے لگے ‘ ہم آپ کے ساتھ مجلس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ عربوں میں ہماری کیا فضیلت ہے ؟ عرب کے وفود آپ کے پاس آتے رہتے ہیں اور ہم کو حیا آتی ہے کہ عرب لوگ ہم کو ان غلاموں کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھیں۔ تو جب ہم آپ کے پاس آیا کریں آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کریں اور جب ہم آپ کی مجلس سے فارغ ہوجائیں تو پھر آپ چاہیں تو ان کو اپنے پاس بٹھا لیا کریں۔ آپ نے فرمایا اچھا ‘ انہوں نے کہا آپ ہمیں یہ لکھ کر دے دیں۔ آپ نے صحیفہ منگوایا اور حضرت علی (رض) کو لکھنے کے لیے بلایا اور ہم اس وقت ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اس آیت کے لے کر نازل ہوئے اور ان (مسکین مسلمانوں کو) دور نہ کیجئے جو صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسی کی رضا جوئی کرتے ہیں ‘ ان کا حساب بالکل آپ کے ذمہ نہیں ہے اور آپ کا حساب سرمواں کے ذمہ نہیں ہے ‘ پس اگر بالفرض آپ نے ان کو دور کردیا تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے۔ (الانعام : ٥٢) 

پھر اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن کا ذکر کیا اور فرمایا اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے سبب آزمائش میں مبتلا کیا ‘ تاکہ انجام کار وہ (مال دار کافر) یہ کہیں کہ کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ‘ (اے کافرو ! ) کیا اللہ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے۔ (الانعام : ٥٣) پھر فرمایا اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو آپ کہیں تم پر سلام ہو، تمہارے رب نے (محض اپنے کرم سے) اپنے اوپر رحمت کو لازم کرلیا ہے، (الانعام : ٥٤) حضرت خباب نے کہا پھر ہم آپ کے قریب بیٹھتے تھے۔ حتی کہ ہم اپنے گھٹنوں کو آپ کے گھٹنوں کے ساتھ ملا کر بیٹھتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ساتھ بیٹھتے تھے اور جب آپ اٹھ کر جانا چاہتے تو ہمیں مجلس میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور آپ صبر سے ان لوگوں کے ساتھ (بیٹھے) رہئے جو صبح اور شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ اسی کی رضا چاہتے ہیں ‘ اور آپ کی آنکھیں ان سے نہ ہٹیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہوں اور آپ اس شخص کا کہا نہ مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جو اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے متجاوز ہوگیا۔ (الکہف : ٢٨) 

حضرت خباب نے کہا پھر ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھتے تھے ‘ حتی کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جانے کا وقت آتا تو ہم آپ کو چھوڑ کر اٹھ جاتے تھے۔ پھر آپ تشریف لے جاتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٢٧‘ جامع البیان ‘ ج ٧‘ ص ٢٦٣‘ شعب الایمان ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٤٩١‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٥٦٤‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ١ ص ١٤٦‘ الدرالمنثور ‘ ج ٣‘ ص ١٣‘ اسباب النزول ‘ ص ٢٢١۔ ٢٢٠) 

خاتم الحفاظ علامہ جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کو مسند ابو یعلی اور دلائل النبوۃ کے حوالوں سے بھی ذکر کیا ہے لیکن یہ ان کا تسامح ہے۔ مسند ابو یعلی اور دلائل النبوۃ میں یہ حدیث نہیں ہے۔ امام ابن جریر ‘ امام ابن ابی حاتم ‘ امام ابن الجوزی ‘ امام رازی ‘ علامہ قرطبی ‘ علامہ ابو الحیان اندلسی ‘ حافظ ابن کثیر اور علامہ آلوسی وغیرھم نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ 

حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت (الانعام : ٥٢) ہم چھ نفوس کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ میرے متعلق ‘ حضرت ابن مسعود کے متعلق ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت عمار ‘ حضرت مقداد اور حضرت بلال (رض) کے متعلق۔ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں وہ بات آئی جو اللہ نے چاہا۔ آپ نے منصوبہ بنایا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ان (مسکین مسلمانوں) کو دور نہ کیجئے جو صبح شام اپنے رب کی عبادت کرتے رہتے ہیں ‘ درآنحالیکہ وہ اسی کی رضا کا ارادہ کرتے ہیں۔ (الانعام : ٥٢) 

