أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ يُّنَجِّيۡكُمۡ مِّنۡ ظُلُمٰتِ الۡبَرِّ وَالۡبَحۡرِ تَدۡعُوۡنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفۡيَةً ۚ لَئِنۡ اَنۡجٰٮنَا مِنۡ هٰذِهٖ لَـنَكُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے تمہیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس (مصیبت) سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے تمہیں خشکی اور سمندروں کی تاریکیوں سے کون نجات دیتا ہے جس کو تم عاجزی سے اور چپکے چپکے پکارتے ہو کہ اگر وہ ہمیں اس (مصیبت) سے بچا لے تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوجائیں گے۔ آپ کہیے کہ اللہ ہی تم کو اس (مصیبت) سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر (بھی) تم شرک کرتے ہو۔ (الانعام : ٦٤۔ ٦٣) 

مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ کو بھول جانے پر ملامت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے الوہیت پر بعض دلائل بیان فرمائے تھے کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور اس کی قدرت ہر چیز کو شامل ہے اور وہ تمام مخلوق پر غالب ہے اور ان کے اعمال فرشتوں سے حفاظت کراتا ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور قسم کی دلیل بیان فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کمال اور اس کی رحمت ‘ اس کے فضل اور اس کے احسان پر دلالت کرتی ہے۔ 

اس آیت میں خشکی کی تاریکیوں کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس سے مراد حسی تاریکی بھی ہے اور معنوی تاریکی بھی۔ حسی تاریکی ‘ رات کا اندھیرا ‘ گہرے بادلوں کا اندھیرا ‘ بارش اور آندھیوں کا اندھیرا ہے ‘ اور سمندروں کی حسی تاریکی رات کا اندھیرا ‘ بادلوں کا اندھیرا اور موجوں کے تلاطم کا اندھیرا ہے اور معنوی تاریکی ‘ ان اندھیروں کی وجہ سے خوف شدید ‘ نشانیوں کے نہ ملنے کی وجہ سے منزل کی ہدایت نہ پانے کا خوف اور دشمن کے اچانک ٹوٹ پڑنے کا خوف ہے۔ 

اس سے مقصود یہ ہے کہ جب اس قسم کے اسباب مجتمع ہوجائیں جن سے بہت گھبراہٹ اور شدید خوف لاحق ہوتا ہے اور انسان کو نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور وہ ہر طرف سے ناامید ہوجاتا ہے ‘ تو اس وقت وہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اور اس وقت وہ زبان اور دل دونوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت سلیمہ کا یہی تقاضا ہے کہ اس حال میں صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے اور اسی کے فضل و کرم پر اعتماد کیا جائے اور اسی کو ماوی وملجا اور جائے پناہ قرار دیا جائے۔ اور جب اس حال میں وہی فریاد رس اور دستگیر ہے تو ہرحال میں صرف اسی کو پکارنا چاہیے۔ اسی سے مدد طلب کرنی چاہیے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے ‘ لیکن انسان بڑا ناشکرا ہے ‘ جب وہ مشکلات کے بھنور سے نکل جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اس کو مادی اسباب کی وجہ سے یہ نجات ملی ہے ‘ اور پھر وہ اخلاص اور رجوع الی اللہ کو ترک کردیتا ‘ اور اپنی خواہشات کے تراشیدہ بتوں کی پرستش کرنے لگتا ہے۔ 

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ اللہ سے دعا کرتا ہے اور عاجزی سے گڑگڑاتا ہے اور اس کی طرف اخلاص سے متوجہ ہوتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ آئندہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کا مطیع ‘ فرمانبردار اور شکر گزار بن کر رہے گا ‘ لیکن جیسے ہی وہ امن اور سلامتی کو پالیتا ہے۔ وہ پھر اپنی سابقہ روش پر لوٹ جاتا ہے۔ 

بہ ظاہر اس آیت میں مشرکین کو زجر وتوبیخ کی گئی ہے اور ان کے طریقہ کار کی مذمت کی گئی ہے لیکن یہ صورت حال ان مسلمانوں پر بھی منطبق ہوتی ہے جو عام طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد سے غافل رہتے ہیں لیکن جب ان پر اچانک کوئی آفت آ ٹوٹتی ہے اور انہیں اس سے نجات کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تو بےاختیار اللہ کو یاد کرتے ہیں اور گڑ گڑا کر اس سے دعا کرتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان سے اس مصیبت کو دور کردیتا ہے ‘ تو پھر وہ خدا کو بھول جاتے ہیں اور اپنے عیش وطرب اور لہو ولعب میں مست اور بےخود ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے بعض آیتیں یہ ہیں : 

(آیت) ” واذا مسکم الضر فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ فلما نجکم الی البر اعرضتم وکان الانسان کفورا “۔ (بنی اسرائیل : ٦٧) 

ترجمہ : اور جب تمہیں سمندر میں کوئی آفت پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے تھے وہ سب گم ہوجاتے ہیں پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو تم (اس سے) منہ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ 

(آیت) ” واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ ثم اذا خولہ نعمۃ منہ نسی ماکان یدعوا الیہ من قبل وجعل للہ اندادا لیضل عن سبیلہ “۔ (الزمر : ٨)

ترجمہ : اور جب انسان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے ‘ اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے ‘ پھر جب اللہ اپنی طرف سے اسے کوئی نعمت عطا فرما دے تو وہ اس (مصیبت) کو بھول جاتا ہے جس کے لیے اس سے پہلے وہ اللہ کو پکارتا تھا ‘ اور اللہ کے لیے شریک قرار دیتا ہے ‘ تاکہ اوروں کو بھی اس کی راہ سے بہکا دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 63