حضرت اویس قرنی کا دانت توڑنا حقائق کے آئینے میں

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دانت توڑنا حقائق کے آئینے میں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئین کرام : عوام میں یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو پتہ چلا کہ جنگ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہو گئے ہیں تو آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے تمام دانتوں کو شہید کر دیا پھر آپ کو حلوہ بنا کر کھلایا گیا اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیئے کیلے (ایک مشہور پھل) کو پیدا فرمایا تاکہ آپ کو کھانے میں تکلیف نہ ہو ۔

یہ واقعہ کئی لوگوں کو اس طرح یاد ہے جیسے مانو انہیں پانی میں گھول کر پلا دیا گیا ہو اور شعبان کا مہینہ آتے ہی وہ اسے اگلنا شروع کر دیتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ اس واقعے کی کوئی حقیقت نہیں ہے آیئے حقائق پڑھتے ہیں :

فقیہ اعظم ہند ، خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند ، شارح بخاری ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت بالکل جھوٹ ہے کہ جب حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ سنا کہ غزوہ احد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دندان مبارک شہید ہوئے ہیں تو انھوں نے اپنا سب دانت توڑ ڈالا اور انھیں کھانے کے لیے کسی نے حلوہ پیش کیا ۔ (فتاوی شارح بخاری جلد دوم صفحہ نمبر114 دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو)

حضرت علامہ مفتی محمد یونس رضا اویسی مد ظلہ العالی لکھتے ہیں کہ یہ روایت نظر سے نہ گزری اور غالباً ایسی روایت ہی نہیں ہے اگرچہ مشہور یہی ہے ۔ (فتاوی بریلی شریف، صفحہ نمبر301، زاویہ پبلشرز، مرکزی دار الافتاء سودگران، بریلی شریف)

کچھ علمائے اہل سنت نے اس واقعے کو تحریر فرمایا ہے لیکن وہ قابل قبول نہیں ہے کیونکہ نہ تو اس کی کوئی سند ہے اور نہ کوئی معتبر مآخذ ، چنانچہ فیض ملت ، حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے والے دانت غزوہ احد میں شہید ہوئے اور جب یہ خبر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ تک پہنچی تو ایک روایت کے مطابق آپ نے اپنے سامنے والے چاروں دانت نکال دیئے اور کتب سیرت و تاریخ کی مشہور روایت میں ہے کہ یہ خبر سننے پر حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دانت اپنے آپ جھڑ گئے ۔ (فتاوی اویسیہ، جلد1، صفحہ نمبر288، صدیقی پبلشرز کراچی،چشتی)

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں جو یہ عوام میں مشہور ہے کہ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عشق رسول میں اپنے دانتوں کو شہید کر دیا ، سراسر جھوٹ اور افترا ہے اور جاہلوں کا گڑھا ہوا ہے ، اگرچہ بعض تذکرہ کی کتابوں میں اس کا ذکر ملتا ہے لیکن وہ بے دینوں کی ملاوٹ ہے، اس کا ثبوت کسی مستند اور محفوظ کتاب سے نہیں ملتا بلکہ اس کے بر خلاف "طبقات کبری” میں ہے کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! جس طرح رسول کریم کا سامنے والا دانت شریف کا کچھ حصہ مبارک شہید کیا گیا تھا اسی طرح میرے بھی اسی دانت کا ایک حصہ توڑا گیا تھا اور جیسے سر مبارک کو زخمی کیا گیا تھا میرے سر کو بھی اسی طرح زخمی کیا گیا تھا، جس طرح آپ کی پیٹھ پر کچھ پھینک کر آپ کو تکلیف پہنچائی گئی تھی اسی طرح مجھے بھی پہنچائی گئی تھی، اسی طرح میں نے بعض کتابوں میں دیکھا ہے جس کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔ (طبقات الکبری لامام شعرانی، ذکر اویس قرنی، صفحہ نمبر43، دار الکتب العلمیۃ بیروت،چشتی)

جس طرح یہ واقعہ نقلاً ثابت نہیں اسی طرح عقلاً بھی قابل تسلیم نہیں ہے

(1) نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کوئی بھی دانت مکمل طور پر شہید نہیں ہوا تھا بلکہ سامنے والے دانت شریف کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا جدا ہوا تھا جس سے نور کے موتیوں کی لڑی میں ایک عجیب حسن کا اضافہ ہوا تھا، جیسا کہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ : وشکستہ شدن دندان نہ بآں معنی کہ از بیخ افتادہ باشدود ردند انہار خنہ پیدا شدہ باشد بلکہ پارہ ازآں اشد ۔

ترجمہ : یعنی آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے دانت ٹوٹنے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ جڑ سے اکھڑ گیا ہو اور وہاں رخنہ پیدا ہو گیا ہو بلکہ ایک ٹکڑا شریف جدا ہوا تھا ۔ (اشعتہ اللمعات شرح مشکوٰۃ، جلد4، صفحہ نمبر515، کتاب الفتن، باب المبعث وبدا الوحی الفصل الثالث، زیر تحت حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ)

حکیم الامت حضرت علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے داہنی کے نیچے کی چوکڑی کے ایک دانت شریف کا ایک ٹکڑا ٹوٹا تھا، یہ دانت (مکمل) شہید نہ ہوا تھا ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد8، صفحہ نمبر105،چشتی)

