شرعی و فقہی اصطلاحات

شرعی و فقہی اصطلاحات

شریعت میں ہر قسم کے اچھے اور برے کاموں کے لئے قوانین مقرر کئے گئے ہیں اور ان کاموں کی اصطلاحات مقرر کی گئی ہیں ۔ تاکہ اس کام کی اہمیت ظاہر ہو ۔ ذیل میں ہم شرعی اصطلاحات کی تفصیل پیش کرتے ہیں ۔ جس طرح کوئی اچھا کام زیادہ اچھا ہوتاہے اسی طرح کوئی برا کام بھی زیادہ برا ہوتا ہے ۔ ہر اچھے کام کے مقابلہ میں براکام مقرر کیاگیا ہے ۔مثلاً

وہ اچھے کام جن کا کرنا ضروری ہے یا ان کے کرنے کو شریعت میں پسند کیا گیا ہے اور اس کے کرنے پر اجر و ثواب ملتا ہے ۔

مقابل

ہر اچھے کام کے مقابلہ میں جو براکام ہوتاہے اس کو اس کے سامنے درج کردیا گیا ہے

وہ برے کام جن سے بچنا ضروری ہے یا ان کے کرنے کو شریعت میں پسند نہیں کیا گیا اور ان کے کرنے پر عتاب و عذاب ہوگا۔

۱ فرض مقابل ۷ حرام

۲ واجب مقابل ۸ مکروہ تحریمی

۳ سنت مؤکدہ مقابل ۹ اساء ت

۴ سنت غیر مؤکدہ مقابل ۱۰ مکروہ تنزیہی

۵ مستحب مقابل ۱۱ خلاف اولی

۶ مباح مقابل نہیں

مندرجہ بالا گیارہ اصطلاحی باتوں کی بالترتیب تفصیل ، اس کی اہمیت ،اس کا حکم ، اس کے کرنے اور نہ کرنے پر ثواب و عذاب ، اس کے کرنے والے اور نہ کرنے والے کے لئے کیا حکم ہے وہ ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں :-

۱۔ فرض

٭ اس کا کرنا نہایت نہایت ضروری ہے ۔

٭ جو دلائل شرعیہ قطعیہ سے ثابت ہو۔

٭اس کے فرض ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے ۔

٭بلاعذر شرعی اس کو ترک کرنے والا فاسق ، مرتکب گناہ کبیرہ اور مستحق عذاب جہنم ہے ۔

٭جو ایک وقت کی بھی فرض نماز قصداً بلا عذر شرعی دیدہ و دانستہ قضا کرے وہ فاسق و مرتکب کبیرہ و مستحق جہنم ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۱۹۴)

۲۔ واجب

٭اس کا کرنا نہایت ضروری ہے ۔

٭جو دلائل ظنی شرعیہ سے ثابت ہو ۔

٭اس کا انکار کرنے والا گمراہ اور بدمذہب ہے ۔

٭بغیر کسی شرعی عذر اس کو چھوڑنے والا فاسق اور عذاب جہنم کا مستحق ہے ۔

٭کسی واجب کو قصداً ایک مرتبہ چھوڑنا گناہ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔

۳۔ سنت مؤکدہ

(اس سنت کو سنن الہدیٰ بھی کہتے ہیں)

٭جس کا کرنا ضروری ہے ۔ اس کے ادا کرنے میں بہت بڑا ثواب ہے ۔

٭جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے ہمیشہ کیا ہو البتہ کبھی ترک بھی کیا ہو ۔

٭اتفاقیہ طور پر کبھی کبھی چھوڑ دینے پر بھی اللہ و رسول کا عتاب ہوگا ۔ اور اس کو ہمیشہ ترک کرنے کی عادت ڈالنے والا مستحق عذاب جہنم ہوگا ۔

٭سنت مؤکدہ حکم میں قریب واجب ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲۷۹)

۴۔ سنتغیر مؤکدہ

(اس سنت کو سنن الزوائد بھی کہتے ہیں )

٭جس کو کرنے والا ثواب پائے گا ۔

٭جس کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے کیا ہو اور بغیر کسی عذر کے کبھی کبھی اس کو چھوڑ بھی دیا ہو ۔

