مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے بارے میں میرا تاُثر

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے بارے میں میرا تاُثر

میں جب پہلی بار مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے کراچی گیا تو اسی ذہن سے گیا تھا کہ وہاں تمام سرگرمیوں کا ناقدانہ جائزہ لوں گا کیونکہ میں نے سن رکھا تھا کہ کمیٹی کو وزارت مذہبی امور جس دن عید یا روزہ رکھنے کا اعلان کرنے کا کہتی ہے تو کمیٹی اسی کے مطابق اعلان کر دیتی ہے ۔ یہ بات بھی سن رکھی تھی کہ مفتی پوپلزئی کی شہادتوں کو کمیٹی لائق اعتنا نہیں سمجھتی ۔

چنانچہ میں چند اجلاسوں میں خاموشی کے ساتھ تمام کارروائیوں کو باریک بینی سے دیکھتا رہا کیونکہ میرا پختہ ارادہ تھا کہ اگر مجھے کمیٹی کی کارروائیوں میں کہیں بھی کوئی معمولی شبہ بھی نظر آیا تو میں اس کمیٹی کا حصہ نہیں رہا ہونگا ۔ مفتی منیب الرحمان حفظہ اللہ سے دیرینہ یاد اللہ تھی اس کے باوجود عزم مصمم یہی تھا کہ دین کے معاملے میں بلا خوف ملامت حق بات کہہ دونگا ۔

بحمد اللہ اپنے مشاہدے کی بناء پر میں نے انہیں اس معاملہ میں سخت احتیاط کرنے والا پایا ۔ وہ رویت پر شہادتوں کے معاملے میں کسی قسم کے دباوُ کی معمولی سی بھی پرواہ نہیں کرتے اور جسے حق سمجھتے تمام حاضر اراکین کی مشاورت اور منظوری سے وہی اعلان کرتے ۔ یہاں یہ بات بیان کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ کئی دیگر مسائل پر مفتی صاحب سے اختلاف بھی رہا ہے لیکن یہ تبصرہ رویت ہلال کمیٹی کے حوالے سے ہے ۔ اسی لئے علی روُس الاشہاد یہ سطور لکھی ہیں

ہوٹل میں قیام کے دوران دیگر اراکین سے بھی ملاقات ہوتی ۔ میں نے محسوس کیا کہ مسلکی تعصبات کی بنیاد پر کچھ دیگر اراکین انکے ساتھ منافقت کرتے ہیں اور رویت ہلال کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر تنقید بھی کرتے ہیں حالانکہ وہ خود ان فیصلوں کا حصہ ہوتے ہیں لیکن اجلاس میں وہ بھیگی بلی بنے بیٹھے رہتے ہیں بلکہ فوٹو سیشن میں مفتی صاحب کا قرب حاصل کرنے کیلئے ہر جائز و ناجائز حربہ بھی استعمال کرتے ہیں ، پھر مختلف چینلز پر کا جا کر رویت ہلال کمیٹی کے دفاع میں بھی رطب اللسان پائے جاتے ہیں ۔

اس سے مجھے اندازہ ہوا کہ انکا ہدف مفتی صاحب کی ذات ہے اور وہ اندر ہی اندر سے کوشاں رہتے ہیں کہ کسی طریقے سے انہیں اس منصب سے ہٹا دیا جائے اور خود براجمان ہوا جائے ۔ اسی نوع کی ایک کاوش ن کی حکومت میں بھی ہو چکی ہے ۔ لیکن اللہ کا کرنا کہ ان میں سے سب سے زیادہ متحرک رکن کو خود کمیٹی کی رکنیت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ۔ اب وہ موجودہ حکومت میں بھی رسوخ رکھتے ہیں اس لئے مجھے یقین ہے کہ مفتی صاحب کے خلاف جو سازش اب سر اٹھا رہی ہے اس کے ڈانڈے بھی ان سے ملتے ہیں ۔

میں یہ بات علی وجہ البصیرت اور مکمل شرح صدر کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اگر یہ سازش کامیاب ہوئی تو رویت ہلال ایک کھیل تماشہ بن جائے گی ۔ میری دانست میں مفتی صاحب کمیٹی کی وجہ سے باوقار نہیں ہیں بلکہ کمیٹی انکی وجہ سے با وقار ہے ۔

ایک آخری بات جس کی وضاحت مفتی صاحب خود بھی فرما چکے ہیں کہ رویت ہلال کمیٹی کو تنخواہ یا مراعات نہیں ملتیں بلکہ ہلال عید کی رویت کیلئے جو اجلاس کراچی میں منعقد ہوتا ہے اس میں افطار اور کھانے کا انتظام وہ اپنے عقیدتمندان کے ذریعے کراتے ہیں یہ انتظام خاصہ وسیع ہوتا ہے جس میں کمیٹی کے اراکین اور ان کے معاونین بلکہ میڈیا کے احباب ، سیکیورٹی اور میٹ کمپلیکس کے عملے کی بھی تواضع کی جاتی ہے ۔ زیادہ تر اجلاس چونکہ کراچی میں ہوتے ہیں اس لئے ان کا ائیر ٹکٹ اور ہوٹل کے قیام اور ڈی اے کا بھی استحقاق نہیں بنتا ۔ اللہ ہمیں مسلکی تعصبات سے ہٹ کر دین کے وسیع تر مفاد میں فیصلے کرنے ، حق کہنے اور حق قبول کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ۔محترم محمد خلیل الرحمان

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.