کیارویت ہلال(چاند کا دیکھنا) علمی ہے یا حکمی؟

سب سے پہلا سوال جو لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ کیا عبادات کو عقل یا علم کے معیار پر ادا کیا جاتا ہے؟ یا حکم کی بنیاد پر

اس کا جواب یہ ہے۔

تمام عبادات میں حکم کا اعتبار کیا جائے گا،عقل کانہیں۔ کیونکہ شریعت میں عقل حکم کے تابع ہے۔۔۔۔

مثال کے طور پر

حج کو ہی دیکھیے پورے کا پورا حج حکمی ہے عقلی نہیں……

ظاہری اعتبار سے احرام کےبے سلے کپڑے پہننا،حکم ہے یا عقل؟۔

خانہ کعبہ کے گرد چکر لگانا،اور وہ بھی پہلے تین چکر دوڑ کر،حکم ہے یا عقل؟

منٰی و مزدلفہ و عرفات کے میدان میں جاکر کچھ دیر ٹھہرنا ،حکم ہے یا عقل؟

صفا مروہ کی سعی کرنا اور سبز لائٹ والے حصے میں دوڑھنا،حکم ہے یا عقل؟

یہ سب محبوب ﷺکے حکم پر عقل قربان کرنے کی صورتیں ہیں۔

محترم عبادات ٹیکنالوجی کے تابع نہیں،اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے تابع ہیں۔۔

بعض احباب شمسی کیلنڈر کی مثال دیتے ہیں ان کے لئے

ایک مثال عرض کرتا ہوں۔۔

اللہ تعالیٰ نے زوالِ سورج کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے.. تو جب پاکستان میں زوال ہو جائے گا، پاکستان والوں کے لئے نمازِ ظہر کا وقت ہو گیا لیکن پاکستان سےیورپ کا فرق4گھنٹے کا ہے یورپ میں چار گھنٹے بعدظہر ہو گی۔…..

کیا کسی نے کبھی کہا کہ پاکستان میں ظہر کا وقت شروع ہو گیا ہے،یورپ والے ظہرکی نماز ادا کر لو؟ ہرگز نہیں بلکہ یہی کہا جاتا ہے یورپ والے اپنا زوال کا وقت دیکھ کر نمازظہر پڑھیں،

اگر عبادات کے لئے سورج اپنا اپنا ہے تو چاند بھی اپنا ہی ہونا چاہئے،

اسی بنا پر رسول کریمﷺ کے اس فرمان کو سمجھا جائے۔ :دیکھ کر روزہ رکھو اور دیکھ کر افطار کرو۔

اور دوسری بات

سورج اور چاند میں ایک بنیادی فرق ہے۔۔

سورج کا قطعی علم عام بندے کو بھی ہے،اس میں کبھی چُھٹی والی کوئی بات نہیں ،روزانہ ہی دکھتا ہے۔۔

لیکن چاند کبھی انتیس اور کبھی تیس کا ہوتا ہے۔

کریب علیہ الرحمۃجو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ تھے،کسی کام سےملک شام گئے، کریب علیہ الرحمۃ، ابھی

وہ شام ہی میں تھے کہ رمضان کا چاند نظر آیا، چاند جمعہ کی رات میں نظر آیا تھا اور انہوں نے پہلا روزہ جمعہ کو رکھا تھا پھر وہ مہینہ کے آخر میں مدینہ آئے ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا تم نے چاند کب دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا ہم نے جمعہ کی رات چاند دیکھا تھا، ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا آپ نے خود دیکھا ،کریب کہتے ہیں،، نعم، ہاں خود دیکھا تھالوگوں نے بھی دیکھا تھا، ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مگر ہم نےہفتہ کی رات میں چاند دیکھا ہے، پس ہم برابر روزے رکھتے رہیں گے تا آنکہ ہم تیس دن پورے کریں یا چاند دیکھ لیں، کریب نے پوچھا، کیا آپ کے لیے ملک شام کا چاند دیکھنا اوراس کے مطابق روزہ رکھنا کافی نہیں؟ ابنِ عباس نے فرمایا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی حکم دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دو مختلف دنوں میں روزہ رکھنے سے مسلمانوں کی یکجہتی کو فرق نہیں پڑا،تو آپ ان سے بڑھ کر محب اسلام ہیں کیا؟

اگرپوری دنیا میں نمازیں مختلف اوقات میں پڑھی جاتی ہیں،اور اس سے مسلمانوں کی یکجہتی کو فرق نہیں پڑتا تو عید کے دن مختلف ہونے سے یکجہتی کو کیا مسئلہ ہے۔

