چشمِ تر چاہئے

دردِ دل چاہئے چشمِ تر چاہئے

مجھ کو آقا کی پیاری نظر چاہئے

ہے منور ضیا سے یہ سارا جہاں

میرے دل کی تمنا ہے جانِ جہاں

سَبکے دل کی حقیقت ہے اُن پر عیاں

نور کی اک کرن اب ادھر چاہئے

سرورِ دو جہاں کا ہے بے حد کرم

مجھ کو آقا دکھا تے ہو اپنا حرم

ذاتِ والا سے قائم ہے میرا بھرم

آپ کی دید کو چشمِ تر چاہئے

خود خدا نے بنایا ہے تم کو حبیب

مرضِ عصیاں سے اَبتو شفا ہو نصیب

اور اس نے بنایا ہے تم کو طبیب

سنتوں پر عمل عمر بھر چاہئے

یا نبی مجھ پہ ہو اک کرم کی نظر

کوئی حسنِ عمل تو نہیں ہے مگر

بارِ عصیاں سے اَب تو جھکی ہے کمر

مجھ کو بخشش کا زادِ سفر چاہئے

بھیک علم و عمل کی عطا کیجئے

جامِ الفت مجھے اب پلا دیجئے

اپنی سنت کا پیکر بنا دیجئے

وقتِ آخر مجھے وہ نظر چاہئے

شرفِ خدمت عطا ہو غلاموں کو اب

خلد مسکن بنے اور راضی ہو رب

جتنے عشاق ہیں سب رہیں باادب

ہر دعا میں مِری وہ اثر چاہئے

جو مجاہد فلسطین میں ہیں شہا

خاک میں ظالموں کی ملے اب جفا

آس تم پر لگا کر ہی پائیں جلا

عاشقوں کیلئے اب ظفر چاہئے

مجھ کو آقا مدینے بلاتے رہیں

اپنا مہماں ہمیشہ بناتے رہیں

شاکرِؔؔ بے نوا کو نبھاتے رہیں

آخری وقت مجھ کو یہ در چاہئے