پیشِ لفظ

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم!

سبز عمامہ ہو یا سفید، نفس سنت پر عمل اور اس کااجر و ثواب (من حیث السنۃ) برابر ملے گا، اگرچہ افضل واعلیٰ عمامہ سفید ہی ہے۔

یہ ایک علیحدہ حیثیت ہے جسے نفس سنت عمامہ سے تعلق نہیں افضلیت عمامہ سے تعلق ہے، افضلیت کا معاملہ ہے اسے بدعت وحرام اور مکروہ کہنا دین میں فتنہ انگیزی ہے۔

فقط والسلام 

محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ 

بِسمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

الحمد للّٰہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی وشق لہ من اسمہ لیجلہ فذوالعرش محمود وھذا محمد وعلی آلہ الطیبین و اصحابہ الطاہرین اجمعین۔

اما بعد!

سنت عمامہ کو دور حاضرہ میں عمل میں لانا سوشہیدوں کا ثواب نصیب ہوگا، اللہ تعالیٰ بھلا کرے دعوتِ اسلامی کا اس نے ہمت کرکے اس سنت مبارکہ کا احیاء کیا کہ بوڑھوں ، جوانوں بلکہ بچوں تک میں عمامہ سر پر سجانے کا رنگ بھر دیا ورنہ انگریز خبیث نے تو مسلمانوں کو عمامہ تو در کنار سرے سے ننگا رکھنے کو اپنی اعلی تہذیب بنالی اور عمامہ سے سر ڈھانپنے کی تحقیر بلکہ اس کی تذلیل میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔

اس پر افسوس ان علماء اور پیروں کا ہے جنہوں نے عملی طور پر عمامہ کے بجائے مختلف طریقوں کی ٹوپیوں اور کیپوں کو اپنی عزت سمجھی بلکہ بہت سے ظالم وہ بھی ہیں جو عمامہ سجانے کو اپنی معاش و معاشرہ کے لیے اپنے حلقہ احباب میں برائی محسوس کرتے ہیں، دعوتِ اسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر بعض خود کوعلماء کہلوانے والے عمامہ کی حیثیت کو گھٹاتے ہوئے اس کے سبز رنگ کے پیچھے پڑگئے اور اسے بدعت کے کھاتے میں ڈال کر عوام میں نفرت اورحقارت پر اکسایا، حالانکہ صرف رنگ بدلنے سے عمامہ کی اصل سنت میں فرق نہیں آتا، ہم ایسے بھلے مانسوں کو کیا کہیں بہر حال عمامہ عمل میں لائو سبز رنگ ضروری نہیں، سفید رنگ پر سب کا اتفاق ہے تو سفید رنگ کے عمامے سے سر کو سجائو سبز رنگ و سفید کو سامنے رکھ کر عمامہ کی سنیت میں رخنہ نہ ڈالو نفس سنت کو تو نہ چھوڑو، مثلاً سنت ہے مسواک کرنا خواہ کسی لکری کا ہے اگرچہ افضل وہی لکڑی ہے جسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے استعمال فرمایا، یونہی عمامہ سنت ہے خواہ کسی رنگ کا ہوا گرچہ افضل سفید رنگ ہے ۔

سبز رنگ سے عداوت و بغض سامنے رکھ کر سرے سے عمامہ کی سنت نہ مٹائو، بعض بددماغوں نے مجھے مندرجہ ذیل عبارات لکھ کر ان کا جواب مانگا، فقیر عدیم الفرصتی کے باوجود ان کے نہ صرف جوابات بلکہ مستقل رسالہ جس کا نام “سبز عمامہ کا جواز” رکھا۔

اس سے قبل فقیر نے ”فضائل عمامہ” رسالہ لکھا جو بارہا شائع ہوا ہے۔ عمامہ کے فضائل کے بعد اس ر سالہ کا مطالعہ فرمائیے۔ اللہ عزّوجل اپنے حبیب پاک ﷺ کے طفیل ہم سب کو اتباعِ سنت نصیب فرمائے۔ آمین

سبز عمامہ بدعت ہے اس پر مندرجہ ذیل حوالے حاضر ہیں۔

امام محمد بن جعفر لکھتے ہیں۔ ان ھذہ عمامۃ الخضراء لیس لھا اصل فی الشرع ولافی السنۃ والاکانت فی الزمن القدیم ونام حدثت السنۃ ثلاث و سبعین و سبعامائۃ بامر الاشرف بن شعبان،

ترجمہ: بے شک اس سبز پگڑی کی کوئی اصل نہیں نہ شریعت میں اور نہ ہی سنت میں اور نہ ہی زمانہ قدیم میں تھی یہ سبز پگڑی کی علامت ۷۷۳؁ھ ہجری میں بادشاہ اشرف بن شعبان کے حکم سے نکالی گئی۔ (الدعایۃً صفحہ ۹۵)

اسی طرح علامہ ابن حجر مکی الفتاوی الحدیثیہ صفحہ ۱۶۸ میں اور علامہ سیوطی نے الحاوی لِلفتاوی صفحہ ۳۳جلد ۱ میں بھی سبز پگڑی کو بدعت کہا ہے۔اور مُلا علی قاری اپنی مشہور کتاب مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف میں لکھتے ہیں جس نے تکبر اور فخر اور جابرانہ انداز کا لباس پہنایااپنے آپ کو زہد اور نیکی سے مشہور کرنے کے لیے کوئی مخصوص لباس اختیار کیا یا اپنی بزرگی کی نمائش کے لیے سبز رنگ کا کپڑا اپنی علامت ٹھرالیا تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ قِیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا، یعنی اس کو ذلیل کرے گا۔

مرقاۃ صفحہ نمبر ۱۳۰جلد ۱ مزید تما م علماء کرام نے لکھا ہے کہ محرم کے مہینے میں سیاہ کپڑے پہننا ناجائز ہے ، کیونکہ اس میں شیعوں کے ساتھ مشابہت آتی ہے ، حضور اکرم ﷺ کا ارشاد جو آدمی کسی قوم کے ساتھ مشابہت کرے گا وہ انہی میں سے ہوگا۔ (الحدیث) اس وقت دین دارانجمن کے نام سے ایک جماعت کام کر رہی ہے جو کہ قادنیت اور دوسرے گمراہ فرقوں کا مجموہ ہے ۔اس کا ہر ممبر سبز رنگ کا عمامہ باندھتا ہے لہذا ہر ایک سنی مسلمان کو ان کی مشابہت سے بچنا ضروری ہے ، حضرت پیرانِ پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب “السفینۃ القادریہ” میں سبز پگڑی کو بدعت لکھا ہے ، صفحہ نمبر ۳۹۔

اصل سنت رسول اکرم ﷺ کی یہ ہے کہ سفید پگڑی باندھی جائے، کیونکہ حضور ﷺنے سفید پر دوام کیا ہے ، اللہ تعالیٰ ہمیں حضور ﷺکی میٹھی میٹھی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور بدعت و گمراہی سے بچائے۔

اجمالی جواب!

دھوکہ کے طور پر جس طرح یہ عبارات نقل کی گئی ہیں، تفصیل جواب تو فقیر آگے چل کر عرض کرے گا ان شاء اللہ عزّوجل ، اجمالی جواب یہ ہے کہ یہ کراہت یا ممانعت ایک خاص وجہ سے تھی اب وہ وجہ نہیں ہے اصول فقہ کا مسلم قاعدہ ہے ارتفاع العلت سے حکم مرتفع ہوجاتا ہے ، مثلاً معتزلہ فرقے کا جب زور تھا تو فقہا اہلِ سنّت نے بحق فلاں کہنا لکھنا مکروہ فرمادیا اس لیے کہ ان کا عقیدہ تھا کہ عمل کی جزا اور سبز بندے کے لیے اللہ تعالیٰ پر فرض اور ضروری ہے ۔ (معاذاللہ) بحق کہنے سے ان کے عقیدے کو تقویت پہنچتی تھی،تو فقہانے علی الاطلاق کراہت کا فتوی صادر فرمایا لیکن معتزلہ مرمٹے پھر جواز کا فتوی جاری ہوا جو تا حال قائم ہے ، ہمارے اسلاف کی عبارات میں تصریحات ہیں حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے کہا۔

خدایا بحق بنی فاطمہ

کہ برقول ایمان کنم خاتمہ

یہاں تک اب دیوبندی وہابی بھی استعمال کرتے ہیں۔ (اس قاعدے کی فقہ میں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں۔)

فائدہ!

ثابت ہوا کہ اگر کسی زمانے میں سبز عمامے کو مکروہ یا بدعت کہا گیا تو اس کی ایک وجہ تھی جسے تفصیل سے فقیر عرض کرے گا ان شاء اللہ عزّوجل ۔

باب اوّل

قرآن و احادیث مبارکہ!

دورِ حاضر میں جب صاحبان نے سبز عمامہ کو بدعت وحرام اور مکروہ کہا ہے انہوں نے شریعت مُطہرہ پر افتراء اور خود کو مستحق سزا بنایا ہے ، اس لیے کہ اس کا استعمال بہشت میں بہشتیوں کو نصیب ہوگا، اور دنیا میں خود سرورِ عالم ﷺ سے اس کا استعمال ثابت ہے اور جو عمل حضور سرورِ عالم ﷺسے ثابت ہو اس کو بدعت و حرام و مکروہ کہنا ظلمِ عظیم ہے۔

بہشتیوں کا سبز لباس

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، “ویلبسون ثیابا خضرا من سندوس واستبرق”

(سورہ کہف آیت نمبر۳۱)

ترجمہ: “اور سبز کپڑے کریب (باریک ریشم کے ) اور قناویز (دبیز ریشم کے ) پہنیں گے۔” 

(تفاسیر ، کنزالایمان)

۱۔ علامہ قرطبّی علیہ الرحمہ اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

“وخص الاخضربالذکرہ لانہ الموافق للبصر” 

(تفسیر قرطبّی صفحہ ۳۹ جلف ۱۰)

سبز رنگ کا خاص کر اس لیے ذکر فرمایا گیا ہے کہ وہ بینائی کے زیادہ موافق ہے ۔

۲۔ علامہ قرطبّی علیہ الرحمہ کے اس قول کی تائید میں ہم شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا قول بھی پیش کئے دیتے ہیں تاکہ انکار کی گنجائش باقی نہ رہے آپ فرماتے ہیں۔