مسلمانوں کی یکجہتی اس وقت کبھی یاد نہیں آئی جب: اسلامی خلافت: کے ٹکرے ٹکرے کر کے ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کا ملک بنا کر بیٹھ گئے ۔۔۔

اگر پاکستان میں دووو عیدیں ہوتی ہیں ۔ توحکومتی رِٹ کی ناکامی ہے ،مذہب کا کیا قصور، حکومتی رِٹ قائم کرو

اگر جمہوری نظام میں جمہور کی بات مانی جاتی ہے توجمہور کا یہی نظریہ ہے ،چاند کی پیدائش نہیں بلکہ چاند دیکھیں گے،پھر جمہورکا فیصلہ مانو۔۔۔۔۔

ایک اور مثال سے پر غور کرتے ہیں

اگر رویت(دیکھنے) کی اہمیت نہیں تو پھر گواہی کی کیااہمیت رہ جاتی ہے ،مثلاً کیا قتل کے کیس میں گواہی کیلئے بھی رویت (دیکھنے)کو لازم قرار نہیں دیا گا؟۔

اسی طرح زنا کیلئے جو گواہی کا اصول ہے اس میں بھی محض کسی ایک کمرے مرد و عورت کو اکٹھے دیکھنا کافی سمجھا جائے گا؟ یا زنا کرتے دیکھ کر گواہی دی جائے گی۔۔۔سوچئے بغور سوچئے

چاند کو زبردستی پیدا کرکے کیوں بات بڑائی جارہی ہے، اگرچاند نظر نہیں آیا تو آسان سا حل ہے شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔۔۔

ماہرینِ علم نجوم صرف آج ہی پیدا نہیں ہوئے ہوئے بلکہ صدیوں سے سمندر وں میں سفر کرنے والےسب ماہرین ، ستاروں کی جگہ اور ان کی عمروں کا خاص علم زمانہ قدیم سےرکھتے ہیں،اور اس پر کئی کتابیں دستیاب ہیں۔۔۔۔۔۔

لیکن کسی نے عبادت میں مداخلت نہیں کی ۔۔۔۔۔

جن کی عمر 50 سال یا اس سے اوپر ہے ان کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے ماں باپ اگر رات کو اٹھ کرآسمان کی طرف دیکھ کر کہتے کہ2 دو بج گئے ہیں یاتین تو وہی ٹائم درست ہوتااتنے ماہر فلکیات تو وہ بھی تھے۔۔۔۔۔۔۔

لیکن عبادت میں مداخلت انہوں نے بھی نہیں کی ۔۔۔۔۔

اور اگر سعودیہ کی مثال دیکھنی ہے تو سعودی سپریم کورٹ ہر سال: رویت ہلال کمیٹی:کو 29 رمضان المبارک کو چاند دیکھنے کی ہدایت کرتی ہے،اور مقامی لوکل عدالتیں کھلی رہتی ہیں ، اور یہ اعلان کیا جاتا ہے مسلمان اگر چاند دیکھیں تو اس کی گواہی مقامی عدالت میں دیں اور پھر بصری رویت (آنکھ سے دیکھنے) پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

ہمارے سامنے مثال ہے کہ سعودی عرب نے ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کلینڈر ترتیب دینے کے باوجود ایک بار سرکای سطح پر غلط دن چاندکے اعلان پر کفارہ ادا کر چکا ہے ، کیونکہ اُس سال انہوں نے کیلنڈر پر اعتبار کیا تھا۔۔۔۔۔

فقہ میں چاند کی رویت معلوم کرنے کےپانچ طریقے ہیں۔

پہلا: آپ اپنی آنکھوں سے چاند خود دیکھیں۔

دوسرا: چاند نظر نہیں آیا اور مہینے کے 30 دن مکمل ہو چکے ہیں۔

تیسرا: مطلع صاف ہو تودو عادل افراد جن کی اقتدا میں نماز ادا کی جا سکتی ہو وہ اس حوالے سے ایک ہی طرح کی گواہی دیں ۔

چوتھا: مطلع صاف ہے تو دو افراد کی گواہی کافی ہو گی اور اگر آبر آلود ہے تو زیادہ افراد کی۔

پانچواں:اتنی کثیر تعداد میں عام لوگ آ کر گواہی دیں کہ آپ کو اطمینان ہو جائے۔

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی