امام بخاری

نام ونسب :۔ نام ،محمد ۔ کنیت ،ابوعبداللہ ۔والد کا نام ۔اسمعیل ْلقب ،امیرالمومنین فی الحدیث اورامام بخاری ہے ، سلسلۂ نسب یوں ہے ۔ابو عبداللہ محمد بن اسمعیل بن ابراہیم بن مغیرہ جعفی ۔آپکے جدامجد مغیرہ بن بروزبہ جعفی مجوسی تھے ۔ حاکم بخارا یمان جعفی کے ہاتھ پرمشرف باسلام ہوئے ،اسی نسبت سے جعفی کہلاتے ، امام بخاری کو بھی جعفی اسی وجہ سے کہاجاتا ہے ۔

ولادت وتعلیم :۔ولادت ۱۳؍ شوال ۱۹۴ھ میں ماوراء النھر کے مشہور شہر بخارا میں ہوئی ۔

ایام طفولیت میں والد کا انتقال ہوگیا ،والدہ ماجدہ نے پرورش کی ۔آپ بچپن ہی میں نابینا ہوگئے تھے ۔اطباء ومعالجین کی کوششوں کے باوجود آپ کی بینائی واپس نہ آسکی ۔

آپکی والدہ ماجدہ نہایت عابدہ زاہدہ تھیں ،اور روکر رات کو دعائیں کرتیں آخر کار آپکے نالہائے شب کا ثمرہ ظاہر ہوا ۔ایک رات خواب میں دیکھا کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہالصلوۃ التسلیم تشریف لائے اور فرمایا ،بشارت ہو کہ تمہارے فرزند کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بینائی عطا کی ۔صبح کو بیدار ہوئے تو بینا تھے ۔

ٍ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے بخارا کے درس حدیث میں داخلہ لیا ،انتہائی لگن اور محنت سے جلدہی اپنے ساتھیوں میں امتیازی مقام حاصل کرلیا اور اساتذہ کی توجہ کا مرکز بن گئے ۔

حج وزیارت :۔اٹھارہ سال کی عمر میں برادراکبر احمد بن اسمعیل اور والدہ ماجدہ کے ساتھ سفرحرمین کیلئے روانہ ہوئے ۔حج وزیارت سے فارغ ہوکر آپ وہیں ٹھر گئے اور حصول علم حدیث شب وروز کا مشغلہ تھا ۔اسی دوران آپ نے قضایا الصحابۃ والتابعین کے نام سے ایک کتابلکھی ۔

اسی زمانہ میں اسکے بعد چاندنی راتوں میں روضۂ انور کے مواجھہ اقدس میں بیٹھ کر تاریخ کبیر تصنیف کی ۔آپکی اس تصنیف کی متعدد نقلیں وہاں کے حضرات نے لیں ،یہ زمانہآپ کی نوجوانی کاتھا ۔

قوت حافظہ ۔امام بخاری کو اللہ رب العزت نے عظیم قوت حافظہ سے سرفراز فرمایا تھا ۔ آپکےساتھی حاشد بن اسمعیل کہتے ہیں : آپ ہمارے ساتھ بچپن میں حدیث کی سماعت کیلئے مشائخ بصرہ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ،سب لوگ احادیث سنکر لکھتے لیکن آپ صرف سماعت کرتے ۔سولہ دن کے بعد ہم نے ان سے کہا : آپ بلاوجہ وقت ضائع کررہے ہیں کہ سب طلبہ کے برخلاف آپ سماعت پر تکیہ کرلیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اچھا آپ سب لوگ اپنے نوشتےلائو اور مجھ سے سنکر مقابلہ کرو ۔

ہم نے ایساکیا، سنکر ہماری حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ ۱۶؍ایام میں حاصل شدہ پندرہ ہزار احادیث آپ نے فرفر سنادیں ،گویا معلوم ہوتاتھا کہ یہ سب روایات آپ نے ہی ہمیں املا کرائی تھیں ۔

تعلیم کیلئے اسفار ۔ امام بخاری کے اساتذہ کی تعداد کثیر ہے ،آپ نے شہر درشہر اور قریہ قریہسفر کرکے ائمہ کرام سے احادیث سماعت کیں ۔خود فرماتے ہیں ۔

میں نے طلب علم میں مصر وشام کا دومرتبہ دورہ کیا ۔چارمرتبہ بصرہ گیا ،چھ سال حجازمقدس میں رہا ، اور کوفہ وبغداد کا شمار نہیں کہ کتنی مرتبہ سفر کیا ۔

علم وفضل ۔ آپ کو اللہ رب العزت نے قوت حافظہ کے ساتھ جودت ذہن اور نکتہ رس فکر سےبھی نوازاتھا ۔معاصرین نے بارہا آپ کا امتحان لیا لیکن ہرمرتبہ آپ کا میاب وفائزالمرام رہے۔ روایتوں کے طرق پر آپ کو خصوصی طور سے ملکہ تھا ۔

بغداد شریف میں سواحادیث کی سندوں میں الٹ پھیر کی گئی لیکن آپ نے مجمع عام میں انکی تصحیح کرکے سب سے خراج تحسین حاصل کیا ۔سمرقند میں بھی چارسو محدثین نے آپ کو آزمانا چاہا لیکن آپ نے تمام سندوں کے برمحل جواب عنایت فرمائے ۔