خیال رہے کہ آج تک اکثر دنیا یہی سمجھتی رہی ہے کہ سامنے کے اوپر کے دانت شریف کو کچھ ہوا حالانکہ حقیقت یہی ہے جو ہم نے بیان کی؛ نیچے کے دانت شریف کا مسئلہ ہے اور یہی بات ہمارے مستند محققین علماء نے لکھی ہے ۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا کوئی دانت مکمل شہید نہیں ہوا تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ بات جوڑنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے ؟ جب بنیاد ہی ثابت نہیں تو اس پر محل کیسے تعمیر ہو سکتا ہے ؟

خیال رہے کہ حضرت علامہ مفتی فیض احمد اویسی رحمۃ اللہ علیہ نے اس واقعے پر ایک رسالہ لکھا ہے جس میں ایک غلطی تو یہ ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سامنے کے چار دانت شہید ہوئے تھے یعنی جڑ سے نکل گئے تھے لہذا اس رسالے کی تحقیق درست نہیں ہے ۔

(2) نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ کافروں کی طرف سے تھا نہ کہ آپ نے خود کیا تھا تو سوال اٹھتا ہے کہ دانت توڑنا کافروں کی سنت ہے یا نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کی ؟ اسی جنگ احد میں کافروں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے چہرہ انور کو زخمی کیا اور سر مبارک پر بھی زخم لگائے اور اسی طرح مکہ مکرمہ میں نماز کی حالت میں آپ پر اوجھڑی ڈالی گئی تو حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ سارے کام اپنے ساتھ کیوں نہ کیئے ؟ اس لیے کہ ایک تو یہ جہالت شمار ہوگا اور دوسرا خلاف شرع بھی ۔

جو لوگ اس واقعے کی تائید کرتے ہیں انہیں ہم دعوت دیتے ہیں کہ تم بھی اپنے دانتوں کے ساتھ ایسا کرو کیونکہ تمھارے نزدیک یہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی سنت ہے اور صرف حضرت اویس قرنی کی تخصیص کیوں ، جتنے بھی انبیاء علیہم السّلام ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اولیاء اللہ علیہم الرّحمہ کے ساتھ ایسے معاملات ہوئے ویسا ہی انہیں بھی اپنے ساتھ کرنا چاہیئے ۔

یہ واقعہ سب سے پہلے صرف "تذکرۃ الاولیاء” میں ملتا ہے جس کے مصنف شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ رافضیوں کے علاقے میں رہتے تھے اور ان کی کتب رافضیوں کے ظلم و زیادتی کا شکار رہی ہیں ۔ (سیدنا خیر التابعین حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب واقعہ مکذوبہ کی وضاحت پر مشتمل تحقیقی فتوی، غوثیہ کتب خانہ لاہور،چشتی)

یہ بھی جان لیجیئے کہ کئی صوفیائے کرام علیہم الرّحمہ نے اپنی کتابوں میں ایسی ایسی احادیث اور روایات بیان فرما دی ہیں جو کہ کتب احادیث و تراجم میں نہایت درجے کی چھان بین کے باوجود بھی نہیں ملتیں ، ان کی کتابوں میں کچھ روایات ایسی بھی ہوتی ہیں کہ ائمہ فن و محدثین علیہم الرّحمہ کے ہاں وہ حدیث کہلانے کے قابل بھی نہیں ہوتیں ، کچھ باتیں اور روایات ایسی بھی ہوتی ہیں جو حقائق اور صحیح روایات کے خلاف ہوتی ہیں ، اور کئی کہانیاں ایسی بھی بیان کر دی جاتی ہیں کہ اگر انھیں سچ مان لیا جائے تو کئی طرح کے سوالات کھڑے ہو جاتے ہیں ۔

صوفیائے کرام علیہم الرّحمہ کی کتب میں روایات کا حوالہ عموماً درج نہیں ہوتا ، ایسے میں ان روایات پر اعتماد کر لینے کے بجائے اہل تحقیق اس کی چھان بین کرنا اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ، مثلاً مذکورہ روایت ۔

حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی کا اپنے دانت شہید کرنے کا واقعہ جسے شیخ فرید الدین عطار رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب تذکرۃ الاولیاء میں بغیر کسی سند اور معتبر مآخذ کے درج کیا ہے ، جس سے صرف شیعہ حضرات اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ماتم پر بطور دلیل پیش کرتے ہیں حالانکہ یہ روایت ائمہ محدثین علیہم الرّحمہ کے نزدیک موضوع روایات کی لمبی فہرست میں شامل ہے اور پھر اس کے متن پر سوالات و شبہات اور تضادات و تنقیدات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔ پھر جو کیلے (مشہور پھل) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ خاص آپ کے لیئے اللہ تعالٰی نے پیدا فرمایا ، اس سے پہلے دنیا میں اس پھل کا نام و نشان نہ تھا ، بالکل غلط ہے کیونکہ تمام کتابوں میں جہاں حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی غذا کا ذکر ہے وہاں واضح طور پر لکھا ہے کہ آپ کی غذا روٹی اور کھجور تھی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ بغیر دانت کے ان کو کھانا مشکل ہے ۔

اب ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام جنت سے زمین پر تشریف لائے تو اپنے ساتھ عجوہ کھجور ، لیموں اور کیلا لائے ۔ (موسوعہ ابن ابی الدنیا، جلد نمبر 4 صفحہ نمبر346) ۔

محترم قارئین کرام : اب ہم یہ کَہہ سکتے ہیں کہ اگر دلائل کی رو سے دیکھا جائے تو اس واقعے کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے لہٰذا اس واقعے کو بیان کرنے سے احتراز لازم ہے ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.