أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هُوَ الۡقَادِرُ عَلٰٓى اَنۡ يَّبۡعَثَ عَلَيۡكُمۡ عَذَابًا مِّنۡ فَوۡقِكُمۡ اَوۡ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِكُمۡ اَوۡ يَلۡبِسَكُمۡ شِيَـعًا وَّيُذِيۡقَ بَعۡضَكُمۡ بَاۡسَ بَعۡضٍ‌ؕ اُنْظُرۡ كَيۡفَ نُصَرِّفُ الۡاٰيٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَفۡقَهُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تمہارے بعضوں کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھیے ہم کس طرح بار بار دلیلوں کو بیان کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تمہارے بعضوں کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ دیکھیے ہم کس طرح بار بار دلیلوں کو بیان کر رہے ہیں تاکہ یہ سمجھ سکیں۔ (الانعام : ٦٥) 

اللہ کی طرف سے دیئے جانے والے عذاب کی اقسام :

اس سے پہلے اللہ سبحانہ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ مشرکین وغیرہ جب مصائب میں اخلاص کے ساتھ اس کو پکارتے ہیں تو وہ ان کو ان مصائب اور آفات سے نجات دے دیتا ہے اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے تم پر عذاب نازل کرنے پر قادر ہے ‘ تاکہ مشرکین عبرت اور نصیحت حاصل کریں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور توحید پر ایک نوع کی دلیل ہے ‘ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد ہے برے اور بدکار نوکر اور خدام۔ مجاہد نے کہا اس سے مراد ہے زلزلہ ‘ اور زمین میں دھنسنے کا عذاب۔ 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے اور تمہارے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ مجاہد نے کہا اس امت کے جو لوگ ایمان لے آئے ان کا عذاب ایک دوسرے کو قتل کرنا ہے اور جنہوں نے تکذیب کی ان کا عذاب کڑک اور زلزلہ ہے۔ 

اوپر سے عذاب نازل ہونے کی مثال یہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفانی بارشیں ہوئیں ‘ جیسے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر پتھر برسے یا جیسے ابرہہ کے ہاتھیوں پر ابابیلوں نے کنکریاں برسائیں اور جو عذاب پاؤں کے نیچے سے ظاہر ہوا اس کی مثال زلزلے ہیں ‘ اور جیسے قارون کو زمین میں دھنسا دیا گیا۔ یا بارش اور فصلوں کی پیداوار روک کر قحط کا عذاب نازل کیا گیا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں تیرے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” او من تحت ارجلکم “ تو آپ نے فرمایا میں تیرے چہرے کی پناہ میں آتا ہوں اور جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض “۔ تو رسول اللہ نے فرمایا یہ زیادہ سہل اور زیادہ آسان ہے۔ 

(صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٢٨‘ السنن الکبری اللنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٥) 

امت کے اختلاف اور لڑائیوں سے نجات کی دعا سے اللہ تعالیٰ کا آپ کو منع فرمانا : 

اس آیت میں فرمایا ہے یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کردے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ رنگ ونسل اور زبان اور فقہی واعتقادی نظریات میں اختلاف کی وجہ سے یہ امت مختلف فرقوں میں بٹ جائے گی۔ نیز فرمایا اور تمہارے بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھا دے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ان اختلافات کی وجہ سے یہ امت باہم جدال اور قتال کرے گی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی کہ آپ کی امت کو اللہ ان تمام قسم کے عذابوں سے محفوظ رکھے۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر اور نیچے سے دیئے جانے والے عذابوں سے حفاظت کے متعلق آپ کی دعا قبول کرلی اور امت کے آپس میں تفرقہ اور لڑائیوں سے حفاظت کی دعا کرنے سے آپ کو منع کردیا جیسا کہ حسب ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین کو میرے لیے لپیٹ دیا ‘ سو میں نے ان کے تمام مشارق اور مغارب کو دیکھ لیا ‘ اور یقینا جتنی زمین میرے لیے لپیٹی گئی ہے میری امت کا ملک وہاں تک پہنچے گا ‘ اور مجھے سرخ اور سفید (سونے اور چاندی کے) دو خزانے دیئے گئے ہیں اور میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے لیے یہ سوال کیا کہ وہ ان کو عام قحط سے نہ ہلاک کرے ‘ اور یہ کہ ان کے اوپر ان کا ایسا مخالف دشمن مسلط نہ کرے جو ان کو بالکل ختم کر دے۔ تب میرے رب نے فرمایا اے محمد ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) جب میں کوئی تقدیر بنا دیتا ہوں تو وہ مسترد نہیں ہوتی اور میں نے آپ کی امت کے لیے یہ کردیا ہے کہ میں ان کو قحط عام سے ہلاک نہیں کروں گا ‘ اور یہ کہ میں ان پر ان کا مخالف ایسا دشمن مسلط نہیں کروں گا جو ان کو بالکل ختم کر دے ‘ خواہ وہ تمام روئے زمین سے ان کے اوپر چڑھائی کرے ‘ حتی کہ آپ کی امت کے بعض افراد بعض کو ہلاک کریں گے اور بعض بعض کو قید کریں گے۔ 