“النظرالی الخضرۃ یزید فی البصر” 

(ضیاء القلوب فی لباس المجوب صفحہ ۳)

ترجمہ: سبز رنگ کی طرف نظر کرنا نابینائی کو زیادہ کرتا ہے ۔

۳۔ امام اسماعیل حقی علیہ الرحمہ مذکورہ آیت کریمہ میں ۔ یلبسون ثیابا الفاظ کا ترجمہ اس طرح فرماتے ہیں (جامہائی سبز)یعنی کپڑے اور ان کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔

“وذالک لا ن الخصرۃ احسن الالوان واکثرھا طراوۃ واحبہا الی اللّٰہ تعالیٰ” 

(روح البیان صفحہ ۲۴۳ جلد ۵)

اہلِ جنّت کے کپڑوں کا رنگ اس لیے سبز ہوگا کہ سبز رنگوں میں زیادہ حسین اور تروتازگی میں بکثرت اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زیادہ محبوب ہے۔

۴۔ مُلا علی قاری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ وھی من ثیاب اھل الجنۃ ’’یعنی ، سبز رنگ جنتیوں کے کپڑوں کے رنگ سے ہے ۔‘‘

(مرقاۃ صفحہ ۴۱۵ جلد ۴)

۵۔ دورِ حاضرہ کے سنی مفسر حضرت مفتی احمد یار خان اس آیت کرمہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں ’’اس سے معلوم ہوا کہ رب عزّوجل کو سبز رنگ بہت پسند ہے ، اسی لیے جنت کی زمین شہداء کی روحوں کا رنگ سبز حضورﷺ کے روضہ کا رنگ سبز۔ (تفسیر نورالعرفان)

آیت نمبر ۲:

علیھم ثیاب سندس خضرو استبرق (پ ۲۹ الدھر آیت ۲۱)

ترجمہ: ” ان کے بدن پر ہیں کریب (باریک ریشم) کے سبز کپڑے اور قناویز (دبیزریشم کے)۔”

تفاسیر ابنِ کثیر:

اس نے اپنی تفسیرمیں اس آیت ِ مبارکہ کی تفسیر میں لکھا ہے ۔ “ای لباس اھل الجنۃ” یعنی جنت کا لباس کریب کے سبز رنگ کے کپڑے کا ہوگا۔ (تفسیر ابنِ کثیر صفحہ ۴۵ جلد ۴)

۲۔ سَیِّد امیر علی:

انہوں نے ابنِ کثیر کے ترجمہ مع اضافات میں لکھا یعنی اہلِ جنت کا لباس سبز سندس اور استبراق ہوگا پھر لکھتے ہیں اور حاصل یہ کہ سبز کپڑے ہوں گے جو (سندس) اور استبراق کے ہوں گے۔ 

(تفسیر مواہب الرحمٰن صفحہ ۴۳۵ جلد ۹)

۳۔ ابنِ کثیر:

اس نے اپنی تفسیر میں مزید لکھا ہے کہ سندس ریشمن بڑھیا ہوتا ہے اور یہ لباس ان کے بدن سے متصل ہوگا جیسے قمیص وغیرہ ہوتی ہے ۔ (ابنِ کثیر صفحہ ۴۵۸ جلد ۴) قرآن مجید کے مذکورہ الفاظ اور اس کی تفسیر میں مفسرین کے اقوال سے معلوم ہوا کہ اہلِ جنت کا لباس سبز ہوگا اور یہ رنگ رنگوں میں سے حسین و بارگاہِ خداوندی جلا و علا میں محبوب تر ہے اور ان مقامات میں اہلِ جنت کے لباس کے سبز رنگ میں ہونے سے کسی دوسرے رنگ کی نفی لازم نہیں آتی۔

آیت نمبر۳۔

یبنی آدم خذو زینتکم عند کل مسجد (پ ۱۸لاعراف ۳۱)

ترجمہ:”اے اولادِ آدم لو اپنی زینت ہر نماز کے وقت ” امام اسماعیل حقی علیہ الرحمہ اس آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں اس امر پر دلیل ہے کہ حالتِ نماز میں اچھا لباس پہننا مستحب ہے ۔

(روح البیان صفحہ ۱۵۴ جلد ۳)

لباس:

بعض لوگوں کا وہم ہے کہ لباس صرف شلوار، تہبند اور قمیص کا نام ہے حالانکہ لباس میں عمامہ بھی داخل ہے ، چنانچہ امامِ احمد رضا خان بریلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ کے لباسِ اقدس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ردا، تہبند ،عمامہ یہ تو عام طور سے ہوتا تھا اور کبھی قمیص اور ٹوپی، لیکن پاجامہ ایک بار خریدنا لکھا ہے پہننے کی روایت نہیں۔ (ملفوضات اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ صفحہ ۱۳ جلد۳)

فائدہ:

مذکورہ آیت کرمہ میں زینت سے مراد لباس بھی ہے اور لباس میں عمامہ بھی داخل ہے ، اور لباس ہر اس رنگ کا جائز ہے جس سے شریعت مطہرہ نے منع نہیں فرمایا اور سبز سے ممانعت پر چونکہ کوئی دلیل شرعی نہیں لہذا اس رنگ کا عمامہ استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہیں بیز ایسے رنگ کا عمامہ وغیرہ بھی مذکورہ زینت میں داخل ہے ، جب عمامہ لباس میں داخل ہے اور وہ زینت بھی ہے تو پھر علماء کرام و مشائخ عظام کو کیا ہوگیا کہ وہ بھی عمامہ سجانے سے محروم ہیں جب کہ عمامہ سجانے سے زینت کے علاوہ ثواب بھی حاصل ہوگا۔ سفید رنگ کے علاوہ سبز و پیلا وغیرہ رنگ کا عمامہ استعمال کرنااُمتِ محمدیہ ﷺ میں اسلاف و اکابر کا معمول رہا ہے اگر ان رنگوں کے عمامے باندھنے سے سنت پر عمل نہ ہوتا تو اکابر علماء و مشائخ ایسے رنگوں کے عمامے کیوں استعمال فرماتے ۔ سفید رنگ کے ہی عمامہ کو سنت قرار دینے کے بارے میں کسی بزرگ کا قول نفس عمامہ کے سنت ہونے پر اثر انداز نہیں ہوسکے گا، نیز عمامہ کے بارے میںاحادیث میںمطلق عمامہ باندھنے اور اس کے فضائل و ثواب کا ذکر ہے ۔ کسی رنگ کی قید سے مقید نہیں کیا گیا کہ فلاں رنگ کا عمامہ باندھیں اور فلاں رنگ کا نہ باندھیں، یا فلاں رنگ کا عمامہ باندھنے سے ہی ثواب ملے گا فلاں رنگ کے عمامہ سے ثواب حاصل نہیں ہوگا۔ جیسے دورِ حاضر کے ٹیڈی مجتہدین کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ سبز عمامہ بدعت یا مکروہ حرام ہے ۔ (معاذ اللہ)

جب کہ مسئلہ واضح ہے کہ عمامہ سر پر ہو تو سنتِ مصطفیٰ ﷺ نصیب ہوگی اور نماز کا وہی ثواب حاصل ہوگا جو عمامہ سر پر سجانے سے ہوتا ہے ، رنگ کی ایک علیحدہ بحثہے، جسے عمامہ سر پر سجانے کی سنت سے تعلق نہیں ، ہاں افضلیت کا اپنے مقام پر حق ہے کہ سفید عمامہ افضل ہے ، دوسرے رنگ بھی درجہ بدرجہ جائز ہیں لیکن یہ ظلم عظیم ہے کہ صرف سبز عمامہ کو بدعت اور حرام گردانا جائے۔ حالانکہ حضرت سلطان مُلا علی قاری رحمۃ اللہ الباری نے فرمایا کہ۔ “الطبرانی فی الاوسط وابن السنی وابونعیم فی الطب”(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ صفحہ ۴۱۵جلد۴) ترجمہ: یعنی رسول ِکریم ﷺ کو رنگوں میں زیادہ محبوب رنگ سبز رنگ تھا۔

فائدہ:

جب رسول اللہ ﷺ کو سبز رنگ مرغوب و محبوب ہے تو پھر امتی کو ضد کیوں ثابت ہوا کہ سبز عمامہ جائز و مستحب ہے، کیونکہ اصل مقصودعمامہ باندھنا ہے وہ خواہ سفید رنگ میں ہویا سبز وپیلے رنگ کا، معترضین کا اسے بدعت وناجائز کہنا غلط اور خلافِ تحقیق ہے اور بالخصوص محترم مضمون نگار کے خود اس کو اپنے مضمون میں جائز لکھ دینے کے بعد اسے ناجائز یا بدعت قرار دینے کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی اور پھر چونکہ عمامہ لباس میں داخل ہے اور سبز رنگ کے لباس کو رسول کریم ﷺ کا پسندیدہ فرمانا دلائل کثیرہ سے ثابت ہے ۔ اور ایسی چیزجس کو رسول ِ اکرم ﷺ پسند فرمائیں اسے بدعت وناجائز کہنا بجائے خود جرم اور بدعت وناجائز ہے بلکہ ظلم عظیم ہے اس لیے کہ فعلِ رسول ﷺ کو بدعت کہنا ظلم نہیں تو اور کیا ہے ، جب کہ فقہا کا قول بھی مانتے ہیں۔

یجوز لبس الثوب الابیض والاحمر الاصفرُ والاخضروالمخطط وغیرہ من الوان الثیاب لاخلاف فی ھذا ولاکراھت فی شئی منہ ’’سفید ، سرخ ، پیلا ، سبز اور دھاری دار وغیرہ رنگ کے کپڑے پہننا جائز ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ اس سے کسی میںکراہت ۔‘‘

بابِ دوم

احادیث مبارکہ:

۱۔ ترمذی و ابو دائود شریف میں حضر ت ابورمثہ تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں۔

اتیت النبی ﷺ و علیہ ثوبان اخضران (مشکوٰۃ شریف مطبع نظامی کتاب اللباس صفحہ ۳۲۰) 

ترجمہ: ’’میں حضور علیہ السلام کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا (اس وقت) حضور ﷺ پر دو سبز رنگ کے کپڑے تھے۔‘‘

فائدہ نمبر۱۔

حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ۔

“وقد لبس رسول ﷺ البردۃ الاخضرو لبس الا خضر سنۃ”

ترجمہ: ’’حضور علیہ السلام نے سبز چادر اوڑھی ہے اور سبز رنگ کا لباس سنت ہے۔‘‘ 

(ضیاء القلوب فی الباس المحبوب مطبع مجتبائی صفحہ۳)

فائدہ نمبر۲۔

اس کا یہ فائدہ بھی تحریر فرمایا النظر الی الخضرۃ یزید فی البصر

ترجمہ: ’’ــسبز رنگ کی طرف نظر کرنا بینائی کو زیادہ کرتا ہے ۔‘‘ (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب صفحہ ۳)

پھر خاص عمامے کے متعلق ارشاد فرمایا!

