نماز کی دوسری شرط :- سترِ عورت

پہلے ہم ستر عورت کے معنی عرض کرتے ہیں ۔ ستر یعنی چھپانا اور عورت یعنی مرد اور عورت کے بدن کاوہ حصہ جس کو کھولنا معیوب اور اس کو چھپانا لازمی ہے ۔ لہٰذا اب ستر عورت کے معنی یہ ہوئے کہ مرد اور عورت کے بدن کاوہ حصہ جس پر پردہ واجب ہے اور اس کا دکھانا باعث شرم ہے ۔ عورت (Ladies) کو عورت (چھپانے کی چیز) اس لئے کہتے ہیںکہ وہ واقعی چھپانے کی چیز ہے۔ یعنی عورت عورت ہے ۔

حدیث ::- امام ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی کہ حضور اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ’’عورت عورت ہے یعنی چھپانے کی چیز ہے ۔ جب نکلتی ہے تب شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے ۔‘‘

مسئلہ: بدن کا وہ حصہ جس کاچھپانا فرض ہے وہ حصہ نماز کی حالت میں چھپا ہوا ہونا شرط ہے ۔

ستر عورت کے تعلق سے کچھ اہم مسائل :-

مسئلہ:ستر عورت ہر حال میں واجب ہے ۔ خواہ نماز میں ہو یا نہ ہو یا تنہا ہو ۔ کسی کے سامنے بلا کسی غرض صحیح کے تنہائی میں بھی کھولنا جائز نہیں ۔ لوگوں کے سامنے یا نماز میں ستر عورت بالاجماع فرض ہے ۔ ( در مختار ، رد المحتار)

مسئلہ:اتنا باریک کپڑا کہ جس سے بدن چمکتا ہو ، ستر کے لئے کافی نہیں ۔ اس سے اگر نماز پڑھی تو نماز نہ ہوگی ( عالمگیری ، فتاوٰی رضویہ جلد نمبر ۳ ص ۱ )

مسئلہ:مرد کے لئے ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے نیچے تک کابدن عورت ہے یعنی اس کو چھپانا فرض ہے ۔ ناف اس میں داخل نہیں اور گھٹنے اس میں داخل ہیں ۔( در محتار ، رد المحتار)

مسئلہ:عورت کے لئے سارا بدن عورت ہے یعنی اسکو چھپانا فرض ہے لیکن منہ کی ٹکلی یعنی چہرہ ، دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں کے تلوے عورت نہیں یعنی بحالت نماز عورت کا چہرہ ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں تلوے کھلے ہوں گے تو نماز ہوجائے گی ۔ ( درمختار )

مسئلہ:مرد کے جسم کاجو حصہ شرعاً عورت ہے اس حصہ ٔ بدن کو آٹھ حصو ں میں تقسیم کیاگیا ہے اور ہر حصہ الگ الگ عضو (Parts) میں شمار کیا جائے گا اورا ن میں سے کسی ایک عضو کی چوتھائی جتنا حصہ کھل گیاتو نماز فاسد ہوجائے گی۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۲)

مسئلہ:مرد کے بدن کے حصہ ٔ ستر عورت کے جو آٹھ اعضاء ہیں وہ حسبِ ذیل ہیں :-

(۱) ذکر یعنی آلہ ٔ تناسل اپنے تمام اجزاء حشفہ و قلفہ وغیرہ کے ساتھ مل کر ایک عضو ہے (۲) انثیین یعنی دونوں خصیے ( فوطے ، کپورے ) مل کر ایک عضو ہے (۳) دبر یعنی پاخانہ کی جگہ (۴/۵) ہرایک سرین (یعنی چوتڑ) الگ عضو ہے (۶/۷)دونوں رانیں اپنی جڑ سے گھٹنے کے نیچے تک الگ الگ عضو ہے ۔ ہر گھٹنا اپنی ران کا تابع ہے (۸) کمر بند کی جگہ یعنی ناف کے نیچے کے کنارہ سے عضو تناسل کی جڑ تک اوراس کی سیدھ میںآگے پیچھے اور دونوں کروٹوں کی جانب سب مل کر ایک عضو ہے ( فتاوٰی رضویہ جلد ۳ ، ص ۲ )

