امام احمد بن حنبل

نام و نسب :۔ نام ، احمد ۔ کنیت ، ابو عبد اللہ ۔ والد کا نام ، محمد ہے ۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے ۔ ابو عبد اللہ احمد بن محمد بن حنبل بن ہلالی بن اسد بن ادریس بن عبد اللہ الذہلی الشیبانی ثم المروزی ثم البغدادی۔

ولادت و تعلیم : آپ کے والد محمد بن حنبل مرو سے بغداد آ کر اقامت پذیر ہوئے اور آپ کی ولادت ماہ ربیع الاول ۲۶۴ ھ بغداد میں ہوئی۔

ابتدائی تعلیم کے بعد سب سے پہلے امام ابو یوسف کی خدمت میں حاضری دیا کرتے تھے لیکن بعد میں علم حدیث کی طرف توجہ کی اور پندرہ سال کی عمر میں احادیث کا سما ع کرنے کیلئے ۱۷۹ھ میں بغداد کے مشہور شیخ ہیثم کی خدمت میں حاضری دی۔ اسی سال امام عبد اللہ بن مبارک بغداد میں تشریف لائے ، امام احمد کو ان کا علم ہوا تو ان کی مجلس میں پہونچے ، وہاں پہونچ کر معلوم ہوا کہ وہ طرطوس جا چکے ہیں ۔ اس کے بعد وہ بغداد واپس نہیں آئے اور دو سال بعد ان کا وہیں وصال ہو گیا۔

امام ہیثم کی وفات کے بعد آپ نے بغداد کے علاوہ دوسرے شہروں کا رخ کیا ، مکہ معظمہ ، مدینہ منورہ کوفہ ، بصرہ شام ، یمن اور جزیرہ کے مشائخ و قت سے سماع حدیث کیا۔

اساتذہ: آپ نے علم حدیث مندرجہ ذیل مشاہیر وقت سے حاصل کیا۔بشر بن مفصل ، اسماعیل بن علیہ ، سفیان بن عبینہ، جرید بن عبد المجید ، یحیی بن سعید الفطان ، ابو داؤد طیالسی ، عبد اللہ بن نمیر ، عبد الرزاق علی بن عیاش حمصی ، امام شافعی ، معتمر بن سلیمان ، ہیثم ، ابراہیم بن سعد ، عبادہ بن عباد اور یحیی بن زائرہ وغیرہم۔

تلامذہ:۔آپ کا زمانہ درس وتدریس نہایت ابتلاء و آزمائش کا دور ہے مگر جبر و استبداد کی زنجیر یں میدان تدریس میں آپ کا راستہ نہ روک سکیں ،آپ کے تلامذہ اور مستفدین کی فہرست نہایت طویل ہے چند اسماء یہ ہیں ۔امام بخاری ، امام مسلم ، امام ابو داؤد ، اسود بن عامر ، شاذان ، ابن مہدی۔ساتھ ہی آپ کے اساتذہ نے بھی آپ سے سماع حدیث کیا ہے ، ان میں امام شافعی ،ابو الولید ، عبد الرزاق ،و کیع، یحیی بن آدم، یزید بن ہارون نہایت مشہور ہیں ۔

نیز اکابر محدثین میں قتیبہ بن سعید ، داؤد بن عمرو ، اور خلف بن ہشام نے بھی آپ سے سماع کیا ہے ۔ اور معاصرین میں یحیی بن معین ، علی بن مدینی ، حسین بن منصور ، زیاد بن ایوب ،ابو قدامی سرخسی، محمد بن رافع ، محمد بن یحییٰ اور احمد بن ابی حواری بھی آ پ کے تلامذہ سے ہیں ۔باقی تلامذہ میں اپ کے دو نوں صاحبزادے عبد اللہ اور صالح اور ان کے علاوہ ابو بکر اثرم، حرب کرمانی ، بقی بن مخلد ، حنبل بن اسحاق اور شاہین وغیرہم کثیر محدثین شمار ہوتے ہیں ۔

