:: حسد ::

عن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب (دائود)

عن انس رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ ﷺ قال الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب ۔۔(ابن ماجہ شریف)

1 ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا ’’ حسد سے بچو نیکیوں کو یوں کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو ‘‘

2 ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ۔’’ حسد نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو ‘‘ 

حسد نیکیوں کو کھا جاتا ہے 

پہلے ہم دو الفاظ کے معنی واضح کرلیں ۔حسد ۔ حسنات ۔ حسد کسے کہتے ہیں ؟ حسنات کا کیا معنی ہے ؟

: : حسد ::

فتح القدیر صفحہ 521 جلد 1 لائن نمبر 4 پر ہے الحسد تمنی زوال النعمۃ التی انعم اللہ بھا علی المحسود 

کسی منعم کی نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرنے کا نام حسد ہے ، حاسد اُسے کہتے ہیں جو یہ خواہش کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ فلاں آدمی سے وہ چیز چھن جائے مجھے ملے یا نہ ملے اس کے پاس نہ رہے ۔

:: حسنات :: 

لغات القرآن صفحہ 511 جلد دوم میں ہے حسنات بمقابلہ سیئات زندگی کی خوشگورایوں کے لئے آیا ہے ، سورہ توبہ میں حسنۃ کے مقابلے میں مصیبتہ آیا ہے لہذا حسنتہ ہر وہ چیز ہے جس سے انسان کو آرام ملے ، راحت و آسائش کا سامان ۔

:: تشریح ::

معلوم ہوا حسد حسنات کو کھا جاتا ہے یعنی آدمی کی زندگی سے سکون ختم ہوجاتا ہے ، اخلاقی برائیوں سے بچنے کے لئے تمام مذاہب میں بالعموم اسلام میں بالخصوس تلقین کی گئی ہے ، کیونکہ اس میں انسان کا اپنا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، حسد بھی ایک ایسی ہی اخلاقی بیماری ہے جو ایک طرف تو انسانی ذہن کو پراگندہ کرتی ہے دوسری طرف انسانی جسم کو بھی شدید طور سے نقصان پہنچاتی ہے ۔

حسد گناہ ہے اور یہ سب سے پہلا گناہ جو آسمانوں و زمین پر کیا گیا ، آسمان پر ابلیس نے حضرت آدم علیہ السلام سے کیا اور زمین پر حضرت آدم کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ھابیل سے کیا ۔

حاسد مستقل طور پر دوسرے کی عزت و رتبہ آرام و آسائش کو دیکھ کر جلتا کڑھتا ہے اور غیر محسوس طریقے سے خود کو ہی جسمانی اور روحانی تکلیف پہنچاتا ہے ، مشاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ حاسد اپنے حسد کی وجہ سے اپنے گرد و نواح کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے ، کیونکہ جو افراد اس حاسد شخص سے براہ راست یا بلا واسطہ تعلق رکھتے ہیں وہ بھی اس کی منفی سوچ خیالات اور اس کے عمل سے متاثر ہوتے ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے ، یہ منفی سوچ جھوٹ ، عناد ، بغض اور غیبت کی طرف مائل کرتی ہے ۔

حسد کرتے وقت سوچنے کے عمل میں منفی پہلو ابھرنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے غصہ اور منفی خیالات کی بھرمار اور خوف طاری ہونے لگتا ہے ، جسم کے مختلف غدودوں کی رطوبتوں ا خراج ضرورت سے بڑھ جاتا ہے یا پھر کم ہوکر تقریباََ ختم ہوجاتا ہے ۔

حاسد شخص کے معدہ کی تیزابیت میں اضافہ ہوجاتا ہے ، جسکی وجہ سے معدہ کی اندرونی دیواریں متاثر ہوتی ہیں ، زخم بن جاتے ہیں یہ زخم بڑھ کر Ulcer کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ، دل کی دھڑکن پر بھی حسد کا اثر پڑتا ہے ۔

اس کے علاوہ جسم میں کیلشیم اور فاسفورس کی مقدار کو متوازن رکھنے کے لئے Parathyroid Gland جو ھارمون پیدا کرتے ہیں ان میں کمی واقع ہوجاتی ہے جو مستقل درد اور کھنچائو کا باعث بنتا ہے ۔ اس کے برعکس R-Trine اپنی کتاب Tune with the infinite میں لکھتا ہے ::

On the other hand love, good will, Benevolence and kindness tend to stimulate a healthy purifying and life giving flow of bodily secretions which will Counter act the disease giving affect of the voice.

ترجمہ :: دوسری طرف محبت نیک اندیشی ، فیاضی ، اور ہمدردی سے جسم میں ایسی صحت افزاء پاک کن اور حیات بخش رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں جو گناہ کے بیمار کن اثرات کو زائل کردیتی ہیں ۔

:: محمد مختار شاہ صاحب قبلہ ::