علل حدیث کو فنون حدیث میں نہایت اہمیت حاصل ہے اور بہت مشکل فن سمجھا جاتا ہے حتی کہ عبدالرحمن مہدی کا کہنا ہے کہ یہ علم بغیر الہام حاصل نہیں ہوتا ۔لیکن آپ کو اس پر ایسا عبورحاصل تھا کہ شاید وباید ۔

حافظ احمد بن حمدون کہتے ہیں ،امام ذہلی نے اسماء وعلل کے بارے میں جب ایک موقع پر سوالات کئے اور آپ نے جواب دینا شروع کئے توایسا محسوس ہورہاتھا کہ آپکے منہ سے جواب نہیں بلکہ کمان سے تیر نکل رہا ہو ۔

شمائل وخصائل ۔ امام بخاری کے والد نہایت دولت مند اور امیر کبیر شخص تھے ،وراثت میں کافی مال ملاتھا لیکن کبھی آپ نے خود تجارت نہیں کی بلکہ ہمیشہ بیع مضاربت پر رقم دیتے تھے ۔

اس مال و متاع اور تمول کے باجود آپ نے ہمیشہ سادہ زندگی گذاری اور کفایت شعاری وجفاکشی اختیار کی اور علمی انہماک ہی پوری حیات آ پ کا مشغلہ رہا ۔سخاوت وفیاضی آپ کا عام شیوہ تھا ۔ عیش وعشرت سے ہمیشہ کوسوں دوررہے ۔عبادت وریاضت اور شب بیداری کرتے اور کثرت سے نوافل پڑھتے ۔

فقہی مسلک۔امام بخاری کی تصانیف میں اس بات کی صراحت تو نہیں کہ آپ کا فقہی مسلک کیا تھا ، البتہ امام تاج الدین سبکی ،امام قسطلانی اور آخر میں نواب صدیق حسن خاں بھوپالی نے آپ کو ائمہ شافعیہ میں شمار کیا ہے ۔ لیکن یہ بات گویا طے شدہ ہے کہ آپ محض مقلد نہیں تھے بلکہ مجتہد فی المسائل تھے ۔آپ کی مثال شوافع میں ایسی ہی ہے جیسے امام ابوجعفر طحاوی کی احناف میں ۔

امام بخاری کی مدح وثناء تلامذہ ،معاصرین حتی کہ اساتذہ نے بھی کی ہے جوآپکے علموفضل کا بین ثبوت ہیں ۔

آپ نے پوری عمر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کی تلاش میں گذاری ،اگرچہ آپ کو کسی جگہ سکون سے بیٹھنے اور کام کرنے کا موقع نہیں ملا ، لیکن پھر بھی آپ نے تقریباً دودرجن کتابیں تصنیف فرمائیں ،ان میں صحیح بخاری کو شہرت دوام حاصل ہے اور آج جسکو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

وصال :۔یکم شوال ۲۵۶ھ کو باسٹھ سال کی عمر شریف میں آپ کا وصال سمرقندکے قریب خرتنگ نامی بستی میں ہوا ۔آپ کی قبر انور سے ایک زمانہ تک مشک کی خوشبو آتی تھی اور دور درازسے لوگ آکر بطور تبرک لے جاتے تھے ۔

صحیح بخاری

امام بخاری نے اس کتاب کا نام ’’ الجامع الصحیح المسند المختصر من امور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم وسنتہ وایامہ ‘‘ رکھا تھا ،اور اب یہ بخاری شریف کے نام سے مشہور ومعروف ہے۔

صحیح بخاری کا اصل موضوع احادیث مرفوعہ مسندہ ہیں اور انہیں احادیث کی صحت کا آپ نے التزام کیا ہے ۔انکے علاوہ جوتعلیقات ،متا بعات ،شواہد ،آثار صحابہ ،اقوال تابعین اور ائمہ فتاوی کے احکام ذکر کئے ہیں وہ سب بالتبع ہیں اور اس ضمن میں جواحادیث ذکر کی ہیں وہ امام بخاری کے موضوع سے خارج ہیں اورنہ ہی انکی صحت کا التزام کیا گیا ہے ۔

امام بخاری نے اپنی صحیح میں حدیث وارد کرنے کی یہ شرط مقرر کی ہے کہ انکے شیخ سے لیکر صحابی تک تمام راوی ثقہ اور متصل ہوں ۔

صحیح بخاری کی تعداد مرویات میں علماء کا اختلاف ہے ۔حافظ ابن صلاح کی تحقیق یہ ہے کہ کل تعداد (۷۲۷۵) ہے ،اور حذف مکررات کے بعد یہ تعداد (۴۰۰۰) ہے ۔

حافظ ابن حجر عسقلانی کی تحقیق کے مطابق کل تعداد (۹۰۸۲) ہے اور حذف مکررات کے بعد احادیث مرفوعہ کی تعداد دوہزار چھ سو تئیس(۲۶۲۳) رہ جاتی ہے ۔(البدایۃ والنہایہ۔ تذکرۃ المحدثین)