ابتلاو آزمائش:۔۲۱۲ھ ا ئمہ مسلمین اور مقتدایان قوم کیلئے انتہائی صبر آزما سال تھا ، اسی سالعباسی خلفاء میں سے ایک خلیفہ مامون رشیدنے خلق قرآن کے مکروہ عقیدہ کا اظہار کیا اور علماء معتزلہ کی معاونت سے اس عقیدہ کو پھیلاتا رہا ۔ ۲۱۷ھ میں اس نے بغداد میں اپنے نائب اسحاق بن ابراہیم معتزلی کو لکھا کہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے ، انا جعلناہ قراٰنا عربیا ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کو مجعول قرار دیا اور جو مجعول ہو وہ مخلوق ہے۔ لہذا جو شخص قدم قرآن کا عقیدہ رکھتا ہے اس کا عقیدہ قرآن مجید کی نص صریح کا انکار ہے۔ تم بغداد کے تمام علماء اور مقتدر لوگوں کو جمع کرو اور ان پر یہ عقیدہ پیش کرو جو مان لے اس کو امان دو اور جو نہ مانے اس کے جوابا ت لکھ کر مجھے بھیج دو ۔ بہت سے سر کر دہ لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہوگئے اور کتنے ہی لوگوں نے جان بچانے کی خاطر خلق قرآن کا عقیدہ قبول کرلیا ۔ امام احمد بن حنبل سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہا میں اس کے سوا اور کچھ نہیں کہتا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے ۔ قاضی اسحاق بن ا براہیم نے یہ جواب مامون رشید کو لکھ کر بھیجا ، مامون رشید نے جواب لکھا ،جو شخص عقیدہ خلق قرآن سے موافقت نہ کرے اس کو درس اور افتاء سے روک دو ۔

کچھ عرصہ بعد مامون رشید نے قاضی بغداد کو لکھا جو لوگ عقیدہ خلق قرآن سے موافقت نہ کریں ان کو قید کر کے فوج کے حوالے کر دو ۔ اگر خلق قرآن کا اقرار کر لیں تو ٹھیک ورنہ ا ن کو قتل کر دیا جائے ۔ اس دھمکی سے مرعوب ہو کر احمد بن حنبل ، محمد بن نوح اور قواریری کے سوا بغداد کے تمام علماء نے خلق قرآن کا اقرار کر لیا ۔ قاضی کے حکم سے امام احمد وغیرہ کو قید کر کے مامون کی طرف بھجوادیا گیا لیکن اس سے پہلے کہ مامون ان مردان خدا پر تلوار اٹھاتا ، سیف قضا نے خود اس کا کام تمام کر دیا ۔

امام احمد کے شاگرد احمدبن غسا ن کہتے ہیں کہ خلیفہ کے حکم پر مجھے اورامام احمد بن حنبل کو گرفتار کرکے اسکے پاس لے جایا جارہاتھا، راستہ میں امام احمد بن حنبل کو یہ خبر پہونچی کہ خلیفہ ماموں رشید نے قسم کھائی ہے کہ اگر احمد بن حنبل نے خلق قرآن کا قول نہ کیا تووہ انکو اور انکے شاگرد کومار مار کر ہلاک کردے گا ۔اس وقت امام احمد نے آسمان کی طرف سراٹھاکرکہا ۔اے اللہ آج اس فاجر کو یہاں تک جرأت ہوگئی ہے کہ یہ تیرے اولیاء کو للکار تاہے ۔اگر تیرا قرآن غیر مخلوق ہے تو تو ہم سے اس مشقت کو دور فرما ۔ابھی رات کا ایک تہائی حصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ سپاہی دوڑتے ہوئے آئے اورکہا اے ابوعبداللہ تم واقعی سچے ہو اور قرآن غیر مخلوق ہے ۔قسم بخداخلیفہ ہلاک ہوگیا۔

۲۱۸ھ میں مامون رشید ہلاک ہوااور اس کا بھائی معتصم باللہ بن ہارون رشید تخت حکومت پر قابض ہوا۔ مامون کی طرح معتصم بھی اعتزال کا حامی تھا ۔اس نے حکومت سنبھالنے کے بعد عقیدہ اعتزال کی ترویج کی۔ پہلے مختلف حیلوں سے امام احمدکو اعتزال کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتارہا ۔بالآخر ۲۲۰ھ میں اس نے امام احمد بن حنبل کو دربار خلافت میں طلب کیا ۔

یہ وہ زمانہ تھا جب امام احمد کی عمر ۵۶ سال کی ہوچکی تھی ۔شباب رخصت ہوچکا تھا اور ان کا جسم بڑھاپے کی سرحد میں داخل اورنحیف ونزار تھا لیکن اعصاب فولاد کی طرح مضبوط اورقوت ارادی چٹان سے کہیں زیادہ راسخ تھی ۔

خلیفہ کے سامنے ایک طویل مناظرہ ہوا ۔امام احمد کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ قرآن کلام اللہ ہے اوراللہ تعالیٰ کی صفت ہے اگر یہ حادث ہوتو اللہ تعالیٰ کی ذات محل حوادث بن جائے گی اور یہ محال ہے ۔خلیفہ سے امام احمد کی اس دلیل کا کوئی جواب نہ بن سکا ۔بالآخر معتزلی قاضی اور اس کے حواری معتزل علماء نے کہا کہ ہم فتوی دیتے ہیں کہ اس شخص کا خون آپ پر مباح ہے ۔آپ اس کو قتل کردیں ۔خلیفہ نے جلاد کو بلایا اوراس سے کہا کہ احمد بن حنبل کے جسم پر کوڑے مارو ۔ ایک جلاد جب کوڑے مارتے مارتے شل ہوجاتا تودوسرا جلاد آجاتا اس طرح باربارجلاد بدلتے رہے اور امام احمد بن حنبل صبر واستقامت سے کوڑے کھاتے رہے ۔

اس فتنہ میں چار علماء ثابت قدم رہے اور آپ سب کے سردار ہیں ۔ دوسرے محمد بن نوح بن میمون کہ انکا انتقال راستہ ہی میں ہوگیا تھا ۔تیسرے نعیم بن حماد خزاعی ، ان کا انتقال قیدخانہ میں ہو ا۔ ابویعقوب بویطی ،انکا وصال بھی قید خانہ میں ہوا ،چوتھے احمد بن نصر خزاعی۔

امام احمد بن حنبل کو جب کوڑے مارے جارہے تھے تواسی اثنا میں ضرب شدید کی وجہ سے آپ کا ازار بند ٹوٹ گیا ،قریب تھا کہ بے ستری ہوجاتی ،آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعاکی ، یاغیاث المستغیثین ،یاالہ العالمین ،توخوب جانتا ہے اگر میں حق پرہوں تومیری پردہ پوشی فرما ۔فوراً آپ کاپاجامہ اپنی جگہ رک گیا ۔دارالخلافت سے اسحاق بن ابراہیم معتزلی کے مکان پرلائے گئے توآپ روزہ دارتھے ۔ کمزوری بہت تھی ،لہذا کھانے کیلئے ستو وغیرہ لائے گئے لیکن آپ نے روزہ مکمل فرمایا ۔ظہر کی نماز وہیں ادافرمائی ،قاضی ا بن سماعہ نے کہا آپ نے نماز خون آلود جسم وکپڑوں میں پڑھ لی ؟ فرمایا : حضرت عمر نے بھی اسی حالت میں نماز پڑھی تھی ۔ یہ سنکر قاضی صاحب خاموش ہوگئے

فضل و کمال:۔آپکے علم وفضل ،زھدوتقوی ،اور ابتلاء وامتحان میں استقامت پر ان کے زمانہ کے اکابر ،معاصرین اور معتقدین نے بے پناہ خراج تحسین پیش کیا ہے ۔

امام ابودائود فرماتے ہیں : ۔

میں نے دوسوماہرین علم سے استفادہ کیا لیکن ان میں امام احمد کے مثل کوئی نہ تھا ۔وہکبھی عام دنیاوی کلام نہیں کرتے ،جب گفتگو کرتے توموضوع سخن کوئی علمی مسئلہ ہوتا ۔

حافظ ابوزرعہ کہتے ہیں : امام احمد علم وفن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔

قتیبہ بن سعید کہتے ہیں : اگر امام احمد بن حنبل کا زمانہ امام مالک ،سفیان ثوری اوراوزاعی کا زمانہ ہوتا علم وفضل میں ان پر مقدم ہوتے ۔اور امام احمد نہ ہوتے تو دنیا سے تقویاٹھ جاتا ۔اسحاق بن راھویہ کہتے تھے ،اگر اسلام کی خاطر امام احمد کی قربانیاں نہ ہوتیں تو آج ہمارے سینوں میں اسلام نہ ہوتا ۔

ابوعبداللہ سجستانی بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ خواب میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا ،پوچھا حضور ہم اس زمانہ میں کس کی اقتداء کریں ،فرمایا : احمد بن حنبل کی امام مزنی کہتے ہیں ،آپ کی ذات خلفائے راشدین کے اسوئہ حسنہ کا نمونہ تھی

ہلال بن معافی کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اس امت پر چار عظیم شخصیتوں کے ذریعہ احسان فرمایا : امام شافعی ،ابو عبید ،یحیی بن معین ،احمد بن حنبل ۔

آپکے استاد یحیی بن سعید قطان فرماتے تھے ۔بغداد میں جولوگ آئے سب میں مجھے احمد بن حنبل زیادہ محبوب ہیں ۔

زہدو تقوی:۔ آپکے زہدوتقوی کی متعدد مثالیں گذریں ،شان استغناء کا یہ عالم تھا کہ آپکے استاذ امام عبدالرزاق نے کچھ رقم آپکی ناداری کے زمانہ میں بھیجی تو آپ کے غیور ضمیر نے لینا گوارا نہ کی اور خودمحنت ومشقت کرکے اپنی ضرورت پوری فرمائی۔

حسن بن عبدالعزیز کوایک لاکھ دینار وراثت سے ملے ،اس نے ان میں سے تین ہزار دینارآپکی خدمت میں پیش کئے اورعرض کیا کہ یہ مال حلال ہے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں اوراپنے عیال پر خرچ کریں ،لیکن آپ نے یہ کہکر دینار واپس فرمادیئے کہ مجھے انکی ضرورت نہیں ۔

علمی اور نظری مصروفیات کے باوجود آپ عبادت میں قدم راسخ رکھتے تھے ،آپ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں کہ آپ دن اوررات میں تین سونوافل پڑھاکرتے تھے ۔آپ نوافل میں قرآن پڑھتے اورسات راتوں میں ایک قرآ ن مجید ختم فرماتے ۔

آپ کو کبھی تلاش کیاجاتا توآپ یاتو مسجد میں ملتے ،یانماز جنازہ میں ، یاکسی مریض کے یہاں عیادت میں ۔

محبت رسول سے قلب وسینہ معمور تھا ،آپ کے صاحبزادے عبداللہ بیان کرتے ہیں ، کہ آپکے پاس حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ایک موئے مبارک تھا ،اس مقدس بال کو ہونٹوں پر رکھ کر چومتے اورکبھی آنکھوں سے لگاتے ،جب کبھی بیمار ہوتے اس کو پانی میں ڈال کر اس کا غسالہ پیتے جس سے شفا حاصل ہوتی ۔

آپ مستجاب الدعوات تھے ،لوگ کثرت سے دعا کیلئے آپکی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ خوبصورتی سے ٹال بھی دیتے تھے ۔

علی بن حرارہ کا بیان ہے کہ میں اپنی اپاہج ماں کیلئے دعا کرانے حاضر ہوا ،فرمایا،ہم خود دعا کے محتاج ہیں ان سے کہنا ہمارے لئے دعا کیاکریں ،میں گھر واپس آیا تودیکھا والدہ گھر میں ٹھیک ٹھاک چل پھر رہی ہیں ۔

وصال:۔ آپ ابتلاء وآزمائش کے بعد اکیس سال تک زندہ رہے ،خلق خداکو فیض پہونچاتے رہے ،کوڑوں کی تکلیف آخر عمر تک محسوس کرتے تھے ،لیکن عبادت وریاضت میں مستقیم اور درس وتدریس میں ہمہ تن مصروف رہے ۔

۱۲؍ ربیع الاول ۲۴۱ھ بروز جمعہ آپ نے وصال فرمایا :یہ معتصم کے بیٹے واثق باللہ کا زمانہ تھا ۔ محمد بن طاہر نے اپنے دربان کے ہاتھ کفن کیلئے مختلف چیزیں بھیجیں اورکہا : یہ خلیفہ کی طرف سے سمجھو کہ اگر وہ خود یہاں ہوتا تو یہ چیزیں بھیجتا ۔

صاحبزادگان نے کہا: آپکی حیات ظاہری میں خلیفہ نے آپکی ناپسند یدہ چیزوں سے آپکو معذوررکھا تھا لہذا ہم کبھی یہ کفن نہیں لیںگے اورآپ کو ان کپڑوں میں کفن دیاگیا جو آپ کی باندی نے بن کرتیار کیاتھا ۔آپکے غسل میں دارالخلافہ کے تقریباً سوخاندان بنوہاشم کے شہزادگان تھے اورسب آپکی پیشانی کو چومتے تھے ۔

