أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنِّىۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَ تَّبِعُ اَهۡوَآءَكُمۡ‌ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہئے بیشک مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو، آپ کہیے کہ تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، (اگر بالفرض میں نے ایسا کیا) تو میں گمراہ ہوجاؤ گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں رہوں گا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہئے بیشک مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو، آپ کہیے کہ تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا، (اگر بالفرض میں نے ایسا کیا) تو میں گمراہ ہوجاؤ گا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہیں رہوں گا۔ (الانعام : ٥٦) 

بتوں کی عبادت کا خلاف عقل ہونا :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم آیات کی تفصیل کرتے ہیں ‘ تاکہ حق ظاہر ہو اور مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے راستہ پر چلنے سے منع فرمایا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ مشرکین صرف اپنی خواہش اور اپنے باپ دادا کی اندھی تقلید کی وجہ سے بتوں کی عبادت کر رہے ہیں ‘ کیونکہ یہ بت محض جمادات اور پتھر ہیں جو انسان سے بہت کم درجہ کے ہیں ‘ جبکہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور اشرف کا ارذل کی عبادت کرنا عقل اور درایت کے منافی ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ ان مشرکین کا بتوںٗ کی عبادت کرنا ہدایت کے خلاف ہے اور ان کی خواہش پر مبنی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ آپ کہئے کہ مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے ‘ جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو ‘ آپ کہئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرتا۔ (اگر بالفرض میں نے ایسا کیا) تو میں گمراہ ہوجاؤں گا۔ 

غیر اللہ کو پکارنے میں مشرکوں اور مسلمانوں کا فرق : 

اس آیت میں ” تدعون من دون اللہ “ فرمایا ہے اور دعا کا معنی ہے طلب نفع یا دفع ضرر کے لیے ندا کرنا ‘ لیکن مشرکیں اپنی مہمات اور مشکلات میں بطور عبادت ان بتوں کو ندا کرتے تھے۔ اس لیے یہاں دعاء کا معنی عبادت ہے ‘ کیونکہ وہ ان بتوں کی عبادت کرتے تھے اور اس کا عقیدہ تھا کہ یہ بت نفع پہنچانے اور ضرر دور کرنے پر قادر ہیں۔ سو ان کا بتوں کو پکارنا دراصل ان کی عبادت کرنا تھا ‘ اس لیے ہم نے یہاں دعا کا معنی پرستش اور عبادت کیا ہے اور حدیث میں بھی دعا کو عبادت فرمایا ہے۔ 

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دعا کرنا ہی عبادت ہے۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی تمہارا رب فرماتا ہے ! مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا ‘ بیشک جو لوگ میری عبادت کرنے سے تکبر کرتے ہیں وہ عنقریب ذلت سے جہنم میں داخل ہوں گے۔ (المومن : ٦٠) ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن الترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٨٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٧٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٢٨‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٨٩٠‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٢٦٧‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٤٩١۔ ٤٩٠‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث :‘ ٧١٤‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١٠ ص ٢٠٠‘ حلیۃ الاولیاء ‘ ج ٨ ص ١٢٠‘ شرح السنہ ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٣٧٨) 

بعض مسلمان اپنی مشکلات اور مہمات میں یاعلی مدد اور یا غوث الاعظم المدد کہتے ہیں ‘ افضل اور اولی تو یہی ہے کہ یا اللہ کہا جائے۔ اللہ کو پکارا جائے اور اس سے مدد طلب کی جائے ‘ لیکن ان مسلمانوں کی اس ندا سے غرض یہ ہوتی ہے کہ یہ اولیاء کرام ‘ اللہ تعالیٰ کی مدد کے مظہر ہوتے ہیں اور اللہ کی اجازت سے تصرف کرتے اور لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی یہ ندا شرک نہیں ہے۔ اسی طرح بعض شعراء کی نعتوں اور منقبتوں میں بھی یارسول اللہ اور یاغوث اعظم کے الفاظ ہوتے ہیں ‘ یہ کلمات ذوق وشوق اور محبت سے کہے جاتے ہیں ‘ یہ بھی شرک نہیں ہے۔ شرک اس وقت ہوگا جب پکارنے والا اس اعتقاد سے پکارے کہ جس کو وہ پکار رہا ہے ‘ وہ مستقل ہے اور از خود سنتا ہے اور اپنی ذاتی طاقت سے از خود مدد کرتا ہے ‘ یا وہ اس کو مستحق عبادت سمجھتا ہو اور اس کو بطور عبادت ندا کرے۔ جیسا کہ مشرکین اپنے بتوں کو ندا کرتے تھے۔ مشرکین کے بتوں کو پکارنے اور بعض مسلمانوں کا اولیاء اللہ کو پکارنے میں یہ بنیادی فرق ہے۔ اس وجہ سے مشرکین کا بتوں کو پکارنا شرک نہیں ہے۔ 

مشرکین ان بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اس کے برخلاف مسلمان اللہ کی عبادت کرتے ہیں ‘ نماز پڑھتے ہیں ‘ روزے رکھتے ہیں ‘ اللہ سے دعائیں کرتے ہیں اور ” لا الہ الا اللہ “ پڑھتے ہیں اور ان کا یہ ظاہر حال اس پر قرینہ ہے کہ وہ اپنی مشکلات میں جس کو پکار رہے ہیں ‘ اس کو خدا نہیں سمجھتے۔ بلکہ خدا کا مقرب بندہ اور ماذون فی التصرف سمجھتے ہیں۔ تاہم اپنی تمام حاجات اور تمام مشکلات میں صرف اللہ عزوجل کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ہر چھوٹی اور بڑی چیز کا صرف اس سے سوال کرنا چاہیے اور صرف اسی سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابن عباس (رض) کو یہ نصیحت فرمائی تھی کہ جب تم سوال کرو تو صرف اللہ سے سوال کرو اور جب تم مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد چاہو۔ 

(سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٢٤‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٠٧‘ ٣٠٣‘ ٢٩٢‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٦٩‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ علامہ احمد شاکر نے کہا اس کی سند صحیح ہے۔ مسند ابو یعلی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٥٦‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٥٦٠‘ ١١٤١٦‘ ١١٢٤٣‘ مسند الشاب ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٤٥‘ کتاب الدعا للطبرانی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤١‘ عمل الیوم واللیلہ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٧‘ المستدرک ‘ ج ٣‘ ص ٥٤٢‘ مشکوۃ ‘ ص ٤٥٣) 

انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین کرام کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اپنی مہمات ‘ مشکلات اور تمام حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اسی سے استمداد اور استغاثہ کرتے تھے۔ سو ہمیں بھی ان کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنا چاہیے اور اپنی ہر حاجت کا صرف اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا چاہیے ‘ اور اسی سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ ہاں انبیاء (علیہم السلام) اور صالحین عظام کا وسیلہ پیش کرنا ‘ ایک جدا امر ہے۔ اس کے جواز اور استحسان میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے ‘ اور جب مقربین بارگاہ صمدیت کے وسیلہ سے دعا کی جائے گی ‘ تو اس کا مقبول ہونا زیادہ متوقع ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 56