:: علم غیب عطائی :: 

دیوبندی ، وہابی اور غیر مقلدین نام نہاد اہلحدیث حقیقت میں اہل خبیث کے اکابر نبی پاک ﷺ کے علم غیب عطائی کو بھی شرک قرار دیتے ہیں ۔علم غیب عطائی ماننے والے کو ابوجہل جیسا مشرک کہتے ہیں ۔

اہلسنّت والجماعت نبی اکرم نور مجسم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی عطا سے اوّلین اور آخرین کے حالات جاننے والا اور غیب کی باتیں بتانے والا کہتے ہیں ۔

اللّٰہ تعالیٰ کا قرآن مجید فرقان حمید میں فرمان ہے ::

وَمَاکَا نَ اللّٰہُ لِیُطلِعَکُم عَلَی الغَیبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجتَبِی مِن رُسُلِہ مَن یَّشَا ئُ۔ (پارہ 4 رکوع 9 ّ)

ترجمہ :: اور اللہ کی یہ شان نہیں کی اے عام لوگوں تمہیں غیب کا علم دے ۔ہاں اللہ چُن لیتا ہے اپنے رسولوں سے جسے چاہے ۔

امام سیوطی رحمۃاللہ علیہ کا عقیدہ ::

اس آیت کے تحت امام اجل جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ معنٰے یہ ہیں کہ اللہ اپنے رسولوں میں جس کو چاہتا ہے چُن لیتا ہے ۔پس ان کو غیب پر مطلع کرتا ہے ۔ ( تفسیر جلالین صفحہ 66 )

علامہ حقی علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

علامہ اسماعیل حقی علیہ الرحمۃ اِسی آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ پس حقائق اور حالات کے غیب نہیں ظاہر ہوتے بغیر رسول ِ اکرم ﷺ کے واسطہ سے ۔ ( تفسیر روح البیان صفحہ 132 جلد 2 مطبوعہ بیروت )

دوسرے مقام پر اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے ::

وَ عَلَّمَکَ مَا لَم تَکُن تَعلَم وَکَانَ فَضلُ اللّٰہِ عَلَیکَ عَظِیمََا۔ (پارہ 5 رکوع 14 )

ترجمہ :: اور تم کو سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے ۔

امام رازی علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

امام المفسرین فخرالدین امام رازی علیہ الرحمۃ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں:: اَی مِنَالاَحکَامِ وَالغَیبِ۔

یعنی احکام اور غیب ۔ ( تفسیر کبیر مطبوعہ مصر )

امام نسفی علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

امام نسفی اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں :: یعنی شریعت مطہرہ کے احکام اور امور دین سکھائے اور کہاگیا ہے کہ آپ ﷺ کو علم غیب میں وہ باتیں سکھائیں جو آپ نہ جانتے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ کو چھپی چیزیں سکھائیں اور دلوں کے رازوں پر مطلع فرمایا اور منافقین کے مکر و فریب آپ کو بتادیئے ۔ اُمو ر دین سکھائے ، چھپی ہوئی باتیں اور دلوں کے راز بتائے ۔ (تفسیر مدارک التنزیل جلد 1 صفحہ 250 مطبوعہ بیروت )

علامہ کاشفی علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

علامہ کاشفی علیہ الرحمۃ نے اپنی تفسیر میں اسی آیت کے تحت فرمایا ہے :: یہ ماکان وما یکون کا علم ہے کہ حق تعالیٰ نے شب ِ معراج میں حضور ﷺ کو عطا فرمایا چنانچہ حدیث معراج میں ہے کہ ہم عرش کے نیچے تھے ایک قطرہ ہمارے حلق میں ڈالا ، پس ہم نے سارے گزرے ہوئے اور آئندہ ہونے والے واقعات معلوم کرلئے ۔ ( تفسیر حسینی فارسی صفحہ 124 )

خداوند کریم جل جلالہ کا ارشاد ہے ::

اَلرَّحمٰنُ عَلَّمَالقُرانِ ۰ خَلَقَ الاِنسَانَ ۰ عَلَّمَہُ البَیَانَ۰ (پارہ 27 رکوع 11 )

ترجمہ :: الرحمٰن نے اپنے محبوب ﷺ کو قرآن سکھایا ، انسانیت کی جان محمد ﷺ کو پیدا کیا ۔

علامہ خازن علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

تفسیر خازن میں اس آیات کے تحت لکھا ہے کہ کہا گیا ہے کہ انسان سے مرا د حضرت محمد ﷺ ہیں کہ ان کو اگلے پچھلے امور کا بیان سکھادیا گیا کیونکہ حضور اکرم ﷺ کو اگلوں پچھلوں کی اور قیامت تک کے دن کی خبر دے دی گئی ہے ۔

علامہ قاضی ثناء اللّٰہ پانی پتی علیہ الرحمۃکا عقیدہ ::

علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی علیہ الرحمۃنے اپنی تفسیر مظہری میں فرمایا ہے :: اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اسرار و مغیبات کے علوم عطا فرمائے ۔ ( تفسیر مظہری )

علامہ جار اللّٰہ محشری ::

علامہ جار اللہ محشری نے اپنی تفسیر کشاف میں فرمایا ہے :: خفیہ امور لوگوں کو دلوں کے حالات ، امور دین اور احکام شریعت ۔ (تفسیر کشاف جلد 1 صفحہ 563 مطبوعہ بیروت )

علامہ بغوی علیہ الرحمۃ کا عقیدہ ::

تفسیر معالم التنزیل میں اُنہیں آیات طیبات کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے ::

اللہ تعالیٰ نے انسان یعنی محمد ﷺ کو پیدا فرمایا اور ان کو بیان یعنی اگلی پچھلی باتوں کا بیان سکھادیا ۔ (تفسیر معالم التنزیل )

تمام ثبوت قرآن و حدیث سے پیش کیے گئے ہیں جس سے نبی پاک ﷺ کا علم غیب واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہوتا ہے ، لیکن دیوبندی ، وہابی اور غیر مقلد حضرات کے نزدیک یہ عقیدہ کفر و شرک ہے ، جبکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہوگیا اور پھر حضرات اہلسنّت و الجماعت ہونے کا دعویٰ بھی کریں تو یہ صریحاََ دھوکہ اور فریب ہے لہذا قرآن و حدیث کی روشنی میں معلوم ہوا کہ یہ اہلسنّت والجماعت نہیں ۔

:: ازافادات ::

مولانا محمد ضیاء اللّہ قادری اشرفی صاحب علیہ الرحمۃ 

والسلام 

سلیمان سبحانی