(صحیح مسلم ’ فتن ‘ ١٩ (٢٨٨٩) ٧١٢٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٥٢‘ سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٨٢‘ سنن النسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٣٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٣٦‘ سنن ابن ماجہ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٥٢‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٢٢‘ مسند احمد ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢١١٠٩‘ جامع البیان ‘ جز ٧‘ ص ٢٩١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت خباب بن ارت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ بہت لمبی نماز پڑھی ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے ایسی نماز پڑھی ہے جو آپ عام طور پر نہیں پڑھتے۔ آپ نے فرمایا ہاں ! اللہ سے رغبت اور اس سے خوف کی نماز تھی ‘ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا ‘ اس نے مجھے دو چیزیں عطا کردیں ‘ اور ایک سے منع کردیا۔ میں نے اللہ سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط میں ہلاک نہ کرنا تو اللہ نے مجھے یہ عطا کردیا ‘ اور میں نے سوال کیا کہ میری امت پر ان کے مخالف کو مسلط نہ کرنا تو یہ مجھے عطا کردیا اور میں نے سوال کیا کہ میری امت کے بعض ‘ بعض سے جنگ نہ کریں تو مجھے اس سے منع فرما دیا۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن الترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢١٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حسن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے تین چیزیں دی گئیں اور ایک چیز سے منع کردیا گیا ‘ میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت پر ان کا مخالف دشمن نہ مسلط کیا جائے جو ان کو بالکل ختم کر دے اور ان پر قحط نہ مسلط کیا جائے اور وہ گمراہی پر متفق نہ ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ عطا کردیا اور میں نے یہ سوال کیا کہ وہ متفرق نہ ہوں اور بعض ‘ بعض سے لڑائی نہ کریں تو مجھے اس دعا سے روک دیا گیا۔ 

حسن بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ویذیق بعضکم باس بعض “۔ (الخ) (الانعام : ٦٥) تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کرکے اپنے رب سے یہ سوال کیا کہ وہ آپ کی امت پر اوپر سے عذاب نہ بھیجے اور نہ نیچے سے عذاب بھیجے اور نہ ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرے اور نہ بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھائے۔ جیسا کہ بنو اسرائیل کو چکھایا تھا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کی طرف نازل ہوئے اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اپنے رب سے چار چیزوں کا سوال کیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو چیزیں عطا فرما دی ہیں اور دو چیزوں کے سوال سے منع فرما دیا ہے۔ آپ کی امت پر نہ اوپر سے عذاب آئے گا اور نہ ان کے پیروں کے نیچے سے ایسا عذاب آئے گا جو ان کو جڑ سے اکھاڑ دے ‘ کیونکہ عذاب کی یہ دونوں قسمیں ہر اس امت کے لیے تھیں جس نے اپنے نبی کی تکذیب کی ہو اور اپنے رب کی کتاب کو مسترد کردیا ہو ‘ لیکن وہ ان کو مختلف گروہوں میں تقسیم فرمائے گا اور ان کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی کا مزہ چکھائے گا اور ان دو قسموں کے عذاب ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو کتاب کا اقرار کرتے ہیں اور انبیاء (علیہم السلام) کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی زندگی میں آپ کی امت کو اس قسم کے فتنوں کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ (جامع البیان ‘ جز ٧ ص ٢٩٣۔ ٢٩٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

