اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ-قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ-قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ-فَاُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ(۹۷)

وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کا ہے میں تھے کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے(ف۲۶۷) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی(ف۲۶۸)

(ف267)

شان نزول : یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہِ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ کفار کے ساتھ ہونا اور فرض ہجرت ترک کرنا اپنی جا ن پر ظلم کرنا ہے۔

(ف268)

مسئلہ : یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی شہر میں اپنے دین پر قائم نہ رہ سکتا ہو اور یہ جانے کہ دوسری جگہ جانے سے اپنے فرائضِ دینی ادا کرسکے گا اس پر ہجرت واجب ہوجاتی ہے

حدیث میں ہے جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوا اگرچہ ایک بالشت ہی کیوں نہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوئی اور اس کو حضرت ابراہیم اورسیّدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رفاقت میسر ہوگی

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ(۹۸)

مگر وہ جو دبالیےگئے مرد اور عورتیں اور بچے جنہیں نہ کوئی تدبیر بن پڑے (ف۲۶۹) نہ راستہ جانیں

(ف269)

زمینِ کفر سے نکلنے اور ہجرت کرنے کی۔

فَاُولٰٓىٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا(۹۹)

تو قریب ہے کہ اللہ ایسوں کو معاف فرمائے (ف۲۷۰) اور اللہ معاف فرمانے والا بخشنے والا ہے

(ف270)

کہ وہ کریم ہے اور کریم جو امید دلاتا ہے پوری کرتا ہے اور یقیناً معاف فرمائے گا۔

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةًؕ-وَ مَنْ یَّخْرُ جْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠(۱۰۰)

اور جو اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑ کر نکلے گا وہ زمین میں بہت جگہ اور گنجائش پائے گا اور جواپنے گھر سے نکلا(ف۲۷۱)اللہ ورسول کی طرف ہجرت کرتا پھر اسے موت نے آلیاتو اس کا ثواب اللہ کے ذمہ پر ہوگیا (ف۲۷۲) اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف271)

شان نزول : اس سے پہلی آیت جب نازل ہوئی تو جُندع بن ضَمرۃُ اللَّیْثِیْ نے اس کو سنا یہ بہت بوڑھے شخص تھے کہنے لگے کہ میں مستثنٰی لوگوں میں تو ہوں نہیں کیونکہ میرے پاس اتنا مال ہے کہ جس سے میں مدینہ طیبہ ہجرت کرکے پہنچ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم مکہ مکرمہ میں اب ایک رات نہ ٹھروں گا مجھے لے چلو چنانچہ ان کو چار پائی پر لے کے چلے مقام تنعیم میں آکر ان کا انتقال ہوگیا۔ آخر وقت انہوں نے اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور کہا یارب یہ تیرا اور یہ تیرے رسول کا میں اس پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت کی یہ خبر پا کر صحابہ کرام نے فرمایا کاش وہ مدینہ پہنچتے توان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔

(ف272)

اس کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے کیونکہ بطریق استحقاق کوئی چیز اس پر واجب نہیں اس کی شان اس سے عالی ہے

مسئلہ: جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہوجائے وہ اس طاعت کا ثواب پائے گا

مسئلہ: طلبِ علم ، جہاد ، حج ، زیارت،طاعت ، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لئے ترک وطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے اس راہ میں مرجانے والا اجر پائے گا۔