عید الفطر کے فضائل ، فلسفہ اور احکام و مسائل

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

’’عید‘‘ کا لفظ ’’عود‘‘ سے بنا ہے،جس کامعنیٰ ’’لوٹنا‘‘اور’’خوشی‘‘کے ہیں، کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر باربار لوٹ کر آتاہے اورہرمرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتاہے، اس لئے اس کو عید کہتے ہیں ۔ نیزیہ کہ ﷲ تعالیٰ ہرسال اس دن اپنے بندوں پرانواع واقسام اورطرح طرح کے انعامات اوراحسانات لوٹاتاہے اور اس دن خوشی ومسرت کا اظہارکرنالوگوں کی عادت ہے ۔ یہ دن فرزندانِ اسلام کیلئے نہایت ہی مسرت وشادمانی کادن ہوتاہے ۔ یہ دن بچوں، بوڑھوں،جوانوں اورعورتوں سب کیلئے یکساں طورپر خوشیوں کاپیغام لاتا ہے اورہر ایک بندہ اپنے غموں، پریشانیوں اور مصائب وآلام کو یکسر بھول کرعیدکی حقیقی خوشیوں اور جشنِ طرب سے لطف اندوز ہوتا ہے ۔

عید اور خوشی کا یہ دن مسلمانوں کا عظیم اور مقدس مذہبی تہوار ہے ، جو ہر سال ما ہِ شوال المکرم کی یکم تا ریخ کو انتہا ئی عقیدت واحترام ، جو ش و جذبے اور خوشی ومسرت کے سا تھ منا یا جا تا ہے ۔ عید الفطر دراصل تشکر وامتنان ، انعا م و اکرام اور ضیا فت ِخدا وندی کا دن ہے کہ رمضان المبا رک کا تمام مہینا عبادت دریاضت ، روزوں اور نما زِ تراویح میں مشغول رہنے کے بعد شوال کی پہلی تا ریخ کو ﷲ تعالیٰ اپنے عبادت گزار اور اطا عت گزاربندوں کو انعام واکرام ،بے شماررحمتیں وبر کتیں، بے حساب اجرو ثواب اور اپنی رضا ایسی بیش بہا دو لت و نعمت عطا فر ما تا ہے ۔

اُمت محمدیہ کیلئے عید کا انعام

عید الفطر ! در حقیقت یو م الجا ئزہ اور یوم الانعام ہے ، کیوں کہ اس دن ﷲ تبا رک و تعا لیٰ اپنے بندوں کو انعام و اکرام ، اجرو ثواب اور مغفرت و بخشش کا مژدہ سنا تا ہے۔ عید الفطر کا دن گنا ہوں کی مغفرت اور نزوِ ل رحمت ِ با ری کا دن ہے۔جیسا کہ حضر ت عبد ﷲ بن عبا س رضی ﷲ عنہ سے رو ا یت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشا د فر ما یا کہ : ’’جب عید الفطر کی رات آتی ہے ، تو اس کا نا م آسما نوں پر لیلتہ الجائزہ (یعنی انعام و کرام کی رات) لیا جا تا ہے ۔ اور جب عید کی صبح ہو تی ہے ، تو ﷲ تعالیٰ فر شتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے ، وہ زمین پر اتر کر تما م گلیوں اور راستوں پر کھڑے ہوجا تے ہیں اور ایسی آواز سے(جسے جنات اور انسانوں کے علا وہ ہر مخلو ق سنتی ہے ) پکا رتے ہیں کہ اے امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم ! اس رب کر یم کی با رگاہ کی طرف چلو ، جو بہت زیا دہ عطا فر ما نے وا لا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معا ف فر ما نے وا لا ہے ۔

جب لو گ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو ﷲ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتاہے کہ اس مزدور کا کیا بدلہ ہے جو اپنا کام پورا کرچکا ہو ؟ ۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے باری تعالیٰ ! اس کابدلہ یہ ہے کہ اس کو پوری مزدوری دے دی جائے ۔ ﷲ تعالیٰ فرماتاہے کہ اے فرشتو ! میں تمھیں گواہ بناتاہوں کہ میں نے انہیں (رمضان المبارک کے روزوں اور قیام الیل کے بدلے) اپنی رضااور مغفرت عطاکردی ہے ۔