دستار مبارک آنحضرت ﷺ اکثر سفید بودوگا ہے دستار سیاہ احیانا سبز 

ترجمہ: ’’حضور ﷺ کی دستا ر مبارک اکثر سفید اور کبھی سیاہ اور کبھی سبز ہوتی تھی۔‘‘ 

(ضیاء القلوب فی الباس المحبوب صفحہ۳)

ملائکہ کے عمامے:

بدر میں ملائکہ کی دستار بھی سبز وسفید دیکھی گئی، حضور سیدنا عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ۔ 

کان سیما الملائکۃ یوم بدر عمائم بیض و یوم حنین عمائم خضر

ترجمہ: ’’یومِ بدر ملائکہ کی نشانی سفید عمامے اور حنین کے دن سبز عمامے تھی۔‘‘ 

(تفسیر خازن شریف مصری سورہ انفال صفحہ ۵۴ ۱ جلد ۲)

فائدہ:

ملائکہ کرام علیہ السلام کے متعلق مزید تفصیل آئے گی ان شاء اللہ عزّوجل اسی بناء پر شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اسے بہترین لباس میں شمار فرمایا ۔ فرماتے ہیں،

’’بہترین لباس سفید است و بدستار سیاہ و سبز و پائجامہ‘‘

ترجمہ: ’’ــبہترین لباس سفید ہے اور عمامہ میں سیاہ و سبز رنگ اور پائجامہ‘‘ (ضیاء القلوب فی الباس المحبوب صفحہ۷)

بلکہ بعض علمائے کرام نے فرمایا کہ سبز رنگ ہی حضور ﷺ کو محبوب ترین تھا چنانچہ مشکوٰۃ شریف کتاب اللباس کی پہلی حدیث بروایت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔

’’کان احب الثیاب الی النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم یلبسھا الحبرۃ‘‘ (مشکوٰۃ صفحہ ۳۱۸)

ترجمہ: ’’محبوب ترین لباس حضور اکر م ﷺ کے نزدیک یہ تھا کہ حبرہ پہنا جائے۔‘‘

حضرت علامہ مُلا علی قاری رحمۃ الباری مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ایک قول یہ بیان فرماتے ہیں ۔

’’قیل لکونھا خضراوھی من ثیاب اہل الجنۃ وقد ورد کان احب الالوان الیہ الخضرۃ ‘‘

ترجمہ: ’’یہ بھی کہا گیا ہے کہ جبرہ حضور ﷺکو یوں محبوب تھا کہ سبز رنگ اہلِ جنت کے لباسوں میں سے ہے اور یہ بھی وارد ہوا ہے کہ رنگوں میں سبز رنگ حضور ﷺ کوپسند ترین تھا۔‘‘ (حاشیہ مشکوٰۃ صفحہ ۳۱۸)

۲۔ فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب در مختار میں ہے۔ ’ ’ ولباس بسائر الالون ‘‘ 

ترجمہ: ’’ کسم اور زعفران کے رنگے ہوئے سرخ و زرد رنگ کے علاوہ سارے رنگ (مردوں ) کو پہنے میں مضائقہ نہیں۔‘‘

فائدہ ! مزید اقوال باب ۳ میں آئیں گے، ان شاء اللہ عزّوجل۔

حضرت یعلی بن امیہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ

سے مروی ہے ’’ قال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم طاف بالبیت مضطبعا ببرد اخضر‘‘ 

ترجمہ: ’’ رسول کریم ﷺنے بیت اللہ شریف کا سبز چارد کے ساتھ اضطباع فرماتے ہوئے طواف کیا۔‘‘ 

(ترمذی ، ابودائود، ابنِ ماجہ ، دارمی)

علامہ شعرانی رحمۃ اللّٰہ علیہ 

لباس ِ رسول کریم ﷺکا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ’’ وکان ﷺ یلبس لباس البیض الخضروالسود الخ‘‘

ترجمہ: ’’رسول کریم علیہ السلام سفید، سبز اور وسیاہ لباس زیب تن فرماتے تھے۔‘‘ (کشف الغمہ صفحہ ۵۵ جلد ۱)

تنبیہ! 

عبارت مذکورہ سے اگرچہ رسول اللہ ﷺکا سیاہ لباس پہننا ثابت ہورہا ہے مگر آج کل چونکہ سیاہ لباس روافض کی ایک خاص علامت بن چکا ہے لہذا تشبہ مابالروافض سے بچنے کے لیے ایسا لباس محرم الحرام میں نہیں پہننا چاہیے۔

امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

اپنی صحیح میں ’’باب ثیاب الخضر‘‘ کے تحت حدیث نقل کرتے ہیں۔ 

’’عن عکرمۃ ان رفاعۃ طلق امراتہ فتزو جھا عبدالرحمن بن الزبِییْر القرظی قالت عائشۃ اعلیھا خمارۃ اخضر‘‘

ترجمہ: ’’عکرمہ سے روایت ہے کہ رفاعہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو اس سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی نے نکاح کرلیاسَیِّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا اس حال میں 

کہ آپ پر سبز اوڑھنی تھی۔‘‘ (بخاری شریف صفحہ ۸۶۶ جلد ۲)

علامہ ابنِ جوزی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

نقل فرماتے ہیں ’’وکان لہ ثوب اخضر یلبسہ للوفود اذا قدموا‘‘

ترجمہ: ’’رسول اکرم ﷺکا ایک سبز کپڑا تا جس کو وفود کی آمد پر زیب تن فرماتے۔‘‘ (الوفاء صفحہ ۵۶۸ جلد۲)

فائدہ!

اکثرناقلین احادیث مبارکہ اور راوہانِ روایتِ شریفہ اسی طرح بیان فرماتے ہیں جو اوپر مذکور ہوا۔

بابِ سوم

صحابہ کرام و ملائکہ عظام: (صلی اللہ تعالیٰ علیہ نبیینا وعلیہم السلام و بارک وسلم)

صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے جو عمل ثابت ہوا اسے بدعت یا حرام اور مکروہ کہنا گمراہی ہے اس لیے کہ یا تو ان حضرات نے حضور سرور عالم ﷺ سے سنا اور دیکھا ہوگا اگر ان کا اپنا اجتہاد ہو تو بھی بحکم رسول ِ خدا ﷺ ’’ اصحابی کا لنجوم بایھم اقتدیم اھتدیتم‘‘ ترجمہ: میرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہدایت کے ستارے ہیں اس میں جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پاجائو گے۔‘‘

الحمدللّٰہ عزّوجل ! ہم اہلِ سنّت خوش نصیب ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو معیار اسلام سمجھ کر ان کے اقوال و احوال کی اقتداء کرتے ہیں ہاں کسی صحابی کا قول جمہور کے خلاف اس کا اجتہاد مبنی بر خطا ہو تو عمل نہیں کریں گے ان کی شخصیت کو داغدار بھی نہیں کریں گے۔

سبز عمامہ کا عمل متعدد روایات اور متعدد صحابہ کرام اور ملائکہ عظام صلی اللہ علیہ نبینا وعلیہم وبارک وسلم سے ثابت ہے، ملائکہ کرام توہیں ہی معصوم ان کے افعال کو بدعت یا حرام کہنا سمجھنا عیب منطق ہے چند حوالے ملاحظہ ہوں۔

لباسِ جبرائیل علیہ السلام!

امام شعرانی نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’اتانی جبرائیل فی لباس اخضر‘‘

ترجمہ: ’’جبرائیل علیہ السلام میری بارگاہ میں سبز میں حاضر ہوئے۔‘‘ (کشف الغمہ صفحہ ۱۵۴ جلد ۱)

بدروحنین میں ملائکہ!

سَیِّدی شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں کہ۔

’’جبرائیل علیہ السلام روزِ بدر پانچ سو فرشتوں کے ساتھ اور میکائل علیہ السلام پانچ سو فرشتوں کے ساتھ انسانی شکل و صورت میں ابلق گھوڑوں پر سوار اترے اس وقت ان کے جسموں پر سفید لباس اور ان کے سروں پر سفید عمامے تھے اور روزِ حنین سبز عمامے تھے ۔‘‘ الخ

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’روزِ بدر فرشتوں کی پیشانیوں پر سفید عمامے اور روزِ حنین سبز عمامے تھے۔ ‘‘ الخ (مدارج النبوت صفحہ ۱۶۰ جلد۲)

ان روایات سے پتا چلا کہ سبز رنگ کا لباس حضور خواجہ کونین ﷺ کے لباس میں داخل اور ایسا لباس ملائکہ کرام و اہلِ جنت کا لباس ہے اور سبز عمامے استعمال کرنے میں محبوب ِ خدا ﷺ ملائکہ کرام اور اہلِ جنت کے ساتھ مشابہت و موافقت ہوگی جو کہ محمود مسعود اور باعث رحمت وبرکت اور موجبِ شرف وعظمت ہے اور ایسی مشابہت کو کسی بد عقیدہ کے عمل وفعل کے ساتھ دورکا بھی واسطہ نہیں ہوگا کہ ناجائز اور باعث ملامت ہو۔

صحابہ کرام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما:

حافظ ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ مہاجر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بارے میں ایک روایت نقل فرماتے ہیں جس سے ان صحابہ کرام کا سبز عمامے استعمال فرمانا ثابت ہوتا ہے 

’’عن سلیمان بن ابی عبداللّٰہ قال ادرکت المھاجرین الاولین یعتمون بعمائم کرابیس سودبیض و حمر و خضر‘‘

ترجمہ: ’’سلیمان بن ابی عبداللہ سے مروی ہے فرماتے ہیں میں نے پہلے مہاجر صحابہ کو سوتی ، سیاہ سفید، سرخ اور سفیدرنگ کے عمامے باندھتے پایا۔‘‘ (مصنف ابن ابی شیبہ صفحہ ۲۴۱ جلد ۸)