ان تمام احادیث اور روایات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس دعا سے منع فرما دیا ‘ یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول نہیں کی۔ ہرچند کہ اللہ تعالیٰ کسی کی دعا قبول کرنے پر مجبور نہیں ہے ‘ لیکن اس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے احباء کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ وہ ان کا سوال رد نہیں فرماتا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے بڑھ کر محبوب ہیں اور سب سے زیادہ مستجاب ہیں۔ اسی لیے جو چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی دعا مانگنے سے منع فرما دیا ‘ تاکہ آپ کی دعا کا مسترد کرنا لازم نہ آئے۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شام کے وقت اور صبح کو ان کلمات سے دعا مانگنے کو ترک نہیں کرتے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میں تجھ سے اپنے دین اور اپنی دنیا میں اور اپنے اہل اور اپنے مال میں ‘ عفو اور عافیت کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ میرے عیوب پر پردہ رکھ اور جن چیزوں سے مجھے خوف ہے ‘ ان سے مامون رکھ۔ اے اللہ ! مجھے آگے اور پیچھے سے ‘ دائیں اور بائیں سے ‘ اوپر سے اور نیچے سے حفاظت میں رکھ اور میں نیچے کی مصیبت (دھنسا دینے) سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (سنن ابن ماجہ ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٨٧١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ یہ ہر قسم کے عذاب سے پناہ کے لیے بہت جامع دعا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اظہار عبودیت ‘ امتثال امر اور ہماری تعلیم کے لیے صبح وشام یہ دعا مانگتے تھے کہ جب آپ اتنے عظیم الشان رسول اور اللہ کے محبوب ہو کر اس قدر یہ دعا کرتے ہیں تو ہم جو دعاؤں کے ویسے ہی زیادہ محتاج ہیں ‘ ہمیں کس قدر یہ دعا کرنی چاہیے۔ 

فقہ کا لغوی اور اصطلاحی معنی : 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھئے ہم کس طرح بار بار دلیلوں کو بیان کرتے ہیں ‘ تاکہ یہ تفقہ کریں (سمجھ سکیں) 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

حاضر علم سے غائب علم تک رسائی حاصل کرنے کو فقہ کہتے ہیں اور اصطلاح میں احکام شرعیہ کے علم کو فقہ کہتے ہیں۔ ( المفردات ص ٣٨٤‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علماء شافعیہ نے فقہ کی یہ تعریف کی ہے احکام شرعیہ عملیہ کا علم جو دلائل تفصیلیہ سے حاصل ہو ‘ اور حکم شرعی کی تعریف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خطاب جو مکلفین کے افعال سے متعلق ہو ‘ اور احکام شرعیہ یہ ہیں۔ فرض ‘ واجب ‘ سنت موکدہ ‘ سنت غیر موکدہ ‘ مستحب ‘ مباح ‘ حرام ‘ مکروہ تحریمی ‘ اساء ت ‘ مکروہ تنزیہی ‘ خلاف اولی ‘ امام ابوحنیفہ (رح) سے فقہ کی یہ تعریف منقول ہے۔ 

نفس کا یہ پہچاننا کہ کیا چیز اس کے لیے ضرر کا باعث ہے اور کیا چیز اس کے لیے نفع کا باعث ہے۔ 

دلائل اجمالیہ یہ ہیں۔ مثلا امر وجوب کے لیے ہے اور نہی تحریم کے لیے ہے ‘ اور دلائل تفصیلیہ یہ ہیں مثلا (آیت) ” اقیموا الصلوۃ “ اور (آیت) ’ لا تقربوا الزنا “۔ اور دلائل تفصیلیہ سے احکام شرعیہ کے حصول کی مثال یہ ہے۔ نماز کا امر کیا گیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” اقیموالصلوۃ “ اور جس چیز کا امر کیا گیا ہے وہ واجب ہے ‘ کیونکہ امر وجوب کے لیے ہے ‘ لہذا نماز واجب ہے۔ دوسری مثال یہ ہے زنا سے نہی کی گئی ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” لا تقربوالزنا “ اور جس چیز سے نہی کی جائے وہ حرام ہے ‘ کیونکہ نہی تحریم کے لیے ہے۔ لہذا زنا حرام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 6 الأنعام آیت نمبر 65