وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــٴًـاۚ-وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــٴًـا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْاؕ-فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍؕ-وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍۚ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ٘-تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا(۹۲)

اور مسلمانوں کو نہیں پہنچتا کہ مسلمان کا خون کرے مگر ہاتھ بہک کر (ف۲۴۹) اور جو کسی مسلمان کو نادانستہ قتل کرے تو اس پر ایک مَمْلوک مسلمان(مسلم غلام) کا آزاد کرنا ہے اور خو ن بہا کہ مقتول کے لوگوں کو سپرد کی جائے (ف۲۵۰) مگر یہ کہ وہ معا ف کردیں پھر اگر وہ (ف۲۵۱) اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے (ف۲۵۲) اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا (ف۲۵۳) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خوں بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا (ف۲۵۴) تو جس کا ہاتھ نہ پہنچے (ف۲۵۵) وہ لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے (ف۲۵۶) یہ اللہ کے یہاں اس کی توبہ ہے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے

(ف249)

یعنی مومن کافر کی مثل مباح الدم نہیں ہے جس کا حکم اوپر کی آیت میں مذکور ہوچکا تو مسلمان کا قتل کرنا بغیر حق کے روا نہیں اور مسلمان کی شان نہیں کہ اس سے کسی مسلمان کا قتل سرزد ہو بجز اس کے کہ خطاءً ہو اس طرح کہ مارتا تھا شکار کو یا کافر حربی کو اور ہاتھ بہک کر زد پڑی مسلمان پر یا یہ کہ کسی شخص کو کافر حربی جان کر مارا اور تھا وہ مسلمان ۔

(ف250)

یعنی اس کے وارثوں کو دی جائے وہ اسے مثل میراث کے تقسیم کرلیں دِیّت مقتول کے ترکہ کے حکم میں ہے اس سے مقتول کا دَین بھی ادا کیا جائے گا وصیت بھی جاری کی جائے گی۔

(ف251)

جو خطاءً قتل کیا گیا۔

(ف252)

یعنی کافر

(ف253)

لازم ہے اور دیت نہیں

(ف254)

یعنی اگر مقتول ذمی ہو تو اس کا وہی حکم ہے جو مسلمان کا۔

(ف255)

یعنی وہ کسی غلام کا مالک نہ ہو۔

(ف256)

لگاتار روزہ رکھنا یہ ہے کہ ان روزوں کے درمیان رمضان اور ایام تشریق نہ ہوں اور درمیان میں روزوں کا سلسلہ بعذر یا بلاعذر کسی طرح توڑا نہ جائے۔

شان نزول : یہ آیت عیاش بن ربیعہ مخزومی کے حق میں نازل ہوئی وہ قبل ہجرت مکہ مکرمہ میں اسلام لائے اور گھر والوں کے خوف سے مدینہ طیبہ جا کر پناہ گزیں ہوئے ان کی ماں کو اس سے بہت بے قراری ہوئی اور اس نے حارث اور ابوجہل اپنے دونوں بیٹوں سے جو عیاش کے سوتیلے بھائی تھے یہ کہا کہ خدا کی قسم نہ میں سایہ میں بیٹھوں نہ کھانا چکھوں نہ پانی پیوں جب تک تم عیاش کو میرے پاس نہ لے کر آؤ وہ دونوں حارث بن زید بن ابی اُنیسہ کو ساتھ لے کر تلاش کے لئے نکلے اور مدینہ طیبہ پہنچ کر عیاش کو پالیا اور ان کوماں کے جزع فزع بے قراری اور کھانا پینا چھوڑنے کی خبر سنائی اور اللہ کو درمیان دے کر یہ عہد کیا کہ ہم دین کے باب میں تجھ سے کچھ نہ کہیں گے اس طرح وہ عیاش کو مدینہ سے نکال لائے اور مدینہ سے باہر آکر اس کو باندھا اور ہر ایک نے سو سو کوڑے مارے پھر ماں کے پاس لائے تو ماں نے کہا میں تیری مشکیں نہ کھولوں گی جب تک تو اپنا دین ترک نہ کرے پھر عیاش کو دھوپ میں بندھا ہوا ڈال دیا اور ان مصیبتوں میں مبتلا ہو کر عیاش نے ان کا کہا مان لیا اور اپنا دین ترک کردیا تو حارث بن زید نے عیاش کو ملامت کی اور کہا تو اسی دین پر تھا اگر یہ حق تھا تو تونے حق کو چھوڑ دیااور اگر باطل تھا توتو باطل دین پر رہا یہ بات عیاش کو بڑی ناگوار گزری اور عیاش نے کہا میں تجھ کو اکیلا پاؤں گا تو خدا کی قسم ضرور قتل کردوں گا اس کے بعد عیاش اسلام لائے اور انہوں نے مدینہ طیبہ ہجرت کی اور ان کے بعد حارث بھی اسلام لائے اور ہجرت کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے لیکن اس روز عیاش موجود نہ تھے نہ انہیں حارث کے اسلام کی اطلاع ہوئی قباء کے قریب عیاش نے حارث کو دیکھ پایا اور قتل کردیا تو لوگوں نے کہا اے عیاش تم نے بہت برا کیا حارث اسلام لاچکے تھے اس پر عیاش کو بہت افسوس ہوا اور انہوں نے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کیا اور کہا کہ مجھے تا وقت قتل ان کے اسلام کی خبر ہی نہ ہوئی اس پر یہ آیہ کریمہ نازل ہوئی ۔