سوال: روایت مذکورہ ضعیف ہے اور روایات ضعیفہ قابلِ استدلال نہیں۔

جواب:یہ سوال جہلاء پر مؤثر ہے لیکن اہلِ علم کو معلوم ہے کہ ضعیف حدیث جو از فعل وفضائل وغیرہ میں مقبول ومعتبر ہے یہ اعتراض وہابیہ کا مشہور ہے جس پر ہمارے اکابر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کے رد میں دلائل کے انبار لگادیئے اما م اہلِ سنّت مجدد دین و ملت سیِّدنا اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا محدث بریلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ۔

’’ نہ صرف ضعیف محض بلکہ منکر بھی فضائل اعمال میں مقبول ہے‘‘۔

پھر بیان فرماتے ہیں۔ ’’یعنی بے شک حفاظ حدیث وعلماء دین کا اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے ‘‘۔

پھر وہابی مکتب فکر کے مولوی خرم علی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ ’’ضعاف در فضائل اعمال وفیما نحن فیہ باتفاق علماء معمول بھااست‘‘

الخ ضعیف احادیث فضائل اعمل میں باتفاق علماء معمول بھا ہے پھر فرماتے ہیں۔ ’’فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ثبوت استحباب کے لیے بس (کافی) ہے پھر شیخ الاسلام ابوذکریا علیہ الرحمۃ کے حوالے سے لکھتے ہیں۔

’’قال العلماء من المحدثین والفقھاء وغیر ھم یجوزویستحب العملفی الفضائل والتفغیر والترھیب بالحدیث الضعیف مالم یکن موضوعا‘‘

محدثین وفقہاوغیرھم علماء نے فرمایا کہ فضائل اور نیک بات کی ترغیب اور بری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز و مستحب ہے جب کہ موضوع نہ ہو پھر فتح القدیر سے نقل فرماتے ہیں۔ الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع حدیث ضعیف جو موضوع نہ ہو اس سے فعل کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے پھر لکھتے ہیں کہ امام ابو طالب مکی قوت القلوب میں فرماتے ہیں۔

الحدیث اذالم ینافہ کتاب اوسنۃ وان لم یشھد الہ ان لم یخرج تاویلہ عن اجماع الامۃ فانہ یوجب القبول والعمل الک 

’’ حدیث جب کہ قرآن عظیم یا کسی حدیث ثابت کے منافی نہ ہو اگرچہ کتاب و سنت میں اس کی کوئی شہادت بھی نہ نکلے تو بشرطیکہ اس کے معنی مخالف اجماع نہ پڑتے ہوں اپنے قبول اور اپنے اوپر عمل کو واجب کرتی ہے۔ 

(فتاویٰ رضویہ صفحہ ۴۵۵ جلد ۲)

بہرحال ثابت ہوا

کہ سبز رنگ کے عمامے استعمال کرنے میں راہِ ہدایت کے ستارے صحابہ کرام کی پیروی ہے اور ان کی پیروی محبوبِ خدا ﷺنے امت کے لیے ذریہ ہدایت قرار دیا، لہذا ان حضرات کی پیروی میں سبز عمامہ استعمال کرنا اور ان حضرات کے استعمال فرمانے کی وجہ سے التزام ضروری نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ سبز عمامہ کے علاوہ سفید رنگ کے عمامے بھی استعمال کیے جائیں تاکہ ایسے رنگ کے عمامے باندھنے میں بھی سنت پاک پر عمل ہوسکے اور ثواب حاصل ہوجائے۔

ٹیڈی مجتہدین!

یہ عجیب مخلوق ہے نہ مانیں تو خدا و رسول (عزّوجل وﷺ) کی نہ مانیں اور ماننے پر آجائیں تو اپنے نفس امارہ کو امام بنالیتے ہیں مثلاً اسی عمامہ سبز کو دیکھیے کہ انہیں اپنے حریف کو نیچادکھانے پر سارازور لگادیا کہ یہ بدعت ہے مکروہ ہے وغیرہ وغیرہ ورنہ اگر خدا تعالیٰ کو مانتے تو خدا تعالیٰ کو سبز عمامہ والے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم و دیگر تمام صحابہ سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہیں چنانچہ فرمایا۔

’’ والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار‘‘ 

ترجمہ: ’’اول درجے کی سبقت لے جانے والے مہاجر اور انصار‘‘ (پ ۱۱ التوبہ)

فائدہ:

اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین کرام سے بالعموم چار اقوال منقول ہیں۔

۱۔ وہ صحابہ کرام علیہم الرضوان جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز یں پڑھیں یعنی تبدیلی قبلہ سے پہلے ایمان لائے۔

۲۔ غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے صحابہ کرام۔

۳۔ بیعت الرضوان میں شرکت کرنے والے حضرات۔

۴۔ ہجرت میں پہل کرنے والے صحابہ کرام ہیں یعنی مہاجرین اولین جو حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کی ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ سے ہجرت کرگئے اور حضور اکرم ﷺکی ہجرت کے بعد امداد و نصرت میں پہل کرنے والے انصار (رضی اللہ تعالیٰ عنہم)

سبز عمامہ والے صحابہ کرام!

علامہ اما م اسماعیل حقی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ’’ان سابقین حضرات کی یوں ترتیب ہے سب سے افضل خلفاء راشدین ہیں پھر عشرہ مبشرہ میں سے چھ حضرات: ۔ 

(۱) حضرت سعد (۲)حضرت سعید (۳) حضرت ابو عبیدہ (۴) حضرت طلحہ (۵)حضرت زبیر (۶) حضرت عبدالرحمٰن پھرغازیا ن بدر پھر غازیان احد 

پھر بیعت الرضوان والے جن کا کثیر کتب میں ذکر موجود ہے۔

فائدہ:

آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں مفسرین کے منقول اقوال سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ مصنف ابن شیبہ کی روایت میں مذکورہ مہاجرین اولین سے جو لوگ مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نمازیں پڑھیں۔ (۲) شرکاء بدر (۳) شرکاء بیعت الرضوان (۴) ہجرت میں پہل کرنے والے اور یہ وہ بزرگ شخصیات ہیں جن کا مقابلہ مولوی بیچارے تو کسی قطار میں نہیں بڑے بڑے مجتہدین اور اغواث واقطاب بھی نہیں کر سکتے ، ان کا ہر عمل برگزیدہ اور ہر فعل مرغوب ومحبوب ہے۔

نکتہ:

ان آیات مذکورہ میں روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ ان حضرات میں حضرت صدیق اکبر، حضرت فاروقِ اعظم، حضرت عثمان ذوالنونرین اور حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سر فہرست تھے اور اس جگہ یہ وہم بھی درست نہ ہوگا کہ شائد ان مہاجرین نے رسول کریم علیہ السلام کے وصال کے بعد عمامے باندھے ہوں اگرچہ حضور علیہ السلام کے وصال مبارک کے بعد صحابہ کرام کا ایسے رنگوں میں عمامے باندھنا بجائے خود دلیل وجواز ہے ، مگر مذکورہ وہم محض ایک وہم ہی ہو کر رہ جائے گا۔ جس کی کوئی حیثیت بھی نہ ہوگی اس لیے کہ مصنف ابن ابی شیبہ میں مذکورہ روایت میں ایسی کوئی قید وقرینہ نہیں جس سے یہ کہا جاسکے کہ ان مہاجرین صحابہ کرام نے وصال مبارک سے پہلے ایسے رنگ کے عمامے نہیں باندھے تھے بعد میں باندھے تھے ، کیونکہ اس روایت میں مہاجر صحابہ کرام کا مطلق ذکر ہے جو اپنے اطلاق پر جاری رہے گا۔ محض کسی کے وہم سے مقید نہیں ہوگا ۔ مہاجرین اوالین کے بارے میں مفسرین کی مذکورہ وضاحت کے مطابق ان مہاجرین اولین کے بارے میں مفسرین کی مذکورہ وضاحت کے مطابق ان مہاجرین اولین میں وہ صحابہ کرام بھی شامل تھے جنہوں نے بدر وغیرہ مواقع پر جامِ شہادت نوش فرمایا وصال نبوی علیہ السلام سے پہلے انتقال کرگئے۔

لہذا یہ روایت مذکورہ کے اطلاق میں ان صحابہ کرام کا بھی سبز وغیرہ رنگ کے عمامے باندھنا ثابت ہوتا ہے اور اس اطلاق کی روشنی میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ سبز رنگ کا عمامہ باندھنا پیارے صدیق اکبر کی سنت ہے، حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت عثمان ذوالنورین رضی ا للہ تعالی عنہ ، حضرت سیِّدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ تعالی عنہ اور شہداء بدر وغیرہم مہاجرین اولین صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کا عمل مبارک ہے ۔

صحابہ کا عمل مصدقہ رسول ﷺ

صحابہ کرام علیہم الرضوان بالخصوص مہاجرین کہ ان حضرات نے سبز رنگ کے عمامے رسول کریم ﷺ کے سامنے باندھے ہوں اور آپ کا منع فرماناثابت نہیں اور ایسا امر جس کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺنے سکوت فرمایا اور منع نہ فرمایا سنت تقریری و سکوتی کہلاتا ہے چنانچہ دیگر کتبِ اصول کے علاوہ نظامی شرح حسامی میں ہے۔ 

’’السنۃ تطلق علی قول الرسول علیہ السلام وفعلہ وسکوتہ وبالفاظ نظامی عندامریعانیہ‘‘

سنت کااطلاق رسول کریم علیہ السلام کے قول فعل اور اس امر پر کیا جاتا ہے جس کو دیکھ کر آپ نے سکوت فرمایا لہذا اس طرح بھی سبز عمامہ کا مسنون ہونا ثابت ہے۔

خلفاء راشدین کی سنت

جیسا کہ ثابت ہوچکا ہے کہ روایت مذکورہ میں مہاجرین اولین کے مطلق ذکر کے اعتبار سے اس میں خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی داخل و شامل ہیں اور یہ وہ حضرات ہیں جن کی سنت مبارکہ کو رسول اللہ ﷺ نے امت کے لیے اپنی سنتِ پاک کی طرح قرار دیا ، چنانچہ حدیثِ رسول ﷺہے۔

’’فعلیکم بسنتی وسنتہ الخلفاء الراشیدن المھدین‘‘

اور اِن نفوس قدسیہ کے بارے میں فرمایا۔

’’اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم‘‘ 

ترجمہ: ’’ میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے چلو گے راہ پائو گے۔‘‘

بابِ چہارم

اسلامی قواعد و ضوابط!

