گستاخ رسول ﷺ کافر ہے

القرآن :یاایھا الذین امنوالا تقولوا راعنا وقولوانظرنا واسمعوا ط وللکفرین عذاب الیمo

ترجمہ : اے ایمان والو راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے درد ناک عذاب ہے ۔(سورہ بقرہ ،پارہ :۲،آیت نمبر ۱۰۴)

شانِ نزول :جب سر کار اعظم ﷺاپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کوکچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے ’’راعنا یا رسول اللہ ‘‘ ﷺیعنی اے اللہ کے رسول ﷺہمارے حال کی رعایت فرمائیے ،یعنی کلام اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقعہ دیجیئے ۔یہود کی لغت میں یہ کلمہ سوء ادب کے معنی رکھتا تھا انہوں نے اس نیت سے کہنا شروع کیا ۔حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ یہود کی اصطلاح سے واقف تھے آپ نے ایک روزیہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا اے دشمنان خدا تم پر اللہ کی لعنت اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سنا اس کی گردن ماردونگا ۔

القرآن :النبی اولی بالمؤمنین من انفسھم ۔

ترجمہ :یہ نبی (ﷺ)مومنوں کی جان سے زیادہ قریب ہیں ۔(سورہ احزاب ،پارہ :۲۱،آیت نمبر ۶)

اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ انسانو ں کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے اسی طرح حضور ﷺمومنوںکی جان سے زیادہ قریب ہیں اب جو مومن ہوگا اس کے رسول ﷺقریب ہوں گے اور جو مومن نہ ہوگا وہ چاہے انکار کرتا رہے اور قریب وہی ہوگا جو حیات اور حاضر و ناظر ہوگا اور اس کا انکار قرآنِ مجید کا انکار ہے ۔

ہم سرکارِ اعظم ﷺکو ہرگز اس طرح حاضر و ناظر نہیں مانتے کہ ادھر بھی ہیں ،ادھر بھی ہیں ،یہاں بھی ہیں ،وہاں بھی ہیں بلکہ اپنی قبرِ انور میں حیات ہیں اور اپنے رب کی عطا سے جب چاہیں جہاں چاہیں تشریف لے جاسکتے ہیں ۔یہ اصل اسلامی اور ایمانی عقیدہ ہے ۔