(صحیح مسلم ‘ فضائل الصحابہ ‘ ٤٦۔ ٤٥‘ (٢٤١٣) ٦١٢٤‘ ٦١٢٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٢٨‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٨٢٢) 

صبح وشام اخلاص سے عبادت کرنے کی وضاحت : 

اس آیت میں ان مسکین مسلمانوں کے متعلق فرمایا ہے ‘ وہ صبح وشام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ وہ پابندی اور دوام کے ساتھ فرض نمازوں کو باجماعت پڑھتے ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور حسن بصری کا قول ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد اللہ کا ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد صبح اور شام اللہ سے دعا کرنا ہو ‘ تاکہ دن کی ابتداء اور اس کا افتتاح اللہ کی دعا سے ہو اور دن کا اختتام بھی اللہ سے دعا پر ہو۔ نیز فرمایا درآنحالیکہ وہ اس کی رضاجوئی کرتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اخلاص سے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اپنی عبادات اور اعمال میں اللہ کے سوا اور کسی چیز کی طرف توجہ نہیں کرتے ‘ اس آیت میں اور قرآن مجید کی دیگر آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات کو ” وجہ (چہرہ) کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے ‘ کیونکہ انسان کے جسم کی شناخت اس کے چہر سے ہوتی ہے اور اس کے تمام اعضاء میں سب سے زیادہ تکریم اس کے چہرے کی ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو چہرے سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ وجہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جسم اور چہرہ ہے ‘ صبح اور شام کے وقت عبادت کا خصوصیت سے اس لیے ذکر فرمایا ہے کیونکہ ان اوقات میں لوگ آرام اور کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں تو جو لوگ ان اوقات میں بھی عبادت میں مشغول ہوں ‘ وہ باقی اوقات میں بہ طریق اولی عبادت میں مشغول ہوں گے۔ مسکینوں کا حساب آپ کے ذمہ نہ ہونے کی وضاحت : 

جب سورة کہف کی یہ آیت نازل ہوئی اور آپ صبر سے ان لوگوں کے ساتھ (بیٹھے) رہئے جو صبح اور شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک مجلس سے نہیں اٹھتے تھے ‘ جب تک کہ یہ مسکین مسلمان خود اس مجلس سے نہیں اٹھتے تھے ‘ جیسا کہ سنن ابن ماجہ اور دیگر کتب حدیث کے حوالوں سے ہم بیان کرچکے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کا حساب بالکل آپ کے ذمہ نہیں ہے اس کا معنی یہ ہے کہ ان کو ان کے اعمال کی جزاء دینا یا ان کو رزق مہیا کرنا آپ کے ذمہ نہیں ‘ بلکہ ان کو جزا دینا اور ان کو رزق مہیا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اسی طرح آپ کا رزق اور آپ کی جزا بھی اللہ کے ذمہ ہے ‘ کسی اور کے ذمہ نہیں ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ مسکین مسلمان فقر میں مبتلا ہیں تو اس سے آپ کو کوئی ضرر نہیں ہوگا ‘ حتی کہ آپ مشرکین کی فرمائش پر ان کو اپنی مجلس سے اٹھانے کا ارادہ کریں ‘ آپ پر ان کے رزق اور ان کے اعمال کے محاسبہ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ آپ مشرکوں کی فرمائش پوری کرنے کے درپے ہوں۔ آپ کا کام منصب رسالت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ آپ معاملات کے ظاہر پر عمل کریں اور ان کے باطن کو اللہ کے حوالے کردیں اور ان مسکین مسلمانوں کا ظاہر حال یہ ہے کہ یہ صبح وشام اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ‘ سو آپ ان کی طرف متوجہ ہوں ‘ ان کے ساتھ مجلس میں بیٹھیں اور ان کو اپنے پاس سے دور نہ کریں۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منع کرنا دراصل امت کے لیے تعریض ہے۔ 

اس کے بعد فرمایا اگر آپ نے (بالفرض) ان کو دور کردیا تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے ظاہر ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ متصور نہیں ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے بعد بھی ان مسکین مسلمانوں کو اپنی مجلس سے دور کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ نے بطور تعریض دوسرے مسلمانوں کو سنانے کے لیے یہ فرمایا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی امیر کافروں کی رعایت کرکے غریب مسلمانوں کو بالفرض اپنی مجلس سے اٹھا دیں ‘ تو آپ غیر منصفوں سے ہوجائیں گے ‘ تو کوئی اور مسلمان ایسا کرے گا ‘ تو وہ کیونکر ظالموں میں سے نہیں ہوگا۔ اس آیت کی نظریہ آیت ہے : 

(آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ (الزمر : ٦٥) 

ترجمہ : اگر (بالفرض) آپ نے (بھی) شرک کیا تو آپ کا عمل ضائع ہوجائے گا۔ 

زیر بحث آیت اور مذکور الصدر احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر یا فاسق کی اس کی دنیاوی شان و شوکت کی وجہ سے عزت کرنا اور کسی نیک مسلمان کی غربت اور افلاس کی وجہ سے بےتوقیری اور تحقیر کرنا شرعا ممنوع ہے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت پر اعتراض کا جواب : 

جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی عصمت پر طعن کرتے ہیں ‘ وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان مسکین مسلمانوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اٹھانے سے منع فرمایا ہے لہذا ان کو مجلس سے اٹھانا گناہ ہوا ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر آپ نے ان کو مجلس سے اٹھایا تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے اور آپ نے ان کو مجلس سے اٹھا دیا تو آپ کا (معاذ اللہ) ظالم ہونا ثابت ہوا۔ سورة کہف میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر فرمایا ہے اور وہاں ارشاد ہے اور آپ صبر سے ان لوگوں کے ساتھ (بیٹھے) رہئے جو صبح اور شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں درآنحالیکہ وہ اس کی رضا چاہتے ہیں ‘ اور آپ کی آنکھیں ان سے نہ ہٹیں کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہوں اور آپ اس شخص کا کہا نہ مانیں جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور جو اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا ہے اور اس کا معاملہ حد سے متجاوز ہوگیا۔ (الکہف : ٢٨) اس آیت میں فرمایا ہے کہ آپ دنیا کی زندگی کی زینت کا ارادہ کرتے ہیں اور ایک اور آیت میں آپ کو دنیا کی زینت کا ارادہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہے۔ اور آپ دنیا کی زندگی کی ان زینتوں اور آرائشوں کی طرف اپنی آنکھیں نہ پھیلائیں ‘ جو ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو (عارضی) نفع اٹھانے کے لیے دے رکھی ہیں ‘ تاکہ ہم اس میں ان کو آزمائیں اور آپ کے رب کا رزق سب سے بہتر اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا ہے۔ (طہ : ١٣١) جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو زینت دنیا کی طرف التفات کرنے سے منع فرمایا ہے اور سورة کہف کی آیت میں فرمایا ہے اور سورة کہف کی آیت میں فرمایا ہے کہ آپ زینت دنیا کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ کا یہ فعل گناہ ہوا ؟ (العیاذ باللہ) 

پہلی دلیل کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مسکین مسلمانوں کو مجلس سے اٹھانے سے منع فرمایا ہے اور اس کا ظلم فرمایا ہے ‘ تو آپ اگر ان کو مجلس سے اٹھاتے ‘ تب گناہ اور ظلم لازم آتا۔ لیکن آپ نے ان کو مجلس سے نہیں اٹھایا ‘ اس لیے گناہ اور ظلم لازم نہیں آیا۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ گناہ کا عزم بھی گناہ ہوتا ہے اور آپ نے ان کو اٹھانے کا عزم کرلیا تھا حتی کہ آپ نے اس کو لکھوانے کے لیے حضرت علی (رض) کو بلالیا تھا ‘ تو بہرحال گناہ لازم آگیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ممانعت کے بعد کام کیا جائے یا اس کا عزم کیا جائے ‘ تب گناہ ہوگا کہ اللہ کے حکم کی نافرمانی کی ‘ لیکن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اٹھانے کا ارادہ کیا تھا ‘ اس سے پہلے تو اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا تھا۔ لہذا نافرمانی یا اس کا عزم کیسے لازم آیا ؟ منع تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے عزم کے بعد فرمایا ہے اور ممانعت سے پہلے آپ کا یہ فعل جائز اور مباح تھا اور اس کا عزم بھی جائز اور مباح تھا۔ نیز ! آپ کا منصب ‘ تبلیغ اور اشاعت اسلام ہے اور آپ یہ چاہتے تھے کہ یہ بڑے بڑے سردار اسلام قبول کرلیں تو ان کو دیکھ کر ان کے متبعین بھی مسلمان ہوجائیں گے ‘ اس لیے آپ نے سوچا کہ اگر ان مسکین مسلمانوں کو وقتی طور پر مجلس سے اٹھادیا جائے ‘ تو ہرچند کہ اس سے ان کی دل شکنی ہوگی ‘ لیکن یہ تھوڑا ضرر ہے اور اگر اس کے نتیجہ میں یہ بڑے بڑے سردار تبلیغ سے مسلمان ہوگئے تو یہ خیر کثیر اور عظیم فائدہ ہے اور زیادہ نفع کے لیے کم نقصان کو برداشت کرلیا جاتا ہے۔ اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ سوچ برحق تھی اور آپ کا اجتہاد صحیح تھا اور ہم امام رازی کے اس جواب سے متفق نہیں ہیں کہ آپ کی یہ اجتہادی خطا تھی۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٤‘ ص ٥٠) 