جن صاحب نے سبز عمامہ کے استعمال کو حرام یا مکروہ یا بدعت کہا اس نے شریعت مطہرہ پر ظلم کیااس لیے کہ اس کا بدعت نہ ہوناتو ظاہر ہے، کہ جب اس کا استعمال حضور سرورِ عالم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے تو بدعت کیسی اورو حرام و مکروہ کے قواعد فقہا و اصولیوں نے بتائے ان میں سے کوئی قاعدہ بھی سبز عمامے کے استعمال کو حرام یا مکروہ نہیں ثابت کرتا۔

شریعت مطہرہ کے حلال و حرام فرمادینے کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی شے کو حرام و ناجائز کہے رسول کریم علیہ السلام نے فرمایا 

’’الحلال ما احل اللّٰہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللّٰہ فی کتابہ وما سکت عنہ فھو مما عفا عنہ‘‘ـ

ترجمہ: ’’یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ اس سے ہے جسے معاف فرمادیا۔‘‘

کتب اصول فتاوی میں مصرح کہ 

’’ الاصل فی الاشیاء الاباحۃ‘‘ یعنی چیزوں میں اصل اباحت ہے ۔ (فتاوی شامی صفحہ ۴۰۶ جلد ۵)

نیز سبز رنگ کے عمامہ کے عدم جواز پر دلیل نہ ہونا خود دلیل جواز ہے کیونکہ مانعین و معترضین کے پاس ایسی شرعی دلیل موجود نہیں جس سے سبز عمامہ کا عدم جواز ہے۔

اصطلاحاً سنت اسے کہتے ہیں جس پر حضور ﷺنے مداومت فرمائی اور ظاہر ہے کہ نبی پاک ﷺنے عمامہ پاک کو دائماً استعمال فرمایا اور سفید رنگ والے عمامے کو ہی محبوب و مرغوب بتایا اور اکثر اسی کو استعمال فرمایا اور جس فعل کا گا ہے عمل ہوا ہوا اسے اصطلاحی سنت نہیں کہیں گے ہاں لغوی لحاظ سے یہی طریقہ کہہ دینے میں ہر ج بھی نہیں جیسا کہ ہمارے فقہا کرام سے اس کا اطلا ق ثابت ہے ۔ فقہ حنفی کی مستند کتابوں میں مذکور ہے۔ 

’’ وقدوری انہ علیہ السلام لبس الجبۃ السوداء العمامۃ السودء یوم فتح مکۃ ولاباس بالارزق وفی الشرعۃ ولبس الاخضر سنۃ (مجمع الانھر صفح ۵۳۲ جلد ۱، بدرالمتقی فی شرح الملتقی برحاشیہ مجمع الانھر 

(صفحہ ۵۳۳ جلد ۲، رد المختار صفحہ ۲۴۷ جلد ۵)

ترجمہ: ’’ رسول کریم ﷺنے فتح مکہ کے دن سیاہ جبہ اورر سیاہ عمامہ استعمال فرمایا، نیلے رنگ میں کوئی حرج نہیں اور ’’ــشرعہ‘‘ میںہے کہ سبز پہننا سنت ہے۔‘‘

حضرت شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

نے فرمایا کہ فقیر ابواللیث کی کتاب بستان میں ہے کہ سفید اور سبز کپڑے مستحب ہیں اور اس کی شرح میں ہے کہ رنگوں میں زیادہ مستحب سفید ہے اور سبز رنگ کی طرف نظر کرنے سے بینائی طاقت پاتی ہے ، اور رسول کریم ﷺنے سبز چادر پہنی اور سبز کپڑے کا پہننا سنت ہے ۔ (کشف الالتباس فی مسائل اللباس صفحہ ۲،۳)

سنتِ صحابہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہم!

ان حضرات نے سبز رنگ کے عمامے رسول کریم ﷺکے سامنے باندھے ہوں اور آپ کا منع فرمایا ثابت نہیں اور ایسا امر جس کو دیکھ کر رسول کریم ﷺنے سکوت فرمایا اور منع نہ فرمایا سنت تقریری و سکوتی کہلاتا ہے چنانچہ شرح حسامی میں ہے ۔

’’ السنۃ تطلق علی قول الرسول علیہ السلام وفعلہ وسکوتہ وبالفاظ نظامی عند امر یعاینہ ـ‘‘

ـترجمہ: ’’ سنت کا اطلاق رسول کریم ﷺکے قول، فعل اور اس امر پر کیا جاتاہے جس کو دیکھ کر آپ نے سکوت فرمایا‘‘ لہذای اسی طرح بھی سبز عمامہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے یونہی مطلق ذکر کے اعتبار سے اس میں خلفاء راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی داخل و شامل ہیں اور یہ وہ حضرات ہیں جن کی سنت مبارکہ کو رسول کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امت کے لیے اپنی سنت پاک کی طرح قرار دیا چنانچہ حدیث رسول علیہ السلام۔

’’ فعلیکم بسنتی وسنتۃ الخلفاء الراشدین المھدین‘‘ 

(ابودائود صفحہ ۲۸۷، ابنِ ماجہ صفحہ ۵، مسند امام احمد صفحہ ۷، ۱۲۶جلد ۴)

انتباہ!

دور حاضر میں علم کی کمی کی وجہ سے اہلِ علم اور صاحبان عمل کو نزاکت زمانہ کا خیال ضروری ہے کہ ہر وہ فعل و قول وعمل رسول کریم ﷺیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے جواز عمل کے لیے ثابت ہو اس پر سنت کا اطلاق نہ کریں اگرچہ شرعاًقباحت نہیں لیکن اصطلاحی اعتبار اور عوام و جہلاء کی غلط فہمی سے بچنا لازمی ہے یا پھر سنت کہہ کر اس کی وضاحت بھی کردی جائے۔

قاعدہ

ہر مباح فعل اہلِ ایمان کے عمل کرنے سے مستحب ہوجاتا ہے جیسا کہ امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ تاللہ تعالیٰ علیہ نے بطورِ قاعدہ لکھا ہے ۔

’’ کل مافعلہ العبدالمومن بنیت خبر خیر‘‘ 

ترجمہ: ’’ ہر مطاح فعل جسے بندہ مومن نیک نیتی سے کرے وہ بھی نیک ہے ۔‘‘ (فتاوی رضویہ صفحہ ۲۷۶ جلد۱)

فائدہ

سبز عمامہ اگرچہ حضور سرورِ عالم کے علاوہ صحابہ کرام واسلاف عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے ثابت ہے لیکن دعوتِ اسلامی کے ممبران بھی سنت خیر سے استعمال فرماتے ہیں جس کی مختصر تشریح آئے گی (ان شاء اللہ عزّوجل) تو اس لحاظ سے اس کی اباحت میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے ہاں ضدو تعصب اور حسدلا علاج بیماری ہے اس کے ہم ذمہ دار نہیں۔

باب پنجم

اقوالِ علمائے کرام

حضور سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ ’’العماء ورثۃ الانبیاء ‘‘ (ترجمہ) ’’علمائے کرام انبیاء علیہ السلام کے وارث ہیں،الحمد للہ حضور سرور عالم ﷺکی امت کے علمائے حق کبھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہوتے انہی کے اجتماع حق میں ایک یہی سبز عمامہ بھی ہے کہ اس کے جواز پر تمام علماء کرام اور ہر زمانے میں متفق رہے ہاں عوارض عوارض ہی ہوتے ہیں اس کے لیے عرض کیا جائے گا ، ان شاء اللہ عزّوجل۔

محدث دہلوی علیہ الرحمۃ الباری

محق علی الاطلاق شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمۃ رسول اللہ ﷺکے لباس مبارک کا فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’دستار مبارک آنحضرت اکثر اوقات سفید بودگا ہے دستار سیاہ احیاناً سبز‘‘ (ترجمہ) ’’ رسول کریم ﷺکی دستارِ مبارک اکثر سفید ہوتی تھی کبھی سیاہ رنگ کی ہوتی اور بسا اوقات سبز رنگ کی ہوتی، (ضیاء القلوب فی لباس المحبوب) لہذا محدث دہلوی کے اس اس قول کی صحت کی صورت میں سبز رنگ کا عمامہ سنت مستحبہ کے زمرہ میں آجاتا ہے اگر بالفرض سیِّدعالم ﷺسے اس رنگ کا عمامہ استعمال فرمانا روایتً منقول و ثابت نہ بھی ہو تو یہ امراظہر من الشمس ہے کہ رسول کریم ﷺنے سبزرنگ کے کپڑوں کو نہ صرف پسند فرمایا بلکہ استعمال بھی فرمایا۔

اما م غزالی رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ علیہ

امام غززالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ ’’ وکان یعجبہ ثیاب الخضر‘‘ 

ترجمہ: ’’ آپ ﷺکو سبز کپڑے خوش لگتے تھے۔‘‘ (احیاء العلوم صفحہ ۴۰۵ جلد ۲)

امام موصوف اس کے آگے نقل فرماتے ہیں 

’’وکان لہ قباء سندس قیلبسہ فتحسن خضروہ علی بیاض لونہ ‘‘ 

آپ ﷺکی سندس (ایک قسم کا کپڑا) کی پوشاک تھی جس کو آپ پہنتے تو آپ کے سفید رنگ پر اس کا سبز رنگ حسین لگتا تھا (احیاء العلوم)

اما م نووی علیہ رحمۃ !

’’ یجوز لبس الثوب الابیض ولا حمر والا خضر والا صفر والمخطط ویرہ من الوان الشیاء لا خلاف فی ھذا ولا کرھۃ فی شئی منہ‘‘

ترجمہ: ’’ سفید ، سرخ ، سبز ، زرد اور لکیر دار وغیرہ لباس جس رنگ کا ہو جائز ہے اس میں کسی اختلاف نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کراہت ہے ۔‘‘

صاحبِ روضہ نے تحریر فرمایا 

’’ تجوز للرجال والنساء لبس الثوب الاحمر والا خضر بلا کراہت‘‘

ترجمہ : ’’مردوں اور عورتوں کو سرخ و سبز کپڑا پہنا بلا کراہت جائز ہے۔‘‘ (رد المختار مصری صفحہ ۳۱۴ جلد ۵)

حضر امام علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے سرخ رنگ کی طویل حث کے بعدفیصلہ فرمایا۔

البس الاخضر ستنۃ کما فی الشرعۃ 

ترجمہ: ’’سبز رنگ پہننا سنت ہے جیسا کہ شرعۃ میں ہے ۔‘‘ (شامی کتاب للباس جلد خامس صفحہ ۳۰۷)

انتباہ!