اورﷲ تعالیٰ بندوں سے ارشاد فرماتا ہے : اے میرے بندو مجھ سے مانگو ، مجھے میری عزت وجلال کی قسم آج کے دن تم اپنے اجتماعِ عیدمیں دنیاوآخرت کے بارے میں جوسوال کروگے میں تمھیں عطاکروں گا …… میری عزت وجلال کی قسم جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمھارے عیوب پرپردہ ڈالوں گا اور تمہیں مجرموں اورکافروں کے سامنے رسواہ نہیں کروں گا ، پس اب تم مغفور(بخشے ہوئے) ہوکراپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ، تم نے مجھے راضی کرلیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔ فرشتے آج عیدکے دن امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کوملنے والے اس اجروثواب کودیکھ کر بہت خوشیاں مناتے ہیں ۔ (الترغیب والترھیب/ مجمع الزوائد،چشتی)

عید کا حقیقی مفہوم

دین ِاسلام چونکہ’’خیرالادیان‘‘ہے اور امت محمدیہ’’خیرالامم‘‘ہے،اس لئے اس کا عیدمنانے کاطریقہ بھی سب سے منفردوجدا،سب سے ممتاز،سب سے نرالااورسب سے بہترین بلکہ فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔دین اسلام کے فطری ہونے کی بڑی دلیل یہ ہے کہ اسلام زندگی کے ہرموڑپر کامل انسانی اورفطری ہدایات دیتاہے۔حیات وممات، خوشی وغمی بلکہ یہ زندگی کے ہر شعبہ میں بہترین اصول دیئے ہیں ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی اصول وقوانین کے لحاظ سے عیدالفطر کی کیاحقیقت ہے اورایک دوسرے کوعیدکی مبارک بادپیش کرنے سے کیامراد ہے اور عید درحقیقت کس کیلئے ہے۔عربی کے کسی شاعر نے بہت ہی خوب صورت اور دلنشین انداز میں عید کا اسلامی مفہوم ومقصود بیان کیاہے۔

لَیْسَ الْعِیْدُلِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدُ

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ الْوَعِیْدُ

ترجمہ : ’’عیداس کی نہیں ہے کہ جس نے نئے کپڑے پہن لئے بلکہ عیدتو درحقیقت اس کی ہے جو عذابِ الٰہی سے ڈر (کرگناہوں سے بازرہ) گیا‘‘۔

یعنی عید اس شخص کی نہیں ہوتی جوصرف نئے اور جدید لباس پہن لے، خوشبو لگالے،زیب وزینت کرلے اور مختلف انواع واقسام کے کھانے وغیرہ سے لطف اندوزہوجائے بلکہ عیدتواس شخص کی ہے جس نے تقویٰ وپرہیزگاری کواختیار کیا اور اپنے نیک اعمال کی بہ دولت ﷲ تعالیٰ کی رضاکو حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔جس نے رمضان المبارک میں خوب عبادت کے ذریعے نیکیوں،رحمتوں اوربرکتوں سے اپنے نامۂ اعمال کولبریز کیاہواور حقوق ﷲ وحقوق العبادکوپورا کرکے سعادت دارین کوپالیاہو،حقیقی عیدتو درحقیقت ایسے شخص کے لئے ہے۔

عید کس طرح منانی چاہئے ؟

اس سلسلے میں خلیفہ دوم امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ کا نمونہ عمل ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔عیدکے دن لوگ کاشانۂ خلافت فاروقی پر حاضر خدمت ہوئے توکیا دیکھتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ دروازہ بند کرکے زاروقطار رورہے ہیں،لوگوں نے عرض کیا، اے امیرالمؤمنین!آج توعیدکادن ہے اورخوشی و مسرت منانے کادن ہے،آج یہ خوشی کی جگہ روناکیسا ہے؟ آپ رضی ﷲ عنہ نے اپنے آنسوپونچھتے ہوئے ارشادفرمایا کہ : ھٰذَاالْیَوْمُ الْعِیْدُ وَھَذَا الْیَومُ الْوَعِیْدُ ۔ آپ نے فرمایا کہ:’’ اے لوگو!یہ عیدکادن بھی ہے اور وعیدکادن بھی ہے۔آج جس خوش نصیب کی نمازیں،روزے اورصدقہ وخیرات مقبول ہوگئے ہیں،بلاشبہ اس کیلئے آج عید(حقیقی خوشی)کادن ہے لیکن آج جس کے نمازاور روزوں کومردود(غیر مقبول)کردیا گیاہو،اس کیلئے آج وعیدکادن ہے اورمیں تواس خوف سے ڈررہا ہوں کہ …… انالاادری اَمِن المقبولین ،اَمِن المطرودین…… یعنی مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہواہوں یاغیرمقبول کردیا گیاہوں ۔ یعنی درحقیقت عیدتوان خوش نصیب مسلمانوں کیلئے ہے،جنہوں نے اس پورے ماہِ مقدس کاصحیح معنوں میں احترام کیااوراس کے دنوں کوروزوں میں اور راتوں کو قیام وسجوداور عبادت وریاضت میں گزارا اس لئے یہ عیدان کیلئے ﷲ تعالیٰ کی طرف سے مزدوری اور انعام واکرام ملنے کادن ہے۔