بیشمار لوگ نماز جنازہ میں حاضر ہوئے۔ کئی مرتبہ نماز جنازہ ہوئی ،لوگوں کی بھیڑ میں خلیفہ کا نائب بھی عام لوگوں کی طرح حاضررہا ۔اسکے حکم سے تعداد کا انداز ہ کیا گیا تو دس لاکھ سے بیس لاکھ تک کی روایتیں منقول ہیں ۔اس کثرت ازدحام اور مقبولیت انام سے متاثر ہوکر بیس ہزار یہود ونصاری اور مجوس نے اسلام قبول کیا ۔

عبدالوہاب وراق کہتے ہیں ۔

جاہلیت اور اسلام میں کبھی کسی کے جنازہ پر اتنے لوگ جمع نہیں ہوئے جتنے آپکے جنازہ میں تھے ۔

امام احمد بن حنبل نے جس طرح خدمت دین انجام دی اورامتحان میں صبرواستقامت سے کام لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں بیحد انعام واکرام سے نوازا ،حشیش بن ورد کہتے ہیں کہ میں خواب میں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا میں نے پوچھا ،حضور احمد بن حنبل کا کیا حال ہے ؟ فرمایا عنقریب حضرت موسی تشریف لاتے ہیں ان سے پوچھنا ۔جب حضرت موسی تشریف لائے تو میں نے پوچھا اے اللہ کے نبی! احمد بن حنبل کا کیا حال ہے ؟ فرمایا انہیں عیش وراحت اور تنگی وتکلیف میں کیا گیا لیکن ہرحال میں ان کو صدیق پایا گیا پس ان کو صدیقین کے ساتھ لاحق کردیا گیا ۔

مروزی کہتے ہیں: میں نے وصال کے بعد امام احمد بن حنبل کو خواب میں دیکھا انہوں نے سبز رنگ کے دوحلے پہنے ہوئے تھے اور پیروں میں چمکتے ہوئے سونے کی دونعلین تھیں ۔جن کے تسمے سبز زمرد کے تھے اور سر پر جواہر سے مرصع ایک تاج تھا اور وہ بڑے نازسے چل رہے تھے میں نے پوچھا اے ابو عبداللہ یہ کیسی چال ہے ؟ فرمایا یہ جنت کے خدام کی چال ہے پھر میں نے پوچھا اے اللہ کے حبیب !یہ آپ کے سرہر تاج کیسا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے بخش دیا اور مجھے اپنی جنت میں داخل کرلیا میرے سرپر تاج رکھا اور اپنا دیدار مجھ پر مباح کردیا اور فرمایا

اے احمد یہ تیرے کلام اللہ کو غیرمخلوق کہنے کا صلہ ہے ۔

تصانیف:۔ آپ نے متعدد کتابیں تصنیف فرمائیں ،ان میں مسند احمد نہایت مشہور ہے ۔آپ نے اسکو بیاض کی صورت میں جمع فرمایا تھا اور اسکی باقاعدہ ترتیب کی مہلت آپ کو نہ ملی ۔آپکے بعد آپکے صاحبزادے حضرت عبداللہ اور اس مسند کے راوی حضرت ابوبکر قطیعی نے اس میں کچھ اضافے کئے اور پھر اسکی ترتیب حضرت عبداللہ نے انجام دی ۔

امام احمد بن حنبل نے اس مسند کوساڑے سات لاکھ احادیث سے منتخب فرمایا تھا ،اب اس میں ستائیس ہزار ایک سو احادیث ہیں جنکو آٹھ سو صحابہ کرام سے روایت کیا گیا ہے ۔رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔

امام سیوطی نے فرمایا : مسند احمد کی ہرحدیث مقبول ہے ۔

اب یہ مسند الفتح الربانی کے نام سے ۱۲ مجلدات میں ترتیب فقہی پر بھی مرتب ہوگئی ہے جسکو اقسام کے تحت شیخ احمد بن عبدالرحمن ساعاتی نے پیش کیا ہے جو بطور حاشیہ فوائد علمیہ پر بھی مشتمل ہے ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)