لیکن اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے ‘ اس کو علم تھا کہ یہ کفار اس موقع پر ایمان لانے والے نہیں تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس ارادہ سے باز رکھا اور فرمایا آپ ان کافروں کے اسلام لانے کے طمع میں ان مسکین مسلمانوں کو مجلس سے نہ اٹھائیے کیونکہ یہ کافر تو بہرحال اسلام نہیں لائیں گے تو آپ اپنے وفادار غلاموں کی دل آزاری کا نقصان کیوں اٹھائیں۔ امام رازی نے لکھا ہے کہ آپ کا یہ فعل خلاف اولی تھا۔ میں کہتا ہوں کہ خلاف اولی بھی تب ہوتا جب آپ اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کے بعد اشاعت اسلام کے لیے ان مسکین مسلمانوں کو وقتی طور پر مجلس سے اٹھانے کا ارادہ کرتے اور جس وقت آپ نے ان کو مجلس سے اٹھانے کا ارادہ کیا تھا ‘ اس وقت تک اللہ تعالیٰ نے منع ہی نہیں فرمایا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ کے کس حکم کی مخالفت ہوئی ؟ جس وجہ سے آپ کا یہ ارادہ خلاف اولی کا ارادہ ہوتا یا اجتہادی خطا قرار دیا جاتا ؟ 

منکرین عصمت کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو زینت دینا کی طرف التفات کرنے سے منع فرمایا اور آپ نے کافر سرداروں کی دولت اور ثروت دیکھ کر زینت دنیا کا ارادہ فرما لیا تھا اور یہ ممنوع کام کا ارادہ فرما لیا تھا اور یہ ممنوع کام کا ارادہ ہے اور گناہ کا ارادہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زینت دنیا کی وجہ سے ارادہ ممنوع ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کافر سرداروں کے مال و دولت کی وجہ سے ان کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے ‘ بلکہ اشاعت اسلام کی وجہ سے انکی طرف متوجہ ہوئے تھے ‘ تاکہ وہ لوگ مسلمان ہوجائیں اور ان کی وجہ سے انکے متبعین بھی مسلمان ہوجائیں اور آپ کا یہ ارادہ کسی معصیت کا یا خلاف اولی کام کا ارادہ نہیں ہے ‘ بلکہ فرائض رسالت میں سے ایک فرض کی ادائیگی کا ارادہ ہے اور اس پر آپ کو فرض ادا کرنے کا اجر وثواب ملے گا۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے ‘ اس کو علم تھا کہ یہ لوگ اس موقع پر اسلام لانے والے نہیں ہیں ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان کافروں کی خوشنودی کی خاطر اپنے وفا شعار اور اطاعت گزار غلاموں کو مجلس سے نہ اٹھائیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت پر اعتراض کی اس وقت گنجائش ہوتی جب اس ممانعت کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی مسکین مسلمان کو کافر سرداروں کی خاطر اپنی مجلس سے اٹھایا ہوتا یا اس کا ارادہ کیا ہوتا۔ 

یاد رکھئے تمام انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہیں ‘ نبوت سے پہلے اور نبوت کے بعد کوئی صغیرہ یا کبیرہ ‘ سہوا یا عمدا صورۃ یا حقیقتا ان سے کبھی بھی کوئی گناہ صادر نہیں ہوا ‘ ہاں انبیاء سابقین (علیہم السلام) سے اجتہادی خطا ہوئی ہے۔ جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) کا شجر ممنوع سے کھانا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قبطی کو مارنا اور حضرت یونس (علیہ السلام) کا خصوصی اجازت کے بغیر بستی سے چلے جانا وغیرہ ‘ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ اجتہادی خطا سے بھی مامون اور محفوظ ہیں اور محققین کا یہی مذہب ہے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے علامہ نووی کے حوالے سے نقل کیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 52

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.