عید کی حقیقی اورانمول خوشی

روایت میں آتا ہے کہ خلیفہ انقلاب وخلیفۂ ثانی امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق رضی ﷲ عنہ نے عیدکے دن اپنے فرزندارجمندکوپرانی قمیص پہنے دیکھاتوآپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ بیٹے نے کہا:’’اے ابا جان!آپ عید کے دن کیوں رو رہے ہیں‘‘۔آپ رضی ﷲ عنہ نے فرمایاکہ:’’اے پیارے بیٹے! مجھے اندیشہ ہے کہ آج عید کے دن جب لڑکے تجھے اس پرانی قمیص میں دیکھیں گے توتیرا دل ٹوٹ جائے گا۔آپ کے عظیم بیٹے نے بڑا ہی دل رُبااورپیاراجواب دیاکہ : اے اباجان!آج دل تواس کاٹوٹے گاجو رضائے الٰہی کونہ پاسکاہویااس نے اپنے والدین کی نافرمانی کی ہو۔اور مجھے امیدہے کہ آپ کی رضاکی بہ دولت ﷲ تعالیٰ بھی مجھ سے راضی ہوگا……یہ سن کرحضرت عمر فاروق رضی ﷲ عنہ نے اپنے عظیم بیٹے کو گلے سے لگا لیا اور اپنی مستجاب دعاؤں سے نوازا ۔ (مکاشفۃ القلوب،چشتی)

اسلام کا فلسفۂ عید الفطر

قرآن مجیدکامطالعہ کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ گزشتہ قومیں اورامتیں بھی عید منایاکرتی تھیں۔کسی خاص دن خوشی اورمسرت کااہتمام کرکے عیدمنائی جاتی تھی۔چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے پتہ چلتاہے کہ ان کی قوم بھی ایک خاص دن عیدوخوشی منایاکرتی تھی۔اور اس دن شہرسے باہرایک کھلے میدان میں تین دن تک میلہ لگاتے تھے،جہاں لوگ اپنے اپنے اندازمیں خوشی کااظہار کرتے تھے۔ ہرقوم کاخوشی منانے کادن اورعید منانے کا اپنااپناطریقہ ہوتاتھا،مگر حضور تاج دارِختم نبوت پیغمبر انقلاب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کی بعثت مبارکہ کے بعدعیداورخوشی منانے کا انداز اور طریقہ ہی بدل گیا ۔ اسلام سے قبل عیدوں میں لہوولعب،کھاناپینااورکھیل کودہوتاتھااور اب عید کے دن نمازِعید اور ذکرالٰہی ہوتاہے ۔ پہلے عیدوں میں غریبوں کو دور کیاجاتاتھا اور اب غریبوں کوگلے لگایا جاتا ہے ۔ پہلے عیدوں میں فضول خرچی اورخرافات ہوتی تھیں اوراب عیدکے دن صدقہ وخیرات اور فطرانہ اداکیاجاتاہے ۔

ادائے صدقہ فطر

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوشی کی وہ تقریب جس میں غریب اور نادار لوگوں کو شریک نہ کیا جائے،ﷲ تعالیٰ اور اسلام کی نظر میں وہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ اس لئے حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے کہ’’ روزوں کی عبادت اس وقت تک زمین وآسمان کے درمیان معلق(لٹکی ہوئی یعنی بارگاہ ِ خداوندی میں غیر مقبول) رہتی ہے جب تک کہ صاحب نصاب مسلمان صدقہ فطر ادا نہیں کرلیتا‘‘۔ (صحیح مسلم/ جامع ترمذی،چشتی)