ہاں ایامِ محرم الحرام میں تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں اعلیٰ حضرت عظیم البرکتہ مجدد دین و ملت امام لھدی خاتم الفقہاء سیدا الحاج عبدالمصطفیٰ احمد رضا خان صاحب قبلہ بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وار ضا عنا ارشاد فرماتے ہیں ایامِ محرم میں یعنی پہلی محرم سے بارھویں تک تین قسم کے رنگ نہ پہنے جائیں (۱) سیاہ کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے ۔ (۲) سبز کہ یہ مبتدعین یعنی تعزیہ داروں کا طریقہ ہے (۳) سرخ کہ یہ خارجیوں کا طریقہ ہے کہ وہ معاذاللہ اظہارِ مسرت کے لیے سرخ پہنتے ہیں ۔ 

(بہار شریعت مصنفہ حضرت صدرالشرعیہ علیہ الرحمۃ صفحہ ۵۳جلد۶، منقول ازافادات رضویہ)

بابِ ششم

سوالات و جوابات!

سوال:۔ شیعہ برادری کے تعزیہ داروں کی مشابہت سے بچنا ضروری ہے علاوہ ازیں بعض گمراہ قوم سبز عمامہ باندھنے کو اپنا شعار بنا رکھا ہے ان کی مشابہت بھی مسلکِ اہلِ سنت کے لیے مضر ہے بلکہ سبز عمامہ گمراہ قوم کا ایک رواج ہے ان کے رواج سے بچنا لازم ہے اور شریعت میں سبز عمامہ کی تصریح بھی نہیں۔

جواب:۔ کسی مقام کا رواج اور چیز ہے اور حکم شریعت دوسری چیز، پھر شریعت میں کسی حکم کا مصرح نہ ہونا اور ہے ، اور عد م جواز شے دیگر، کسی مقام کے عوام و علماء اگر سفید ہی عمامے باندھتے ہوں تو یہ دوسرے رنگ کی ممانعت کی دلیل نہیں اگر شریعت مقدسہ نے کسی چیز کے متعلق کچھ بیان نہ فرمایا ہو تو یہ اس کی کراہیت و حرمت کو مستلزم نہیں بفضلہ تعالیٰ شریعت مطہرہ سے اس کا جائز ومسنون ہونا ثابت ہوچکا ہو، بالفرض اگر کوئی دلیل کسی خاص رنگ پر بھی ہوتی ہے تو بھی عام رنگوں کا حکم اباحت اپنی جگہ پہ ثابت ہے کہ جب تک شریعت مطہرہ منع نہ فرمائے عدم جواز کا حکم نہیں دیا جا سکتا، دار قطنی میں حضرت ابا ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺفرماتے ہیں۔

’’ ان اللّٰہ فرض فرائض فلا تضیعو ھا وحرم حرمات فلا تنتھکوھا وحدودافلاتعتدوھا وسکت عن اشیاء من غیر نسیان فلا تجثواعنھا‘‘

ترجمہ: ’’اللہ نے کچھ چیزیں فرض فرمائیں ان کو ضائع نہ کر و اور کچھ چیزیں حرام فرمائیں ان کے نزدیک نہ جائو اور کچھ حدیں مقرر کیں ان سے تجاوزنہ کرو اور کچھ چیزوں سے بغیر نسیان سکوت فرمایا تو ان میں بحث نہ کرو‘‘ 

(مشکوٰۃ شریف باب الاعتصام صفحہ ۱۲)

فائدہ

اس مقدس فرمان کی تشریح حضرتِ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں فرمائی ہے کہ ۔

’’فبعث اللّٰہ نبیہ وانزں کتابہ وحل حلالہ وحرم حرامہ فما احل فھو حلال وماحرم فھو حرام وما سکت فھو عفو‘‘

ترجمہ : ’’اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مبعوث فرمایا اور اپنی کتاب قدیم ناز ل فرمائی اور حلال کو حلال فرمایا اور حرام کو وحرام کیا تو جو چیز حلال کی گئی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام فرمائی گی وہ حرام ہے اور جس چیز سے سکوت فرمایا معاف ہے ۔‘‘

سوال:۔ مانا کہ سبز عمامہ کا جواز ہوتا ہے لیکن غیروں (شیعوں اور دیندار قوم کی مشابہت کے خطرہ سے احتیاط تو کرنی چاہیے؟

جواب:۔کسی چیز کو حرام و مکروہ کہہ دینے میں (جب تک کہ دلیل شرعی نہ ہو) احتیاط نہیں بلکہ احتیاط اس میں ہے کہ اسے جائز و مباح کہا جائے حضرت امام علامی شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں۔

’’ لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللّٰہ تعالیٰ باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ الذین لا بدلھما من دلیل بل فی القول الاباھۃ التی ھی الاصل و توقف النبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم مع انہ ھو المشروع فی تحریم الخمرام الخبائث حتی نزل علیہ اپ]؛۔؎ْأ۰لنص القطعی‘‘

ترجمہ: ’’احتیاط اس میں نہیں ہے کہ حرمت و کراہت کے اثبات سے اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے کہ حرمت وکراہت کے لیے بغیر دلیل چارہ نہیں بلکہ احتیاط مباح کہنے میں ہے کہ وہی اصل ہے اور حضورِ پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے باوجود یہ کہ آپ کی ذاتِ مقدسہ خود صاحبِ شرع ہے شراب جیسی اُم الخبائث کے حرام فرمانے میں تو قف فرمایا یہاں تک کہ آپ پر نص قطعی نازل ہوئی۔ (شامی کتاب الاشربہ جلد خاص صفحہ ۴۰۶)

نیک مشورہ!

آج جب کہ سفید عمامے کے علاوہ ہر رنگ کے عمامے کو ناجائز سمجھا جانے لگا ہے میں ان صاحبان کی خدمت میں جو صرف سفیدہی عمامے استعمال فرماتے ہیں گزارش کروں گا کہ اے عاشقانِ سنت رسول ﷺ زمانہ روش بدل گیا آپ بھی اپنی طرز میں تھوڑی سی تبدیلی اختیار فرمائیں اورگاہے بگا ہے رنگین عمامے کے استعمال فرما کر عوام کے خیالات کی اصلاح فرمادیں۔

فائدہ

یہ مشورہ صدیوں پہلے فقہا نے بیان فرمایا چنانچہ ملاحظہ ہو۔

’’ (السنۃ السور الثالث) ای الاعلی والکفرون والاخلاص لکن فی النھایہ ان التعین علی الدوام یفضی الی اعتقاد بعض الناس انہ واجب وھولا یجوز فلوقراء بماورودبہاالاثار احیانابلا مواظبۃ یکون حسنا‘‘

ترجمہ: ’’(وتر میں) تین سورتیں سنت ہیں۔ (۱) سبع اسم (۲) قل یاایھا الکفرون (۳) قل ھو اللّٰہ احد لیکن نہایہ میں ہے کہ ہمیشہ ان سورتوں کا تعین بعض لوگوں کا اعتقاد اس جانب لے جائے گا کہ یہ واجب ہیں کہ اورو ایسا اعتقاد جائز نہیں ۔‘‘ (شامی مصری جلد اول باب القراۃ صفحہ ۵۰۸)

یہی علامہ شامی رحمۃ الباری فرماتے ہیں۔

’’اما لَوْقَرَا لِلبتیسیر علیہ اوتبر کا بقرآتہ علیہ الصلوۃ والسلام فلا کراھۃ لکن بشرط ان یقرآ غیرھا احیانا لئلا بظن الجاھل ان غیر ھالا یجوز‘‘

ترجمہ: ’’اگر یہ سورتیں آسانی کے لحاظ سے پڑھے یا حضور اقدس ﷺ کی قرات مبارک کے ساتھ تبرک حاصل کرنے کی غرض سے پڑھے تو کراہت نہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کبھی کبھی ان کے علاوہ دوسری سورتیں بھی پڑھ لیا کرے تاکہ جاہل یہ گمان نہ کریں کہ ان کے علاوہ جائز ہی نہیں۔‘‘ 

(شامی مصری جلد اول باب القراۃ صفحہ ۵۰۸)

سبز عمامہ پوش برادری!

اس برادری میں اکثر کم علم اور بے خبر لیکن عاشقانِ رسول ﷺ ہوتے ہیں ان کے اذہان صاف رکھنے کے لیے کبھی کبھی انہیں سفید عمامے عمل میں لائیں یا گھروں میں سفید اور قافلہ کے سربراہ کے سر پر اور بیرونِ سفر میں سبز عمامے استعمال فرمائیں تاکہ حاسدین کو اعتراض کا موقعہ نہ ملے۔

سوال:۔ سبز عمامہ آٹھویں صدی کی ایجاد ہے لہذا بدعت ہے اور بدعت سے بچنا ضروری ہے ۔

جواب:۔ سیِّدی عبدالغنی بابلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اپنا نسب بدلنے کے قبیل سے یہ بھی ہے کہ سید زادی کی اولاد جو غیر سید ہے خاص سیز عمامہ اس نیت سے باندھے کہ وہ ایسا کرنے سے اپنے غیر سید باپ دادا سے اپنا سنب منقطع کرنے اور اپنے سید نانا سے اپنا نسب جوڑنے کا قصد کرے اور اگر سید زادی کی یہ اولاد خاص سبز عمامہ نہ باندھے بلکہ سفید عمامہ میں کوئی ایسی علامت اختیار کرے جس سے اس کا سید زادی کی اولاد ہونا ثابت ہوتا کہ لوگ اس کا احترام کریں اور اس کی بے ادبی سے بچیں تو یہ اپنا نسب بدلے کے قبیل سے نہین ہوگا جو کہ خالص سبز عمامہ کا نجیب الطرفین سیدوں کے لیے اور سفید عمامہ میں مخصوص علامت کا سیدزادی کی اولاد کے لیے شعار ہونا لوگوں کے عرف وعادات کی بناء پر ہو ورنہ ان دونوں کی شرح میں کوئی اصل نہیں علامہ عبدالرئوف منادی شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں کہ امام ذہبی نے کہا ہے کہ سبز عمامہ علامت کے لیے شرح میں کوئی اصل نہیں ہے بلکہ سلطان شعبان کے حکم سے یہ ۲۲۳ ؁ میں حادث ہوئی۔