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳)

اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے (ف۲۵۷) اور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیےتیار رکھا بڑا عذاب

(ف257)

مسلمان کو عمداً قتل کرنا سخت گناہ اور اشد کبیرہ ہے

حدیث شریف میں ہے کہ دنیا کا ہلاک ہونا اللہ کے نزدیک ایک مسلمان کے قتل ہونے سے ہلکا ہے پھر یہ قتل اگر ایمان کی عداوت سے ہو یا قاتل اس قتل کو حلال جانتا ہو تو یہ کفر بھی ہے

فائدہ: خلود مدتِ دراز کے معنی میں بھی مستعمل ہے اور قاتل اگر صرف دنیوی عداوت سے مسلمان کو قتل کرے اور اس کے قتل کو مباح نہ جانے جب بھی اس کی جزا مدت دراز کے لئے جہنم ہے’

فائدہ : خلود کالفظ مدت طویلہ کے معنی میں ہوتاہے تو قرآن کریم میں اس کے ساتھ لفظ ابد مذکور نہیں ہوتا اور کفار کے حق میں خلود بمعنی دوام آیا ہے تو اس کے ساتھ ابد بھی ذکر فرمایا گیا ہے

شان نزول: یہ آیت مُقیّس بن خبابہ کے حق میں نازل ہوئی اس کے بھائی قبیلہ بنی نجار میں مقتول پائے گئے تھے اور قاتل معلوم نہ تھا بنی نجار نے بحکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیت ادا کردی اس کے بعد مقیس نے باغوائے شیطان ایک مسلمان کو بے خبری میں قتل کردیا اور دیت کے اونٹ لے کر مکہ کو چلتا ہوگیا اور مرتد ہوگیا یہ اسلام میں پہلا شخص ہے جو مرتد ہوا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًاۚ-تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا٘-فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌؕ-كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا(۹۴)

اے ایمان والو جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو اور جو تمہیں سلام کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں (ف۲۵۸) تم جیتی دنیا کا اسباب چاہتے ہو تو اللہ کے پاس بہتیری غنیمتیں ہیں پہلے تم بھی ایسے ہی تھے (ف۲۵۹) پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ( ف۲۶۰ )تو تم پر تحقیق کرنا لازم ہے (ف۲۶۱) بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے

(ف258)

یا جس میں اسلام کی علامت و نشانی پاؤ اس سے ہاتھ روکو اور جب تک اس کا کفر ثابت نہ ہو جائے اس پر ہاتھ نہ ڈالو

ابوداؤد وتر مذی کی حدیث میں ہے سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے حکم دیتے کہ اگرتم مسجد دیکھو یا اذان سنو تو قتل نہ کرنا

مسئلہ: اکثر فقہاء نے فرمایا کہ اگر یہودی یا نصرانی یہ کہے کہ میں مومن ہوں تو اس کو مومن نہ مانا جائے گا کیونکہ وہ اپنے عقیدہ ہی کو ایمان کہتا ہے اور اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہے جب بھی اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہ کیا جائے گا جب تک کہ وہ اپنے دین سے بیزاری کا اظہار اور اس کے باطل ہونے کا اعتراف نہ کرے اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص کسی کفر میں مبتلا ہو اس کے لئے اس کفر سے بیزاری اور اس کو کفر جاننا ضرور ہے۔