اسی طرح ایک اورحدیث مبارک میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ : صدقہ فطرروزوں کو لغو اورگندی باتوں سے پاک کرنے کیلئے اور مسکینوں کی روزی کیلئے مقررکیا گیا ہے‘‘۔ (سنن ابی داؤد)

صدقہ فطرکی ادائیگی سے اہل ایمان کودوفائدے حاصل ہوتے ہیں، روزہ کی حالت میں جو خراب اور گندی باتیں زبان سے نکلیں، صدقہ فطرکے ذریعے روزہ ان سے پاک ہوجاتاہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی مددہوجاتی ہے اور وہ بھی عیدکی خوشیوں میں شریک ہوجاتے ہیں۔

صدقۂ فطرادا کرنے کرنے والے شخص کو جس قسم کی گند م یاآٹا خود استعمال کرتا ہے اس کے سوادوکلو گرام یا اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔واضح رہے کہ صدقۂ فطر کے واجب ہونے کے لئے روزہ رکھنا یا بالغ ہو ناشرط نہیں ہے۔

صدقہ فطر !نمازِ عید سے پہلے پہل ادا کردیناچاہئے کہ یہی سنت ہے۔ لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے نمازِ عیدسے پہلے ادا نہیں کر سکا تو عمر بھر اس کی ادائیگی کا وقت ہے، جب بھی ادا کرے گا، واجب ساقط اور صدقہ فطر ادا ہو جائے گالیکن مسنون اور بہتر یہ ہے کہ صدقہ فطرنمازِعید سے پہلے ہی ادا کر دینا چاہئے بلکہ ہو سکے تو رمضان المبار ک کے مقدس ومتبرک مہینے میں ادا کردے کہ اس کا اجروثواب بے حدو بے حساب ہوگااور دوسرا یہ کہ صدقہ فطر کی ادائیگی سے غریب اور نادارلوگ بھی اپنی عید کیلئے خاطرخواہ سامان کر سکیں گے۔

صدقہ فطر میں تنوع/اقسام

جس طرح قربانی کے جانوروں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے تنوع کو مشروع و مسنون فرمایا۔ اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے صدقہ فطر میں بھی تنوع کو مشروع فرمایا ہے۔چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم کے زمانہ میں ہم ایک صاع(چار کلو گرام) طعام یا ایک صاع (چارکلو) کھجور یں یا ایک صاع (چارکلو) جَو یا ایک صاع (چار کلو) کشمش صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ جب حضرت معاویہ رضی ﷲ عنہ کا زمانہ آیاتو گندم آگیا اور انہوں نے کہا میری رائے میں نصف صاع (دو کلو) گندم ان کے چار کلو کے برابر ہے ۔ (صحیح بخاری،سنن ابوداؤد،سنن ترمذی،چشتی)

محدث اعظم پاکستان مفسرقرآن علامہ غلام رسول سعیدی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر’’تبیان القرآن ‘‘میں رقمطرازہیں کہ…… ’’جس طرح قربانی کے جانوروں میں تنوع ہے اور ان کی کئی اقسام ہیں، اس طرح صدقہ فطر میں بھی تنوع ہے اوراس کی کئی اقسام ہیں اور جو لوگ (مال ودولت کے حساب سے) جس حیثیت کے ہوں وہ اسی حیثیت سے صدقہ فطر ادا کریں، مثلاً جو کروڑ پتی لوگ ہیں وہ چار کلو پنیر کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں اور جو لکھ پتی ہیں وہ چار کلو کشمش کے حساب سے اور جو ہزاروں روپے کی آمدنی والے ہیں وہ چار کلو کھجور اور سینکڑوں کی آمدنی والے دو کلو گندم کے حساب سے صدقہ فطرادا کریں۔(تفسیرتبیان القرآن: جلد7صفحہ761،مطبوعہ فریدبک اسٹال لاہور،چشتی)