امام عبدالغنی یابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس ارشاد نے صاف صاف بتادیا کہ ۷۷۳؁ تک اکثر مسلمانوں اور ان کے مشائخ وعلماء کا عام لباس سفید رنگ کے کپڑے اور سفید رنگ کا عمامہ تھا سلطان شعبان نے اس سن میں حکم دیا تو سبز عمامہ نجیب الطرفین سادات نے اس لیے باندھنا شروع کیا تاکہ لوگ اس عمامہ کو دیکھ کر ان کا ادب بجا لائیں اور ان کی بے ادبی سے بچیں۔

فائدہ

یہی علت دعوتِ اسلامی کے ممبران کے لیے بن سکتی ہے کہ سبز عمامہ سجانے والوں کو عوام حقیقی سنی سمجھ کران کی تبلیغ سے استفادہ کرسکے ، وورنہ سب کو معلوم ہے کہ تبلیغ کے نام پر بھروپیہ کس طرح عام کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ مخالفین کے پاس سبز عمامہ کی کراہت و بدعت اور حرام اور منع ثابت کرنے پر کوئی دلیل نہیں اور بحمد اللہ جوا زپر فقیر نے اتنے دلائل قائم کردیئے ہیں کہ منکر کو انکار کی گنجائش نہیں ہوگی ۔ ان شاء اللہ عزّوجل

لطیفہ

یہی سوال وہابیوں اور دیوبندیوں نے میلاد اور اذان کے وقت صلوٰۃ وسلام پڑھنے کے لیے اٹھایا تھا اس کے اس سوال کو اہلِ سنت کے علماء کرام نے ایسا دفنایا کہ عدم سے وجود میں آنا ممکن ہوگیا ہے، لیکن بدقسمتی سے وہی سوال سبز عمامہ پر حاسدین کے حصہ میں آگیا۔ ( اناللّٰہ وانا الیہ راجعون)

سوال:۔ مُلا علی قاری ودیگر اکابر علماء کرام نے شہرت تک کے لباس کی مذمت کی ہے سبز عمامہ شہرت کے لیے پہنا جاتا ہے ۔

جواب:۔ اس میں سبز عمامہ کی کیا تخصیص ہے شہرت کا لبا س ہو یا کوئی عمل ہو سب حرام ہے احیاء العلوم شریف کا مطالعہ کیجئے اس سے واضح ہوگا کہ یہ مرض ایسا مہلک اور موذی ہے کہ اس سے سوائے انبیاء اولیاء علی نبینا علیہم الصلوۃ والسلام کے کوئی بھی نجات یا فتہ نہیں اگر اس جرم میں سبز عمامہ سزا کا مستحق تو معترضین خود کو بھی اس کی سزا سے نہیں بچا سکتے۔تفصیل کے لیے فقیر کی تصنیف ’’انطاق المفہوم‘‘ ترجمہ احیاء العلوم‘‘ اور ’ ’دل کی چالیس بیماریوں اور ان کاعلاج ‘‘ پڑھیے۔

سوال:۔ سبز عمامہ باندھنے سے دیندار قوم کے ساتھ مشابہت پیدا ہوتی ہے جو کہ ناجائز اور ممنوع ہے ۔

جواب:۔ دیندار ہمارے عرف میں نو مسلم قوم کو کہا جاتا ہے لیکن مخالفین کی مراد ایک گمراہ فرقہ ہے ، جس کے وجود کا علم صرف بعض لوگوں کو ہے اور وہ بھی چند محدود افراد ہیں اور جس علاقہ میں وہ پائے جاتے ہیں اس علاقہ میں بھی ان کی تعداد معدود اور حلقہ محدود و مغلوب ، جب کہ بحمد تعالیٰ ان کے مقابلے میں دعوتِ اسلامی کے ساتھ وابستہ افراد کی تعداد و حلقہ وسیع وغالب ہے لہذا ان دینداروں کا حال ’’القلیل کا لمعدوم‘‘ اور دعوتِ اسلامی کی حیثیت ’’للاکثرحکم الکل‘‘ کے ضابطہ کے تحت داخل ہے جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ یہاں مشابہت والی کوئی بات نہیں جس کے بناء پر سبز عمامے کے استمال ناجائز و ممنوع قراردیا جا سکے اور نہ ہی ایسی صورت کو حکم مشابہت کے تحت داخل کیا جا سکتا ہے کیونکہ مشابہت بالقوم ’’من تشبہ قوم فھو منھم‘‘ کے چند قواعد واصول ہیں جب وہ یہاں ہیں ہی نہیں تو پھر خواہ مخواہ محض ضد سے ناجائز اور حرام و مکروہ بدعت کہنا اپنی عاقبت برباد کرنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔

سوال:۔ دعوتِ اسلامی بطورِ شعارا سے استعمال کرتے ہیں اور زمانے قدیم میں سبز عمامے کا کوئی رواج نہ تھا، اشرف شعبان بن حسن کے حکم سے معرضِ وجود میں آیا تو فقہا نے بھی اسے ’’ من حیث الشعار کراھۃ‘‘ کا فتوی دیا اسی لیے ہم بھی دعوتِ اسلامی کے شعار کے اعتبار سے کراہت کا فتوی دیتے ہیں۔

جواب:۔ اس سوال کا تمام دارومدار شعار پر ہے اور نہ ہی بادشاہ شعبا ن مذکور کے حکم سے اس کی کراہت کا ثبوت ملتا ہے تو سب سے پہلے فقیر یہ عرض کردے کہ شعار کی دو قسم ہے (۱) اپنے لیے واجب قرار دینا (۲) اختیاری طور پر علامت بنانا جس میں کوئی دوسری مصلحت دینی ملحوظ ہو۔

بادشاہ مذکور نے شعار سادات کے لیے سبز عمامہ ضرور بنا یا لیکن یہ شعار اختیاری تھا حضرت علامہ ابنِ حجر مکی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں۔

’’فاذا کانت حادثۃ فلا یؤمر بھا الشریف ولا ینھی عنھا غیرہ علی ماقالہ الجلال الیسوطی‘‘ (صفحہ ۱۶۸ فتاوی حدیثہ)

ترجمہ: ’’یعنی سبز عمامہ بطورِ علامت پہننا جب یہ نئی چیز ہے تو اسے پہننے کا شریف یعنی سید کو حکم نہ دیا جائے گا اور دوسرے حضرات کو اسے پہننے سے روکا نہ جائے گا‘‘ مطلب یہ ہے کہ کسی سید کو سبز عمامہ بطورِ علامت پہننے کے لیے مجبور نہ کیا جائے کیونکہ یہ علامتِ شرعی نہیں اور اگر کوئی غیر سید کبھی کبھار یا ہمیشہ پہنتا ہے تو اسے منع نہ کیا جائے۔

فائدہ

اس سے ثابت ہوا کہ یہ شعاراختیار تھا ہاں اسے شعار بنانا اگرچہ اختیاری تھا اس کی زمانہ قدیم میں کوئی اصل نہ ہونا ہمارے لیے مضرنہیں اسی کو فقہا نے ’’لااصل لہ‘‘ فرمایا اور ان کا زمانہ قدیم کی نفی کا مطلب بھی یہی تھا یعنی فقہاء کرام کی عبارت میں مطلق زمانہ قدیم میں سبز عمامہ کے وجود کی نفی نہیں بلکہ بطورِ علامت باندھنے کی نفی ہے اور ان عبارات میں ’’لااصل لھا یا لیس لھا اصل فی الشرع‘‘ سے مراد بھی یہی ہے کہ علامت کے طور پر اسے باندھنے کی شرع میں اصل نہیں اور جہاں تک زمانہ قدیم میں اس کے وجود کا تعلق ہے تو وہ ہم مصنف ابن شیبہ کی صریح روایات سے ثابت کرچکے ہیں جس سے کسی منکر مخالف کو انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔

اختیاری شعار بوجہ مصلحت کی مثالیں

کسی لباس وغیرہ کو علامت کے طور پر دنیوی یادینی مصلحت کے پیش نظر عام ہے مثلاً تعلیمی اداروں کے طلباء کو یونیفارم ، پولیس اور فوج کی وردی کہ ان کی وردیاں جو علامتاً پہنائی جاتی ہیں ایسی ہی جلسوں کے مواقع ہرکارکنوں کا علامتی شعار ہوتا ہے بلکہ اہلِ سنت کے مختلف خانوادوں کے منسلکین و متوسلین بطورِ شعار اپنی عقیدت کا اظہارکرتے ہیںمثلاً سلسلہ قادریہ، نقشبندیہ کی ٹوپیاں اور ان کے ذیل سلسلوں کی مخصوص علاما ت مثلاً خواجہ خواجگان، خواجہ غلام فریدصاحب قدس سرہ کا سرخ رومال پھر چونڈی شریف کی مخصوص ٹوپی سیال شریف کی ٹوپی میں سرخ پٹی وغیرہ وغیرہ یہ تمام علامات بطورِ مصلحت ہیں کہ جونہی صاحبِ منسلک اپنے پیر بھائی کی علامت دیکھتا ہے اسے دنیاوی امور میں سہولیات کے علاوہ روحانی تسکین بھی نصیب ہوتی ہے اور ایک دوسرے سے روابطہ میں قرب و بعد کی طنابین لوٹ جاتی ہیں ایسے ہی سبزعمامہ دعوتِ اسلامی کا شعار سمجھ لیجئے کہ دور دراز علاقہ جات میں ان کی اس علامت سے اہلِ سنت کے روابطہ مضبوط ہوتے ہیں بستر بندوں کی مکاریون کا پردہ چاک ہوتا ہے عوام اہلِ سنت کو اجنبیت سے نکال کر دائرہ موانست میں لایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ اور وہ ہیں اپنی مجلسوں میں سفید عمامے کو استعمال فرماتے ہیں ڈیوٹی کے وقت پولیس، فوجی وردی پہنتا ہے اور فراغت وہ اسے لازمی نہیں سمجھتا یونہی انہیں سمجھ لیجئے۔

