اہل علم اور اہل ذوق کی تسکین طبع کے لئے

کل اور آج کی منزل میں تین آیتیں گزریں میرا دل چاھا کہ ان کی تفسیر دیکھی جائے اور دوستوں سے بھی اس کا تذکرہ کردیا جائے…….

اللہ تعالی نے قرآن کریم میں مشرق کا تذکرہ “واحد” تثنیہ اور “جمع” کے صیغے سے کیا ہے….

آئیے! اس کی چند مثالیں دیکھتے ہیں……

اللہ تعالی نے زمین کے اعتبار، اور دنیا کی سرسری نظر سے دیکھنے کی وجہ سے صیغہ واحد کے ساتھ مشرق و مغرب میں اپنی ربوبیت کا تذکرہ کیا….

رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا…

وہی مشرق ومغرب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو اسی کو اپنا کارساز بنائیں۔…..

اور پھر سورہ رحمان میں

دونوں موسموں یعنی سردی اور گرمی کے اعتبار سے دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کے بارے میں اپنی قدرت اور ربوبیت کا تذکرہ کیا……

کیونکہ سردیوں میں سورج نکلنے کی جگہ اور ہے اور گرمیوں میں اور…..

اور بعض علماء نے کہا

کہ سورج اور چاند کے مشرق و مغرب کا تذکرہ ” تثنیہ” کے صیغہ کے ساتھ کیا….

کیونکہ جس طرف سورج کا مشرق ہے، ادھر چاند کا مغرب ھے، اور جدھر چاند کا مشرق ہے، ادھر سورج کا مغرب ہے…

اس لیے دو مشرق اور دو مغرب کہا……

رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ…

وہی دونوں مشرقوں اور دونوں مغربوں کا مالک ہے۔..!……

اور تیسری آیت کریمہ میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا.

کیونکہ سورج ہر روز اپنی جگہ بدل کر نکلتا ہے اس لئے ہر روز سورج کا مشرق نیا ہوتا ہے….

علماء نے کہا.

سال میں 365 دن ہیں، اس لئے سورج کے مشرق بھی 365 ہیں…. بعض نے کہا اس کا نصف 182 مشارق ہیں….

اور علماء کی ایک تیسری رائے یہ ہے،

چونکہ اللہ تعالی کی اس کائنات میں صرف زمین یا سورج ہی نہیں، بلکہ تمام “سیارے” ستارے “بھی اللہ تعالی کی مخلوقات میں شامل ہیں، اور زمین سے کئی گنا بڑھے بھی ہیں، اس لیے ہر ایک کی مشرق و مغرب علیحدہ علیحدہ ہے، اس لیے اللہ تعالی نے جمع کا صیغہ استعمال کیا……………

فَلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ….

سو میں مشارق اور مغارب کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بیشک ہم ضرور قادر ہیں………

آج کی یہ پوسٹ اہل علم کے ذوق کی تسکین کے لئے ہے…

اور اہل محبت کو اللہ کی قدرتوں کا نظارہ دکھانے کے لئے ہے…….

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی