*اسلام کا فلسفۂ عید*

از:وسیم احمد رضوی،نوری مشن مالیگاؤں

Cell: 09923324281

ہر قوم کی تعلیمات میں خوشیاں منانے کاتصور پایاجاتاہے،اوراس کے اظہارکے لیے مختلف ایام اور طرز مخصوص ہیں جومذہبی پسِ منظرمیں کسی اہم واقعہ،شخصیت،یا حکم سے تعلق رکھتے ہیں۔ عیسائیت، یہودیت، بودھ مت اور ہندوازم وغیرہ مذاہب عالم کے تہواروں۔ کا پسِ منظر اس بات کو واضح کردیتا ہے۔اسی طرح دین فطرت اسلام میں بھی خوشیاں منانے کا تصورباضابطہ پاکیزہ اور مہذب اصول و ضوابط کے ساتھ موجود ہے،جس پراہلِ ایمان صدیوں سے عامل ہیں۔

خوشیاں منانے کا جو مہذب اور روحانی تصور اسلام نے دیا ہے بلا شبہ وہ دیگر تمام مذاہب عالم سے منفرد بھی ہے اور بہتر بھی۔اور یہ بات عالمی سطح پر سنجیدہ ذہن قبول بھی کر رہے ہیں۔شریعتِ مطہرہ نے مسلمانوں کو خوشی منانے کے بھی مختلف مواقع عنایت کیے ہیں ان ہی پُر بہار اور یاد گار تقاریب میں عیدالفطر ایک امتیازی شان اور مقام رکھتی ہے۔عیدکادن اظہارِ مسرت کادن ہے،رمضان المبارک کی (تربیتی)مشقتوں کے بعد رب تعالیٰ نے اپنے بندوں پر بطور احسان واکرام یہ مبارک و مسعود دن عنایت کیا۔جس کا انتظار ہر صاحب ایمان کو ہوتا ہے ؎

اے ہلالِ عید اے نورِ نگاہِ روزہ دار

آ کہ تھے تیرے لیے مسلم سراپا انتظار

(اقبالؔ)

صبحِ عید اپنے ساتھ بے پناہ نوید و بشارت اور سرور و انبساط لاتی ہے۔عید کا سورج طلوع ہوتے ہی ایمان والوں کو حکم ہے کہ غربا و مساکین میں فطرہ تقسیم کریں تاکہ ان کی عبادتیں مقامِ اجابت تک پہنچ جائیں،اس میں ایک حکمت یہ بھی ہوتی ہے کہ غریب بھی اس خوشی میں شامل ہوجائیں،فطرہ کی شکل میں جو مال یا پیسہ ملے اس سے کسی حد تک غریبوں کووقتی طورپرمعاشی آسودگی حاصل ہو جاتی ہے۔فطرہ کی ادائیگی کے لیے شرعی اصول کے تحت جو وقت کی قید ہے کہ صبحِ عید سے نمازِ عید اداکرنے سے پہلے اس کا وقت ہے تو اس سے غریبوں کی غم خواری کا پیغام بھی ملتا ہے،اور یہ سبق بھی کہ اسلام نے تمام طبقہ ہاے حیات کے حقوق کا تحفظ بھی کیا ہے۔یہ وہ دن ہے کہ اس دن بند وں کی پیشانی اپنے رب کے حضور سجدۂ شکر ادا کرنے کو بے قرارہوتی ہے۔عید گاہوں میں اہلِ ایمان کا ہجوم کفار پر اسلامی شوکت وسطوت سے ہیبت طاری کرتا ہے۔کتنا بھلا اور دل کش منظر ہوتا ہے جب مسلمان اپنی باہمی رنجشوں اور رقابتوں کو بُھلا کرایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہیں۔ احادیثِ مصطفی علیہ التحیۃ و الثناء میں مصافحہ و معانقہ کو محبت و ہم دردی اور روا داری کو بڑھانے اور پروان چڑھانے کا نسخۂ کیمیا بتایا گیا ہے۔اس سے دل صاف ہوتے ہیں۔ایک دوسرے کی عزت و تکریم اور احترام و تعظیم کا جذبہ بیدار ہوتا ہے۔ساتھ ہیں مغفرت کی نوید بھی ملتی ہے۔ اس دن قبرستان حاضری کی ترغیب بھی اسلاف نے دی ہے تاکہ ہم اپنی خوشی میں (ایصالِ ثواب کے ذریعے)اپنے مرحومین کو بھی شامل کرلیں جو کہ ان کا جائز حق بھی ہے۔اورقبورِ مسلمین کی حاضری سے آخرت کی یاد تازہ کر کے اپنی عیدکو وعید بنانے سے بھی بچ جائیں۔ ؎

دیکھ کر گورِ غریباں کو اجل یاد آئی

سونے والوں نے کیا خواب سے بیدار مجھے

عید الفطر کو نئے یا صاف ستھرے کپڑے پہننا سنت ہے،خوش بو لگا ناسنت ہے ،الغرض اس دن خوشی و مسرت کا اظہار کرنا چاہیے۔مگراسلام میںخوشی منانے کا ہرگزایساکوئی تصور نہیں کہ دھوم مستی کی جائے، اسراف، فضولیات اور حرام طریقوںسے وقت اور پیسہ بربادکیا جائے،سنیما بینی اور فحاشی کے دیگر مراکزجہاں اخلاقی بگاڑاور معاشرتی نقصان کے اسباب مہیا ہیں وہیںان مذموم مقامات پر قیمتی وقت برباد ہوتا ہے،محنت اور حلال طریقے سے کمایا ہوا پیسہ لوگ بے دریغ حرام ذریعوں میں خرچ کرکے نہ صرف اپنے گھر والوں کے منہ کا نوالہ غیروں کو دیتے ہیں بلکہ اپنے لیے بھی دنیا و آخرت کا خسارا مقدر کرلیتے ہیں۔ موڈرنائزیشن(Modernizatio) کے شکار افراد کو اس جانب توجہ دینی چاہیے،تاکہ وہ اپنی معاشی و عائلی اور سماجی ذمہ داریوں کااحساس کر سکیں ۔اور اس مثالی اور مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے سنجیدہ ہوجانا چاہیے جس کا اسلام نے درس دیا ہے کیوں کہ آج کہ اس پر فتن اورپُر آشوب دور میں سسکتی ہوئی انسانیت کی دست گیری صرف قانونِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کر سکتا ہے اور عید کامبارک دن بھی امتِ مسلم کو یہی پیغامِ عمل دیتا ہے۔ہمارے اسلاف نے اسلام کے تصورِ عید کی بھی کچھ ایسی ہی تعبیر فرمائی ہے کہ انسان جس وقت اس دنیا سے کام یاب و کامران گیا اس کے لیے وہ سب سے بڑی عید یا خوشی کا دن ہوتا ہے،اور اس سے بڑی خوشی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے مالک و مولیٰ کی رضا و خوش نودی کی خاطر زندگی گزارے تاکہ وقتِ آخر اسے وصالِ یار اور دیدارِ حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی عیدمیسر آئے اور یہی عید حقیقی مسرت کا پیش خیمہ اور زندگی کا تتمہ ثابت ہو ؎

وقت آجائے ارشدؔ کا جب آخری رنگ لائے مری نسبتِ قادری

گوشۂ دامنِ پاک ہو ہاتھ میں، دید ہوتی رہے دم نکلتا رہے

٭٭٭