میرے سرکار مدینے میں بلاتے رہنا

غمِ دنیا غمِ عقبیٰ سے بچاتے رہنا

کوئی مشکل نہیں ایسی جو نہ ٹالی تم نے

میرے داتا میری بگڑی کو بناتے رہنا

حشر کی پیاس مجھے جبکہ پریشاں کر دے

جام کوثر کا مجھے آپ پلاتے رہنا

کاش جلوہ مرے آقا جو دکھائیں مجھ کو

میں تو کہہ دوں گا اسے آپ دکھاتے رہنا

کوئی نیکی نہیں دامن میں مرے یا مدنی

مجھ سیہ کار کو سرکار نبھاتے رہنا

ہے مصائب میں گھِری آپ کی امت آقا

ظلمِ ظالم سے اسے آپ بچاتے رہنا

آج پھر سے مجھے طیبہ کا بنایا زائر

میری قسمت کو اسی طرح جگاتے رہنا

در پہ سرکار کے حاضر ہے غلامِ عجمی

لاج اس کی میرے مختار بچاتے رہنا

آج طیبہ سے چلا ہوں میں وطن کی جانب

اپنے در پر میرے مختار بلاتے رہنا

وحشتِ قبر سے گھبرائے جو شاکرؔ آقا

تھپکیاں دے کے اسے آپ سلاتے رہنا