مسئلہ:عورت کے بدن سے چہرہ ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں تلوؤں کے علاوہ سارا بدن عورت ہے یعنی اسکو چھپانا فرض ہے اسکو چھبیس (۲۶) اعضاء میں حسب ذیل تقسیم کیاگیا ہے :-

(۱) سر جہاں عادتاً بال اگتے ہیں (۲) بال جو لٹکے ہوئے ہوں (۳/۴) دونوں کان (۵)گردن جس میں گلا بھی شامل ہے (۶/۷) دونوں کندھے (۸/۹) دونوں بازو (۱۰/۱۱)دونوں کلائیاں (۱۲) سینہ یعنی گلے کے جوڑ سے دونو ںپستان کے نیچے تک (۱۳/۱۴) دونوں پستان (۱۵) پیٹ یعنی پستان کے حدِ زیریں سے ناف کے نیچے والے کنارے تک (۱۶) پیٹھ یعنی پیٹ کے مقابل پشت کی جانب سیدھ میں سینہ کے نیچے سے شروع کمر تک جتنی جگہ ہے (۱۷) دونوں کندھوںکے درمیان کی جگہ (۱۸/۱۹) دونوں سرین یعنی چوتڑ (۱۰) فرج یعنی آگے کی شرمگاہ یعنی اندام نہانی (۲۱) دبر یعنی پاخانہ کی جگہ (۲۲/۲۳) دونوں رانیںگھٹنے بھی اس میں شامل ہیں (۲۴) ناف کے نیچے پیڑو کی جگہ اور اس کی سیدھ میں پشت کی جگہ (۲۵/۲۶) دونوں پنڈلیاں (حوالہ :-فتاوٰی رضویہ ، جلد ۲ ، ص ۶-۸)

مسئلہ:مرد اور عورت کے مذکورہ اعضاء ستر عورت میں سے کسی ایک عضو کی چوتھائی جتنا حصہ ایک رکن تک یعنی تین مرتبہ ’’ سبحان اللہ ‘‘ کہنے کے وقت کی مقدار تک کھلا رہا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی ۔ ( عالمگیری ، رد المحتار)

مسئلہ:اگر نمازی نے مذکورہ اعضاء میں سے کسی ایک عضو کی چوتھائی قصداً کھولی۔ اگرچہ فوراً چھپا لیا اور تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے تک کھلا نہ رہنے دیا تب بھی اس کی نماز عضو کی چوتھائی کے کھلنے کے وقت ہی فوراً فاسد ہوگئی ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۱)

مسئلہ:اگرنماز شروع کرتے وقت مذکورہ اعضاء میں سے کسی عضو کی چوتھائی کھلی ہے یعنی اسی حالت میں تکبیر تحریمہ ( اللہ اکبر)کہی تواس کی نماز شروع ہی نہ ہوئی (ردالمحتار)

مسئلہ:عورتوں کا وہ دوپٹہ کہ جس سے بالو ںکی سیاہی چمکے مفسدنماز ہے ( فتاوٰی رضویہ جلد ۲ ، ص ۱)

مسئلہ:عورت کاچہرہ اگرچہ عورت نہیں لیکن غیر محرم کے سامنے چہرہ کھولنا منع ہے اور اس کے چہرہ کی طرف نظر کرنا اور دیکھنا غیر محرم کے لئے جائز نہیں۔ ( درمختار)

مسئلہ:ستر عورت کے معنی یہ ہیں کہ نمازی اپنے ستر کو دوسرے لوگوں سے اس طرح چھپائے کہ اس کے جسم کی طرف عام طور سے نظر کرنے سے اس کا ستر ظاہر نہ ہو ۔ تو معا ذاللہ اگر کسی شریر نے کسی نمازی کا ستر جھک کر دیکھ لیا تو نمازی کی نماز ہوجائے گی ۔نماز میں کچھ فرق نہیں آئے گا البتہ جھک کر دیکھنے والاسخت گنہگار ہوگا۔ ( عالمگیری)

مسئلہ:آج کل لوگوں میں ایک غلط مسئلہ رائج ہے کہ اگر تہبند (لنگی) کے نیچے چڈی یا جانگیہ نہیں پہنا تو نماز نہیں ہوتی ۔ یہ بات غلط ہے ۔نماز ہوجائے گی ۔