سر کارِ اعظم ﷺپر نبوت ختم

القرآن :ماکان محمدا ابا احدمن رجالکم ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبینط وکان اللّٰہ بکل شیٔ علیماo

ترجمہ :محمد (ﷺ)تمہارے مردوں میںکسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے (یعنی خاتم النبیین )اور اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔(سورہ احزاب ،پارہ :۲۲،آیت نمبر ۴۰)

القرآن :الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ط

ترجمہ :آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ۔(سورہ مائدہ ،پارہ :۶آیت نمبر ۳کا کچھ حصہ)

ان دونوں آیتوں میں ختم نبوت کا ذکر ہے پہلی آیت میں واضح لفظ خاتم النبیّین استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی آخری نبی ہیں دوسری آیت میں دین کا مکمل ہونا بیان کیا گیا ہے اس میں یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ جب دین اسلام پر مکمل ہوگیا تو اب کوئی نیا نبی نہیں آئیگا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام قُربِ قیامت میں آئیں گے نبی بن کر نہیں بلکہ اُمّتی بن کر آئیں گے لہٰذا انکار ختم نبوت کفر ہے کیونکہ قرآن مجید سے حضور ﷺکا خاتم النبیین ہونا ثابت ہے ۔