(ف259)

یعنی جب تم اسلام میں داخل ہوئے تھے تو تمہاری زبان سے کلمہ شہادت سن کر تمہارے جان و مال محفوظ کر دیئے گئے تھے اور تمہارا اظہار بے اعتبار نہ قرار دیا گیا تھا ایسا ہی اسلام میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تمہیں بھی سلوک کرنا چاہئے

شان نزول: یہ آیت مَرْدَ اس بن َنہِیْک کے حق میں نازل ہوئی جو اہل فدک میں سے تھے اور اُن کے سوااُن کی قوم کاکوئی شخص اسلام نہ لایا تھا اس قوم کو خبر ملی کہ لشکر اسلام ان کی طرف آرہا ہے تو قوم کے سب لوگ بھاگ گئے مگر مَرْدَ اس ٹھہرے رہے جب انہوں نے دور سے لشکر کو دیکھا تو بایں خیال کہ مبادا کوئی غیر مسلم جماعت ہو یہ پہاڑ کی چوٹی پر اپنی بکریاں لے کر چڑھ گئے جب لشکر آیا اور انہوں نے اللہ اکبر کے نعروں کی آوازیں سنیں تو خود بھی تکبیر پڑھتے ہوئے اتر آئے اور کہنے لگے لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ السلام علیکم مسلمانوں نے خیال کیا کہ اہل فدک تو سب کافر ہیں یہ شخص مغالطہ دینے کے لئے اظہارِ ایمان کرتا ہے بایں خیال اُسامہ بن زید نے ان کو قتل کردیا اور بکریاں لے آئے جب سیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں حاضر ہوئے تو تمام ماجرا عرض کیا حضور کو نہایت رنج ہوا اور فرمایا تم نے اس کے سامان کے سبب اس کو قتل کردیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسامہ کو حکم دیا کہ مقتول کی بکریاں اس کے اہل کو واپس کریں۔

(ف260)

کہ تم کو اسلام پر استقامت بخشی اور تمہارا مؤمن ہونا مشہور کیا۔

(ف261)

تاکہ تمہارے ہاتھ سے کوئی ایمان دار قتل نہ ہو۔

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْؕ-فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةًؕ-وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰىؕ-وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ(۹۵)

برابر نہیں وہ مسلمان کہ بے عذر جہاد سے بیٹھ رہیں اور وہ کہ راہ خدا میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے ہیں- (ف۲۶۲) اللہ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد والوں کا درجہ بیٹھنے والوں سے بڑا کیا (ف۲۶۳) اور اللہ نے سب سے بھلائی کا وعدہ فرمایا (ف۲۶۴) اور اللہ نے جہاد والوں کو (ف۲۶۵) بیٹھنے والوں پر بڑے ثواب سے فضیلت دی ہے

(ف262)

اس آیت میں جہاد کی ترغیب ہے کہ بیٹھ رہنے والے اور جہاد کرنے والے برابر نہیں ہیں مجاہدین کے لئے بڑے درجات و ثواب ہیں اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ بیماری یا پیری و ناطاقتی یا نابینائی یا ہاتھ پاؤں کے ناکارہ ہونے اور عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوں وہ فضیلت سے محروم نہ کئے جائیں گے اگر نیت صالح رکھتے ہوں

حدیث بخاری میں ہےسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک سے واپسی کے وقت فرمایا کچھ لوگ مدینہ میں رہ گئے ہیں ہم کسی گھاٹی یا آبادی میں نہیں چلتے مگر وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہیں عذر نے روک لیا ہے۔

(ف263)

جو عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوسکے اگر چہ وہ نیت کا ثواب پائیں گے لیکن جہاد کرنے والوں کو عمل کی فضیلت اس سے زیادہ حاصل ہے۔

(ف264)

جہاد کرنے والے ہوں یا عذر سے رہ جانے والے۔

(ف265)

بغیر عذر کے۔

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةًؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠(۹۶)

اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت (ف۲۶۶) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف266)

حدیث شریف میں ہے اللہ تعالی نے مجاہدین کے لئے جنت میں سو درجے مہیا فرمائے ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان اور زمین ۔