تقریظ جلیل

از: حضرت علامہ مفتی محمد زبیر برکاتی مصباحی

خطیب و امام مسجد غوثیہ ضیاء القرآن، غفور خان اسٹیٹ، کرلا، ممبئی۔

عالمی سطح پر انسانوں کے کربناک حالات کو دیکھ کر ایک باشعور ، دردمند انسان خون کے آنسو رونے لگتا ہے ۔ ظاہری اسباب ووسائل اور دولت کی فراوانی تو ہے مگر قلبی وروحانی سکون تو یکسر ختم ہوچکا ہے ۔ مغربی ممالک سائنس اور ٹیکنا لوجی میں بڑی ترقیاں توکرچکے ہیں مگر وہاں کے اکثر وبیشتر باشندے سخت بے چینی و بے اطمینانی کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اکثر لوگوں کا تو یہ حال ہے کہ قلبی سکون نہ میسر آنے کے سبب خودکشی کرنے پر مجبور ہیں اور خود کشی کے لئے نئے نئے انداز اختیار کئے جارہے ہیں ۔اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اہل مغرب مادی ترقیات کی انتہا کو پہنچنے کے باوجود دو بہت ہی اہم مرکزی پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔

اول یہ ہے کہ سائنسی ترقی نے اہل مغرب کو اتنا مصروف کردیا کہ روح کی تسکین کی طرف ان کی کوئی توجہ نہ رہی،آج وہ خود بھی بے چین ہیں اور دنیا کوبھی بے چین کر رکھاہے۔

دوم یہ ہے کہ باہمی الفت و رفاقت کا فقدان جو تنہائی کرب اور خود بیزاری کا سبب ہوسکتا ہے ، انہیں دواہم خوف اور پریشانیوں کے سبب سامان تعیش کی کثرت کے باوجود وہ قلبی سکون سے محروم ہیں ۔ ان کے قریب جاکر ان کے دلوں کو ٹٹول کر دیکھیں تو یقینا پنچانوے(%۹۵) فیصد افراد اندر سے دکھی نظر آئیںگے، ان کے دل پثر مردہ ہوچکے ہیں اور وہ انتہائی مایوسیوں کے سایے میں گھرے ہوئے ہیں ، اس وقت باشعور دردمند مفکرین کو تجربات کی روشنی میں یہ پتہ چل گیا ہے کہ سائنس جو ان کی ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے اس کے پاس بھی قلب انسانی کے دکھوں کا علاج بالکل نہیں ہے۔

اس ہنگامۂ داروگیر میں کہیں امید کی کرن نظر آتی ہے تو وہ سرورکائنات فخر موجودات محمد رسول اللہ اکی حیات پاک و سیرت طیبہ ہے، جو سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے مسیحا اور فطری وشافی علاج ہے اور انسانی زندگی کو متوازن ، خوشحال، پاکیزہ اور بابرکت بنانے کے لئے ایک وسیلۂ عظیمہ بھی ہے ، آج بھی اگر دنیا کو معاشی و معاشرتی امن اگر حاصل ہوسکتا ہے تو وہ سیرت طیبہ ہی سے ۔

کاش عصر حاضر میں اہل مغرب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کا تعصب و تنگ نظری کی عینک نکال کر سنجیدگی و متانت سے مطالعہ کریں تو یقینا وہ مایوسیوں کے دلدل سے نکل کر قلبی راحت وسکون کی جنت میں پہنچ سکتے ہیں ،ان کے معاشرے کا سکون بحال ہوجائے گا۔

سرور کائنات روحی فداہ ﷺ کی سیرت پاک کا فطرت انسانی کے جس پہلو سے بھی مطالعہ کیا جائے وہ اتنی جامع اور مکمل نظر آئے گی کہ ہر دور کے انسانوں کے لئے اس سے بہتر اور کوئی نمونۂ عمل ہے ہی نہیں۔

حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ چودہ سو سال کا طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی سیرت طیبہ آج بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔حالانکہ انقلابات زمانہ نے ہزار کروٹیں بدلیں گوناگوں طبیعتیں رونما ہوئیں، اہل زمیں پر مختلف تہذیبوں اور انداز معاشرت کی چھاپ پڑتی رہی ، اکثر مذہبی پیشوائوں کی زندگیاں ان کے انتقال کے چند سال بعد بدل دی گئیں، مگر سرکار دوعالم ﷺ کی سیرت طیبہ جوں کا توں آج بھی محفوظ ومامون ہے، وہ خود نہیں بدلی بلکہ بگڑے ہوئے انسانوں کے ظاہر وباطن کو بدل دیا ۔ سیرت طیبہ کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ بادشاہ ہو یا رعایا ، سالار ہو یا سپاہی ، امیر ہو یاغریب ، مرد ہو یا عورت ، بوڑھا ہو یا جوان ، شہری ہو یا دیہاتی ہرایک کی عمدہ اور بہترین زندگی کے لئے یہی پیمانہ تراشا گیا ہے۔

