انبیاء کرام علیہم السلام پیدائشی نبی ہوتے ہیں بقول قرآن

القرآن :واذا اخذ اللّٰہ میثاق النبین لما اتیتکم من کتب وحکمۃ ثم جاء کم رسول مصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ ط

ترجمہ :اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ۔(سورہ اٰل عمران ،پارہ :۳،آیت نمبر ۸۱)

اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ازل میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام جو حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک آنے والے تھے تمام سے سرکار اعظم ﷺکی نسبت عہد لیا ۔اسی آیت سے معلوم ہو اکہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کو نبوت دنیا میں بھیجنے کے بعد نہیں دیتا بلکہ نبی پیدائشی نبی ہوتا ہے نبوت کے ملنے اور اعلان میں بہت فرق ہے ۔

القرآن :قال انی عبداللّٰہ ط اتنی الکتب وجعلنی نبیاo

ترجمہ :بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا (نبی ) کیا ۔(سورہ مریم ،پارہ :۱۶،آیت نمبر ۳۰)

اس آیت کے تحت مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں تو آپ نے سب سے پہلے اپنے بندے ہونے کا اقرار کیا تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کا بیٹا نہ سمجھیں ۔کتاب سے انجیل مراد ہے آپ نے نبوت اور کتاب ملنے کی خبر دی یہ خبر آپنے پیدا ہوتے ہی دی ۔معلوم ہوا کہ نبی کو نبوت اللہ تعالیٰ نے ازل میں ہی عطا فرمادی تھی مگر کسی نے اعلان پیدا ہوتے ہی کیا ،کسی نے اعلان چالیس سال کی عمر میں کیا یہ سب اللہ تعالیٰ کا حکم تھا لہٰذا نبو ت ملنے میں اور اعلانِ نبوت میں بہت فرق ہے ۔