شرعی امور

فقہی شروعی مسائل میں بھی یہی قاعدہ بہت بڑے مسائل اختلافیہ کا حل ہے دلائل میں ہم نے مخالفین کو بے شمار دلائل میں سے یہ دو دلیلیں دی تھیں۔

۱۔ سیِّد نا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعرات کے دن وعظ کے لیے متعین کر رکھا تھا اور وہ اسے ضروری نہیں مصلحت کے طور پر رکھا کرتے تھے۔

۲۔ ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر رکعت علاوہ دوسری سورۃ کے سورۃ اخلاص کو ضرور پڑھتے تھے ان سے پوچھا گیا تو جواباً فرمایا مجھے اسی سے محبت ہے تو حضور ﷺ نے 

بہشت کی نوید سنائی۔

۳۔ فقہ کا مسئلہ ایک اسی قاعدہ کا مر ہو نمنت ہے جو قدوری سے شامی تک تمام کتب فقہ میں موجود ہے اب کہ اگر کوئی سورۃ مقرر کرکے پڑھا ہے لیکن اسے ضروری نہیں سمجھتا جائز ہے وغیرہ وغیرہ۔

اب کسی کا اعتراض کے طور پر یہ کہنا کہ یہ زمانہ قدیم میں نہ تھا لہذا یہ بدعت و ناجائز ہے ، یہ وہی بات ہے جو آج تک مخالفین اہلِ سنت معمولاتِ اہل سنت کے بارے میں کہتے چلے آرہے ہیں ہم انہیں بھی کہتے رہے اور سبز عمامہ کے معترضین کو بھی کہتے ہیں کہ اہلِ سنت کے وہ معمولات جن کے متعلق وہابی دیوبندی بدعت وناجائز ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹتے ہیں اور دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کا سبز عمامہ باندھنا یہ التزام شرعی نہیں بلکہ ایسے عمامہ سے نفس عمامہ کے حوالے سے ادائیگی سنت پاک مراد ہے ، ورنہ منکرین کی طرح سبز عمامے کے بھی کئی ایسے معمولات ہیں جو ان کے ضابطہ کلیہ کی زرد میں آتے ہیں اور یہ حضرات انہیں جائز وباعثِ ثواب سمجھتے ہیں خلاصہ یہ کہ سبز عمامہ اگرچہ بطورِ علامت و شعار ہو تو بھی جائز ہے اس سے سنت عمامہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا اگرچہ افضل عمامہ سفید ہے ۔

زمانہ قدیم بلکہ خود نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام نے استعمال فرمایا ہے فلبہذانہ بدعت ہے نہ مکروہ۔

سوال:۔ شرح شرعتہ الاسلام میں لکھا ہے کہ سبز رنگ پر مدادمت مکروہ ہے ۔

جواب:۔ اصل کتاب میں لباس کا ذکر ہے اور لباس میں اگرچہ عمامہ بھی داخل ہے مگر اس عبارت کے شروع میں عورتوں کے لباس کے رنگ کا ذکر اس بات پر صریح قرینہ ہے کہ یہاں عمامہ مراد نہیں بلکہ مکمل لباس مرادہے۔

لطیفہ

جسے کسی شے سے صد ہو تو ادھر ادھر کی خوب مارتا ہے ہر طرح سے ہاتھ پائوں مار کر اپنا مقصد ثابت کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن بے سود، یہ ڈوبتے کو تنکے کا سہاراوالا معاملہ ہے ورنہ ان غریبوں کے پاس سبز عمامہ کی کراہت وبدعت کے اثبات میں ایک آدھی لنگڑی دلیل بھی نہیں اگرچہ کچھ غلط سلط سہارا لیتے ہیں تو وہ بھی انہیں الٹا مضر ثابت ہوتا ہے۔

آخری وار

جب سفید عمامہ افضل ہے تو افضل کو چھوڑ کر مفضول کو استعمال کرنے کا کیا فائدہ؟

جواب:۔ واقعی ہمارا مشورہ بھی یہی ہے لیکن کبھی مصلحت دینی یا دنیوی کی مجبوری سے افضل کا ترک ہی مفید ہوتا ہے فقیر چند شرعی مثالیں قائم کرکے اس بحث کو ختم کرتا ہے ۔

اعلیٰ مسجد و افضل اجروثواب

تفسیر روح البیان ودیگر کُتبِ فقہ میں مرقوم ہے مسجد میں کھلے میدان میں نماز (سجدہ گیرہ) افضل ہے اور مسجد وہی افضل ہے جو کچی ہو ، اور حضور سرورِ عالم ﷺ کے زمانہ اقدس میں تھی اور بس۔

اعلیٰ اور افضل کا ترک ضروری ہوگیا

مسجدکے ہزاروں ڈیزائن تبدیل کردیئے گئے مسجد کے میدان پرپکی اینٹیں، سیمنٹ ، اور چپس وغیرہ اس پر مزید برآں چٹائیاں، دریاں، قالینیں (یعنی بدعات ہی بدعات) اور افضل عمل کا ترک ہے وغیرہ وغیرہ مزید تفصیل فقیر کے رسالہ ’’بدعات المسجد‘‘ میں پڑھیں۔

اعلیٰ وضو

کنویں سے پانی بذریعہ ڈول اور رسی نکال کر مٹی کے کوزے میں پانی ڈال کر قبلہ رخ بیٹھ کر وضو کیا جائے لیکن ابنہ کنویں، چاہک رہیں اور نہ رسیاں نہ بوکے اور نہ کوزے لیکن یہ بدعات بدعت کے مفتیوں کو بھی گوارہ ہیں اور سبز عمامہ کے مخالفین کو بھی وغیرہ۔

قرآن مجید

جس پر نہ اعراب (زیر، زبر، پیش) نہ نقطے (معری ہی معری) جیسے حضور نبی پاک ﷺ کے زمانہ اقدس میں تھا کہ ہر طرح ہی بدعات سے قرآن کو مزین کیا جا رہا ہے یہاں اعلیٰ قسم کا خیال تک نہیں اور نہ ہی اعلیٰ قسم پر عمل ہو سکتا ہے بلکہ روز بروزادنی سے ادنی اقسام اور بدعات کی طرف ہم سب بڑھ رہے ہیں جن میں نہ بدعت کے فتوے کے خیال اور اعلیٰ قسم پر عمل کا تصور وغیرہ۔

فیصلہ

بوجہ ضرورت و مصلحت عمامہ سفید کی بجائے سبز عمل میں لایا جا رہا ہے توکوئی حرج نہیںاصل مقصد تو حاصل ہو رہا ہے ، یعنی سنت عمامہ پر عمل اسی لیے یقین کیجئے کہ سبز عمامہ سجانے کا وہی ثواب ہے جو سفید عمامے کا ہے صرف رنگ کی حیثیت سے افضلیت سفید عمامے میں ہے اور وہ اگر مصلحت در پیش ہے اور دین کا کام آگے بڑھتا ہے تو بڑھنے دیجئے بلکہ ان کا ہاتھ بٹائیے اور روڑے نہ اٹکائیے ۔ ’’مناع للخیر‘‘ نہ بنیئے۔

(وما علیناالا بلاغ المبین) 

مدینے کا بھکاری 

الفقیر القادری ابو الصالح محمد فیض احمد اویسی رضوی غفرلہ 

بتاریخ ۲، ۱۴۱۹؁ ھ بروز بہاولپور پاکستان 

تتمہ

فقیر نے رسالہ اختتام تک پہنچایا تو ایک پمفلٹ کراچی سے کسی نے بھیج کر فرمایا کہ سبز عمامہ کے عدم جواز پر اہلِ سنت کے دونامور مفتی صاحبان کے فتاوی مطبوعہ حاضر ہیں ان کے فتاوی سے عدم جواز ثابت ہوتا ہے بلکہ مفتی غلام سرور صاحب نے بدعت ثابت کیا ہے فقیر نے دونوں فتاوی غور سے دیکھے حضرت علامہ قبلہ مفتی محمد وقارالدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے فتوی سے بھی جواز کا ثبوت ملا جب کہ انہوں نے بھی شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے رسالہ کا حوالہ لکھا ہے اور فقیر کے رسالے کے دلائل کا خلاصہ بھی جواز پر ہے البتہ انہوں نے عدم جواز کا ایک سبب دین اور جماعت سے شابہ کا لکھا ہے اس کا جواب فقیر نے اپنے رسالہ میں مفصل لکھا ہے اسی لیے اب اس کے اعادہ کی ضرورت نہیں ممکن ہے حضرت مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا یہ فتوی دعوتِ اسلامی کے ابتدائی زمانے کا ہو جب کہ دین دار جماعت صرف محدود علاقے تک معروف ہے اور دعوتِ اسلامی اب ہمہ گیر جماعت بن گئی ہے اس اعتبار سے تشابہ کی علامت بھی ختم اس لیے کہ تشابہ کا قاعدہ ہے ادنی کو اعلیٰ سے تشبہہ ہو یہاں دین دار جماعت کا شہر میں ادنی ہونا طاہر ہے علاوہ ازیں تشبیہ میں نیت کو بھی داخل ہوتا ہے ، یہ دونوں چیزیں مفقد ہیں باقاعدہ شرعہ ارتفاع علت سے ارتفاع حکم ہوتا ہے اسی لیے حضرت مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فتوی ہمارے دلائل کے خلاف نہیں ہاں حضرت علامہ مفتی غلام سرور صاحب پر کسی ٹیڈی مجتہد کا سایہ پڑگیا ہے یا انہیں دعوتِ اسلامی سے کوئی رنجش ہے جس کی وجہ سے وہ سبز عمامہ کو عدم جواز کے علاوہ بدعت کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں جس کا ثبوت احادیث صحیحہ سے ہے وہ فعل بدعت کیسے ہوگیا بہر حال دونوں فتاوی کے جوابات فقیر کے رسالہ میں موجود ہیں اسی لیے یہ تصادنہیں بلکہ اظہار حقیقت ہے اللہ اہلَ سنت کو آپس میں محبت واتحاد کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

مدینے کا بھکاری

ابوصالح محمد فیض احمد اویسی غفرلہ بہارلپور

۵ ح ۲ ۱۴۱۹؁ ھ