دین اور دنیا کی تفریق کا تصور مغرب کا سب سے بڑا المیہ ہے ، اسی تفریق کے تصور سے قومی عصبیت کا شعور پیدا ہوا جس نے آج پوری نسل انسانی کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ہے ، اسی کا نتیجہ جو سرمایہ داری اور اشتراکی استبداد کی صورت میں نظر آرہا ہے، اس ظالمانہ نطام کی تباہی سے بچنے کا واحد ذریعہ سیرت طیبہ ہی ہے۔ کیوںکہ حضور اکی پاکیزہ تعلیمات نے شعوب وقبائل کی عصبیت کو تباہی و بربادی کا سب بڑا راستہ قرار دے کر اخوت ومحبت اور باہمی الفت ورفاقت کوایک نعمت عظمیٰ قراردیا ، جس کی بنیاد پر عرب والوں کے درمیان ہونے والی قدیم قبائلی جنگوں کا خاتمہ ہوگیا ، ساری دنیا نے راحت اور اطمینان کی سانس لی ، اسی کی واضح ترجمانی قرآن مقدس کی اس آیہ کریمہ سے ہوتی ہے:

’’وَاذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآئً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا وَّ کُنْتُمْ عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَکُمْ مِّنْھَا‘‘اور اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ، پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی ، بس تم اس کی مہربانی سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے اور تم جہنم کے کنارے پر پہنچ چکے تھے پھر اس نے تم کو اس سے بچالیا ۔

آج بھی دنیا کو حضور اقدس ﷺ کی عطا کردہ اس نعمت عظمیٰ کی اشد ضرورت ہے، جس کے سبب انسانی مساوات ، اخوت و محبت کی فضا قائم ہوئی۔

میں پورے چلینج کے ساتھ کہہ رہاہوں کہ جس دن مغرب اس نعمت عظمیٰ کو پالے اسی دن سے عالمی سطح پر ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا اور ساتھ ہی ساتھ وہ جس بھیانک خوف واضطراب میں مبتلا ہے اس سے اس کو نجات مل جائے گی۔

عصر حاضر میں عالمی سطح پر چند ممالک اور چند افراد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پرپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں اور اس کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کررہے ہیں ۔ مگر اسلام ہے کہ فروغ پارہا ہے، امنڈتے ہوئے سیلاب کی طرح بڑی تیزی سے بڑھتا چلا جارہا ہے ، جب کہ مسلمانوں کے پاس ان کے مقابلہ میں مادی اسباب و وسائل ہیں اور نہ ہی عالمی سطح پر ایسا کوئی مشن ہے جو اشاعت اسلام کے لئے سرگرم عمل ہو۔

اس سلسلہ میں ہم تو یہی کہیںگے کہ تعلیمات رسولﷺ اور آپ کی سیرت طیبہ کا تقدس ہی ہے جو سنجیدہ اذہان کو جھنجھوڑ کر ان کے دل ودماغ میں گھر کرتا جارہا ہے۔آپ کی سیرت طیبہ ہی نے بگڑے ہوئے انسانوں کے ذہن ومزاج کو بدل ڈالا، سخت دلوں کو نرم کرکے ظالموں کو رحم وکرم کا خوگر بنا دیا ۔

اور ہمارا تو یہ دعویٰ ہے کہ آج جو پوری دنیا میں اسلام پھیل رہا ہے، لاکھوں کروڑوں انسان اسلام کے دامن سے وابستہ ہورہے ہیں وہ کسی اور لالچ میں نہیں بلکہ صرف اور صرف حضور اقدسﷺ کی سیرت طیبہ کو دیکھ کر ، کیوںکہ سیرت طیبہ کا جب انہوں نے گہرائی سے مطالعہ کیا تو وہ اتنے متاثر ہوئے کہ دامن اسلام میں آکر سکون کی دولت حاصل کرلی ۔

حضور سرور کائنات ﷺ کی سیرت طیبہ پر ہر دور میں علمائے کرام نے کتابیں تصنیف کیں اور عالم انسانیت کے سامنے ایک مؤثر ضابطۂ حیات کی شکل میں پیش کیا، جن میں کچھ کتابیں تو اس قدر تفصیلی اور ضخیم ہیں کہ عام مسلمان ان کے مطالعہ کی ہمت جُٹا نہیں پاتا اور کچھ اس قدر اجمالی ہیں کہ ذہن کی رسائی حیاتِ نبوی کے اہم گوشوں تک نہیں ہو پاتی۔ اس لئے ایک ایسی کتاب کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی تھی جو مختصر اور جامع ہونے کے ساتھ ساتھ علما اور عوام دونوں کے لئے یکساں قابل استفادہ ہو اور حیات نبوی کے ان اہم گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہو کہ اس کا مطالعہ دارین کی سعادتوں، برکتوں اور نجاح وکامرانی کی ضمانت فراہم کر رہا ہو۔

امیر سُنّی دعوتِ مولانا محمد شاکر علی نوری مد ظلہٗ نے اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ’’گلدستۂ سیرت النبی ﷺ ‘‘ جو آپ کے ہاتھوں میں ہے ترتیب دی۔اس کتاب میں مصنف نے قبل ولادت دنیا کے حالات، مقاصد بعثت، سراپائے رسول، اخلاق و عاداتِ رسول اور آئینۂ سیرت النبی وغیرہ پر مختصر مگر جامع کتاب تصنیف کی ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اس کتاب کو مقبول خاص و عام فرمائے اور امت مسلمہ کو اس کے ذریعہ دنیا و آخرت میں اعلیٰ قدر و منزلت عطا فرمائے۔ آمین

فقیر برکاتی

محمد زبیر مصباحی

یکم ربیع الاول ۱۴۲۸؁ھ