٭یہ سنت نظر شرع میں ایسی مطلوب ہے کہ اس کے ترک کو ناپسند کیا گیا ہے لیکن اس کے نہ کرنے پر کسی قسم کا عتاب یا عذاب نہیں ۔

۵۔ مستحب

٭ہر وہ کام جو شریعت کی نظر میں پسندیدہ ہو اور اس کے ترک پر کسی قسم کی ناپسندیدگی بھی نہ ہو۔

٭خواہ اس کام کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے کیا ہو یا اس کی ترغیب دی ہو یا اکابر علماء امت اسلامیہ نے اسے پسند فرمایا ہو۔اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا ہو۔

٭اس کاکرنا ثواب ہے اور نہ کرنے پر عتاب و عذاب مطلقاً کچھ بھی نہیں ۔

۶۔ مباح

٭وہ کام جس کاکرنا اور چھوڑنا دونوں یکساں ہو یعنی جس کے کرنے میں نہ کوئی ثواب ہو اور چھوڑنے میںنہ کوئی عتاب و عذاب ہو۔

۷۔ حرام

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا نہایت نہایت ضروری ہے ۔

٭جس کے حرام ہونے کا ثبوت قطعی شرعی دلائل سے ثابت ہو۔

٭جس کے حرام ہونے کا انکار کرنے والا کافر ہے۔

٭جس کا ایک مرتبہ بھی قصداً کرنے والا فاسق ، مرتکب گناہ کبیرہ و مستحق عذاب جہنم ہے۔

٭جس کا چھوڑنا باعث ثواب ہے ۔

٭فعل حرام مقابل ہوتاہے فعل فرض کا ۔

۸۔ مکروہ تحریمی

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا نہایت ضروری ہے ۔

٭جس کا خلاف شریعت ہونا دلائل ظنیہ شرعیہ سے ثابت ہو ۔

٭جس کا ارتکاب گناہ کبیرہ و حرام سے کم ہے لیکن چند مرتبہ کرنے اور اس پر مداومت کرنے سے یہ فعل بھی گناہ کبیرہ میں شمار ہوگا ۔

٭اس کاکرنے والا فاسق اور مستحق عذاب ہے ۔ اس سے بچنا ثواب ہے ۔

٭فعل مکروہ تحریمی مقابل ہوتا ہے فعل واجب کا ۔

۹۔ اساء ت

٭جس کا چھوڑنا اور جس سے بچنا ضروری ہے ۔

٭جس کاکرنا برا اور جس سے بچنا ثواب ہے ۔

٭کبھی کبھار کرنے والا بھی لائق عتاب اور ہمیشہ کرنے کی عادت والا مستحق عذاب ہے ۔

٭فعل اساء ت مقابل ہوتا ہے فعل سنت مؤکدہ کا ۔

۱۰۔ مکروہ تنزیہی

٭جس کا کرنا شریعت میں پسندیدہ نہیں۔

٭جس کے کرنے پر عذاب بھی نہیں لیکن اس کی عادت ڈالنا برا ہے ۔

٭اس فعل سے بچنے میں بھی اجر و ثواب ہے ۔

٭فعل مکروہ تنزیہی مقابل ہوتا ہے فعل سنت غیر مؤکدہ کا۔

۱۱۔خلاف اولیٰ

٭اس فعل کو کہتے ہیں جس کا چھوڑنااور اس سے بچنا بہتر تھا لیکن اگر کرلیا تو مضائقہ بھی نہیں ۔

٭فعل خلاف اولیٰ مقابل ہوتا ہے فعل مستحب کا ۔

قارئین کرام سے التماس ہے کہ مندرجہ بالا اصطلاحات کو اچھی طرح ذہن نشین فرمالیں تاکہ آئندہ پیغامات میں نماز کے متعلق احکام و مسائل کو سمجھنے میں سہولت ہو ۔ علاوہ ازیں کون سا کام کرنا ضروری ہے اور کس کام سے بچنا لازمی ہے اس کی معلومات بھی حاصل ہوگی ۔

٭ سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیرمؤکدہ کا نام ہے ۔ (فتاوٰی رضویہ ، جلد ۱ ، ص ۱۷۴ اور درمختار )

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.