نمازِ عید اور فرزندان اسلام کا عظیم اجتماع

عیدکے دن تمام صاحبان ایمان مساجداورعیدگاہوں میں حاضرہوکراپنے رب تعالیٰ کے حضور نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ نمازِعیداداکرتے ہیں اوراشک ندامت بہاکراپنے گناہوں، خطاؤں اورلغزشوں سے توبہ کرتے ہیں اوراپنے ملک و قوم کی سلامی و استحکام اوربقاء کیلئے اور ملت اسلامیہ کے اتحادواتفاق،امن وسلامتی اورخوشحالی کیلئے دعائیں مانگتے ہیں اورنمازِعیدکایہ منظرکتناایمان افروز اور روح پروَر ہوتاہے کہ آج کے عظیم دن میں خصوصاًنمازعید میں امت مسلمہ کا اخوت وبھائی چارے اورمسلم برادری کاعظیم الشان منظر پیش ہوتا ہے جس میں تمام اہل ایمان کارنگ ونسل کے فرق وامتیاز کے بغیربڑایمان افروزاورروح پروراجتماع ہوتاہے اوراس میں امیر و غریب،حاکم ومحکوم،شاہ وگداسب کے سب اکٹھے ہوکرنمازعیداداکرتے ہیں اور ایک ہی وقت میں ﷲ تعالیٰ کے حضورسجدہ ریز ہوتے ہیں اور ایک ہی وقت میں سب کی زبان پر ایک ہی کلمہ … ایک ہی تلاوت…… ایک ہی ذکر…… ایک ہی تسبیح وتحمیداور ایک ہی دعاء ہوتی ہے……امت ِ مسلمہ اجتماع عید کے موقع پر اپنے خالق ومالک کے حضور سر بہ سجود ہو کر اطاعت و بندگی کی عملی تصویرپیش کی جاتی ہے۔

اجتماعِ نمازِ عید اوراتحادواتفاق کا درس

عیدالفطر کا عظیم تہواروسیع پیمانے پراخوت وبھائی چارے اوراتحاد اتفاق کا درس دیتاہے۔اسی اتحاد وا تفاق سے مسلمانوں کے قلوب واذہان کومعمور کرنے کے لئے آج کے مبارک اور عظیم دن نمازِعید کے اجتماع کااہتمام کیاجاتاہے۔یہ اجتماع ہزاروں،لاکھوں افرادکااجتماع ہوتاہے جوصرف ایک امام کی آوازپرسب کے سب بلاچوں وچراحرکت کرتاہے۔صرف ایک امام کی آوازپرسب کے سب رکوع وسجود کرتے ہیں اوراٹھتے بیٹھتے ہیں جسمانی ہم آہنگی کے اس دل کش اور دل آویز نظارے میں بڑی لذت اوربڑاکیف وسرورحاصل ہوتاہے۔

آیئے : آج عیدکے مبارک دن کے اس عظیم اجتماع میں ہم اپنے ﷲ تعالیٰ کے حضورخلوص دل سے یہ عزمِ مصمم کریں کہ آج سے ہماراجوبھی قدم اٹھے گا ، آج سے ہماری جو بھی آوازاٹھے گی آج سے ہم جو بھی کام کریں گے،وہ اسلام کی سربلندی، امت مسلمہ کے اتحاد واتفاق اور خصوصاً اپنے ملک وملت اورقوم ومعاشرہ کی بہتری اور استحکام کیلئے کریں گے۔ اورآج سے ہم اپنے درمیان پھیلی ہوئی ہرقسم کی نفرتوں، اختلافات اورلسانی ومسلکی تعصبات کوختم کریں گے اور اتحادواتفاق ،مساوات اور بھائی چارے کو فروغ دیں گے اورہرقدم پرمحبتوں کے چراغ جلائیں گے۔

نمازِ عید الفطرکی ادائیگی

یکم شوال المکرم 2 ہجری کو عیدالفطر کے موقع پر’’نمازِ عید‘‘کاآغاز کیا گیا۔فقہ حنفی کے مطابق نمازِ عید ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر نمازِ جمعہ فرض ہے۔ نمازِعید بغیر اذان واقامت کے پڑھی جاتی ہے اوراس کاوقت چاشت سے لے کر نصف النہار شرعی تک ہے ۔ عیدالفطر کی نماز تاخیرسے پڑھنا اور نمازِ عید الاضحی جلدی سے پڑھنا مستحب ہے اور اس میں نمازِعید کے بعد دوخطبے پڑھنا بھی سنت ہیں ۔ اسی طرح فقہائے احناف کے نزدیک نمازِعیدمیں چھ زائد تکبیریں پڑھنا واجب ہیں۔ اس کے علاوہ نمازِعیدالفطر سے پہلے کچھ کھا پی لینا بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سحبہ وسلّم ہے ۔

عیدکے سنن وآداب

عیدالفطر کے دن حسبِ ذیل کام کرنا سنت اور مستحب ہیں۔

(۱) حجامت بنوانا (۲)ناخن ترشوانا

(۳) مسواک کرنا (۴)غسل کرنا

(۵) نئے یاصاف ستھرے کپڑے پہننا (۶)خوشبو لگانا

(۷ ) عیدگاہ جانے سے پہلے کوئی میٹھی چیز(طاق عدد میں)کھانا

(۸) نمازِ عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنا

(۹) صبح کی نماز مسجد میں پڑھ کر عیدگاہ چلے جانا

(۱۰) راستے میں تکبیرات تشریق پڑھنا(۱۱) عیدگاہ آتے جاتے راستہ تبدیل کرنا

(۱۲) خوشی ومسرت کا اظہارکرنا (۱۳) آپس میں عید کی مبارک باد دینا

(۱۴) بعدازنمازِعید مصافحہ ومعانقہ کرنا(یعنی گلے ملنا)،وغیرہ

عیدگاہ آتے جاتے راستہ تبدیل کرنا

مسنون یہ ہے کہ جس راستے سے نمازِعید پڑھنے کیلئے عیدگاہ جائے تو نمازِ عید پڑھ کر اس راستے کے بجائے دوسرے راستے سے گھر آئے۔چنانچہ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم عید کے دن (عیدگاہ آتے جاتے)راستہ تبدیل فرماتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری، مشکوٰۃ المصابیح،چشتی)

علماء کرام فرماتے ہیں کہ راستہ تبدیل کرنے میں چند حکمتیں یہ ہیں : دونوں راستے نمازی کی عبادت اورذکر کی گواہی دیں ۔ ان راستوں کے رہنے والے جن وانس اس کے ذکر اور عبادت کیلئے گواہ ہوں۔

دونوں راستوں کو ’’جائے عبادت‘‘کی گزر گاہ بننے کی فضیلت حاصل ہو۔

دونوں راستوں پر شعائر اسلام کا اظہار ہو۔

متعدد جگہوں پر ذکرالٰہی کا اظہار ہو۔

دونوں طرف کے رہنے والے رشتہ داروں اور دوست واحباب سے ملاقات ہوجائے۔

راستے میں اگر قبرستان ہو تو قبروں کی زیارت کاموقع بھی حاصل ہوجائے۔

دو راستے اختیار کئے جائیں تا کہ زیادہ محنت ومشقت کرنے سے زیادہ اجروثواب حاصل ہو۔

نمازِعید کیلئے جانے والے نمازیوں کے ذکر سے دونوں راستوں کے بے نمازیوں کے ضمیرپرضرب لگے اور انہیں یہ خیال آئے کہ ایک یہ لوگ ہیں جو ﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لئے جا رہے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ جنہیں سال کے بعد بھی نماز پڑھنے کا ہوش نہیں ہے۔(شرح صحیح مسلم: جلد۲صفحہ۶۶۱،مطبوعہ فریدبک اسٹال لاہور)

ماہِ شوال کے چھ (6) روزے

حضرت ابو ایوب انصاری رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ و صحبہ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص نے رمضان المبارک کے (سارے) روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال میں چھ (6) روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے‘‘۔ (صحیح مسلم،مشکوٰۃ المصابیح)

امام یحییٰ بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (متوفی676ھ ) لکھتے ہیں کہ : عید الفطر کے بعد شوال المکرم کے یہ چھ روزے پے درپے اور متواتر رکھنے چاہئیں اور اگر یہ روزے متفرق کرکے رکھے یا شوال کے آخر میں رکھے تب بھی متابعت کی فضیلت حاصل ہو جائے گی ۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ یہ چھ روزے ہمیشہ روزے رکھنے کے برابر اس لئے ہوں گے کہ ایک نیکی کااجر وثواب دس گنا ہو تا ہے۔ اور رمضان المبارک کے تیس روزے اور شوال المکرم کے چھ روزے مل کر چھتیس (36) روزے ہوئے اور دس سے ضرب دینے کے بعد حاصل ضرب تین سو ساٹھ (360) ہوا اور چونکہ سال میں قمری مہینوں کے اعتبار سے تقریباً تین سو ساٹھ (360) دن ہوتے ہیں ، اس لئے جو شخص رمضان المبارک کے سارے روزے رکھنے کے بعد شوال المکرم کے چھ روزے بھی رکھتا ہے تو اس کو تین سو ساٹھ روزوں کا اجروثواب ملے گا ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)